نوجوان انجینئر کی خود کشی: کیا ریاست قاتل ہے؟ زارا مظہر

0
  • 76
    Shares

ایک اور جگمگاتا چراغ بجھ گیا مایوسی کی چادر اوڑھ کر چپ چاپ اندھیرے میں گم ہوگیا کتنی امیدیں اسکے ساتھ دم توڑ گئیں۔ کتنی خواہشات کا ڈھیرا یاس میں بدل گیا۔ پتہ نہیں یہ وقت کا نوحہ ہے یا سانحہ کہ جس نے اپنے خاندان کی زندگی میں بہت سے پھول کھلانے تھے اندھیری راہوں میں جگنو چمکانے تھے جس کے آ گے ایک روشن مستقبل جگمگا رہا تھا جانے کیوں اتنا مایوس ہوگیا۔۔۔۔

تفصیل اس خبر کی کچھ یوں ہے کہ پچھلے جمعہ کو راولپنڈی کے 24 سالہ مکینیکل انجینئر نے بند کمرے میں اپنے دماغ میں دو گولیاں اتار لیں اور اس ڈپریشن سے نجات پا گیا جس کا علاج پچھلے پانچ ماہ سے جاری تھا اور ڈپریشن کی وجہ ایک سال کی مسلسل بے روزگاری تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلوے کالونی کا اعزاز نامی نوجوان NUST سے پچھلے سال گریجویٹ ہوا ایک سال تک در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا اور مایوس ہو پہلے تو ڈپریشن کا شکار ہوا اور آ خرموت کو گلے لگا لیا۔ نسٹ جو بین الاقوامی شہرت کا حامل تعلیمی ادارہ ہے۔ جہاں داخلہ لینے کے لیئے ہائی میرٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بچے کی سالوں کی محنت کے بغیر داخلہ ممکن نہیں ہوتا۔ آ ج آ ٹھ دن ہو گئے میری نگاہوں کے سامنے سے بچے کا چمکتا روشن چہرہ ہٹ کے نہیں دے رہا اس کی ماں کو کیسے نیند آ تی ہوگی۔ ماں نے ہر دن کتنے خواب دیکھے ہوں گے۔ ہر صبح دروازے تک قدم سے قدم ملا کر اللہ کے حوالے کرتی ہو گی ساری یاد سورتیں پھونک کر ہالہ بناتی ہوگی۔ واپسی پر سر پہ ہاتھ سے انگلیاں پھیر کر تھکاوٹ سمیٹ لیتی ہوگی۔ بھوک کا خیال کرتے ہوئے نرم گرم تازہ پھلکے اتارتی ہوگی۔ سر میں تیل کی مالش کرتے ہوئے اپنی پوروں سے کتنے خواب اسکے دماغ میں جذب کر دیتی ہوگی۔ راتوں کو دیر تک جاگتے بیٹے کو زبردستی دودھ کا گلاس پلاتے منہ بناتے بیٹے کو لاڈ سے پچکارتی ہو گی۔ امتحان کے دنوں میں مصّلے پر عبادت کے بہانے ساری رات بیٹے کے ساتھ جاگتی ہو گی۔ باپ نے بہت ہاتھ روک روک کر سمیسٹر فیسیں بھری ہوں گی۔ کبھی کسی دوست سے ادھار پہلی کے وعدے پر پکڑا ہوگا۔

اس دن سب کتنے خوش ہوں گے جب بچے نے سیاہ گاؤن پہن کر ایک پروقار تقریب میں ڈگری وصول کرتے ہوئے تیس پینتیس سیکنڈز میں اپنے روشن مستقبل کے خواب ایک جاندار مسکراہٹ کے جلو میں ریکٹر کے سامنے بیان کئیے ہوں گے۔ بہت دن تو نہیں ہوئیے۔ صرف ایک سال پہلے پورا گھرانا کتنا شادمان ہوگا مگر ایک سال۔۔۔۔۔۔۔ صرف ایک سال میں کیا ہوگیا کہ نوجوان خودکُشی پر مجبور ہوگیا۔ اتنے بڑے اور مہنگے ادارے کی ڈگری بھی کام نا آسکی۔

کیا ہمارے نوجوان ملک میں پھیلی بے روزگاری سے اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ دورانِ تعلیم ہی اپنے مستقبل کا ادراک پاتے ہی سیگریٹ پھونکنا شروع ہو جاتے ہیں یا ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ اور آ خر میں، درد کا حل دو گولی، سمجھ کر سر میں اتار لیتے ہیں۔

آ خر کیوں ہمارے نوجوان اتنے مایوس ہو جاتے ہیں کہ خود کو موت کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ ریاست کا فرض نہیں کہ انکے فارغ ہونے سے پہلے انکے روز گار کے اسباب پیدا کرے یا یونیورسٹی فارغ التحصیل نوجوان کے ہاتھوں میں ڈگری کے ساتھ اپانئٹمنٹ لیٹر بھی رکھے ورنہ ہر قابل نوجوان بے روزگاری سے تنگ آ کر روشن مستقبل کی تلاش میں کسی باہر کے ملک اڑان بھر لے گا یا آ خری حل کے طور پر خود کشی میں عافیت سمجھے گا۔ اس چراغ کے بجھنے کا ذمہ دار کون ہے ریاست، گھریلو مجبوریاں یا شاندار مستقبل کا متلاشی نوجوان خود۔۔۔ فیصلہ آ پکو کرنا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: