اقبال، مغرب اور ویلفیئر سٹیٹ: در جوابِ نعمان علی خان ۔۔۔ جاوید اقبال راؤ (3)

0
  • 10
    Shares

گذشتہ سے پیوستہ:  اب مغرب کے فکری اختصاص کو دیکھیے۔ مغرب میں کوئی بھی حقیقی فکری اختصاص موجود نہیں۔ عالمی سیاسی پلیٹ فارم کی وجہ سے اجتماعی قانون موجود ہے لیکن دکھاوے کے لیے ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے ہنگامی اور اس قدر متنازعہ و غیر ضروری یا بے وقت اقدامات کیے گئے ہیں کہ تمام سیاسی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ معاشی اختصاص ضرور موجود ہے۔ اگر ساتھ میں حقیقی فکری اختصاص ہو اور ترقی کرسکتا تو نیا دیرپا سیاسی نظام بھی وجود پاتا۔ کوئی نیا سماجی اختصاص بھی آن موجود ہوتا۔ لیکن کیا کریں کہ معاشی میدان میں رسک اور خطرات مول لینے والے حقیقی سیاسی اصلاحات سے یوں دبکتے ہیں جیسے کوا غلیل سے۔ جس قدر بھی حقوق اور انسانی شرف کا ذکر ہے، وہ دراصل ڈھونگ ہے جسے سولہویں صدی سے جاری رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امریکی اپنے حقیقی فرائض کی انجام دہی کے لیے ضرورت سے کہیں زیادہ کوشش کرتے ہیں۔ یہی کوشش مسلم معاشرے بھی کرتے ہیں۔ لیکن عالمی طور پرامریکیوں کو دنیا بھر میں فرائض کی انجام دہی پرخاطر خواہ پذیرائی نہیں مل پائی (یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیوں؟ شاید اس لیے کہ امریکی قیادت کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ہر معاملے میں ٹانگ گھسیڑنا اچھا نہیں ہوتا)۔ خود امریکہ کے اندر بھی انسانی حقوق کی ادائیگی پر کافی مصلحت پسندی موجود ہے۔ کالے گورے کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ امریکی طاقتوروں کو برا کہنے کا عمل شاید درست ہو لیکن اس کا کوئی متبادل ابھی تک وجود میں نہیں آیا۔ چین اس کا ابتدائی متبادل ہے جسے امریکیوں نے روس کے بالمقابل کھڑا کرنے کیلئے وجود بخشا۔ لیکن چین کے اپنے ویلفیئر نظام میں بہت سے نظریاتی اور عملی مسائل موجود ہیں۔ یہاں بھی ایشیاء کے طرم خانوں کو کسی حقیقی با اصول انداز پر قائم کرنے کے لیے اسلامی تحریکوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وگرنہ ایشیائی اقوام بھی سرمایہ داری کے مغرب میں یا مغرب کی سرمایہ داری میں غروب ہوجائیں گی۔ لیکن اس قدر بڑا ظرف کہ کسی قوم کو اس کی اپنے ہی اصول پر قائم کیا جائے، کہاں سے لایا جائے۔ یا اسلام ہی کے اصولوں کا نئی دنیا میں کامیاب اطلاق ہی کرکے دکھایا جائے کہ عوام تسلیم کرلیں اور خواص ماننے پر مجبور ہوجائیں۔ کاش ہمیں خلوص و اخلاص و بے غرضی وغیرہ کی عملی جہات کا کچھ اندازہ ہوپائے جس سے قوموں کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔

مغرب کے سیاسی نظام کے نتائج کو موجودہ دور میں پرکھ لیجیے۔ سیاسی طور پر ٹرمپ کا آجانا بالکل ناکامی کی علامت ہے۔ امریکی رائے عامہ تک کو معلوم ہوچکا کہ وہ روس کا دوست ہے۔ اسکا بیٹا بھی روسیوں سے ملاقاتیں کرچکا ہے۔ ٹرمپ کا آنا روس کی فتح یا سرمایہ داری کے دشمن کی فتح ہے۔ اس پر پابندیاں لگائی گئی ہیں کہ روسیوں کے لیے کوئی قانونی قدم نہیں اٹھائے گا۔۔ کیا امریکیوں کے پاس روس کے حامی اور اپنے دشمن کے سوا کوئی شخص موجود نہیں تھا جسے صدارت تفویض کی جاتی۔ یہ خود کشی نہیں کہی جائیگی تو کیا کوئی نیا لفظ ایجاد کرنا ہوگا؟ امریکہ اپنی ہی بنیادوں کےساتھ بھڑ چکا ہے۔ یہاں امریکہ کو اپنے ہی خلاف صف آراء ہونا پڑسکتا ہے۔ یا اپنی ہی پیدا کردہ طاقتوں کے خلاف لڑنا پڑسکتا ہے۔ یہ خود کشی نہیں تو کیا ہے؟ بیک وقت بہت سی متضاد طاقتوں کی سرپرستی کے نتائج کیوں واقع ہوئے؟ اس لیے کہ جمہوریت کا کوئی ایک واضح مقصد موجود نہیں۔ اس حقیقت کو علامہ اقبال نے سمجھ کر ہی تنقید کی تھی۔ مقصد کی اجتماعی اور کھلم کھلا وضاحت کردی جائے تو جمہوریت کی بنیاد ہی ہل جاتی ہے۔ اس کے بعد مقصد کے حصول کی جدوجہد کے لیےاٹھائے گئے اقدامات سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ یہی مسئلہ امریکہ کے لیے اندرونی و بیرونی طور پر پیش آیا۔ یوربی ممالک بھی اس مسئلے سے نہیں نمٹ سکتے۔ معاشی یا ویلفیئر اختصاص سٹاک ایکسچینج کی بنیاد پر قائم تھا۔ اگر اسٹاک ایکسچینج لڑھک گئی تو بہت سا اختصاص بھی رخصت ہوسکتا ہے۔

مغربی ممالک کا طاقتور ترین ملک امریکہ ہے جس کے پاس سب سے زیادہ قوت و طاقت ہے۔ اس تک محدود رہ کر تجزیہ کیا جائے تو معاملات واضح ہوجائیں۔ جنگوں کے بعد کا امریکہ کیسے مضبوط ہے، اسکی وضاحت ضروری ہے۔ کیا معیشت بہتر ہوئی؟ نہیں۔ معیشت بظاہر بہتر ہوئی۔ آپ میرا تھامس پکٹی والا مضمون دیکھ لیں۔ چند دن قبل دانش میں ہی چھپا ہے۔ کیا سیاست میں زیادہ اہمیت حاصل ہوئی؟ سیاست میں تو چین اور روس دوبارہ سامنے آن کھڑے ہیں۔ کیا کوئی نیا نظریہ ایجاد کیا؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ انسانی حقوق کا ڈھونگ پچھلے پانچ سو سال سے زائد کا ہے جب جان لاک نے سیکنڈ ٹریٹائز لکھی تھی۔ اس ہلاکت خیز مشروب کو نئے پیراہن کے ساتھ پلانے سے کوئی بھی حقیقی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ چین نے اس کا سادہ سا علاج کیا ہے۔ کیا کوئی نئی سیاسی طاقت وجود میں آئی جسے انسانی حقوق کا چیمپئین قرار دیا جائے؟ ہرگز نہیں۔ برکس کا اتحاد زیادہ مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ جس میں برازیل، روس، انڈیا، چائنا اور ساؤتھ افریقہ ہیں۔ کیا روس اور امریکہ کے علاوہ برازیل کی موجودگی سوشلسٹوں کی نمائندگی نہیں کرتی؟ برکس ممالک کے ویٹو طاقت بننے سے سلامتی کونسل میں طاقت کا توازن بالکل ہی بگڑ جائےگا۔ یہ ناممکن العمل پنڈورا باکس ہوگا جس سے فیصلہ کن نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ کیا انسانی حقوق نے کوئی نئی چھلانگ لگائی؟ ہرگز نہیں۔ امریکہ نے انڈیا کا ساتھ دیا۔ انڈیا کھل کر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ کیا کسی نئے مخصوص گروہ نے کوئی حقیقی کامیابی حاصل کی جس کا جواب مخالفین کی جانب سے نہیں آیا؟ ایسا کوئی گروہ نہیں ابھرا۔ نہ ہی ابھرنے دیا گیا۔ صرف اور صرف علم پسندی ایک ڈھال ہے جس کا امریکی عمل کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ نہیں بن پارہا۔ جنھیں امریکی معاشرے نے رقم صرف کرکے تخلیق کیا تھا، وہ امریکہ کے ساتھ کھلی جنگ کے لیے تیاری کررہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مصنف ان سوالات کا جواب مکمل طور پر دیں تو بات آگے بڑھائی جائے۔

اب اپنے گھر کی خبر لیجیے۔ اقبال کو مطعون نہ کریں۔ وہ تو ہر فرد کو بیدار کرنا چاہتے تھے۔ مجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوق۔ طبِ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آفریں۔ پارلیمانوں سے بڑھ کر قومی امنگوں کے لیے جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔ لیکن وہ پارلیمانی جدوجہد سے واقف تھے۔۔ انہوں نے اداراتی اجتہاد کا تصور دیا۔ اجتماعی اجتہاد کا شعور پارلیمانی جدوجہد کا خاصہ ہے۔ اس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن جس قدر بھی انسانی حقوق کی قانون سازی ہے، وہ اجتماعی پارلیمانی مساعی سے ہوئی۔ اقبال کا تصور یہ تھا کہ ایسے باشعور افراد موجود ہوں کہ وہ انفرادی اور اجتماعی اجتہاد کی شرائط پوری کرکے اس فرض کو ادا کرسکیں۔ اس سے ہرگز مقصود یہ نہیں تھا کہ اجتہاد کی بنیادی شرائط سے صرفِ نظر کرکے ہر ایک ہما شما کو قانون سازی کا حق تفویض کردیا جائے۔ تمام اسلامی ممالک میں اجتماعی اجتہاد کے لیے ادارے وجود میں آئے لیکن وہ فیصلہ کن حیثیت اور عوامی پذیرائی حاصل نہیں کرپائے۔ پاکستان میں اس طریق پر عمل نہ ہوا تو اس میں اقبال کا کیا قصور۔ اس موضوع پرعبدالجبا شاکر صاحب کا تفصیلی مضمون پڑھ لیجیے۔ میں اس پر مزید رائے دینے سے قاصر ہوں۔

اقبال کی فکر کے بنیادی نکات پر عمل ہی نہیں کیا گیا۔ ہمارے معذرت خواہان اور مغرب کے متاثر کنندگان اس قدر تواتر کیساتھ اسلام سے یا اقبال کی فکر پر عمل سے احتراز برتتے رہے ہیں کہ تمام برکت ہی اٹھ گئی۔ معاشرہ اپنی روح کے ساتھ عمل ہی نہیں کرپایا۔ یہ نان ایشوز نہیں ہیں۔ اقبال کی فکر کے بنیادی عناصر مندرجہ ذیل ہیں جنھیں شاید نان ایشو قرار دیا گیا ہے۔ 1۔ عشقِ رسالت 2۔ خودی 3۔ قومی بیداری اور نوجوانوں کا تحرک۔ اقبال کے فلسفے میں تصور عشق، فلسفہ خودی، نظریہ وطن، اور عقل وعشق اہم ہیں۔ خود آپ ہی بتائیے کہ کیا عشقِ رسالت سے دور رہ کر مسلم معاشرہ قائم رہ سکتا ہے؟ اقبال فرماتے ہیں

عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفی
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام
عشق کے مضراب سے نغمئہ تار حیات
عشق سے نور حیات عشق سے نار حیات

مسلم معاشرے میں حقیقی جدوجہد کی جاتی ہے تب جاکر حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ معاشرے میں اصلاح، تبلیغ، تعلیمِ دین، جہاد اور عمل نہ ہو تو حقوق نہیں دیے جاتے۔ حقوق کی ادائیگی کے لیے کسی قسم کا خودکار یا آٹومیٹک نظام نہیں بنایا جاتا۔ نہ ہی چلنے دیا جاتا ہے۔ بنیادی فرائض کی بجاآوری کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ معاشرہ ایک مخصوص جدوجہدسکھاتا ہے۔ اسکے بغیر کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہ ہماری ہمت ہے کہ ہم حقیقی اسلامی جدوجہد کرپاتے ہیں یا نہیں۔ ایسی کسی تحریک کو چلانے کے لیے خود کو، اپنی موجودہ نسل اور اپنے قائدین کو متحرک کر پاتے ہیں یا نہیں اور اس کے لیے جواز بھی حاصل کرپاتے ہیں یا نہیں۔ ایسا نہ کرنے کے جرم میں ہمیں اپنے حقوق سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ اس محرومی کا الزام اقبال پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ مسلم معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے جسے اقبال نے خود بھی ادا کیا۔ اقبال، قائد، محمد علی جوہر اور ان کے دور کے سینکڑوں قائدین ان تھک محنت کرتے رہے۔ آج کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں۔ ایک کام کرتا ہے تو ہزاروں اس کے خلاف صف آراء ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں کسی کو بھی حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ اقوامِ متحدہ اور امریکہ خود بھی پاکستانیوں سے ہی یہ امید کرتے ہیں کہ وہ حقیقی جدوجہد کریں۔ وگرنہ ان کے پاس بھی کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس کے ذریعے سے عالمی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ ناتجربہ کار لوگ اس حقیقت کا ادراک نہیں کرپائے کہ عالمی ادارے بھی کسی کو بروقت حقوق ادا کرکے نہیں دیتے وگرنہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی اجتماعی خلاف ورزیوں کے عظیم ترین جرائم کئی کئی دیائیوں تک جاری نہ رہتے۔ اقوامِ متحدہ، مغربی مفکرین اور انکے وکلاء و کارکنان نے کشمیر، فلسطین کے علاوہ کانگو، سوڈان، افغانستان اور عراق کتے علاوہ لیبیا و شام میں جن جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اس کے لیے فکری سہولت اقبال نے مہیا نہیں کی تھی۔ پہلے کوئی ان خلاف ورزیوں کے فکری مجرم ڈھونڈ کر عدالتی کٹہرے میں کھڑے کردے تو پاکستان بھی اقبال کا جرم تسلیم کرلے گا۔ اگرچہ پاکستان کو اس فکر کے ساتھ کوئی خاص نسبت نہیں۔ ہمیں تو اپنے مجرم ڈھونڈنا ہیں جنھوں نے ہمیں کام نہیں کرنے دیے۔ ہمارے فرائض کی بجاآوری میں غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کیں اور آج تک ہمیں تحرک سے دور رکھا۔ مسلم معاشرہ، ہمارے نزدیک تمام عالم کی حقیقی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا سامان کرتا ہے۔ جس نے اس ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے کی فکری سہولت فراہم کی، ہمیں اس سے جواب طلب کرتا ہے۔ اسلامی فلاحی ریاست کاحصول ممکن ہے۔ یہ مروجہ جمہوریت سے بھی نہیں ہوگا۔ جمہوریت تو ایک پراکسی لفظ ہے۔ جمہوریت حقیقی عمل نہیں ہے۔ غیر حقیقی اصطلاح ہے۔ ہمیں نظریہ و عمل اور جواز و تحرّک کے علاوہ اتحاد و یگانگت کے ذریعے سے کامیابی حاصل کرنا ہے۔ عمل کے میدان کے طلبا نظریے کو سمجھتے ہیں۔ یہ توحید اور عشقِ رسول کی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ اسے آپ نان ایشو نہیں کہ سکتے۔ اب بھی اپنے بنیادی فرائض کی ادائیگی سے کام لے کر ہم وہ سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں جسے اقبال نے اسلامی ماڈل کا روپ دیا تھا۔ وہ مسلمان کو ایشیا کا ترجمان بنانا چاہتے تھے۔ یہ نکتہ سرگزشتِ ملتِ بیضا سے ہے پیدا/ کہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسبان تو ہے۔ تمام ایشیا میں تو اسلامی و سیاسی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنیں۔ اس پر فکرِ اقبال نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ پھر اقبال کے اشعار کہ تمام دنیا ہی مسلمان کے لیے کار گہ خیر ہے:

مومناں را گفت آں سلطانِ دیںﷺ ۔ مسجد من ایں ہمہ روئے زمیں الاماں از گردشِ نہ آسماں ۔
مسجد مومن بدست دیگراں سخت کوشد بندہ پاکیزہ کیش ۔ تا بگیرد مسجد مولائے خویش

اقبال کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ طریق کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ مرد کامل اس وقت مرد کامل بن سکتا ہے جب اپنی خودی کو بے خودی کے لیے وقف کردے۔ یعنی ایثار وقربانی کا جذبہ پیدا ہو۔

صلح شر گردد چو مقصود است غیر۔ گر خدا باشد غرض جنگ است خیر گرنگردد حق ز تیغ ما بلند ۔ جنگ باشد قوم را نا ارجمند

(اگر مقصد غیراﷲ ہو تو صلح شر بن جاتی ہے (اور) اگر مقصود اﷲ تعالیٰ کی ذات ہو تو جنگ بھی خیر ہو جاتی ہے۔ اگر ہماری تلوار سے حق کا کلمہ بلند نہ ہو تو ایسی جنگ قوم کے لیے نامبارک ہوتی ہے۔)

ہمارے لیے کفر کے ساتھ الجھنا ضروری نہیں۔ لیکن اپنے آئیڈیل طریقہ کار کے لیے کسی غیر کی اطاعت اور کسی کے انداز کی نقالی فرض نہیں۔ چین کے سوشل ویلفیئر نظام پر تنقید دیکھ لیجیئے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق وہاں سوشلسٹ نظام کی تابعداری کم جبکہ یورپی ویلفیئر نظام کی تابعداری زیادہ کی جارہی ہے۔ نقالی کرنے والی اقوام پر تنقید بھی زوردار کی جاتی ہے۔ ہر قوم کو اپنی مثال کے لیے خود اپنے نظریات و ضروریات کو سامنے رکھنا ہوتا ہے۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

اس مضمون کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: