مجلہ ’لوح‘ کا افسانہ نمبر ۔ عام قاری کی نظر میں: محمد خان قلندر

0
  • 79
    Shares

انسانی تہذیب جب مصوری، خطاطی، لائیو ساز و آواز اور گائیکی سے پرنٹنگ پریس، فوٹو گرافی ریکارڈنگ اور ٹیلی گراف و فون کے دور میں داخل ہوئی تو پہلا انقلاب قاری اور کتاب کے مابین تعلق کی وسعت کا آیا، پچھلی چند صدیاں کتاب کا زمانہ تھیں۔ ادب اور شاعری میں داستان اس کا بنیادی انگ ٹھہری، تاریخ سے افسانہ نویسی تک جو ادب تخلیق ہوا ہر زبان میں کتابیں اس کے مخزن بنتی گئیں۔ لائبریری وجود میں آئی، پھر اخبار کی صنعت ابھری، ہفت روزہ سے سالنامہ تک ادبی میگزین رسالے، چھپنے لگے۔ خوراک کے بعد مطالعہ حصول علم سے روزگار و مہارت کا وسیلہ اور بنیادی انسانی ضرورت بن گیا، اردو زبان میں علم و ادب کا کتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے اس کا تصور ہی اب ممکن نہی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں لا سلکی ، برقیائی رابطے مستعمل ہوئے نیٹ اور ویب نے تو لکھت پڑھت کی ہیئت ہی بدل کے رکھ دی۔ پرنٹنگ سے زیادہ اخبار بھی نیٹ ورکس پے منتقل ہونے لگے تو روائتی کتب بینی بھی متاثر ہونے لگی۔ اس ماحول میں جب ادبی مجلے معدوم ہو رہے ہیں ڈیڑھ سال قبل سہ ماہی’ لوح‘ طلوع ہوا۔ جب نشر و اشاعت اور ابلاغ مکمل طور پر ایک کمرشل صنعت و کاروبار بن چکے ہیں اور روایتی طور کُتب کی مارکیٹ سمٹ رہی ہے، ایک خالص ادبی اور ضخیم مجلے کی طباعت ادب پڑھنے کے عام شائقین کے لئے معجزے اور نعمت سے کم نہیں۔

کتاب کا معجزہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کے سارے زعم توڑ کے رکھ دے لوح کا موجودہ شمارہ اس کی بہترین مثال ہے۔ عمر بھر کی یہ خوش فہمی کہ کوئی مشہور افسانہ نگار نہی جسے پڑھا نہ ہو، یہ خبط کے اردو کیا انگریزی کے سارے بیسٹ سیلر پڑھ رکھے ہیں اس مجلہ نے بھک سے اڑا دیئے۔ منتخب افسانوں میں لکھنے والے اتنے نام اور بہترین لکھاری ایسے ہیں جن کو نہ پڑھا نہ سنا تھا حقیقت تو یہ ہے کہ جن کو پڑھا تھا وہ نام گنے چنے ہیں۔ کنویں کے مینڈک کی مثال صادق آئی، کہ جس کے تیراک بنے پھرتے تھے وہ اس ادب کے سمندر کے مقابل تالاب بھی نہ تھا، تو دوبارہ طفل مکتب بنے بغیر چارہ نہی۔ یہ جلد دو شماروں پنجم و ششم پر مشتمل ہے۔ گیارہ سو سے زائد صفحات پر پھیلے اس دبستانوں کو چھ ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے، کرشن چندر، پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، غلام عباس، احمد ندیم قاسمی،عصمت چغتائی ممتاز مفتی، میرزا ادیب، ابراہیم جلیس، اشفاق احمد، اے حمید، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، ہاجرہ مسرور، عبداللہ حسین، جیسے مانوس ناموں کے ساتھ دسیوں ایسی ہستیاں بھی شامل ہیں، جن کے اسماء دیکھ کے جانے پہچانے محسوس تو ہوتے ہیں، لیکن یاداشت کی قرطاس میں تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ ابھی تک جو چیدہ چیدہ انتخاب پڑھے ہیں، ان میں قدر مشترک یہ ہے کہ جو کہانی شروع کر بیٹھے اس نے لفظ بہ لفظ انجام تک جکڑے رکھا۔

پہلے اور دوسرے شمارے کو دنیا بھر میں اور خاص طور پر برصغیر میں اردو ادب کے قارئین میں غیر متوقع پذیرائی ملی، ان میں افسانے، نظم، غزل، سب اصناف سے انتخاب شامل تھے، عام قاری اس مجلہ کی شکل میں ادبی رسالے کے نئے جنم سے پر امید ہونے لگے کہ ماضی کی مخلوط ادبی اصناف کی کتابی شکل میں دستیابی دوبارہ ممکن دکھائی دینے لگی۔ مدیران کے لئے ان کی کاوش کی داد وتحسین اور پسند نے مہمیز کا کام کیا اور انہوں نے انتہائی مشکل اور دشوار کام موجودہ شمارے کی شکل میں کر دکھایا۔ ایک سو پندرہ سالہ اردو افسانے کی تاریخ، مجتمع کر کے، اس میں سے اہم ترین اور ناگزیر نمونے منتخب کر کے چھاپ دیئے، یہ مجلہ ایک تاریخی ریفرنس بک تو ہمیشہ رہے گا، لیکن اردو ادب پڑھنے والوں کے لئے بھی ایک خزینہ ہے، مثال کے طور پر منٹو کا جو افسانہ منتخب کیا گیا ہے، اس کا ثانی منٹو نے بھی لکھا، ایک اچھوتے انداز کی کہانی۔ انتظار حسین اگر دنیا میں واپس آ کر آخری آدمی کو خود پڑھ لیں، تو ششدر رہ جائیں گے پریم چند سمیت جتنے انتخاب ابھی تک پڑھے ہیں، ان کا اثر، ساٹھ سال کے مطالعہ سے کہیں گہرا اور زیادہ ہے۔

یہ مختصر تعارف ہے، ہم نقاد تو ہیں ہی نہیں، عام قاری ہیں تو جیسے جیسے اس ادبی بحر بیکراں میں غوطے لگاتے جائیں گے، قسطوں میں احوال سناتے رہیں گے۔ لوح کے مدیر ممتاز شیخ کی تعریف و توصیف تو رسمی بات ہو گی، بطور قاری دل سے ان کے لئے از خود دعا نکلتی ہے، اللہ کرے شوق سُخن اور زیادہ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: