اقبال, مغرب اور ویلفیئر سٹیٹ: در جوابِ نعمان علی خان ۔۔۔ جاوید اقبال راؤ (2)

0
  • 15
    Shares

گذشتہ سے پیوستہ:  خنجر کی تلاش شروع کی جائے تو نظریات و رجحانات اور ادارے دیکھے جائیں۔ لیبر یونین، مالکان، مینیجر، موجدین و منتظمین (اینٹرپرینیور) یا سیاستدان شمار کیے جاسکتے ہیں۔ یہ تمام اداروں کی شکل رکھتے ہیں۔ لیبر یونین کو سوشلسٹ لے اڑے۔ یہ مغرب کے ہاتھ سے پھسل گئے۔ سیاستدان کو مزدور، چرچ، مسجد، این جی او کے علاوہ مالکان و منتظمین سب کو خوش کرنا ہے۔ اس لیے خنجر یا تلوار کا سا کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ سیاستدان کو کوئی استعمال کرے گا۔ منتظمین نئے دور کی ایجاد ہیں۔ یہ ایسے موجدین ہیں جنہیں منتظم بھی بننا ہے۔ یہ بنیادی خنجر ہوسکتے ہیں یا ڈھال۔جن پر یورپ کو موجودہ دور میں مکمل یقین ہے۔ اینٹر پرینیور نے مغرب کو بنیاد فراہم کی ہے۔ مالک نے اس کے ذریعے سے خود کو مزدور سے بچایا۔ یوں سوشلسٹ نظام کے آگے حقیقی بند باندھنے والا یہی ہے۔ اس نے ایجاد کی اور انتظام بھی سنبھالا۔ معاشرے کے سب اجزاء کو ان کے حصے دیے جیسا کہ کہا جاتا تھا کہ َپوپ کو اس کا حصہ دو اور قیصر کو اس کا حصہ۔ تو موجودہ دور میں اس نے سب کو ان کا حصہ دیا اور دے کر دکھایا۔ روسی سوشلسٹ کا مزدور لیڈر کارخانے پر قبضہ کرنے کے بعد نہ تو ایجاد کرسکا تھا اور نہ ہی کارخانے کو سنبھال سکا۔ وہ اپنی ذاتی اغراض اور انتظام و سیاست کے چنگل میں اس قدر ڈوب گیا کہ کچھ حاصل ہی نہ کرپایا۔ ایسے میں یہ منتظم موجود رہا اور کامیاب ٹھہرا۔ یہ بنیادی طبقہ ہے جس نے مغرب کو سنبھالا دیا۔ احتجاجی تحریک کی بنیادی پیداوار بھی یہی ہے۔ موجودہ دور میں اس کا بنیادی محرک بھی منافع خوری رہتا تو مغرب مکمل خودکشی کرتا۔ لیکن جب سے آرگنائزیشن ڈویلپمنٹ کا ڈول ڈالا گیا ہے تو تمام منتظمین کے سر سے بلا ٹل کر تمام سٹاف پر آچکی ہے۔ اب بزنس کے تمام ملازمین پیداوار کے لیے مل کر منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ لیکن منافع میں برابر کے حصہ دار اب بھی نہیں۔ مالک کا منافع کسی طور بھی تقسیم نہیں کیا گیا۔ منتظمین اپنی سی تمام کوشش کے باوجود سرمایہ دار کو اپنا حصہ قانونی طور پر کم کرنے یا اس میں تقسیم پر تیار نہیں کرسکے۔ جوزف سٹگلٹز نوبل انعام یافتہ ہے جس کا کہنا ہے کہ طاقتوروں نے اپنی معاشی اور سیاسی جاگیر کو بچانے کے لیے اختیارات استعمال کیےـ۔ اس بنا پر بزنس کا بنیادی رخ تمام ملازمین نہیں بلکہ منافع کی حقیقی تلاش ہی قائم کرتی ہے۔ نظریاتی خنجر منافع خوری ہے۔ سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات۔ منتظم کی معاملہ فہمی ڈھال کا کام کرتی ہے لیکن منافع خوری سے بچا نہیں پاتی۔ سرمایہ اپنا رخ طے کرتا ہے۔ اسی لیے یہ سرمایہ اڑ کر وہاں جاپہنچا جہاں اسے نہیں جانا چاہیے تھا۔

مغربی سرمایہ داروں نے مشرقی ممالک میں سرمایہ کاری بریٹن ووڈ کے نظام کے اختتام پر شروع ہوئی۔ جہاں سرمایہ کاری کا نشان ایک اندھا بیل ہے، وہاں مشرق کو یا مذہب سے دور کرنا مشکل ہے۔ یہاں قدامت پسندی غالب آسکتی ہے۔ مشرقی اور مغربی باہم متضاد سمتوں میں جاسکتے ہیں۔ اگر مشرقی دنیا نے مغرب کی جدیدیت کے نظریاتی پہلو سے خود کو بچا لیا اور جمہوریت پر مکمل یقین و ایمان سے خود کو محفوظ کرلیا تو یہ شکم پروری کے چنگل سے نکل کر اخلاقی اقدار اپنانے میں رقم صرف کریں گےجس سے معاشرہ منافع خوری کے نظریاتی خنجر اور اس کی ڈھال (منتظم) سے بچ پائیں گے۔ مزدور تحریک کو اپنے لیڈر میں سے اگر موجد و منتظم مل پایا تو اس کی اخلاقی و روحانی تربیت شاید نیا ماڈل دے پائے۔ یا کم از کم منتظم کا سا ہونے سے بچا پائے۔لیکن ایسی سرزمین پر سرمائے کا منتقل ہونا، منافع خوری کے خنجر کی بنا پرہوا۔ جیسے آج چین اس سرمائے سے فائدہ پا کر امریکی سرمائے کو ہڑپ کرچکا ہے۔ ابھی کچھ حقیقی فرق باقی ہے۔ چین کی گیارہ کھرب ڈالر کی معیشت کا امریکی انیس کھرب ڈالر کی معیشت سے کچھ فرق سا ہے۔ چینی اسے کچھ ہی مدت میں عبور کرجائیں گے۔ معاشی میدان میں اس عظیم سانحے کو کیسے تعبیر کیا جائے کہ منافع خوری یا کم مزدوری کی بناء پر منافع مغرب سے اڑان بھر کر چین میں نازل ہوا۔ اس ایک حقیقیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مغرب میں انسانی حقوق کی قانونی بحث سے سرمایہ دار کو کچھ فرق نہیں پڑا۔ مزدور کی مزدوری ہڑپ کرنے کے لیے سرمایہ دار کو چین جانے میں بھی کوئی عذر نہیں تھا۔ اس سے کارل مارکس کی لیبر تھیوری آف ویلیو درست ثابت ہوجائے گی جس کے مطابق سرمایہ دار کا منافع صرف مزدور کے زیادہ کام ( لیبرسر پلس) کا نتیجہ ہے۔ اگر سرمایہ ہی پیداوار کا اہم ترین ذریعہ ہے تو اسے مغرب ہی میں آج بھی منافع زیادہ دینا چاہیئے۔ اگر انتظام اور ایجاد سے مشین رقم اگلتی ہے تو مغربی ممالک ڈیڑھ دو فیصد سالانہ ترقی تک کیوں محدود ہیں جس سے سرمائے کا حق ادا نہیں ہوپاتا اور وہ نئی منازل ڈھونڈتا ہے۔ کیا چین میں موجدین و منتظمین اس قدر لائق فائق تھے کہ وہاں جانا پڑا اور مغرب کی اعلیٰ جامعات میں سے فارغ ہونے والے طلبہ نوکریوں کو ترستے رہ گئے۔ صرف چین کے ساتھ تجارت کی بنا پر تقریباَ بتیس لاکھ لوگوں کو مینوفیکچرنگ میں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔

چین میں شہری آبادی (68 کروڑ۔ 51 فیصد) کو ترقی یافتہ ممالک کے برابر کی ویلفیئر سہولتیں دی جارہی ہیں۔ 2011 میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل ہونے کے بعد سے چین میں قوانین میں بہتری آئی ہے۔  معاشی حقائق کو غور سے دیکھیے۔ معاشی میدان میں ویلفیئر سٹیٹ کا شاید اختصاص موجود ہوگا جس کا حوالہ نعمان علی خان نے دیا۔ لیکن وہ سیاسی فکر سے کٹا ہؤا ہے۔ منافع خوری اس کے راستے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ویلفیئر سٹیٹ کا تصور تو چین میں بھی اپنی سیاسی فکر (سوشلزم) سے کچھ کٹتا جارہا ہے۔ مغرب میں سویڈن کی ویلفیئر سٹیٹ کی تحقیق کو پڑھ لیں تو کچھ سمجھ میں آجائے گا۔ حقیقت میں ویلفئیر سٹٰیٹ کی بنیاد میں معاشی ترقی اور پروڈکشن میں اضافہ چاہیے ہوتا ہے جس کے لیے معاشی استحکام بنیاد ہے۔ لیکن دنیا کا عالمی معاشی نظام چوتھائی صدی تک کامیابی کے ساتھ چل پایا۔ تہذیبِ مغرب کا معاشی نظام بڑے اپ سیٹ سے گذرا ہے۔ اس لیے اس کا اختصاص بھی کمزور ہوگیا ہے۔ 1931 میںگولڈ سٹینڈرڈ کا خاتمہ برطانوی بالادستی کا اختتام تھا۔ لیکن ساتھ میں یہ اینگلو سیکسن کی بالادستی کا بھی اختتام تھا۔ اسے سہارا دینے کے لیے اقوامِ متحدہ کا پانچ قومی نظام لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اسکا معاشی نظام بھی چوتھائی صدی تک کامیابی کیساتھ چل پایا۔ 1972 میں بریٹن ووڈ کیساتھ ہی امریکی زعم کا خاتمہ ہوا۔ یقین کیجئیے معاشی بالادستی ختم ہوگئی تھی۔ ساتھ میں غیر حقیقی معیشت وجود میں آئی جس کی بنیادیں کمزور ہیں۔ یہ ہروز ایسی آفتوں سے دوچار ہوتا ہے کہ ایک دن کا اعتبار نہیں۔۔ تھامس پکٹی کی سرمایہ داری پر مکمل کتاب پڑھ لیں۔ بریٹن ووڈ سے پہلے اور بعد کے معاشی حالات بالکل مختلف ہیں۔ اس کے بعد کمیونسٹ مضبوط ہوئے۔ روس نے ہلہ بول کر کئی ممالک قبضے میں کیے اور افغانستان میں بیٹھ کر ایک دہائی تک تمام دنیا کو ہلائے رکھا۔ بریٹن ووڈ کے بعد سے آج تک کم از کم بھی آٹھ قسم کے عالمی معاشی تجربات کیے گئے ہیں۔ ان معاشی تجربات کی تفصیل پڑھ لیں۔ کوئی ایک تجربہ بھی کامیاب نہیں ہوپاتا نہ ہی استحکام کا سبب بن پاتا ہے۔ اس لیے ویلفیئر سٹیٹ کا تصور جس بنیاد پر قائم کیا جاسکتا ہے، وہ بنیاد کمزور ہوئی ہے۔ قرضے لے کر ویلفیئر سٹیٹ کو چلانا مزید مشکل ہے۔1972 کے بعد سے عالمی معیشت کے علاوہ عالمی سیاست بھی ڈانواں ڈول ہے۔ معیشت کو انجیکشن لگا کر چلایا جاتا ہے۔ اسے مانیٹری اور قرضوں کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی علاج نہیں۔ ان انجیکشنوں کی تفصیل چاہیں تو حاضر کی جاسکتی ہے۔ اسی دوران میں اپنی برتری کے خاتمے کا ادراک کرتے ہی مغربی سیاست بازوں نے چین کو روس سے توڑا۔ جس کے ساتھ ہی چین کا جن بوتل سے باہر آگیا اور اب امریکہ کے بالمقابل موجود ہے۔ چین کا ڈیٹا دیکھیے کہ اس کے بعد ہر میدان میں تیزرفتار ترقی ہوئی۔ رہتی سہتی جن فائنانشل بنیادوں پر امریکہ قائم تھا، وہ 2008 میں مکمل اندرونی زلزلے سے دوچار ہوئیں۔ اسکا علاج آج تک نہیں ہوسکا۔

بیرونی دنیا میں مغربی سرمایہ کاری سے مغربی عالمی قانون کی آفاقیت بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ جس انسان اور اسکے معاشی حقوق کے لیے مہمات چلائی گئیں، قانون سازی کی گئی، پارلیمانی جدوجہد کی گئی یا بعد ازاں دنیا بھر میں اس کے فروغ کے لیے یا انسانی حقوق کے نام پر امنِ عالم کی ترویج کی جنگیں لڑی گئیں، وہ سب جھوٹ تھا۔ جب مزدور کی مزدوری ہڑپ کرنے کے لیے سرمائے کو اس قدر لمبی نظریاتی چھلانگ لگانا پڑی تو (معذرت کیساتھ) ایکپلائٹیشن (ظلم) کا خاتمہ اور اسکی تمام منطقی بحثیں کہاں گئیں؟ صحت کی سہولیات کا لمبا چوڑا قصہ و قانون کہاں رہ گیا۔ پنش فنڈ اور پھر قومی ریاستوں کی خود مختاری کے قصے جنھیں جان لاک کے نام پر پروفیسر الاپتے رہتے ہیں، وہ سب کہاں گئے۔ چین میں ان تمام امور پر سختی نہیں ہے۔ مزدور سستے ہیں جنھیں کسی سہولت کے بغیر استعمال کرلیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ان قوانین کے نام پر بڑے بڑے قومی و عالمی پراجیکٹ کیے گئے تھے۔ وہ سب بیکار ثابت ہوئے۔ غرض منافع خوری کا اندھا جال سب کچھ نگل گیا۔ اخلاق، اقدار، قانون (یہ تمام دفتر ی یا کاروباری حوالے کے ساتھ مغربی اب بھی بیان کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہ اقدار میں سے روحانیات منفی کرکے صرف سماجی طرزِ اخلاق بیان کرتے ہیں۔ انسٹی ٹیوشنز کا ماہر ڈگلس نارتھ بھی اس کو غیر مذہبی انداز میں اس لیے بیان کرتا ہے کہ قانون کا رسم و رواج کے ساتھ تعلق قائم ہوجائے لیکن مذہب سے، معاشرے کی بنیادوں کا رشتہ ثابت نہ ہو۔ خطرہ یہ ہے کہ کہیں سے کوئی جمہوریت مخالف فتویٰ نازل نہ ہو۔ یہ بے ضمیری کی انتہا ہے، مغرب کو اس بے ضمیری کی برفاب سے باہر آنا ہوگا۔ اخلاقیات کی روح نکال کر کاروباری اخلاقیات کا درس دینے والے نے اپنے ہی قانون سے جان چھڑائی۔ یہ تما م غیر انسانی عمل تھا۔ گویا مغرب کا قانونی عمل ایک ناپسندیدہ ماضی تھا جس کی یادوں سے جان چھڑا کر چین (یا ترقی پذیر ممالک) میں نئے حافظے کیساتھ 25 – 30 فیصد منافع حاصل کرکے دولت کمائی جائےگی۔ ایسا ہرگز نہ ہوپایا۔ الٹا لینے کے دینے پڑگئے۔ اسے معیشت کی زبان میں کیا کہاجائے۔ یہ فیصلہ ہمارے قارئین خود کریں۔چینی اپنی جوابی سرمایہ کاری سے کیا ثابت کریں گے، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ چینی اپنے یہاں کون سی اخلاقیات و اقدار کو نافذ کریں گے، اس کا فیصلہ بھی ہونا باقی ہے۔ لیکن چین کا بار بار یہ اصرار کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے تمام قوانین کو چین میں لاگو نہیں کیا جاسکتا، ریکارڈ پر ہے۔ عالمی قوانین کی پرزور مخالفت چین کا وطیرہ ہے۔ حقیقی جمہوریت کے تمام طور طریقے چینی مسترد کرچکے ہیں اور کمیونسٹ پارٹی اپنا نظام اپنے انداز میں چلارہی ہے۔ اس سب کے باوجود سرمایہ واپس نہیں گیا۔شاید اب واپس جا بھی نہ سکے۔اب شاید ایک نئے طرم خان نئی سرزمین ڈھونڈیں گے۔ خلا میں سے نئی زمین ڈھونڈنے کی مہمات کا نتیجہ آنا باقی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ سیدھی ٹکر کے نتیجے میں موجودہ زمین کے چھن جانے کا خاصا خطرہ موجود ہے۔ اعداد و شمار کہتے ہیں کہ منافع کا خونی خنجرپیٹ کاٹ چکا ہے۔ لیکن ابھی خودکشی کا اعلان باقی ہے۔شاید یہ اعلان مؤخر ہوجائے۔ دعا کرنے میں کوئی خاص حرج نہیں۔

مسلمان سادہ لوح تھے۔ مغرب کو کعبۃ اللہ کے پچھواڑے میں تیل نکالنے کی دعوت دی۔ پھر بہت سے عربی مغرب میں جاکر آباد ہوگئے۔ آج تک آباد ہیں۔ لیکن نوگیارہ کے حادثے کے بعد روزانہ نکالے جاتے ہیں۔ ستائے جاتے ہیں۔ اب تو مسلمان ہاتھ اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیتے ہیں۔ مسلمانوں نے وہاں بڑی بڑی تحریکات چلائی تھیں۔ عرب و عجم کی ان تحریکات کی روشنی میں معاشرے کا محور تبدیل ہو جانے کا خطرہ تھا۔ (یہ تحریکیں در اصل مغرب کے لیے نئی حقیقی توانائی اور سماجی اصلاح کا ذریعہ ہیں)۔ لیکن مغربی اداروں کی جلد بازی کو سلام پیش کیجیے۔ آج ہی مجھے ایک مہماتی فورم کو بلاک کرنا پڑا جو کہ مغربی مسلمانوں کے خلاف شدید محاذ آرائی میں مصروف تھا۔ اسلامی تحریکات پابندیوں کی زد میں ہیں۔ پاکستان جس نے چین کے ساتھ صلح کرائی۔ یہ صلح بڑی اہم تھی۔ اس کے نتیجے میں روس تنہا ہوگیا۔ امریکہ کو بریٹن ووڈ کے بعد سہارا ملا۔ پھر پاکستان نے روس کے خلاف مکمل مدد کی۔ لیکن مغربی فرعونیت وہیں کی وہیں رہی۔ افغان پر امریکی حملہ دراصل جلد بازی تھی۔ دوسری جانب پاکستان، جس نے اس تمام عرصے میں دونوں جانب سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود پاکستان اب عین نشانے پر موجود ہے۔ اسکا نتیجہ کیا ہوگا؟ ایک حقیقی محسن کی جانب سے احتراز یا جوابی اقدام۔ اس طرزِ عمل کو عالمی ذہانت کا عملی اظہار قرار دینے کے لیے خاصی تگ و دو کرنا پڑے گی۔ لیکن اس کے نتائج سمجھنے کے لیے پاکستان کا امریکہ سے رخ پھیرنا اور امریکہ کی انڈیا کے ساتھ دوستی، دونوں ہی ویلفیئر سٹیٹ کے عظییم مفکرین کے لیے مسائل کا باعث ہوگا؟ سرمائے کو انڈیا بھی لے جایا جا سکتا تھا۔ وہاں بھی مزدوری سستی تھی۔ لیکن وہاں نہیں لے جایا گیا۔ اب وہاں لے جانے سے بلا ٹل جائے گی؟ یہ معاشی سوالات ہیں لیکن سیاسی سوال بھی اہم ہیں کہ چین نے اپنے عالمی بینک اور عالمی منصوبے شروع کرلیے ہیں۔ عالمی معاشی نظام کے بنیادی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نظام کے بالمقابل کچھ ادارے بھی موجود ہیں۔ اب نیا اداراتی فلسفہ ہی کچھ نتیجہ دکھائے گا۔ پچھلے فلسفے کی بنیادیں ہلائی جاچکی ہیں۔ کیا چینیوں کو پرانا فلسفہ پڑھانے کے لیے کوئی طریقہ ایجا د کیا جاسکتا ہے؟ کیا کمیونسٹ پارٹی مغربی فلسفے کو ادھار پر حاصل کرکے کچھ سود ادا کرے گی؟ میرے جیسا معاشی طالب علم اس تفصیل میں نہیں جاسکتا۔

۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اس مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: