آسانیوں کی دعا دینے اور مشکلات کھڑی کرنے والے عجیب لوگ؟ سحرش عثمان

2
  • 6
    Shares

جب میں کہتی ہوں نا کہ بطور قوم ہم عجیب ہیں بہت عجیب۔ تو اس لئے کہتی ہوں کیوں کہ اس وقت میرے پاس کہنے کے لئے اور کچھ نہیں ہوتا۔ مجھ سے بتایا سمجھایا ہی نہیں جاتا کہ اتنے عجیب کیوں ہیں ہم متضاد رویوں کے حامل۔ متضاد روئیے بھی ہوں تو شائد سمجھ آجائیں ہم ضدوں کا مجموعہ ہے۔ “اجتماع اضداد” یہ والی ٹرم کیسی رہے گی؟ آپ سب اتنی لمبی لمبی تمہید سے بور ہوجاتے ہوں گے۔ پر کیا کروں یہ بھی تو ہمارا قومی مزاج ہے نا ہم صاف سیدھی بات نہیں کرتے۔ کسی کو کام کہنا ہو تو پہلے کل عالم کے مسائل بتائیں گے پھر کہیں گے ایسا ہے تم اگر یوں کرو ووں کرو تو ہمارے کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔ بھئ صاف سیدھا کہنا چاہیے نا۔ کہ تم سے ایک کام آن پڑا ہے کیونکہ معاشرتی حیوان ہیں ہم سب اور ایک دوسرے سے کٹ کر رہنا ممکن نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح کوئی ہمیں کام کہہ دے۔ چاہے ہمارے لئے وہ کتنا ہی آسان کام کیوں نہ ہو۔ ہم فورا نہیں کریں گے۔ ہم برملا کہتے ہیں کہ دو چار دن پریشان رہنے دو اسے تاکہ احساس ہو اگلے کو کہ کس قدر مشکل کام کیا ہے ہم نے۔ اور دل ہی دل میں اپنی حثیت اگلے کی “اوقات” پر مسکراتے رہتے ہیں۔ یہ پڑھنا کتنا گھٹیا لگ رہا ہے نا؟ لیکن کیا کریں یہ گھٹیا پن اب ہمارے مزاجوں کا حصہ ہے۔ ہم آسانیوں کی دعا دینے اور مشکلات کھڑی کرنے والے لوگ بن چکے ہیں۔ ہے نا عجیب؟

ہم بارہ چودہ سال لگا کر بیسٹ پاسیبل اسباب مہیا کر کے اپنے بچے کو بہادر بناتے ہیں مضبوط بناتے ہیں۔ دنیا سے لڑنا سیکھاتے ہیں۔ سچے آدرشوں پر جان دینے والے شہزادوں کے قصے سنا سنا کر ہم اپنے بچوں میں سچ کی محبت پروان چڑھاتے ہیں۔ ان کو مرضی کا اختیار دے کر ان کو اپنے فیصلے لینا سکھاتے ہیں۔ پھر جب کورے کاغذ پر عبارت تحریر ہوجاتی ہے۔ کینوس پر ہمارے لگائے بولڈ سٹروکس سے تصویر بننے لگتی ہے۔ جب ہمارے حرفوں کی جادوگری سے شاعری ہیر بننے لگتی ہے تو اچانک ہم پر عقدہ کھلتا ہے کہ ہماری تراشی ہوئی تصویر ہماری لکھی ہوئی تحریر اس معاشرہ کو “سوٹ” نہیں کرتی۔ اچانک ہمیں احساس ہوتا ہے سچائی سے محبت اور سچ کے لئے ڈٹ جانے میں جو فرق ہے انہیں معاشرتی روایات کہا جاتا ہے۔

اور پھر ہم معاشرتی روایات کے نام پر اپنی تحریر کا حاشیہ لکھنے لگ جاتے ہیں۔ جس پینٹنگ کے بولڈ سٹروکس ہی اس کی پہچان تھے ہم ان سٹروکس کے ایجز “فائل اور پالش” کرنے لگتے ہیں۔

ہم اپنے بچے کے موحد دل کو سومنات بنانے پر تُل جاتے ہیں۔ خوف کے، لوگ کیا کہیں گے، سب کیا سوچیں گے ؟ اور ایسے ہی کئی لایعنی خوف اور ان کے بت۔
اور جب وہی بچہ فیصلہ کی آزادی والے اختیار کو استمال کرتا ہے تو ہم سب مل کر اس کے فیصلے کو غلط ثابت کرنے لگتے ہیں۔ ہیں نا عجیب ہم؟ بہت عجیب؟

آپ کہہ رہے تھے نا میں چپ ہوں بہت دنوں سے۔ میں چپ نہیں تھی۔ میں آوازوں کے ہجوم میں احتجاج کر رہی تھی۔
آپ پوچھ رہے تھے نا کہ اداس کیوں ہوں میں؟ میں اپنی رائے رکھنے کی قیمت ادا کر رہی تھی۔ آؤٹ آف دی باکس سوچنے کا تاوان تو پھر بھرنا پڑتا ہے نا۔
آپ پوچھ رہے تھے بہت دن سے کچھ لکھا نہیں میں نے۔ تو وہ اس لئے کہ میں “معاشرتی روایات” سیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پر میں نہیں سیکھ پائی۔ مجھے شائد اپنے شارپ ایجز سے محبت انسیت ہوگئی ہے۔

آپ ان کو ایسے ہی رہنے دیں تو میں محبت کی کہانیوں میں سچائی پر جان دینے والا شہزادہ ظالم جادوگر سے لڑا دوں۔
مختصر یہ کہ
تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو۔
میں یونہی مست نغمے لٹاتی رہوں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: