اور کیا بیانیہ شیانیہ ہے؟ اقبال خورشید

1

ایک قدیم، پراسرار اور پُرپیچ لفظ کے معنی آشکار کرتی تحریر


میرے عزیز ہم وطنو،
سید طلعت حسین سے توتم واقف ہوگے۔
خدااُنھیں بھلا چنگا رکھے۔ بڑے نستعلیق اور استاد آدمی ہیں۔ استاد اِن معنوں میںکہ صحافت میں راقم الحروف اُن کے سامنے خود کو طالب علم پاتا ہے۔ٹھیک ٹھاک مقبول ہیں۔ یہ اُن کی مقبولیت ہی ہے صاحب، جس نے معروف اداکار، طلعت حسین (کشکول والے) کی یادچند ذہنوں سے محو کر دی۔گو اُن ذہنوں کو ہمارے نزدیک ذہن کہنا ناانصافی۔ کھوپڑی کہہ لیں، بہت ہے۔ تووہ چٹ پٹا واقعہ ہمیں خوب یاد، جب کسی سانحے پر، غالباً جیو نیوز والے طلعت حسین کی اور لپکے۔ فوراً لائن پر لیا۔ ایک حسین نیوز کاسٹر نے سوال داغا۔اور جواب میں، اپنی فطرت کے برعکس کہ صاحب پوز لینے کے عادی، عزت مآب طلعت حسین نے ذرا پھرتی سے کہا :

’’دیکھیے، پہلی بات تو یہ ہے کہ میں جرنلسٹ طلعت حسین نہیں، ایکٹر طلعت حسین ہوں۔‘‘
حسین نیوزکاسٹر نے غالباً کسی چوکس پروڈیوسر کی سرگوشی کا تعاقب کرتے ہوئے فوراً دہرایا:’’ بہت بہت شکریہ طلعت حسین صاحب!‘‘
اور یوں قصہ تمام ہوا۔
تو یہ ذکر ہے استاد محترم سید طلعت حسین کا، جن کا ایک تازہ پروگرام دیکھتے سمے خوش قسمتی نے ہمیں یکدم بانہوں میں لے کر بھینچا، علم کے در وا ہوئے،مادہ بہنے لگا۔

کوئی ایشو تھا، اور کوئی عدالتی ایشو ہی ہو گا۔ صبح اخبار اٹھائو، تو دس میں سے سات خبریں عدلیہ ہی سے جڑی ہوتی ہیں۔کچھ عاقبت نااندیش اِسے عدالتی مارشل لا بھی کہتے ہیں۔ خیر، تو کوئی ایشو تھا، پہلے استاد محترم نے تحریک انصاف کا موقف بیان کیا۔ پھرن لیگ کے نمایندے کی سمت متوجہ ہوئے۔ کہنے لگیـ’:’ اس ایشو پر تحریک انصاف کا بیانیہ آپ نے سن لیا، اب جانتے ہیں ن لیگ کا بیانیہ۔‘‘

اے پیارے پڑھنے والے، اے میرے بھائی، میرے بیٹے، وہ ایک بیش قیمت لمحہ تھا، اور اگر تو مذہبی اصلاحات کے الجھاوے میں نہ پڑے، تو کہنا چاہوں گا؛ ایک مقدس بیش قیمت الہامی لمحہ۔ کچھ وارد ہوا، میری لاعلمی پر ضرب لگی، اور مجھے اِس پرپیچ، قدیم، پراسرار لفظ بیانیہ کا مطلب سمجھ میں آگیا۔

قصہ یہ ہے کہ یہ لفظ بیانیہ، اس کثرت سے مملکت خداداد میں استعمال ہوا ہے، اور اتنی بار اس کے نئے ہونے کا دعویٰ ہوا ہے، اور اتنی بار اِسے نئے نویلاکرنے کا تقاضا ہوا ہے کہ فقیر (نام نہاد) بوکھلا، گڑبڑا، ہڑبڑا ہنہنا گیا ہے۔ کبھی لغت دیکھتا ہے، کبھی گوگل کرتا ہے، پڑھتا ہے، لکھتا ہے، کھدائی کرتا ہے، کھنڈرات میں بھٹکتا پھرتا ہے، مگر سچ کو نہیں پتا۔ اور پھر یوں ہوتا ہے کہ ایک استاد کا ظہور ہوتا ہے، اور فقیر( نام نہاد) وہ جان لیتا ہے، جو وہ کل تک نہیں جانتا تھا۔ اور اس کے تنگ سینے کو علم کا ہتھیار چھید ڈالتا ہے۔ وہ اُس راز کو پا لیتا ہے، جسے اس نے کبھی کھویا نہیں تھا۔

تو صاحبو، مترو، ہم نے جانا کہ یہ موقف ہووے ہے، جسے بیانیہ کہوت ہیں۔
پھر ہم سوچا کیے، کیا فقط’’ موقف‘‘ بیانیہ ہوتا ہے؟
گیان دھیان کیا، استاد محترم کا تصور باندھا، غور وفکر، مراقبے مشاہدہ، چلے وظائف کیے، اور تب رازکھلا کہ یہ جولفظ ہے، یعنی بیانیہ، اس میں بڑی وسعت ہے۔ بڑی کشادگی ہے۔ بڑا اسرار ہے۔ شاعر کہتا ہے:

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
بیانیہ انسان کی ضرورت ہے

تو اس لفظ میں پوری کائنات ہے پیارے۔ اس کی تین چار جہتیں نہیں، چھے سات بھی نہیں، بارہ تیرہ بھی نہیں، دو سو تین سوجہتیںہیں۔ یہی وہ عظیم لفظ ہے، جسے پائولو کوئلیو کے ’’الکیمسٹ‘‘ میں مرکزی کردار بائولے کی طرح ڈھونڈتا پھرتا تھا۔ ہمیں یقین ہے، ڈین برائون بھی اِسی لفظ پر اپنا اگلا ناول لکھے گا۔

تو جیسا درویش (یعنی ہم) نے کہا: یہ لفظ کثرالمعنی ہے۔ یہ موسم، ذایقے، حالات، خیالات، نظریات، صحت، بیماری، تعلیم، رنگت، قد کاٹھ، اعضا، کتاب، جادو، محبوب، تعویذو غیرہ کے لیے بہ آسانی استعمال ہوسکتا ہے۔

مابدولت نے فیس بک پر اِسے برتنا شروع کیا، تو لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح امڈ آئے۔ ہمارے مداح ہوئے، ہمارے ہاتھ پر بیعت ہوئے، نذرانے پیش کیے، دعا کروائی،ہمارا مزار بنایا۔
مگر ہم نے انھیں درخور اعتنا نہ جانا۔
اب روپے پیسے کی ہماری نظر میں کیا حیثیت۔ ہم نے لفظ بیانیہ کا مطلب پا لیا: یہی تو ایک راز تھاسینۂ کائنات میں!
تو ہم نے اِسے برتنا، رگیدنا، گھسناشروع کیا۔ کثرت، مگر مکمل احترام کے ساتھ۔ جلد یہ ہماری گفتار کا حصہ بن گیا، اور ہماری باتوں سے خوش بو آنے لگی۔

اب اِس کا استعمال دیکھیے، اور سرشار ہوجائیں، سر دھنیں، رقص کریں۔
ہم نے اپنے دوست رانا کو فون ملایا۔انھیں دوسری طرف پایا، تو بولے: ’’اور سنائیں، کیا بیانیہ شیانیہ ہے؟‘‘
(یہاں بیانیہ شیانیہ سے مراد حال چال ہے)
وہ بولے: ’’ہمارابیانیہ ٹھیک ہے۔ آپ اپنا بیانیہ بتائیں؟‘‘
ہم کہنے لگے: ’’زبردست۔ اچھا، آپ کے ہاں بیانیہ کیسا ہے؟یارادھر توبیانیہ بہت گرم ہے۔‘‘
(یہاں بیانیہ سے مراد موسم ہے۔ چوں کہ ہمارے وہ دوست ہیں،اِس لیے ہمارے جیسے ہی عالم فاضل ہیں، سمجھ جاتے ہیں، بھٹکتے نہیں)

دوران گفتگو لائٹ چلی گئی، تو ہم نے کہا: ’’بھئی ہمارے ہاں لوڈشیڈنگ کا بیانیہ دو گھنٹے ہے!‘‘
جواب آیا: ’’ہمارے ہاں توبیانیہ ایک گھنٹے ہے۔‘‘
اس مختصرسے مکالمے نے چند عظیم رازوں سے آپ کے واسطے پردہ اٹھادیا ہوگا۔ ہیں ناں؟
اچھا، ہم کرایے کا مکان کھوجتے تھے۔ چھوٹا بھائی ایجنٹ سے مل کر آیا۔ ایک مکان دیکھا تھا لڑکے نے۔ آکر بولا: ’’بھائی جان، مکان کا بیانیہ تو ٹھیک ٹھاک ہے، مگر مالک مکان بیانیہ بہت زیادہ بتارہا ہے۔‘‘
(ایک بیانیہ حالت کے لیے، دوسرا کرایے کے لیے۔ کیسا دیا۔۔۔ :)۔۔۔ (یہ اسمائلنگ فیس ہے!)

ایک روز دفتر سے گھر پہنچے، تو بیگم بولیں: ’’آپ کے صاحب زادے کا بیانیہ (رزلٹ) آگیا ہے، فیل ہوا ہے۔ لگتا ہے، آپ کے بیانیہ پر گیا ہے!‘‘
عامر خان کی فلم ’’دی سیکریٹ سپراسٹار‘‘ریلیز ہوئی، تو ہم نے ایک دوست سے دریافت کیا: ’’فلم کے پہلے دن کا بیانیہ (بزنس) کیا ہے؟‘‘
ہم تو سبزی والے سے بھی اِسی طرح بات کرتے ہیں: ’’اور سناومیاں، ٹماٹر کا کیا بیانیہ ہے آج کل؟ کچھ کم ہوا یا نہیں؟‘‘
کل پڑوسی نے دروازے پر دستک دی۔ ہمیں دیکھ کر مسکرائے۔ بولے: ’’بھائی جان۔ کل ہمارے ہاں حلیم کا بیانیہ ہے، ضرور تشریف لائیں۔‘‘
ہم نے کہا: ’’تمھارے دونوں بیانیہ (بھتیجوں) کو بھی لے آئیں؟‘‘
وہ خوش دلی سے بولے: ’’ہاں ہاں، ماشا اللہ آپ کے دونوں بیانیہ (بچے) بہت ہی پیارے ہیں۔‘‘

ہماری نقالی کرنے والی ایک صاحبہ نے اسٹیٹس دیا: میںنے اپنے شوہر سے بیانیہ مانگ لیا ہے۔ (نتیجہ اس اسٹیٹس کا اچھا نہیں نکلا)
تو میرے دوستو، میرے بھائیو، میرے بیانیو، آج جو بیانیہ (علم) میرے پاس ہے، سب ایک عظیم بیانیہ (استاد) کی دین ہے، جو میں اس بیانیہ (کالم) کی صورت تم سے بانٹ رہا ہوں۔ اس پر تمھارا جو بھی بیانیہ( ردعمل ) ہووے، مجھے پہنچاو، اور بیانیہ (نیکیاں) کمائو!

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عمرفرید ٹوانہ on

    علم کے در وا ہوئے اور مادہ بہنے لگا۔۔۔۔یہ قہقہے لگاتا ہوا فیس ہے۔۔۔۔مزید قہقہے لگاتا ہوا فیس ہے۔
    اچھا لتاڑے ہو بھائ ۔یہ معروف پسندی نگوڑی مرض کی طرح لاحق ہے۔یقین پختہ کرنا ہو تو کبھی کسی دانشور دوست کے سامنے اس کے بہت بڑے تاریخی و تقلیدی بیانیہ یعنی فلسفی کو کوئی غیرمعروف قول یا منطقی نتیجہ بنا حوالہ کے پیش کرو۔۔۔یہ چِبا مونہہ ہے۔
    تاثرات نوٹ کرو
    پھر با حوالہ پیش کرکے تاثرات نوٹ کرو۔۔۔۔یہ انجوائنگ مونہہ ہے۔۔۔قہقہے لگاتا ہوا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: