فتح محمد ملک صاحب سے سیاسی، علمی، سماجی اور تاریخی گفتگو (آخری حصہ)

0
  • 36
    Shares

سوال:۔ ملک صاحب یہ فرمائے گا کہ اس وقت ہمارے مسلم سکالرز سمجھے جاتے ہیں ان کا یہ بیانیہ ہے کہ جس طرح سوڈان میں مذہبی بنیادوں پہ ایسٹرن ملک علیحدہ ہوا ہے انڈونیشیا کا ایک جزیرہ تھا اور اسی طرح سوڈان میں ایک ملک عیسائیت کی بنیاد پہ علیحدہ ہوا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں یہ مسلمان ملکوں کے خلاف سازش ہے اگر یہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے تو یہ ہمارا نظریہ پاکستان بھی ہم ایک ملک لے کے علیحدہ ہوئے اس کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں دونوں میں سے ایک بات غلط ہے یا صحیح ہے؟

جواب:۔ جو ملک الگ ہوئے یہ تو کتنی ااسانی سے الگ ہوگئے ایسٹرن ملک ہے عیسائی آبادی تھی ایک خاص علاقے میں ان کی Concentration تھی اکثریت تھی جزائر ہے موسیٰ ہے۔ تو پہلے فتوحات کے ذریعے وہ انڈونیشیا میں شامل تھے اب جمہوریت کا زمانہ آیا ہے انہوں نے سوچا کہ ہم اس خطے میں اپنی ملک کی اس چھوٹے سے خطے میں اکثریت میں ہیں تو آواز اٹھائی عیسائی دنیا نے ان کا ساتھ دیا انڈونیشیا نے ان کی مخالفتیں کیں کیونکہ انڈونیشیا اکثریتی مسلمان ملک ہے انڈونیشیا اقوامِ متحدہ میں گیا کہا کہ ہم نہیں بننے دیں گے وہ الگ ہونا چاہتے ہیں اور ان کے ساتھ عیسائی دنیا ہیں اس طرح وہ الگ ہو گئے۔

سوال: یہ بتائے گا کہ جو مغل امپائر تھی اس سے پہلے مسلمانوں کی حکومت تھی جس طرح لودھیوں کی حکومت تھی کیا وہ ان خاندانوں کی حکومت تھی یا مسلمانوں کی حکومت تھی؟

جواب:۔ خاندانوں کی حکومت تھی ہاں بادشاہتیں تھیں تو سیاسی طور پہ تو مسلمان نہیں رہے چونکہ اسلام خاندانی شہنشاہیت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ اس وقت سے چل رہا ہے۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں حضرت علی کے زمانے تک مفتی اعظم تھا؟ علماء کا کوئی انسٹیٹیوشن تھا ایسا کہ ان سے فتویٰ لیں؟ یہ کب فتوے شروع ہوئے اور ملّا کا انسٹیٹیوشن کب بنا؟ جب غیر اسلامی حکومت بنی۔ اسلام اجازت نہیں دیتا خاندانی شہنشاہیت کی مسلمانوں پہ خاندانی شہنشاہیت آئی اس سے اسلام کے نام پہ Justify کرنے والے پیدا کیے گئے یعنی ادارے۔

سوال:۔ کیا آپ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ ملّا جو ہے اس نے ہمیشہ سامراج کا ساتھ دیا یا ملّا جو ہے وہ سامراج کا نمائندہ ہے؟

جواب:۔ جی بالکل Creation ہی اسی کے ہیں۔

سوال:۔ آپ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ وزارت امور مذہبی امور نہیں ہونا چاہیے؟

جواب:۔ جی میں نے ایک تقریب میں سوال کیا تھا کہ ہمارے ہاں وزارت مذہبی امور کی تو کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ اسلام میں ہر کام عبادت ہے اب ہم بیٹھے ہیں یہ مذہبی سرگرمی ہے اگر آپ نیک نیتی سے بات کر لیں کھیت میں ہل چلا رہے ہیں اخبار کے دفتر میں بیٹھ کے کام کر رہے ہیں آپ آپس میں بات کر رہے ہیں یہ عبادت ہی ہے۔

ڈاکٹر غلام جیلانی نے ایک کتاب لکھی ”دو اسلام“ ایک اصل حقیقی اسلام ہیں اور ایک ہیں جو ملّا نے وضع کیا۔ تو اس میں مسلمانوں کی تاریخ سے واقعات ہیں۔ ایک واقعہ اسلا م میں یہ ہے کہ جو بادشاہ سلامت تھے ایک خاتون پر ان کا دل آگیاتو اس خاتون نے کہا کہ بادشاہ سلامت میرے لیے تو یہ بڑی اچھی بات ہے میں صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ تمہارے والد جو ہے وہ بھی میرے ساتھ سوتے رہے ہیں تو ایک طرح سے میں تمارے ماں ہو گئی ہوں تو بادشاہ باز آگئے لیکن ذہن سے بات نہیں نکلی تو بادشاہ امام ابو یوسف کے دربار میں آگئے اور ان سے بات کی کہ کوئی راستہ ہے تو کہا کیوں نہیں؟ پوچھا کیسے بھئی؟ کہو کہ بکواس کرتی ہیں آپ کہ اپنے دل میں سمجھیں کہ یہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ یہ انتہائی ولگر ترین اور یہ کتابوں میں لکھی ہو ئی ہیں وہ کتاب کا میں حوالہ دے رہا ہوں تو اس نوعیت کے وہ جسٹیفکیشن جواز پیدا کرنا اس کے لیے انہوں نے مفتی کا اور ملّا کا انسٹیٹیوشن قائم کیا جو اب تک چلا آ رہا ہے۔ جتنی بھی خلیج کی ریاستیں ہیں یا خاندانی شہنشاہیت ہیں اسلام تو اس کی اجازت نہیں دیتا کہیں نہیں دیتا اب وہ ہیں اور مسلمان انہیں مقدس سمجھتے ہیں ایسے کہ انہوں نے اب ایک مذہبی فوج بھی بنا رکھی ہے۔

سوال:۔ ملک صاحب یہ فرمائیے گا کہ ملّا یا ہمارے مذہبی طبقات ہیں جس طرف یہ لے کے جانا چاہ رہے ہیں سوسائٹی کو جس طرح ضیاءکا دور رہا اور خاص طور پہ اس کو طاقت ملی اور جماعت اسلامی نے جس طرح پاکستان بننے کے بعد ایک خاص نعرہ دیا کہ ملک اسلام کے نام پہ بنا ہے تو وہ ٹھیکیدار بن گئے۔ تو یہ ذرا بتائیے گا کہ آپ نہیں سمجھتے کہ یہ ملّا جو ہے یہ دراصل وہ مقاصد جو ہمارے مسلمانوں کے مخالف طاقتیں کسی اور طرح سے حاصل نہیں کر سکتی تھیں وہ ملّا کے ذریعے حاصل کر رہے ہیں تا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ اسلام کی بری ترین شکل یہ ہے؟

جواب:۔ آپ کی بات بالکل درست ہے اور ہماری تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ مثلاً ضیاءالحق آئے تو وہ جس دور میں ضیاءالحق آئے اس دور میں عوام بھٹو صاحب کو پسند کرتے ہوں یا نہ پسند کرتے ہوں جمہوریت کو پسند کرتے تھے عوامی حکومت اور عوامی سیاست کو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے آ کے ملّایت کو رائج کیا اور ملّاﺅں نے آتے ہی اسلام کا شکل کیا بنائی۔ اسلام کا نام ہے ثناء، قید، کوڑے۔ اسلام کا کوئی فلاحی نظام تو نہیں لاییں گے یہ لوگ۔

سوال:۔ تو آپ یہ سمجھتے تھے جو ملّا ہے مذہبی طبقات ہیں یہ دراصل ایک ٹول کے طور پہ ہتھیار کے طور پہ استعمال ہوگئے ہیں ان طاقتوں کے ہاتھوں جو اسلام کی یا مسلمانوں کی دشمن ہیں؟

جواب:۔ جی، یہ ہے کہ فرق یہ کرنا پڑے گا کہ علمائے دین اور ملّا، تو ملّا یہ سب کام کر رہا ہے۔ یعنی جو قتل و غارت کی بات کہاں تک پہنچ گئی ہے ذرا سے مذہبی اختلاف کے بعد تو وہ بھی اب ہم مذہب مذہب کرتے ہیں وہ اختلاف سیاسی اختلاف ہے یعنی اب شعور کی دھار اتنی تیز ہو گئی ہیں کہ لوگوں کی گلف سٹیٹ میں بھی اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی تو وہ آزادی چاہتے ہیں یعنی جہاں سوشلسٹ آمریت ہے وہاں بھی لوگ جمہوریت کے لیے سرگرمِ عمل تھے اور ہیں اور جہاں شہنشاہیت کی آمریت ہے وہاں بھی ہیں تو فرق یہی ہے جہاں زیادہ تشدد ہے وہاں چپکے چپکے لوگ جو کچھ کر سکتے ہیں کر رہے ہیں سمجھتے تو لوگ ہیں۔

سوال:۔ ملک صاحب یہ بتائے گا کہ جماعت اسلامی کا پاکستان میں آپ کیا کردار دیکھتے ہیں جو انکا ماضی، حال اور مستقبل کے پس پردے میں؟

جواب:۔ بات یہ ہے کہ میرے خیال میں جماعت مودودی صاحب کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ ایک تحریک کی صورت میں ایک دین کی نشر و اشاعت کی جو بات کرتے تھے کیونکہ مودودی صاحب سکالر تھے اچھے سکالر تھے۔ آپ اس سے اندازہ کر لیں کہ مودودی صاحب کا انتقال ہوا تو ان کے بعد کون قائد بنا۔ ان کے بعد تو طفیل صاحب بنے۔ تو علمِ دین کی حیثیت سے اخلاق و معیار کے اعتبار سے مودودی صاحب اور ان کا مرتبہ آپ کے سامنے ہیں۔ تب سے لے کے اب تک جتنے لوگ قائد بن رہے ہیں اور بنتے چلے آ رہے ہیں ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے مودودی صاحب کا سیاست ناکام لیکن سکالرشپ انکی کامیاب تھی۔

سوال:۔ اچھا یہ بتائے گا کہ مودودی صاحب کا سیاست کیوں ناکام ہوئی؟
جواب:۔ اس لیے کہ ابن الوقتی۔

سوال:۔ابن الوقتی سے کیا مراد ہے؟

جواب: ابن الوقتی سے مراد یہ ہے کہ پاکستان قائم ہوا آل مسلم لیگ انڈیا کو Reorginized کر کے پاکستان کے اندر مسلم لیگ کا ڈھانچہ جب قائد اعظم نے بنایا تو مسلم لیگ کی پہلی قونصل میٹنگ میں قائد اعظم کی صدارت میںs Land Reform کے لیے کمیٹی بنی جسے دولتانہ کمیٹی کہتے ہیں اس کمیٹی کے قیام کے ساتھ ہی جاگیرداروں نے علمائے کرام سے فتوے لینے شروع کیے ازروے شرع Land Reforms حرام ہے۔ مودودی صاحب نے چھوٹی سی کتاب لکھی ”مسئلئہ ملکیتِ زمین“ زمینداروں اور جاگیرداروں کا ساتھ دیا اور اسلام کی روح سے ثابت کیا کہ یہ جو بانیانِ پاکستان اس میں علامہ جیسے سکالر بھی ہے جو کہتا ہے کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور کسان جتنے ٹکڑے پر کاشت کر کے اس سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ اس کا لیکن کسی کا مزارع نہیں بن سکتا کیونکہ زمین کا مالک تو خدا ہے خدا کا بندہ کسی اور بندے کے سامنے جوابدہ نہیں ہے۔ جتنی وہ کاشت کرتا ہے اتنی یا ان سے زیادہ دے دیں جتنا وہ سنبھالتا ہے۔ لیکن اِنہوں نے مسئلئہ ملکیتِ زمین کے نام سے کتاب لکھی اسی سال اسی صورت حال میں جماعت احمدیہ کی سربراہ نے بھی جاگیرداری کی حمایت اور زرعی اصلاحیت کی مخالفت میں مسئلئہ ملکیتِ زمین پہ لکھا۔ اسی طرح سے ان کے بھائی مولانا شبیر احمد عثمانی تھے انہوں نے زمینداری، جاگیرداری اور اسلام کے نام سے ایک چھوٹا سا کتاب پمفلٹ لکھا اور مخالفت میں لکھا۔ اب یہ مذہب کا جو استعمال ہے یہ میں سمجھتا ہوں جو سکالرشپ بعد میں ان کے سامنے آئی تفسیر خاص طور پہ پھر ایک بہت بڑی کتاب انہوں نے لکھی ہے ”خلافت اور ملکویت“ یہ بڑے کام ہے۔ اور اقبال کے کام کے تسلسل میں لیکن سیاست نے انہیں برباد کر دیا۔ پڑھے لکھے لوگ بھی ساتھ چھوڑ گئے ۔

سوال:۔ ایک سوال آپ کی شخصیت اور آپکا جتنا کام ہے اس حوالے سے زہن میں آتا ہے کہ آپ کا تعارف و حوالے ہیں ان میں ایک طرف اقبال، پاکستان اور اسلام بغیر کسی معذرت خواہ کے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی حوالے سے پیپلز پارٹی، سوشلزم اور ترقی پسندی۔ اب بظاہراً یہ دو متضاد چیزیں ہیں آپ کی شخصیت میں یہ دونوں آوازیں لگ رہا ہے اس کو کس طرح سے آپ Justify کرتے ہیں؟

جواب:۔ دو بات ہے۔ ابھی آپ ملّایت کی بات کرتے آئے ہیں تو اسلام جو ہے حقیقی اسلام سے بڑا اور مکمل سوشلسٹ سسٹم وجود میں آ گیا۔ مجھے یاد ہے اور میری تربیت میں بھی یہ چیزیں شامل ہیں کہ جب صدر ناصر انقلاب لائے مصر میں تو مصر میں اخوان المسلمین نے بھی اور ان کے ردِّ عمل میں پیدا ہونے والے مذہبی گروپوں نے لکھنا شروع کیا ہوا تھا تو انہوں نے بھی خاص طور پہ Biographies لکھی آہزور سے لے کے ابوذر غفاری تک سارے خلفائے راشدین۔ وہ سارے Tip Progressive انداز میں لکھی گئی تھی اور اس پہ لکھنے والے جو ہیں انہوں نے کوئی کسی طرح کا تامل نہیں کیا مثلاً میں آپ کو ایک کتاب کا ٹائٹل بتاتا ہوں ”محمد رسول اللہ الاشتراکی الاول“۔

سوال:۔ مصنف کون ہے؟

جواب:۔ یہ پورا ایک سلسلہ ہے عطاءحسین کے بعد کا۔ یہ بہت مشہور ہے بڑا مکتبہ بھی بڑا اخبار بھی مصر کا اس زمانے میں تھا اور وہ Petronised کر رہے تھے اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق پہ، حضرت عثمان پہ، حضرت عمر پہ اور حضرت علی پہ لکھی اور اس کے بعد ایسی شخصیات کے ابوذر غفاری ہو گیا وہ بھی ایک سوشلسٹ انداز میں رہ رہے تھے۔ سپین کے علاقے کا ایک بہت یہ بڑا امام ابنِ اعظم اس کا بہت بڑا نام ہے ان پہ ایک مضمون مودودی صاحب کے بڑے بھائی ابوالخیر مودودی نے لکھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا کہ ”لینن سے پہلے ابنِ اعظم“ تو پیشرو قرار دیا انہوں نے اور یہ مودودی صاحب کے بڑے بھائی نے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کے ساتھ میرے رابطے تھے تو ندیم صاحب سے میں نے Request کی کہ مجھے ان کے پاس لے چلے تو انہوں نے جو حوالے دیئے تھے تو میں ایک کتاب کا کہا کہ یہ میں فوٹو کاپی کرانا چاہتا ہوں تو ہنسنے لگے کہنے لگے کہ وہ میں نے ایک دن بیٹھے بیٹھے ابو الاعلیٰ سے کہا کہ بھئی یہ کیا تم نے یہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں کے اس پہ پڑے رہتے ہو اس سچے اسلام کو دیکھو اور وہ ابنِ اعظم کو پڑھو اس نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے تو میں نے کچھ کوٹیشن دی کتابوں کے حوالے دیئے تو انہوں نے کہا کہ یہ کتاب آپ مجھے دیں۔ جس میں امام ابنِ اعظم نے یہ تک لکھ دیا کہ اگر فاقہ مستی سے آپ کی جان کو خطرہ ہو تو چوری کرنا بھی جائز ہے۔ امیروں کے گودام لوٹ لینا بھی جائز ہے اسلام میں اس کی اجازت ہے اور وہی Simple سی اس کی توجیح دیتے ہیں۔ اس کے بعد کئی بار ان سے وہ کتاب واپس مانگی مگر ہمیشہ ٹال گئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: