خزاں کی آمد آمد: راشد حمزہ

0
  • 40
    Shares

خزاں کے روح پرسا موسم کی آمد آمد ہے، کائنات کا چہرہ بے رونق صبح کی طرح مغموم اور کالے بادل کی لپیٹ میں آئے چاند کی طرح بے نوری اور رنج و الم کا اشتہار بنا ہوا ہے،_ چند دن پہلے درختوں کے جو پتے برسات کی نمی کی وجہ سے تر و تازہ اور گہرے سبز ہوگئے تھے اج کل سردیوں کی شاموں میں غروب ہوتے افتاب کی طرح نارنجی ہوچکے ہیں، ہوا کے جھونکوں کی ذرا سی اٹھکیلیوں سے ان کی چیخیں بلند ہوجاتی ہیں اور شاخ کے پیٹ سے جدا ہوکر زمین پر خاک میں مل جاتے ہیں،__

ایسے ہی آج میں صبح سویرے اٹھ کر گھر کی صحن میں ناشتے کی میز کے گرد بیٹھا موسموں کی اس عظیم گھن چکر اور ان میں پوشیدہ اسرار و رموز پر سوچ رہا تھا کہ کس طرح ہر موسم اپنے ساتھ ہمارے لئے خاص اور منفرد سوغات لاتے ہیں، گرم موسم کی اپنی سوغات ہوتی ہیں، جیسے زمین گرم ہوکر زرخیز اور تازہ ہوجاتی ہے، تو سرد موسم اپنے ساتھ شمال میں کہیں پر واقع نامعلوم غاروں میں آباد ٹھنڈ کے کارخانوں سے خلش آمیز ہواؤں کا ایک طوفان لاتا ہے، تو صبح کی دھند اور راہوں پر پڑی نمی کا احساس بھی راحت افزاء ہوتا ہے، برفباری جوان دلوں کیلئے بہت ہی خوشگوار تجربہ ہوتا ہے نہاں خانوں میں عجیب و غریب احساسات جوان ہوجاتے ہیں ظاہر کی یہ ٹھنڈک ان کے باطن کی حرارت بڑھا دیتی ہے، پھر جب چاند اپنے شباب یعنی چودہ راتوں تک پہنچ جاتا ہے تو برف پوش چوٹیوں کی چمک سے گرم لبادوں میں محو خرام مکانوں کی کھڑکیوں ان دلفریب مناظر کا نظارہ کرنے والی اور رات کی آغوش میں بیداری کی ہوشیاری اور نیند کی بے ہوشی کے درمیان رہنے والی دوشیزاؤں کی روحیں میٹھی میٹھی گدگدی سے سرشار ہوجاتی ہیں اور ان کے دلوں کے تار غیر مرئی ہاتھوں کے چیڑنے سے جھنجھنانے لگتے ہیں__

اسی طرح موسم بہار کا تو پوچھئے ہی مت، موسموں میں یہ موسم اتنا دلفریب اور دلنشین ہوتا ہے کہ ان کی دلفریبی اور دلنشینی بیاں سے ماورا ہوتی ہے، بہار موسموں پر آئے شباب کا نام ہے_ خدائے لازوال موسم بہار کے ذریعے کائنات کا وہ حسن و جمال ظاہر کردیتا ہے جو بہشت کے کارخانوں میں پوشیدہ رہتا ہے،_ بہار موسم کا بے ساختہ قہقہہ ہے یہ قہقہہ شباب کے پورے شعور کی لپیٹ میں ائی دوشیزہ کے قہقہے کی طرح ہوتا ہےجو اسکے من کی گہرائیوں میں ترتیب پاتا ہے اور اس کے چہرے پر ظہور پاتا ہے جس میں زندگی کی تمام تر رعنائیاں اور رنگینیاں لپٹی ہوئی ہوتی ہیں،_ بہار کائنات کو تازگی اور شگفتگی کے طوفان میں غرق کردیتی ہے، اسے مسرور اور مخمور کردیتی ہے__ بہار فلک کی بلندیوں اور سمندر کی گہرائیوں کے درمیان تیرنے والی مسرتوں کی وہ بے کنار و بیکراں دھند ہے جو انسان کو پوری طرح لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اس کے جسم میں جذب ہوکر توانائی اور خمار میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے سبب وہ جھومتا اور مچلتا رہتا ہے__

میرے گھر کی صحن سے باہر کے اخاطے میں سرو کے بادلوں کو چھوتے درختوں کی بہت گھنی جنگل سی ہے، جو اج کل ایسی نظر آ رہی ہے جیسے کسی نے بلند و بالا چوٹی کو زرد چادر میں لپیٹ لیا ہو،__ آج صبح جب میں گرم گرم چائے سے لطف اٹھا رہا تھا تو میری نگاہیں سرو کے ایک اونچے درخت کی شاخ کے پیٹ سے جدا ہوجانے والے پتے پر ٹہر گئیں، اس پتے کیلئے کتنا ہی درد ناک لمحہ تھا جیسے ایک ذات کے دو ٹکڑے ہو رہے ہوں، جیسے کوئی ماں اپنے جوانسال لخت جگر کو سپرد خاک کر رہی ہو اور اپنے انہیں ہاتھوں سے اس کی نعش پر مٹی ڈال رہی ہو جن ہاتھوں میں اسے کھیلایا اور کھلایا تھا_ وہ پتا جیسے جھولا جھولتے جھولتے رنجیدہ اور غمزدہ زمین کی طرف رواں دواں تھا اور جب زمین پر پہنچ گیا تو مزید حزن و ملال نے گھیر لیا، تب زمین نے اپنی بانہوں میں ماں کی ممتا کی پوری تاثیر لاکر اسے اپنی آغوش میں لیکر بے انتہاء نرمی سے کہا:_

بیٹا!! تم خفا مت ہو تم پریشان کیوں ہوتے ہو، رنج و الم مایوسی اور غم تمہارے چہرے پر نہیں جچتا، تم جسکا بیٹا ہو اس کی آغوش میں ہو، یہ درخت بھی میرا بیٹا ہے جس سے جدائی کا تمہیں غم ہے، میں تم سب کی ماں ہوں، میری بانہیں تمہارے لئے وا تھیں میری نگاہیں تمہاری آمد کی منتظر تھیں، میں تمہاری ماں ہوں، میں ہی ان سب چیزوں کو اپنے سینے میں دفن کرتا ہوں اور اسے مختلف صورتوں اپنے سینے پر ظاہر کرتا ہوں، تم تب تک میری اس آغوش میں آرام پذیر رہو جب تک میں تمہیں دوبارہ خاک بناکر اپنی ذات جو مٹی ہے میں ملا نہ دوں ایک دن میں تمہاری خاک سے کسی دوسری چیز کی خمیر تخلیق کروں گی،__ تمہاری صورتیں تو بدلتی رہیں گی لیکن تمہاری ذات تمہاری ماں ہے تم ایک عظیم ماں کی اولاد ہو یہ یاد رکھنا تم اپنی ماں سے کبھی جدا نہیں ہوں گے…

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: