فتح محمد ملک صاحب سے سیاسی، علمی، سماجی اور تاریخی گفتگو (حصہ 3)

0
  • 40
    Shares

ممتاز دانشور، ادیب، نقاد، ماہر تعلیم، ماہر اقبالیات اور ’دانش‘ کے سینئر بورڈ ممبر جناب فتح محمد ملک نے دانش سے خصوصی گفتگو میں مختلف موضوعات پہ کھل کے گفتگو کی۔ قارئین کے لیے اسکا تیسرا حصہ پیش خدمت ہے۔


سوال: یہ جو الزام لگایا جاتا ہے کہ پاکستان کا قیام انگریز کی سازش تھی۔ آپ کی باتیں تو اس کے برعکس ثابت ہو رہی ہیں؟

جواب: پاکستان کو ختم کرنا انگریز اور ہندو دونوں کی سازش تھی اور آپ نے جو سوال کیا تھا بڑا Relevant ہے کہ فسادات، بھئی فسادات جب ہوئے کون تھا ہندوستان کا گورنر جنرل؟ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن۔ ہندوستان کا سی این سی کون تھا؟ …..انگریز….. سکھوں کو کس نے بھڑکایا……؟ تو یہی تو تھا روک نہیں سکے پاکستان کے قیام کو تو انہوں نے کہا کہ پاکستان دیں ان کو، پھر چھین لیں گے۔ جان بوجھ کے کر رہا ہے یہ انگریز اور ان کی مشترکہ سازش ہے اور میں آپ کو بتاﺅں کہ ایک کتاب ہے North East of British Rule In India تو اس کتاب کے مصنف نے جواہر لال نہرو سے بھی انٹرویو کیا قیام پاکستان کے ایک ڈیڑھ سال بعد۔ تو اس نے ایک سوال یہ بھی کیا کہ آپ اتنا کہتے ہیں کہ تم پاکستان کے خلاف اترو تو اس استدلال کو جب میں سامنے رکھتا ہوں تو ایک سوال آتا ہے کہ ااپ نے مانا کیوں تھا کہ پاکستان بن جائے، انڈین نیشنل کانگریس نے بھی تسلیم کیا تھا نا پاکستان کو ….. کیوں؟ تو اس کا سیدھا سادہ جواب اس نے دیا کہ اس لیے کہ ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان قائم نہیں رہ سکے گا Within One Month یہ واپس آ ملے گا تو یہ جو فسادات ہیں یہ سازش تھیں کہ سنبھل نہیں پائے گا، ختم ہو جائے گا اور پانچ چھے مہینے سے زیادہ مدت انہوں نے نہیں دی تھی اس سازش میں انگریز اور انڈین نیشنل کانگریس شریک تھیں۔

سوال: گاندھی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ وہ اس سازش میں شریک نہیں تھے؟

جواب: نہیں گاندھی کسی سامراجی سازش شریک نہیں تھا لیکن وہ اپنی آرگینیزم میں کہ ہندوستان ایک رہے اور بڑا ملک ہو وہ پوری کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح سے قائد اعظم کو اور مسلم لیگ کی قیادت کو قائل کر لیں تو وہ نیک نیتی سے لگا رہا لیکن اس بات کا اسے بھی انکار نہیں تھا کہ اصل طاقت کانگریس کی سردار پٹیل تھے کیونکہ وہ ہندو منابلی کپیٹل جو ہے اس کا نمائندہ تھا۔

سوال: تو آپ مودی اور اس کے نظریہ کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے عقیدے اور ایمان اور سیاسی پروگرام پہ بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ دنیا کی رائے عامہ کی پرواہ کیے بغیر گامزن ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندو بنا دیا جائے اگر انہوں نے ہندوستان میں رہنا ہے تو ہندو بن کے رہنا ہو گا۔

سوال:۔ ملک صاحب یہ ذرا فرمائے گا کہ جب گاندھی کا قتل ہوا تو ریڈیو لاہور سے تعزیتی پروگرام تک بھی نشر ہوا؟

جواب:۔ ہماری لیڈر شپ تو نہرو کے بھی خلاف نہیں تھی۔

سوال:۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس وقت سے لے کے سنہ 1965ء کی جنگ تک یہ جو اتنا پانچ سے سات سالوں میں فرق پڑا وہ کیا ایسی بنیادی چیز تھی کہ دو ملکوں کو آمنے سامنے کر کے لا کھڑا کر دیا وہ کیا صورتحال ہے؟

جواب:۔ یہ کہ گاندھی ایک ایسی شخصیت تھے کہ جو اپنی اثر و رسوخ سے دونوں ملکوں کے درمیان امن کے قیام کے لیے سرگرم تھے اور گاندھی کلکتہ میں جو فسادات ہوئے وہاں سے کلکتہ گئے لوگوں میں Preach کرتے رہے کہ بھئی کسی کو نہیں مارو مسجدوں میں گئے دہلی میں۔ اس کا انجام کیا ہوا یہ نریندر مودی ہی کے جو سیاسی اجداد انہوں نے ہی اس کو قتل کیا کسی مسلمان نے تو نہیں کیا ہندو نے ہی کیا اور اب انڈیا کی آرکائیوز کو استعمال کر کے کتاب لکھی ہے امریکن آرتھر نے تو اس میں گاندھی کی آخری جو تمنّائیں تھیں ان کی بہیمانہ قتل کا جو سبب ہے وہ یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے امن و امان کا گہوارہ بنانا چاہتے تھے ہندوستان کو اور کشمیر میں رائے شماری کرانا چاہتے تھے۔ کشمیر میں ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ آپ کرائے رائے شماری تو وہ اس پہ کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک سیٹھ تھے اور پالیٹکس میں تھے لیکن جب قائد اعظم، اقبال بھی سوال کرتے تھے تو وہ چپ ہو جاتے تھے مثلاً جواہر لال نہرو جب لاہور آئے علامہ اقبال کے پاس تشریف لائے علامہ اقبال بیمار تھے جاوید اقبال چھوٹا سا بچہ تھا اسے تیار کر کے اس کی امّی سے کہا کہ بہت خوبصورت کپڑے پہنوا کے ٹوپی پہنا کے مکان کے گیٹ پہ وہ کھڑا تھا اور علامہ اقبال نے اسے کہا کہ بیٹا دیکھو ہمارے گھر آج ایک بہت عظیم شخصیت آرہی ہیں۔ انکے درمیان آپس میں احترام کارشتہ تھا۔ اور جاوید نامہ میں بھی انہوں نے جب کشمیر کے بارے میں کہا ہے تو وہ براہمن زادگانِ لالہ فام اِس کے باپ اور اس کا ذکر کیا ہے۔ لیکن حقیقت کیا تھی اسی ملاقات کی، میاں افتخار الدین ساتھ تھے سول اینڈ ملٹری ضمن میں موسیٰ علی روداد چھپی ہوئی ہے اس حوالے کی تو میاں افتخار الدین نے کہا کہ آنے کا مقصد ایک سیاسی بھی ہے وہ یہ ہے کہ پنڈت جی چاہتے ہیں کہ اگر آپ آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت قبول کر لیں تو آپ کے ساتھ بات بہتر ہو سکتی ہے بہ نسبت جناح کے۔ تو اس رپورٹ پہ ہی ہے کہ اس کے بعد یعنی سوال کے بعد اقبال کا چہرہ غصّے سے سرخ ہو گیا تو تھوڑی دیر خاموش رہے تو انہوں نے محسوس کیا اجازت لینا چاہیے تو اقبال نے کہا کہ یہ ۔۔۔جملہ زبردست جملہ ہے تاریخی۔۔۔ کہ مسلم لیگ کا لیڈر مسٹر جنّاح ہے I Am His Ordinary Soldier تو اس سے چلا گیا۔

اسی ملاقات کے شروع میں جب جواہر لال نہرو نے کہ ہم تو آپ کے شاعری پڑھ پڑھ کے اور آپ کے خیالات، Interpretations پڑھ پڑھ کے تو مذہب سے دور ہوئے اور آپ اب مذہبی بنیادوں پہ Subcontinent کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ تو آپ کی اس تربیت کا ہمیں تو یہ انعام ملا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتحاد رہے تو علامہ اقبال نے کہا مجھے یہ بتائیں کہ آپ اس وقت کانگریس کی حکومت میں ہیں (33کی حکومت)، تو آپ کے پاس کتنے لوگ ہیں کانگریس کی ہائی راست کیے ہوئے جو آپ کے سوشلسٹ خیالات سے متفق ہوں۔ تو تھوڑی دیر سوچنے کے بعد انہوں نے کہا کہ پانچ اقبال نے کہا کہ میری تو ساری قوم سوشلسٹ ہے ہم سب Human Brotherhood پہ، اکنامکٹسٹ اور ہمارا دین بھی یہی کہتا ہے تو اب چھ آدمیوں کی خاطر کس طرح سے آپ اس قیادت پر انڈیا کو United رکھیں جہاں آپ کی اکثریت ہے آپ اپنی نظریات کے مطابق حکومت کریں ہم مسلمانوں کے اکثریت کے علاقوں میں ہی مسلمانوں کو اپنی عقائد و نظریات کے مطابق زندہ رہنے کا حق دے دیں۔ کسی کے ذہن میں نہ قائداعظم کے نہ اقبال کے تھا کہ لڑتے پیٹتے رہیں گے اور نہ نہرو کے ذہن میں تھا یہ تو بات تھی اصل طاقت جو تھی وہ تو ہندو انتہا پسند تھی یعنی جب فسادات کی بات آپ نے کی تھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے اس وقت گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن تھا، انٹیریئر منسٹر کون تھا؟ سردار پٹیل تھے جو کہ ہندو انتہا پسند تھے۔ ڈیفنس منسٹر کون تھا؟ سردار بلدیب سنگھ….تو انہوں نے مل کے امن و امان کا قائم کرنا تھا اِن کے پاس تو ابھی کچھ نہیں تھا یہاں حالت یہ تھی کہ سی این سی بھی تھا وہ قائد اعظم کا حکم ماننے سے پہلے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن سے پوچھتا تھا یہ عبوری دور تھا تو Planing یہ تھی کہ اسی خون میں ڈوب جائے پاکستان ختم ہو جائے اور وہ امیدوار تھے اس کے۔

ملاقات کے شروع میں جواہر لال نہرو نے اقبال سے کہا کہ ہم تو آپ کے شاعری  اور آپ کے خیالات پڑھ پڑھ کے تو مذہب سے دور ہوئے اور آپ اب مذہبی بنیادوں پہ Subcontinent کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

سوال:۔ دیکھیں کانگریس اور مسلم لیگ میں اتنی بڑی Logistic تیاری ہو رہی تھی تو ہجرت کیلیے کوئی موثر Planing نہیں کی گیی تھی کہ لوگ یہاں سے ادھر جائیں گے اور ادھر سے ادھر ؟

جواب:۔ یہ نہ کانگریس کا کام تھا نہ مسلم لیگ کا کام تھا۔ کانگریس کی حکومت تھی تو اس میں انٹریئر منسٹر اور ڈیفنس منسٹر نے کرنا تھا لیکن وہ انٹریئر منسٹر اور ڈیفنس منسٹر تھی لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کا ما تحت تھا۔ یعنی پاور ٹرانسفر کس نے کرنی تھی لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے کرنی تھی۔

سوال:۔ جب فسادات شروع ہو گئے تھی تو اس وقت جناح اور نہرو کو چاہئے تھا کہ مشترکہ اپیل کرتے؟

جواب:۔ وہ تو کی ہے دونوں نے کی ہے اور خاص طور پر مہاتما گاندھی کا جو کردار ہے اس میں اس قدر وہ پریشان تھے چین ہی نہیں تھا یعنی مسجدوں میں جا رہے ہیں اس سے کسی کو بھی انکار نہیں تھا کہ ہندوﺅں میں بھی، سکھوں میں بھی اچھے سوچ کے لوگ تھے دوسری بات یہ کہ طاقت جس کے پاس ہوتی ہے وہ اپنی حکومتیں بھی نہیں کھڑے رہنے دیتا۔

سوال: ملک صاحب مہاتما گاندھی سے آپ نے کہا کہ باہمی طور پہ امن و آشتی تھی عزت و احترام کا رشتہ تھا جس طرح میں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان لاہور سے تعزیتی پروگرام نشر ہوا نہرو نے کہا کہ سب سے اچھا پروگرام گاندھی پہ ریڈیو لاہور نے کیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس وقت سے لے کے جو 65کا سفر ہے یہاں تک ہم کیسے پہنچے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو مارنے مرنے پہ تلے تھے؟

جواب:  ایک تو یہ کہ گاندھی دنیا سے ہو کر آئے تھے۔ مہاتما گاندھی کا صرف یہ نہیں کہ ریڈیو لاہور سے پروگرام نشر ہوا فیض احمد فیض نے پاکستان ٹائم کے ایڈیٹر سے تین دن مسلسل ایڈیٹوریل لکھا یہ اس لیے کہ یہ اچھے لوگ تھے۔ ان لوگوں کی پذیرائی ہمارے حق میں تھی سیاسی اختلاف یہی تھا جیسے جواہر لال نہرو سے اقبال نے پوچھا تھا کہ آپ کی ساری حائرارکی میں اب آپ کی حکومت بھی ہے تو ک±ل کتنے لوگ ہیں جو آپ کے سوشلسٹ خیال کے حامی ہیں۔ تو وہ سوچ میں پڑ گئے گننے کے بعد بتایا کہ پانچ ہیں اصل بات تو یہی تھی کہ یہ دیکھتے تھے کہ حقائق کیا ہے یعنی کس کے پاس طاقت ہے کون فساد کرائے گا کون امن قائم کرے گا مہاتما گاندھی کے شخصیت کے باوجود ان کی ساری نیک نیتی کے باوجود ان کے سرگرمیوں کے باوجود وہ تو کچھ نہیں ماسوائے اس کے کہ پاکستان ٹائمز کے تین ایڈیٹوریل تھے ایک کے بعد ایک مسلسل تین دن ا?تے رہے اس میں خبر بھی پاکستان ٹائمز میں تھی تو وہ خبر مین ہیڈ لائن تھی مہاتما گاندھی کو انہوں نے کہا تھا کہ The Greatest Angle Of Non Violence Faced Violence۔

سوال:۔ ملک صاحب یہ فرمائے گا کہ اقبال کا ذکر ہوا ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ہر ملک ملکی مااست اور دوسری طرف کہتے ہیں مسلمان جو ہے Union پہ علیحدہ ہو جائیں یا ان کو ایک مخصوص یا مسلم اکثریت کے علاقے ہیں وہ دیں۔ ڈومین بنا دیں ڈومین وتھ ان ڈومین۔ اس کے بعد ازاں تحریک پاکستان کی شدت اختیار کر گئی اور آج ان کو مفکّرِ پاکستان کہا جاتا ہے تو دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ ہر ملک ملکِ ما است ہوں اور میں مسلمان ہوں تو دنیا میں جہاں مرضی میں فتح کرتا چلا جاﺅں اور ساری دنیا ہمارا ملک ہے تو اس دونوں دلائل میں جو نظریہ پاکستان ہے جو Two Nation Theory ہے وہ کہاں کھڑی ہے؟

جواب:۔ بات یہ ہے کہ آپ نے استعمال کیا نا کہ ایکسپریشن کہ میں ملک پہ ملک فتح کرتا چلا جاﺅں یہ نہیں۔ اس کا مطلب ہے ہر ملک ملکی مااست کہ ملکی خدائے مااست تو میری زمین اللہ کا ملک ہے تو میں اس سے اسی طرح محبت کروں گا اور اس میں بسنے والے کا احترام کروں گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرااپنا جغرافیہ ہے میری ملک کا وجود نہیں ہو گا وہ تو ہو گا کہیں نہ کہیں لیکن وہ جو جغرافیائی خطہ ہے وہ دیوتا نہیں بنے گا اس میں رہنے والے آدمی بھی اسی طرح انسانی احترام اور انسانیت کی اور آدمیت کی احترام کے قائل ہوں گے جیسے دوسرے ملکوں میں جو لوگ آباد ہیں وہ بھی خدا کے بندے ہیں اور خدا کے بندوں کو زندہ رہنے کے لیے زمین پہ گھر اورمکان چاہیے۔ یہ اس طرح ہیں کہ Human Brotherhood کی بات کر رہے ہیں وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف تعصب یا جنگ یہ میرا ایمان نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ بھی سرزمین خدا نے پیدا کیے ہیں اس میں جو بندے ہیں وہ بھی خدا کے ہیں۔

۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

اس انٹرویو کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: