میرے وطن کی سیاست کا حال : محمد خان قلندر

0
  • 60
    Shares

ملک عزیز کی گزشتہ تاریخ حکمرانی کو گلوب کی طرح گھما کر دیکھیں تو سفید اور خاکی رنگ گڈ مڈ نظر آئیں گے. نہ کہیں سارا رنگ سفید ہے اور نہ خاکی، یعنی کوئی بھی فوجی حکومت مکمل فوجی نہی تھی اور نہ ہی کوئی سول حکومت فوج کے سائے سے پوری باہر تھی. اس اختلاط کی اپنی پوری وسیع تاریخ ہے۔

ہمارے خطے میں، سپہ گری صدیوں سے باعزت ترین پیشہ ہے. کہ ہر حکمران اپنی فوج کا محتاج ہوتا تھا. کیونکہ حکمرانی کے لئے فتوحات لازم تھیں. اگر کوئی حکمران دوسرے ملک یا علاقے پر حملہ آور نہ بھی ہوتا تو اس پر حملہ ناگزیر ہوتا تھا. اس لئے فوج کے سپہ سالار کا بادشاہ یا حاکم کے بعد بہادر، جری اور مشہور ہونا قدرتی اور قدرتی طور پر لازم تھا.

یہ صورت حال پاکستان کے لئے تو آج بھی جوں کی توں ہے. جغرافیائی محل وقوع، ہندوستان کے ماضی کی تاریخ ، اور غیر متعین طرز حکومت کی وجہ سے ملک مستقل غیر یقینی کی حالت میں ہوتا ہے اور غیر محفوظ ہے، جس کا قدرتی نتیجہ اس کا سیکیورٹی سٹیٹ ہونا ہے. لہذا فوج ریاست کا طاقتور ترین ادارہ ہے. سول ادارے بوجوہ پہلے کمزور تھے، لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں ان کی کرپشن میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہوا ہے، اور اب تو کرپشن باعث لعنت ہونے کی بجائے وجہ شُہرت بن گئی ہے.

ہماری ابتدائی فوج سابقہ برٹش آرمی سے ہی وجود میں آئی، اس لئے قدرتی طور پر اس کا قبلہ برطانیہ، یورپ اور امریکہ بنا. ویسے بھی ہم گوری رنگت،.نگریزی زبان، لباس سمیت ہر ولائیتی شے کو نعمت سمجھتے ہیں. مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنا باعث تکریم اور وہاں جا کے بسنا ہمارا خواب ہے. فوجی بھی ہم میں سے ہیں چنانچہ وہ بھی اس سے مبرآ نہیں رہے.

ابتداء سے ہی سویلین حکمرانوں کے لئے علامہ اقبال کی فکر اور قائد اعظم کی سوچ ناقابل تقلید تھی. اقبال کی مسلم قومیت کی ہمہ گیر تعریف کہ ہندوستان میں موجود مروجہ قومیتوں میں ہندو سماج کی تفریق کے مطابق مسلمان ادنی ترین ہندو قوم شودر سے بھی کمتر اور ملیچھ تصور ہوتے تھے، ہندو اکثریت کے ساتھ انکا ایک ملک میں رہنا ان کے لئے بدترین اور ناممکن تھا. اس لئے ان کو ایک جدا قوم تسلیم کر کے مسلم اکثریت کے علاقوں میں دو آزاد مملکتیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا. جسے قائد اعظم بھی زمینی حقائق کے مطابق مناسب سمجھتے تھے.
لیکن یہ مطالبہ اکثر علماء کی، مسلم اُمّہ بزور شمشیر غلبہ حاصل کرنے اور مسلم خلافت اور امارت کی سوچ سے متصادم تھا.

قائد اعظم بخوبی واقف تھے کہ تاج برطانیہ کی حکومت ختم کر کے پورا ہندوستان مسلمانوں کے حوالے کرنا بعید از قیاس تھا. اس کشا کشی سے مسلمان اکثریت پاکستان کے قیام میں تو یکسو تھی لیکن اکابرین کی اکثریت اس میں نظام حکومت کے خد و خال کے بارے کوئی واضح خاکہ نہی رکھتی تھی. اب قائد اعظم کو موقعہ میسر نہ ہو سکا اور ان کی وفات نے یہ کنفیوژن اور گہرا کر دیا.

آئین سازی اگلے نو سال میں بھی مکمل نہ ہو سکی اور ملک کی عنان غلام محمد اور جنرل سکندر مرزا جیسے سربراہوں کے ہاتھ رہی، 1956 میں آئین بنا لیکن سیاسی لیڈر شپ منقسم ہو گئی. ایوب خان کی اقتدار پر کمزور ہوتی گرفت بھانپ کر ذوالفقار علی بھٹو ان کا معتمد ترین وزیر و مشیر ہونے کا عہدہ چھوڑا اور تحریک شروع کی بعد ازاں یحیی خان نے مارشل لاء دوبارہ نافذ کیا.
آئین منسوخ ہوا. پرانا چھپن کا آئین جزوی طور مارشل آرڈرز کے تحت بحال کر کے الیکشن کرائے گئے جن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کا حادثہ رونما ہوا.

اب پہلی مرتبہ فوج انتہائی کمزور پوزیشن پر چلی گئی، تو دوسرا این آر او ہوا. اس مرتبہ دو اہم تبدیلیاں آئیں، اوّل فوج نے ایک سرینڈر ڈھاکہ میں کیا اور دوسرا پنڈی میں ایک سویلین کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تسلیم کر کے اس کی زیر کمان ڈیوٹیز کرنا بھی قبول کر لیا. دوسرا روایتی جاگیر دارانہ سیاست جس میں پرانے خاندان ہی آپس میں الیکشن ہارتے یا جیتتے، اس کی جگہ نئے سیاسی چہروں کی ایک اکثریت متعارف ہوئی. اب فوج زیر نگوں تھی اور سویلین میں نئے لوگ جو پرانی روایات سے نابلد تھے با اختیار تھے.

پرانے سیاسی گرُگوں کے انخلاء سے ایک خلا پیدا ہو گیا اور نو وارد سیاسی عناصر کی فوجی امور کی غلط ہینڈلنگ نے جنرل ضیا الحق کو آرمی چیف بنوا دیا. جس کے دوران سرمایہ دار طبقے کو اتنا زچ کر دیا گیا کِہ وہ رد عمل میں جاگیر دارانہ سیاسی خلا کو پُر کرنے اور عملی سیاست میں شامل ہونے پر تیار ہو گئے.

فوج نے اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن واپس لینے اور کاروباری عناصر انتقام لینے کے لئے اپنے اپنے مورچے قائم کر چکے تھے، دھاندلی کے خلاف تحریک چلی. یہ تیسرا این آر او تھا، اپوزیشن اتحاد نے جلوس نکالنے تھے، اخراجات بزنس کمیونٹی کے ذمہ اور فوج کی لا اینڈ آرڈر میں عدم مداخلت تھی.
چند ماہ میں فوج دیگر سب پر حاوی ہو گئی کیونکہ وہ سابقہ ادوار کی غلطیوں سے آشنا تھی.

جنرل ضیاء نے کمال مہارت سے کارڈ کھیلے، نوے دن کا پتہ پھینکا ساتھ ہی جماعت اسلامی کو حکومت میں شامل بھی کیا اور اس کے بطن سے ایم کیو ایم بھی نمودار کرا لی. مسلم لیگ کے جونیجو کو حکومت دی لیکن اپنے چنے ہوئے سرمایہ دار عناصر کو اس پارٹی میں شامل کرا دیا. بھٹو صاحب کو سیلوٹ مارتے تختہ دار پے پہنچا دیا. یہ این آر او آفاقی کاروائی سے ہی جنرل صاحب کی بائی ائیر اگلے جہاں روانگی پر ختم ہوا.

اب منی این آر اوز کا دور شروع ہوا. جس میں محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف لیڈ کریکٹر تھے. غلام اسحاق خان، فاروق لغاری اور رفیق تارڑ معاون اداکار اور جنرل اسلم بیگ، آصف جنجوعہ، وحید کاکڑ اور جہانگیر کرامت معاون ہدایتکار تھے.

نواز شریف نے اپنی دولت اور طاقت کے زعم میں فوج کو لتاڑنے کی غلطی کی، وہ یہ حقیقت بھول بیٹھے کِہ فوج بطور ادارہ اپنے نظم اور ڈسپلن کے اندر کام کرتی ہے، سپہ سالار مشاورت ضرور کرتے ہیں لیکن ان کا حکم اور فرمان حتمی ہوتا ہے. باقی رینک اور فائل نے ان کے آرڈرز ماننے اور ان کے مطابق عملدرآمد کرنا اور کروانا ہوتا ہے. یہی فوج کی روح ہے کہ حکم کی تعمیل میں جان جانے کی پرواہ نہیں ہوتی.اس لئے نواز شریف کی چال الٹی پڑی اور پرویز مشرف آرمی چیف کے ساتھ ملک کے چیف ایگزیکٹیو بن گئے، اور شریف خاندان ضمانت دے کر ایک اور این آر او کی بھیک کے ذریعے جلا وطنی لے کے بیرون ملک زندہ بھاگنے میں کامیاب ہوسکا.

ان سب این آر اوز میں جملہ سیاسی عناصر اور عدلیہ ان کو آئینی اور قانونی کور دینے میں معاون رہے ہیں. پرویز مشرف کو پہلے تین سال سپریم کورٹ نے مطلق العنان بنایا پھر الیکشن کے ذریعے ان کو سیاسی اور فوجی سربراہی مل گئی. اب جب غیر ضروری خود اعتمادی نے عدلیہ کو ہی مشرف کے مقابل کر دیا، تو مشرف نے کمزور حیثیت میں دوسرا این آر او کیام بینظیر کی شہادت، الیکشن میں پیپلز پارٹی اور نُون لیگ کی کامیابی، بین الاقوامی حالات نے مشرف کو اسی این آر او کے تحت، سلامی لے کے قصر صدارت سے نکلنا پڑا تھا.

اگلے نو سال میں زرداری نواز سمجھوتے کے تحت عدلیہ اور فوج کو زیر کرنے رکھنے کی کاوش جاری رہی، اور حسب سابق نواز شریف کی چال الٹی پڑی. جب وہ وزارت عظمی سے ہٹے اور ” نااہل” ہو کر نیب عدالت کے ملزم بن کر بھی اگلا این آر او مانگ رہے ہیں. اب اس میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں یہ اگلے کچھ دنوں میں واضح ہونے کی امید ہے_

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: