رمل علی کی اصلیت: چامکوں کی پریشانی — شوکت علی مظفر

1
  • 26
    Shares

گزشتہ اقساط میں ہیجڑوں کے حسن کی تعریف کو کچھ قارئین نے من گھڑت قرار دیتے ہوئے براہِ راست اس بات سے انکار کیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی ہیجڑا اتنا خوبصورت ہو کہ وہ لڑکیوں سے زیادہ بھی پرکشش دکھائی دے۔ لیکن انہیں جب نامور ڈانسر مہک ملک اور تلاش جان کی تصاویر کے علاوہ کچھ گانے دکھائے تو انہیں یقین نہیں آیا کہ یہ تیسری جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ مہک مَلک نے تو پنجاب میں بڑی دھوم مچائی ہوئی ہے اور اکثر مقامی گلوکار کسی لڑکی کی بجائے مہک ملک کو ہی ماڈل لیتے ہیں جبکہ تلاش جان کی آنکھیں بڑا غضب ڈھاتی ہیں اور اس پر پارٹی ڈانس میں وہ اور قیامت دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ خوبصورت ہیجڑوں میں ایک نام رمل علی کا بھی نمایاں ہے جس نے کافی عرصہ اپنی شناخت چھپائے رکھی ۔ رواں برس رمل علی تھیٹرکی مہنگی ترین آرٹسٹ بنی ہیں۔ ڈرامہ پروڈیوسر حمزہ بٹ نے انہیں عیدالاضحی 2017ء کو پیش کیے جانے والے ڈرامے میں تین لاکھ روپے کے عوض کاسٹ کیا۔ یہی نہیں فلم ’’رہبرا‘‘ میں جہاں عائشہ عمر، احسن خان اور غلام محی الدین ہیں وہیں رمل علی کا آئٹم سانگ بھی شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ فصیح باری خان کی تحریر کردہ فلم ’’سات دن محبت اِن‘‘ فلم میں ڈیبیو کرنے والی ادکارہ رمل علی کی کہانی بڑی درد ناک ہے جسے چامکوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنی شناخت بنانے میں آٹھ برسوں تک مشکلات اُٹھانا پڑیں۔

شوبز انڈسٹری میں قبولیت کا درجہ پانے میں خواجہ سرا رمل علی کو آٹھ سال لگے ہیں۔ رمل کا کہنا ہے کہ’’زندگی کبھی سہل نہ تھی، پلٹ کر دیکھتی ہوں تو ایک تاریک اور ڈرائونا سفر ہے۔‘‘ تقریباً ایک دہائی قبل جب انھوں نے اس انڈسٹری میں قدم رکھا تو ان کی برادری کے دیگر افراد کی طرح ان کے حصے میں بھی صرف ٹھوکریں ہی آئیں۔ رمل کو یہ کہہ کر دھتکار دیا جاتا اس کی جگہ صرف ریڈ لائٹ ایریا ہے۔ ان کے مطابق شوبز انڈسٹری پر مردوں اور عورتوں کی حکمرانی ہے۔رمل کے کئی فیشن شوز صرف اس لیے منسوخ ہوگئے کہ اس کے دوستوں میں سے ہی ایجنسیز کو یہ بتا دیا جا تا کہ رمل عورت نہیں، بلکہ خواجہ سرا ہے۔ رمل کو پاکستانی میوزک بینڈ ’’سوچ‘‘ ریلیز ہونے والے گانے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک خواجہ سرا کو کسی میوزک بینڈ نے اپنے گانے میں کاسٹ کیا ہو۔ بینڈ کے گٹارسٹ ربیع احمد کے مطابق’’رمل علی کو قائل کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ رمل ہمیشہ خود کو ایک عورت ظاہر کرتی تھیں۔ انھیں ڈر تھا کہ پاکستان میں بطور ٹرانس جینڈر شناخت ان کے کریئر کو تباہ کر دے گی۔‘‘ لیکن اس سچ کے بعد رِمل نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا ہے کہ اس پر جان نچھاور کرنے والے چامکوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے مگر وہ اب ہر کسی کے ہاتھ میں آنے والی نہیں۔ خدا کرے کہ یہ محفوظ رہے کیونکہ گزشتہ سال ہیجڑوں کیلئے قیامت خیز رہا ہے۔

ہیجڑوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے چامکے:
2016ء ہیجڑوں کیلئے انتہائی بھیانک سال قرار دیا جاسکتا ہے۔ غیر مصدقہ طور پر کہا جاتا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال (2016ء کی ابتدا سے2017ء کے وسط تک) میں صرف خیبر پخوانخواہ میں 46 ہیجڑے قتل ہوئے جس میں سے صرف ایک کا ہی قاتل گرفتار ہوسکا۔ جبکہ جنسی اور جسمانی تشدد کے 50 واقعات خیبر پختوانخواہ سے ہی رپورٹ ہونے سے چھیالیس خواجہ سرائوں کے قتل کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ خواجہ سرا ئوں کے چامکے ان کے جسم سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں سے بھی کھیل جاتے ہیں جیسے 2016ء کے ابتدائی مہینوں میں ہی راولپنڈی میں کانسٹیبل ظہیر نے اپنی فرینڈ خواجہ سرا نائلہ کو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ مگر حیرت کی بات یہی رہی کہ نائلہ کا اصل نام اورنگزیب تھا اور شادی شدہ بھی۔ اس کی بیوی اور تین کم سن بیٹیاں بوریوالہ میں مقیم تھیں۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے وقت خواجہ سرا کے مَرد ہونے کے انکشاف نے سب کو چونکا دیا تھا کیونکہ مقتول کے اہل خانہ بھی اس بات سے بے خبر تھے کہ اورنگزیب ، نائلہ کے روپ میں ان کیلئے پیسے کما رہا ہے اور بالآخر ایک چامکے کی محبت نے ایک خاندان کو برباد کردیا۔

22مئی 2016ء کو پشاور میں علیشاہ نامی خواجہ سرا کو اس کے چامکے افضل گجر نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ پولیس نے اسے ذاتی تنازع قرار دیا جو آخر کار افضل گجر کی گرفتار کے بعد ذاتی تنازع ہی نکلا۔ افضل گجر کے انکشاف کے مطابق تین سال سے اس کی علیشاہ سے گہری دوستی تھی اسی وجہ سے اُس پر پندرہ لاکھ روپے لٹا دیئے۔ ایک پارٹی میں اس کا علیشاہ سے جھگڑا ہوگیا جہاں پہلے تو اس نے کانچ کا گلاس سر پار مارا اور پھر تاک لگا کرعلیشاہ پر فائرنگ کردی جس سے اس کا محبوب ہیجڑا شدید زخمی ہوگیا۔افضل گجر کے مطابق وہ صرف ٹانگوں پر فائر کرکے زخمی کرنا چاہتا لیکن علیشاہ کی قسمت میں موت لکھی تھی اور وہ چل بسی۔

زخمی خواجہ سرا علیشاہ کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا گیا تھا۔ جہاں اسپتال انتظامیہ علاج کرنے کی بجائے یہ گتھی سلجھانے میں مصروف ہو گئی کہ خواجہ سرا کو خواتین کے وارڈ میں داخل کیا جائے یا مردوں کے وارڈ میں؟؟بعد ازاں میڈیا کے دبائو کے نتیجے میں بالآخر علیشاہ کو مردوں کے وارڈ میں واش روم کے قریب جگہ دے دی گئی، جہاں وہ تین دن موت و حیات کی کشمکش میں رہتے ہو ئے جان کی بازی ہارگیا۔ خواجہ سرائوں نے اس کی لاش تھانے کے سامنے رکھ کر شدید احتجاج بھی کیا تھا۔ اگرچہ پولیس نے قانونی تقاضوکے بعد ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا روایتی وعدہ تو کیا ہے لیکن افضل گجر کا انجام اس سے زیادہ بھیانک کیا ہوگا کہ ایک ہیجڑے کی چاہت اِسے کس مقام تک لے آئی لیکن ہوس کے پجاری ان واقعات سے کہاں سبق حاصل کرتے ہیں اس لیے چند دن بعد ہی مانسہر ہ کے کالا نامی ملزم نے دو ساتھیوں سمیت خواجہ سرا کی رہائش گاہ میں داخل ہو کر کاشی عرف چاند پر فائرنگ کرکے اسے شدید زخمی کردیا تھا۔

2017ء میں لاہور کے علاقے مزنگ میں علی رضا نامی خواجہ مقیم تھا جس نے ایک فلیٹ کرائے پر لے رکھا تھا اور اسی فلیٹ سے اس کے دوست عدنان (چامکا) نے اسے چھری کے وار کرکے قتل کردیا اور فرار کی کوشش میں ہی گرفتار ہوگیا کیونکہ فلیٹ سے فلیٹ سے لڑائی جھگڑے کی آوازیں سنی گئیں تھیں اور قتل کرکے فرار ہوتے چامکے کو موقع پر ہی دھر لیا گیا۔

چھریوں کے وار سے ہی ایک اور چامکے سفیان نے اپنے ہیجڑے محبوب مسکان کو مارچ2017ء میں قتل کرکے فرار ہوگیا لیکن چونگی امر سدھو (لاہور) سے اس کی گرفتاری عمل میں لائی گی اور اس نے خود انکشاف کیا کہ’’اس کی مقتول فیاض عرف مسکان سے ایک منگنی کے فنکشن میں ملاقات ہوئی جس کے بعد اس سے دوستی ہوگئی۔ مقتول مجھ سے پیسوں کی ڈیمانڈ کر تا تھا جس کی وجہ سے میں نے تنگ آکر مسکان کو چھری کے تین وار کر کے قتل کر دیا۔‘‘

چامکوں کی زندگی بھی خطرے میں:
31مئی2017ء کی رات 3بجے طارق روڈ جھیل پارک کے قریب سے سوٹ کیس میں بند ایک نوجوان کی لاش ملی تھی ۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقتول کے موبائل فون ڈیٹا کے ذریعے چار دن کے اندر ہی ملزم کا پتا لگایا ۔
24 سالہ مقتول راشد لیاری کا رہائشی تھا جسے خواجہ سرا شہزاد عرف اذنی نے اپنے فلیٹ پر بلا کر قتل کردیا۔ خواجہ سرا نے نوجوان کو اپنے ساتھی خواجہ سرا طحہ فراز کے ساتھ مل کر قتل کیا اور لاش سوٹ کیس میں رکھ کر ٹیکسی میں ڈال کر جھیل پارک کے قریب پھینک دی تھی ۔ خود ساختہ ہیجڑے اذنی نے فیس بک پر اپنی آئی ڈی بنا رکھی تھی جس کے ذریعے وہ نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے فلیٹ پر بلاتا اور بعد ازاں انتہائی قربت کے لمحات کی ویڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کرتا تھا۔ زیر حراست خواجہ سرا شہزاد عرف اذنی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان راشد کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے فلیٹ میں واش روم میں گیا تو اس نے دیکھا کہ راشد اس کا موبائل اٹھا کر فرار ہو رہا ہے۔ جب میں نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تو اسے روکنے کی کوشش کی، جس پر ہاتھا پائی ہوگئی۔ پھر میں نے اور ساتھی ہیجڑے طحہ کے ساتھ مل کر اس کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر اسے قتل کردیا۔قاتل خواجہ سرا نے اعترافی بیان میں مزید کہا کہ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر لاش سوٹ کیس میں ڈالی اور اسے ٹیکسی میں رکھ کر جھیل پارک کے قریب پھینک کر آگئے۔ اس دردناک انجام کا قصور وار کس کو ٹھہرایا جائے؟ فیس بک کو؟ تیسری جنس کو؟ یا پھر خود چامکے کو؟

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. چامکا دن بدن حیرت اور فسوں سے رنگین تحریر ہوی جارہی ہے۔ آج کی قسط نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ یہ جنس جہاں ہمارے نوجوانوں میں جنسی اختلاط کی صورت میں استعمال ہوتی ہے وہیں بعض اوقات یہ اپنے اس فطری امر کا فائدہ بھی اٹھاتےنظرآتےہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: