عشق نے ڈسے کیسے کیسے: عابد آفریدی

0
  • 332
    Shares

مولانا عرفان اللہ صاحب کو کئی سالوں بعد دیکھا، دیکھا تو دیر تک دیکھتا رہا۔

سیاہ گھنی داڑھی بھرے شانے پیدائشی مولوی زادے کی طرح بات بات پر اثبات میں سر ہلانا، ہنسی دباتے ہوئے نظروں کو جھکا لینا۔

بہت کوشش کی کہ مولانا عرفان اللہ کے چہرے میں ماضی کے اس “عرفی” کے کچھ مبہم دھندلے آثار ڈھونڈ لوں، جو میوزک کا دیوانہ تھا۔ جو ہر وقت گٹار کی طرح بجتا رہتا تھا، گانا سنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا۔

آجکل موسیقی اداکاری، ڈرامہ نگاری، ریا کاری، بدکاری، کاروکاری، چھوڑ کر دین کی طرف آنے والے لوگوں کے اس انتقال کے پیچھے لازم کسی دینی جماعت کی دعوت ہی برسرپیکار رہی ہوگی۔

مگر عرفان کا معاملہ مختلف تھا۔ وہ کسی پیر یا امیر کی دعوت پر مولوی نہیں بنا بلکہ ایک “قاتل حسن” نے اسے اٹھاکر دین کے راستے پر ڈال دیا تھا۔

عرفان ہم سب کو زبردستی شادی بیاہ کے تقریبات میں لیجاتا تھا، جہاں وہ اسٹیج پر گانا گاتا اور ہم لڑکوں کا ٹولہ سامعین میں بیٹھے آپ کے بے تکے بے سرے گانے پر چلا چلا کر کہتے ” کیا بات ہے، کیا کہنے، واہ واہ ظالم دل جیت لیا، پلیز ایک گانا اور سنائے ” آپ کا احسان ہوگا” ۔

دیگر سامعین بھی خربوزے کی مانند ہم سے رنگ پکڑ کر ہماری فرمائش میں بلاوجہ شامل ہوجاتے، جب آپ کے وہ تمام گانے جن کا آپ ہمیں سمجھا کر پلیننگ کرتے کہ جب تک میں یہ آخری والا گانا نہ گا لوں تم لوگوں نے مجھے چھوڑنا نہیں “۔

گانے تمام ہوجانے کے بعد ہم سب نمبروار آپ کے ساتھ تصاویر کھچواتے، آپ سے ہاتھ ملا کر دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتے، کلایاں موڑ کر مکا بنا کر یہ یہ کرتے ہوئے اسٹیج سے اترتے جیسے اپ کے ساتھ تصویر نہیں بلکہ سچن ٹنڈولکر کی وکٹ لی ہو۔

اپنی اس ایکٹنگ سے دیگر سامعین کو بھی متاثر کرتے جس پر وہ بھی جھٹ سے آپ کے ساتھ فوٹو کھچوانے اسٹیج پر چڑھ جاتے۔

آخر میں عین وعدے کے مطابق ہم سب کو رول پراٹھا کھلانے لیجاتے۔

پھر ایک دن نجانے کس کی دعا آپ کے حق میں قبول ہوگئی، کہ آپ کی نظر ایک عالمہ لڑکی پر پڑ گئی “۔

یہ نظر اتنی گہری و غائر تھی کہ اس کی زد میں آنے والا چہرہ پہلے دماغ پر عدالتی مہر کی طرح ثبت ہوا اور پھر دل کے خالی کینوس پر “گل جی ” کے کسی شاہکار فن پارے کی طرح نقش ہوگیا۔

وہ آپ کی عادت جس کے باعث آپ ہر وقت کوئی گانا گنگناتے تھے اسں سے تائب ہوکر اب بس اس لڑکی ہی کے گن گاتے تھے۔

ایک دن ہم نے اصرار کیا کہ بابھی کی کوئی تصویر تو دکھاو، آپ نے ہم سے راز فاش نا کرنے کا وعدہ لیا،(جوکہ ہم نے اس کے اٹھتے ہی فاش کردیا تھا) اور ایک تصویر جس میں پانچ لڑکیاں یا پھر عورتیں مکمل طور پر سیاہ برقعے پہنے، ہاتھوں پر دستانے چہرے پر نقاب اور آنکھوں والی کھڑکی پر جالی لگائے سڑک کنارے کسی نامعلوم سمت کی جانب جارہی تھی دکھائی، اور بتایا بیچ والی تمھاری بابھی ہے، جس کے جوتے سفید ہے، اور پھر داد طلب نگاہوں سے ہمیں دیکھنے لگے۔

بھابھی کا حلیہ لباس، دستانے چال سب باقی چار لڑکیوں کے ہی جیسے تھا، جس کی وجہ سے فرد واحد کی خوبصورتی کو پرکھنا مشکل ہورہا تھا لہذا ہم نے بھی صرف جوتوں کو تعریف کے زمرے لاتے ہوئے کہا
” واو کیا جوتے ہیں”

آپ نے خوش ہوکر تصویر سینے سے لگائی، کہا تمھاری بھابھی پوری واو واو بلکہ ایک واویلا ہے بس دعا کرو کے میری ہوجائے۔

عرفان نے اپنے گھر والوں کو اس لڑکی کے گھر بھیجا مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا۔ ہمیں اپنی بیٹی کے لئے ایک دیندار ثابت سالم عالم درکار ہے کوئی گویا نہیں” ۔

دوبارہ بھیجا پھر یہی جواب آیا تیسری بار بھیجا تو لڑکی کے باپ نے شرط عائد کردی۔

اگر لڑکا یہ سب چھوڑ کر کسی مدرسے میں داخلہ لے لے عالم بن جائے تو یہ رشتہ پکا سمجھو”۔

اس شرط نے عرفان کو بلکل دیوداس بنادیا، خاموش کردیا، پریشان کردیا، لڑکی اور میوزیکل کیریر دونوں اس کے سامنے کھڑے ہوگئے۔

ایک طرف حسن کا دباو تو دوسری جانب سنگیت سے لگاو تھا، کچھ دن خوب دیوداس بنارہا بلا آخر فیصلہ کرلیا۔ سنگیت کو اٹھا کر دل کے کسی گمنام طاقچے میں رکھ دیا اور کتاب اللہ کو سینا سے لگا کر پہنچ گیا مدرسے۔

لڑکی والوں کو اطلاع کردی کہ اب انتظار کرو! وہ شخص پلٹ کر تمھارے ڈھنگ سے آئے گا۔ اور اپنی دلہن کو لیجائے گا۔

ہفتے گزرے، مہینے سال گزرگئے عرفان قاری سے بڑھ کر درس نظامی کے آخری درجوں تک پہنچ گیا، لوگ اب آپ کو عرفی یا عرفان نہیں مولانا صاحب کہہ کر بلاتے تھے۔

لڑکی والوں نے آپ کے گھر اطلاع کردی کہ کسی بھی وقت آکر ہماری بیٹی بیاہ سکتے ہو۔

مگر اب وقت و سوچ بدل گئے تھے عرفان اول گوئیہ تھا پھر عاشق بنا، مگر اب اپنی زندگی کے تیسرے دور میں داخل ہوگیا تھا جہاں وہ ایک عالم بن کر جی رہا تھا۔

اس نے اپنے استاد کو بتایا تھا کہ “ہاں میں نے ایک لڑکی کے پیار میں آکر یہ قدم اٹھایا تھا، اور آج وہ لڑکی دستیاب ہوگئی ہے۔

مگر میں نہیں چاہتا کہ قیامت کے دن اللہ مجھ سے کہہ دے جس مقصد کے لئے تم نے دین کا علم حاصل کیا تھا اس کا پھل لڑکی کی صورت تمھیں دنیا ہی میں دے دیا گیا۔

( قصہ مختصر ) عرفان نے شادی سے انکار کردیا اور کراچی سے پشاور منتقل ہوکر مدرسے میں پڑھانا شروع کیا۔

آج کہیں سالوں بعد ہم نے دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کی، اس کے گانے اسے یاد دلائے۔ شرارتیں، مستیاں گرم جوشیاں، نجانے کیا کیا۔

لوڈشیڈنگ کا زمانہ ہے۔ اس دوران لائٹ چلی گئی اس چھوٹے سے کمرے میں اندھیرا چھا گیا، اس نے جلدی سے ماچس جلائی اور موم بتی ڈھونڈ کر روشن کردی، ہم دونوں خاموش ہوگئے عرفان موم بتی کی لو کو گھورنے لگا، اس کی انکھیں نم سی تھی۔ ان نم آنکھوں میں ٹمٹماتی لوح کو دیکھا تو یو لگا۔ جیسے سورج غروب ہوچکا ہو بس ذرا ذرا دور سمندر پار لہروں کی اونچ نیچ کی آڑ میں دکھتا و چھپتا ہو، یہ زوال پزیر ڈوبتا سورج “اس شوخ تیزطرار عرفی کا تھا” جسے عشق کے ظالم سیاہ تاریکیوں نے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔

بہت کوشش کے بعد ہمت کرکے میں نے پوچھ ہی لیا۔
عرفان کیا وہ لڑکی تمھیں یاد اتی ہے۔
مجھے دیکھے بنا ہی عرفان نے جواب دیا۔

کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے
سرد پڑتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتا ہے

دل افسردہ کا ہر گوشہ چھنک اٹھتا ہے
ذہن جب یادوں کی زنجیر ہلا دیتا ہے

حال دل کتنا ہی انسان چھپائے یارو
حال دل اس کا تو چہرہ ہی بتا دیتا ہے

کسی بچھڑے ہوئے کھوئے ہوئے ہم دم کا خیال
کتنے سوئے ہوئے جذبوں کو جگا دیتا ہے

ایک لمحہ بھی گزر سکتا نہ ہو جس کے بغیر
کوئی اس شخص کو کس طرح بھلا دیتا ہے

وقت کے ساتھ گزر جاتا ہے ہر اک صدمہ
وقت ہر زخم کو ہر غم کو مٹا دیتا ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: