اب ہمارے خطے میدانِ جنگ نہیں بنیں گے: قاسم یعقوب

1
  • 62
    Shares

گذشتہ دنوں مجھے اپنے کالج میں ایک ڈرامے (Theater) کے ایک منظر کی ہدایت دیتے ہوئے اپنے طلبا کو بتانا پڑا کہ ’’جب سٹیج پہ دہشت گرد جمع ہو جائیں گے تو انھیں کچھ دیر تک گولیاں برسانے دی جائیں گی، بعد میں جب خون خرابا ہو چکا ہوگا، تب سٹیج کی دوسری سمت سے کچھ پولیس آفیشلز چڑھیں گے اوران دہشت گردوں کا صفایا کر دیں گے۔‘‘ مجھے یہ سین کرواتے ہوئے، غیر شعوری طور پر، ایک پختون بچے کا انتخاب کرنا پڑا۔ وہ جسامت میں تنومند اور نمایاں تھا۔ مجھے امید تھی کہ وہ اپنے ساتھی طلبا کے ساتھ یہ رول بہتر ادا کرے گا۔ مگروہ اپنا رول ٹھیک نہیں ادا کر رہا تھا۔ مجھے بار بار اُسے سمجھانا پڑ رہا تھا۔ پھر میں نے اچانک اُسے یاد کروایا کہ’’کیا تم نے کبھی بندوق نہیں پکڑی، بندوق تو پختونوں کا زیور ہے۔ وہ گھر پختون کا ہو ہی نہیں سکتا جس گھر میں بندوق نہ ہو۔‘‘ اُس نے میری کہی بات پہ ہلکا سا کمنٹ کیا اور پھر اپنے رول کی پریکٹس میں جت گیا۔ اُس نے کہا : ’’سر، بندوق کو زیور بنانا کوئی اچھی بات نہیں۔ میں بندوق کو پسند نہیں کرتا، مجھے بندوق سے زیادہ قلم اورکتاب کا زیور پسند ہے۔‘‘

میں اُس بچے کی بات پر ابھی تک سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعی بندوق کو کلچر کہا جائے اور جنگ جوئی کی روایت کو قوموں کی عظیم داستان کہا جائے؟ مجھے اسی شش و پنج کے دوران اپنا جنگی شعری ادب کا ریسرچ ورک کھول کے دیکھنا پڑا۔ پختون قوم ہی نہیں برصغیر کی بیشتر قومیں جنگ و جدل اور خون خرابے میں ملوث رہی ہیں۔ بلکہ دنیا بھر کے عوام خونی معرکوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے رہے ہیں اور اپنے زورِ تلوار پر فخر کرتے رہے ہیں۔ دنیا اب Armless معاشرے میں ڈھلتی جا رہی ہے یا ایک فلسفیانہ ڈسکورس پیدا ہو چکا ہے کہ مہذب معاشرے Armless ہونے چاہیں۔

ایک نئی روایت ’بے جنگی‘ روایت پروان چڑھائی جارہی ہے۔ مجھے علم ہے کہ عملی طور پر ابھی اس کو دیکھنا ممکن نہیں مگر دنیا بھر کا دانش ور طبقہ اس بات کو مان چکا ہے کہ جنگ کسی صورت بھی درست نہیں۔ ان صورتوں میں بھی نہیں جب جنگ ناگزیر ہو چکی ہو۔ جنگ کا عمل کتنا ہی لازمی ہو مگر وہ اپنی اصل میں درست نہیں۔ جنگ تو دور کی بات مقامی سطح پر بھی اسلحہ اور بارود کی ممانعت ہونی چاہیے۔ مہذب معاشروں میں گولی، بندوق، بارود اور اسلحہ جیسی خونی اشیا کا داخلہ ممنوع ہونا چاہیے۔ مگر کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا بڑی قوتیں ایسا کرنے دیں گی؟ یہ سوال بہت سے نئی سوالات کو پیدا کر کے تحلیل ہوجاتا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ’جنگی جنونیت‘ اور ’اسلحہ بازی‘ سے نجات کا بیانیہ تشکیل دینے کی ہے۔ اُن لوگوں، گروہوں اور سٹیک ہولڈرز کو سامنے لانے کی ضرورت ہے جو جنگ، خون اور بارود کو ناگزیر کہتے آ رہے ہیں اور جن کا دارومدار ہی جنگ اور اس سے ملحقہ ماحول کو قائم رکھنے میں ہے۔

خیبر پختون خواہ پاکستان کے شمال مغرب کی سمت پہلا پہاڑی زرخیز خطہ ہے جس کے ایک طرف شمالی علاقہ جات اور دوسری طرف افغانستا ن کا طویل بنجر پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے بیرونی فاتحین کی گزرگاہ رہا ہے۔ اس خطے پرمسلمانوں کے اثرات طلوعِ اسلام کے وقت سے ہیں۔ امیر معاویہ کے دور میں ہی پشاور اور ملحقہ علاقوں میں اسلام آ چکا تھا۔ پھر ایرانی، مغل اور افغانی آکر عرصۂ دراز تک کسی نہ کسی شکل میں اپنی تہذیب و ثقافت کے اثرات کا رنگ چھوڑتے رہے۔ مگر پختون قوم کے مجموعی کلچر میں بنیادی طور پرمذہب اسلام کا اثر قائم رہا۔ پشتو اس علاقے کی قدیم ترین اور بنیاد ی زبان ہے۔ پشتو زبان کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے چنانچہ زبان کی قدامت سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قوم اور اس سے وابستہ ثقافت کتنی قدیم ہے۔ ایران کے ہی منشی خاندان کے بادشاہ ’دار یوش‘ کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے چٹان پر رزمیہ عبارت لکھائی تھی کہ جس نے میرے خاندان کی حمایت کی میں نے اس کے ناز اٹھائے اور جس نے میرے کنبے کی برائی چاہی، میں اس سے مقابلہ کروں گا۔ دار یوش کے یہ الفاظ پشتو ادب، خصوصاً رزمیہ شاعری کا محبوب موضوع ہے۔ پشتو ادب میں رزمیہ اور رزم ناموں میں پشتو کلچر کے خدو خال کو بغیر تلاش کے پہچانا جا سکتا ہے۔ خوشحال خٹک تو یہاں تک کہتا ہے کہ جو شخص ہتھیار سے محبت نہ رکھے وہ اپنے آپ کو مرد کہلانے کا حق دار نہیں۔

علامہ اقبال نے پختون قوم کی عسکری فتوحات سے متاثر ہو کر یہاں کے مشہور لو ک شاعر خوشحال خان خٹک کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ خوشحال خان خٹک کے ہاں رزمیہ آہنگ پوری شد و مد کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ وہ ایک شاعر اور مفکر کے ساتھ ساتھ جنگجو سپاہی بھی تھے۔ پہاڑوں کی بلند آہنگی اور سختی خوشحال خٹک کے شعری مزاج میں گندھے ہوئے جذبات کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ خوشحال خان خٹک نے بہ ذاتِ خود کئی لڑائیوں میں حصہ لیا۔ وہ مغل امپائر میں اپنے علاقے کے خاص معتمد تھے۔ ایک قبیلے کے سردار اور مغل حکمرانوں کے منصب دار کی حیثیت سے ان کی شخصیت گہرے اثرات کی حامل تھی۔ مغل منصب داری سے دستبرداری کے بعد انہوں نے عملی طور پر مغلوں کے خلاف صف آرائی کی۔ وہ انہی منظوم معرکہ آرائیوں میں مقامی سطح پر لڑی جانے والی جنگوں کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ ان کی ایک نظم کا مترجم اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اللہ سب سے بڑا ہے۔ آن کی آن میں اپنی قدرت کے کیا کیا کرشمے دکھا تا ہے۔ میر جملہ کا سارا کنبہ درہم برہم ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں اسے کس گناہ کی سزا ملی۔ چند شنواری، کچھ مہمند اور چند ایک آفریدی تھے، ان سب نے مل کر سارے صوبائی لشکر کو شکست دی۔ اس طرح مغلوں پرقیامت ٹوٹی، ا س کا اندازہ مشکل ہے۔ قتل مقاتلہ اور مال غنیمت کا کوئی حساب ہی نہیں۔ گھوڑے، ہاتھی، مال و منال اور چاندی سونے کے انباروں، پالکیوں میں گھومنے والی پری پیکر، زرو جواہر اور موتیوں میں لدی پھندی خواتین (اس کے علاوہ تھیں) جو ہزاروں پشتونوں کے حصے میں آئیں۔ مغلوں کے دل سے بھلا یہ نشتر نکل سکتے ہیں… اگر مغلوں کو موقع ملا تو وہ پشتونوں سے اپنی بے عزتی کا بدلہ ایک کے مقابلے میں سو گنا زیادہ لیں گے۔ مستجاب مہمند، اگر مغلوں کی (پالتو) مرغی ہے کوئی پروا نہیں۔ میں خوشحال خان خٹک، شاہین ہوں اور میرا ٹھکانہ مستانوں میں ہے۔ ‘‘

پختونوں کی انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد نے پختون قوم کی علاقے اور نظریات سے وابستگی کو آشکار کیا، پشتو ادب میں رزمیہ روایت جس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شمشیر زنی اور معرکہ آرائی پشتو ادب کی ایسی روایت ہے جس کے بغیر اس ادب کی فکری بست و کشاد ناممکن ہے۔ کے پی کے، کے علاقائی ورثے کی تمہید اور مٹی میں گندھی ثقافت اس کے جغرافیائی خدو خال کی نمائندہ ہے۔ پہاڑوں کی درشتی اور سختی نے مقامی فنونِ لطیفہ پر بھی گہرے اثرات ڈالے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پشتو ادب میں ایک طویل روایت مزاحمتی اور عسکری جذبات سے وابستہ ہے۔

پشتو ادب میں موجود رزمیہ داستانیں صوبہ سرحد کی ثقافتی، تہذیبی اور تاریخی سچائی کی شناخت بن کر محفوظ ہیں۔ علاقوں کی مٹی میں گندھی زبانیں، جنھیں ماں بولیاں بھی کہا جاتا ہے، اپنے بولنے والوں کی روح سے تخلیق کارَ س لے کر پیدا ہوتی ہیں، اور ہڈیوں کے گودے میں سرایت کر جاتی ہیں۔ پشتو زبان ایک طویل عرصے سے پختون قوم کے مزاج اور ثقافتی قدروں کو سینے میں چھپائے چلی آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو ادب میں پختون روایات کو بغیر کسی تگ و دو کے پہچانا جا سکتا ہے۔ جنگ و جدل صرف قبیلوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ دوسری قوموں کی پختون قوم کے ساتھ معرکہ آرائی بھی پشتو رزمیہ شاعری کا محبوب موضوع رہا ہے۔

آپ کو پختون روایت میں نظر آئے گا کہ بیرونی مزاحمت پر اسلام کی سر بلندی کو قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی جبکہ قبائل کے درمیان لڑائیوں میں اپنے اپنے قبیلے کے ساتھ وفاداری کو ترجیح دی جاتی تھی۔ جیسے میر ہوس نے خٹک اور مروت قبیلے کے درمیان جنگ کا احوال بیان کیا ہے۔ شاعر کا جھکاو مروت قبیلے کی طرف ہے بلکہ وہ خٹک قوم پر شدید الزام لگا تا ہے۔ جبکہ غیر قوم کے ساتھ لڑائی کے وقت شاعر کے پیش منظر میں فتح کے ساتھ سب سے بڑا مقصد اسلام کی سر بلندی بھی بن جاتا ہے۔ ۱۸۳۴ء میں جب قندھار پر حملہ ہوا تو اس لڑائی میں وزیر اکبر خان کی بہادری کے جوہر پختون قوم کے لیے باعثِ فخر ثابت ہوئے۔ شاعر، وزیر اکبر مدد کے لیے پیغمبرِ اسلام ا اور چار یارؓ کی مدد مانگتا ہے اور فتح مند ہونے پر کہتا ہے:

’’انہوں نے صلاح مشورہ کیا اور طے پایا کہ پشتون غیرت کا یہی تقاضا ہے کہ اسلام کو خطرے سے باہر نکالا جائے اور پھر سب نے اسی مقام پر ڈیرے ڈال دئیے اور دشمن پر شیروں کی طرح حملہ کر دیا۔ کافر ڈر اور خوف کے مارے گپھاؤں میں چھپ گئے اور اسلام کا بول بالا ہونے لگا۔ ‘‘

جب برصغیر میں انگریز داخل ہوئے تو پختونوں نے زبردست قوت سے مزاحمت کا سامنا کیا۔ پشتو رزمیہ شاعری میں ایک بڑی تعداد انگریزوں کے ساتھ معرکہ آرائیوں پر مشتمل ہے۔ بونیر کی جنگ از نواب، جہادِ ارناوی از تو رطالب، کابل کی جنگ از ڈوڈیالی، غازی عمرا خان ا ز پائندہ خان، معرکۂ چترال از ملامقصود، ڈکہ کی جنگ از شریف لال پوری، جنگِ چکدرہ از پائندہ خان، بونیر کا محاذ از حمید گل، محاذ کابل از محمد حلیم بنگی، جنگِ گنداب از حضرت ولی، سلیزئی کی جنگ از نامعلوم، بلوس خان از نامعلوم، گل باران ہنزر خیل از نامعلوم، داستان عجب خان از نامعلوم، چمنی خان از نامعلوم۔ فقیر ایپی از نامعلوم، وغیرہ چند منظور رزمیہ داستانیں ہیں جو انگریز سامراجیت کے بڑھتے ہوئے نوآبادیاتی کلچر کے خلاف عسکری ردّعمل کا اظہار ہے۔ شاعری ہمیشہ سچ بولتی ہے۔ کیونکہ وہ شاعر کے لطیف اور نازک جذبات سے اپنا خمیر بناتی ہے۔ پشتو قوم کی غیرت و حمیت کی جو تاریخ پشتو رزمیہ شاعری میں موجود ہے ایسی تاریخ کے صفحات میں بھی محفوظ نہیں۔ مذکورہ داستانوں میں ان معرکوں کی تفاصیل ہیں جو مختلف علاقوں میں مختلف قبائل کے ساتھ انگریزوں کی جھڑپوں کی صورت میں رونما ہوئے۔ غازی عمرا خان، بلوس خان، عجب خان، خمینی خان، فقیرایپی وغیرہ وہ کردار ہیں جو انگریزوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اپنے مثالی اوصاف دکھاتے ہوئے امر ہوئے۔

پختون قوم کے فطری اوصاف میں جنگی ترتیب کا دخل بہت زیادہ ہے۔ بچپن ہی میں بچے خاص سائیکی کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں۔ قبیلوں کی عسکری بنیادوں سے وابستگی نے جنگجوانہ اوصاف سینہ بہ سینہ منتقل کئے ہیں۔ فارغ بخاری لکھتے ہیں:

’’ اللہ ہو، پشتو لوری ہے جسے پشتو لوک گیتوں میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ لوری دنیا کی ہر زبان میں تقریباً ایک ہی تکنیک میں پائی جاتی ہے۔ لیکن پشتو ’’اللہ ہو‘‘ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بچے کو بلی، کتے، سے ڈرانے کی بجائے بہادری، اولوالعزمی اور غیرت و حمیّت کا درس دیا جاتا ہے جو آئندہ زندگی میں بچے کے لیے حرزِ جان بن جاتا ہے۔ اس میں اسلاف کے اولوالعزمانہ کارنامے، جنگ کی کہانیاں، حب الوطنی اور سخت کوشی کا درس ملتا ہے۔ ماں اپنے جذبات پیش کرتی ہے۔ دشمنوں کو کوستی ہے، بچے کو بڑا ہو کر دشمنوں سے انتقام لینے کی تلقین کرتی ہے…‘‘

یہی وجہ ہے کہ پشتو شاعری میں ایک بڑی تعداد مختلف قبائل کے درمیان تصادم کے حالات کی عکس بندی پر مشتمل ہے۔ ایسے رزمیوں میں شاعر عموماً کسی قبیلے سے وابستگی کی بنا پر لڑائی کا یک رُخی منظر پیش کرتا ہے۔

وقت کا بحری بیڑا لمحوں کے اُس حصے سے آگے آ چکا ہے جہاں پانی کھڑا ہُوا نظر آتا ہے۔ مگر کچھ ہی دیر کے بعد منظر بدل جاتا ہے۔ منظر بدل چکا ہے۔ معاشرے بندوق اور جنگ کے زمانے کو شعوری سطح پر الواع کہہ چکے ہیں۔ گو ابھی علمی طور پر جنگ ابھی بھی ناگزیر اور لازمی امر سمجھی جا رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ روایت جو ہمارے علاقائی روایت کا حصہ تھی، کیا آج ہمارا ساتھ دے رہی ہے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو پُر امن معاشرہ دینا نہیں چاہتے۔ بندوق اور بارود کی بُو ہی ہماری روایت رہے گی۔ اسی تناظر میں پنجابی روایت، بلوچ روایت، سندھی روایت اور دیگر قوموں کی روایتوں کوبھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ روایت صرف پختون قوم کا حصہ رہی۔ پختون قوم اپنی جفاکشی اور بہادری کی روایت کو ایک ناگزیر عنصر سمجھتی ہے تو یہ بجا ہے کیوں کہ خیبر کا علاقہ ’گیٹ وے‘‘ تھا جو بیرونی حملہ آوروں کے لیے ایک چیلنج ہوتا تھا۔ اس لیے پختونوں نے اپنی روایت میں اس عنصر کو شامل کئے رکھا۔ مگر اب زمانہ بدل چکا ہے، بہت سی فکری اور نظریاتی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ میرے عزیز دوست فیاض ندیم اکثر کہا کرتے ہیں کہ ’’جب دو قومیں لڑ رہی ہوتی ہیں تو ایک قوم کی غلبہ پانے کی صلاحیت اصل میں اُس کی ناکامی ہوتی ہے کیوں کہ اُسے اپنی یہ صلاحیت قائم رکھنے کے لیے زندگی سے وابستہ ہزاروں چیزوں کو قربان کرنا پڑتا ہے۔‘‘ خدارا ہمیں اچھا مستقبل دیجئے، بندوق اور بارود کی بُو ہمارے دماغوں میں تعفن پیدا کر رہی ہے، جو ہمیں مائوف کرنے کے علاوہ ہماری صلاحیتوں کو کھا جائے گی۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عمرفرید ٹوانہ on

    کیا کمال کا تجزیہ ہے سر۔۔۔گیٹ وے والی نفسیات یقیناً صدیوں کا گزر رکھتی ہیں۔محافظ سپاہی کی شخصیت جیسے ان دروں اور پہاڑوں میں قید ہے صدیوں سے۔۔۔گیٹ بدل گیا یا بند ہوگیا مگر وہ وے واقعی موجود ہے جسے بہترین طریق پہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔اور بجاطور پر بنا کسی نسلی تعصب کے پختون خواہ میں وہ حمیتِ انقلاب دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہے ہنوز۔۔۔کچھ کر گزرنے کو پل میں تیار ۔۔۔ایک سمجھدار طبیب کی ضرورت ہے جو اس وے کا دھارا داخلی تنظیم کی طرف موڑ دے۔۔پہلا پہلاقدم اور مضبوط قدم۔۔۔
    سلام ورحمتہ اللہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: