حکومت کا ہے فرض مدد آپ کی: فوزیہ قریشی

0

کچھ دن سے میں سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ دیکھ رہی ہوں جو کرپٹ حکومت کے چمچوں نے برپا کیا ہوا ہے جو کہتے ہیں کہ اب فیملیز لیٹ اسپتال کا رخ کریں تو اس میں حکومت کا کیا قصور؟ یا یہ کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلی شہباز شریف کا کیا ذکر؟ یا یہ کہ رائے ونڈ کے نام کی وجہ سے سیاسی بھڑاس نکالی جا رہی ہے۔

افسوس انسانی بے حسی کا رویہ بہت سفاکانہ ہے کہ بچہ پیدا کرنی والی جیسے تیسے بچہ پیدا کر گئی سڑک پر جو بھی حالات اسے میسر ہوئے۔ کیسے پیدا ہوا؟ کس تکلیف سے ہوا؟ یہ وہی جانتی ہے یا اس کا شوہر کیونکہ جس پر گزر رہی ہوتی ہے اسے ہی اپنی تکلیف کا اندازہ ہوتا ہے باقی سب تو چسکے لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

جو کہتے ہیں حکومت کی کیا ذمہداری ہے وہ کیسے قصور وار ہے؟ تو جناب اگر حکومت اسلامی جمہوریہ ہے تو وہ لازما ذمہ دار ہے کیونکہ اس حکومت میں ایک کتا بھی بے موت مارا جاتا ہے تو وہ اس کی بھی دہ ہوگی۔۔

میں ویلفئر سٹیٹ میں رہتی ہوں جہاں بچوں کو تعلیم ،صحت، خوراک اور شیلٹر جیسی بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔۔۔۔حکومت یہ سب مہیا کرنے کی خود کو ذمہ دار سمجھتی ہے۔ یہاں کوئی اٹھ کر نہیں کہتا اگرکسی وزیر سے تھوڑی سی بھی غلطی ہو جائے۔ چاہے اس کا قصور ہو یا نہ ہو کیونکہ وہ وہاں کا چانسلر،میئر، ایم پی، پی ایم کچھ بھی ہے تو وہ ذمہ دار ہے۔۔۔۔

میں ان بے حس پٹواری سے کہنا چاہوں گی جو کہتے ہیں عورت بیچ سڑک میں بچہ پیدا کرتی ہے یا ہسپتال کے باہر تو اس میں وزیر اعلیٰ کا کیا قصور؟ جناب سنیئے پنجاب کا 80 فیصد بجٹ کہنے کو تو لاہور پر لگادیا جاتا ہے یہ شکوہ میرا نہیں ہے پنجاب کے دوسرے علاقے کرتے نظر آتے ہیں۔ بات تو سچ ہے پنجاب کا بجٹ برابر تقسیم ہونا چاہئے سبھی علاقوں کی خوشحالی کے لئے ۔۔۔۔ لیکن اگر ایسا ہو گیا تو پھر میرا لاہور پیرس کیسے بنے گا؟ نیلی، پیلی میٹرو کیسے بنیں گی؟ اورنج ٹرین اوردوسرے منصوبوں سے مال کیسے بنایا جائے گا؟ اگر یہی اسی فیصد باقی پنجاب کے علاقوں پر لگا دیا جائے گا تو میاں جی اور ان کے حواریوں کے ہاتھ کیا آسکتا تھا؟

اب آتے ہیں کیا سچ میں یہ پیسہ لاہور پر ہی لگتا ہے، اگر لگتا ہے تو کہاں لگتا ہے؟ تعلیم پر تو نہیں لگتا صحت پر بھی نہیں لگتا۔ یہی دو شعبے کسی بھی ویلفئیر اسٹیٹ کے لئے اہم ہوا کرتے ہیں. تو جہاں لگتے ہیں وہ بھی پاناما سے لے کر تمام نیب کیسز تک روداد سامنے آرہی ہے وگرنہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مقروض حکومت کے ہمارے یہی وزیر اعلٰی اپنی بھابھی کے علاج کے لئے یہاں لندن تشریف فرما نہ ہوتے۔۔

گورنمنٹ ہسپتالوں کی حالت اتنی خستہ ہے کہ بات کرتے بھی ان جیسوں کو سوچنا چاہئے ہم حمایت کس بنیاد پر کرہے ہیں؟ مانا کچھ کو اس حمایت کا معاوضہ بھی ملتا ہوگا لیکن جو جاہل اندھی تقلید میں حمایت کرتے ہیں۔ ان کی ذہنیت پر افسوس ہوتا ہے۔۔۔۔دو ماہ پہلے لاہور رہنے کا اتفاق ہوا ۔۔۔۔۔۔ میرا بھائی گورنمنٹ جاب کرتا ہے۔ اس کو اپنے بچے کی ولادت کے لئے پرائیویٹ علاج کروانا پڑا وجہ وہی گورنمنٹ ھسپتال کی بے حسی۔ آکسیجن کا نہ ہونا۔بیڈ موجود نہ ہونا ،مقررہ تاریخ پر بھی ہسپتال کا عملہ بیڈ نہ ہونے کی صورت میں مریض کو اندر داخل نہیں ہونے دیتے۔ میرے بھائی کے ساتھ جب یہ پہلی بار شیخ زید ہسپتال میں ہوا تو اس نے توبہ کی کہ وہ اپنی بیوی کو اور آنے والے بچے کو اس تکلیف سے نہیں گزرنے دے گا چاہے اسے ادھار لے کر ہی پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کرنا پڑے۔۔۔

شیخ زید کبھی حقیقت میں ایک صاف ستھرا اور بہتر خدمات فراہم کرنے والا ہسپتال سمجھا جاتا تھا۔ آج اس کی حالت بھی باقی ہسپتالوں جیسی ہے۔۔۔ اب اس اسپتال کی پہچان ہی اس حوالے سے ہے جہاں نومولود بچہ اور یا پھر زچہ کو موت بآسانی شکار کر لیتی ہے اور اسپتال انتظامیہ اسے امر ربی کہہ کر جان چھڑا لیتی ہے. دوسرا حوالہ تو اور زادہ بھیانک ہے جہاں نومولود بچے پیدا ہوتے ہی اپنے خاندانوں سے بچھٍڑ جاتے ہیں اور اغوا کر لئے جاتے ہیں.

میرا بھائی گورنمنٹ جاب کرتا ہے. جب یہ پہلی بار شیخ زید ہسپتال میں گیا اور اسے زچہ کو یہاں ایڈمٹ کروانا پڑا .اب اس پہلے تجربے کے بعد اس نے توبہ کی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اور آنے والے بچے کو اس تکلیف سے نہیں گزرنے دے گا چاہے اسے ادھار لے کر ہی پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کرنا پڑے۔۔۔ مجبوری بیوی اور بچے کی جان بچانے کے لئے افورڈ نہ کرتے ہوئے بھی ادھار لے کر اپنی بیوی کی ڈیلیوری پرائیویٹ کروائی اور بعد میں وہ یہ قرضہ بھی ادا کرتا رہا۔۔۔۔۔۔

اسی طرح جناح، گنگا رام، میو ہسپتال جیسے بہت سے پرانے ہسپتال کی خستہ حالی کی رپورٹس آئے دن سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ جہاں ایک ہی بیڈ پر مردے کے ساتھ ایک زندہ مریض آئے دن آپ کو لیٹے ہوئے دیکھنے کو ملتے ہیں. وہاں زندوں کی یہ قدر اور لاش کی بے حرمتی کے مناظر کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔۔

حال ہی میں شہر لاہور کے عین مرکز میں گنگا رام ہاسپٹل کے سربراہ کے سامنے ایک اور عورت نے سڑک پر بچے کو جنم دیا۔ پھر رائیونڈ ہسپتال کے سامنے ایک غریب عورت کو مقررہ وقت پر اندر جانے نہیں دیا گیا اور بامر مجبوری اس نے بھی وہیں باہر سڑک پر بچے کو جنم دیا ۔۔۔۔۔کیا ایمرجنسی ٹیم نہیں ہونی چاہئے ایسی صورتحال میں؟ اگر اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی یا کچھ گنجائیش نہیں تھی تب بھی کچھ ایسے انتظام ہونے چاہئے گورنمنٹ کی طرف سے کہ ایمیرجنسی صورت میں عوام کو ریلیف مل سکے. یہ کیسے ممکن ہے کہ اسپتال یا ادارے کسی طرح ذمہ دار ہی نہ ہوں؟

اوپر سے سوشل میڈیا پر بہت سے مرد ڈاکٹر بن رہے ہیں اورایسی ایسی تاویلیں دے رہے ہیں کہ عورت کو ڈیٹ معلوم ہونی چاہئے تھی۔ ایسی فیمیلیز کو پہلے ہسپتال میں موجود ھونا چاہئے تھا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ پہلی بات پاکستان میں غریب عورتوں کو پراپر چیک ایپ کی سہولتیں کب میسر ہیں ؟ دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے کب اتنی فیسیں رکھتے ہیں کہ باقاعدگی سے اپنے چیک اپ کے لئے جا سکیں؟ پھر اتنا شعور کہاں ہیں؟ وہ تعلیم کب ان غریبوں کو مہیا ہے؟

ہسپتالوں کی حالت سب کے سامنے ہے یہی وجہ ہے مڈل کلاس بھی جب ہسپتال میں ہونے والے سلوک کو دیکھتے ہیں تو مجبوری انہیں ادھار لے کر اپنی بیوی اور بچے کی جان بچانے کے لئے بہتر اور پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔۔۔شیخ زید، جناح ، گنگا رام ،میو ہسپتال میں جو حال مریضوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔۔۔۔ پنجاب میں رہنے والے اس سے بے خبر نہیں ہیں اور لاہور کا یہ حال ہے تو سوچیں باقی پنجاب میں جہاں بنیادی سہولتیں ہی میسر نہیں ۔۔۔۔آکسیجن کی کمی کی وجہ سے میری چچی کے دو بھتیجے انہیں دنوں جب میں لاہور میں تھی وفات پا گئے۔۔۔صحت مند پیدا ہونے والے بچوں کو گجرانوالہ اور وزیر آباد کے ہسپتالوں میں آکسیجن نہ ملنےکی وجہ سے دونوں معصوم دو دن بمشکل زندہ رہ سکے۔۔۔۔

اسی طرح مناسب ادویات اور انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بروقت پہنچنے والوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے۔ وہی جانتے ہیں جن پر گزر رہی ہوتی ہے۔ اے سی والی گاڑیوں، دفتروں اور کمروں میں بیٹھ کر باتیں کرنا بہت آسان ہے۔۔۔۔جو افورڈ کر سکتا ہے اس کے لئے تو یہ مسائل نہیں ہیں . یہ سب امیروں کے چونچلے ہیں جنہیں ٹائم معلوم ہوتا ہے اور اس ٹائم پر بھی اندازہ ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

برحق ہے کہ اللہ نے جو وقت جس روح کا اس دنیا میں آنے کا مقرر کیا ھے اس سے پہلے کوئی ذی روح اس دنیا میں نہیں آسکتی ۔ بہت سے بچے مقررہ وقت سے پہلے بھی دنیا میں آجاتے ہیں سب میرے رب کی قدرت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی حکومت ووٹ لینے کے بعد اپنی ذمہ داریاں بہتر اور فوری فراہم کرنے کی ہر صورت ذمہ دار ہے اب چاہے یہ پٹواری جتنا بھی مکھن لگا لیں لفافے لے کر حقیقت سے انکار کر لیں پھر بھی جو سچ ھے وہ یہی ہے حکومت کرپٹ ہے اور ایسی صورتحال میں عوام کی جواب دہ بھی۔۔۔۔۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: