رائے ونڈ کی عمدہ سڑک: بہترین زچہ خانہ — زارا مظہر

0

رائے ونڈ کے نواحی گاؤں سے ایک بھٹہ مزدور دردِ زِہ میں مبتلا اپنی بیوی کو جاتی عمرہ کے قریب ڈی ایچ کیو ہسپتال میں لاتا ہے جو ساٹھ بیڈ کا جدید سہولیات سے مزّین بتایا جاتا ہے۔ صبح ساڑھے سات بجے نا کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی میں ہے نا دیگر طِبّی عملہ۔ ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر ہے جس نے زِچہ کو بغیر معائینے کے ہی چلتا کیا کہ ہسپتال میں کوئی جگہ ہی نہیں ہے ۔ زچہ کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ غریب دیہاتی مزدور پریشانی میں ادھر ادھر بھاگتا رہا اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ سامنے ہسپتال کی عمارت نظر آ رہی ہے اور بیوی کی دم بدم قریب آ تی زچگی کوئی اور قدم اٹھانے میں مانع ہے۔ بیچاری غریب عورت درد کی شدت سے بے تاب ہو کر سڑک پر ہی ڈھ جاتی ہے اور لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے حکمرانوں کی ہر مسئلے کا شاندار حل عمدہ سڑک بہترین زچہ خانے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

صوبائی وزیر صحت میاں عمران نذیر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کے ایم ایس کو معطل اور لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو برطرف کر کے اپنا فرض اچھی طرح نبھا دیا۔ زچہ و بچہ کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں دونوں کی حالت تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔ خبر ختم ہوئی۔۔۔۔۔

مگر اصل خبر تو اب جنم لے رہی ہے۔ کیا یہ ہے تختِ لاہور کی شاندار تیس سالہ کارکردگی کہ غریب عوام سڑکوں پر بچے جنیں۔ یہ ہے ترقی یافتہ پاکستان کا وہ روشن چہرہ جہاں زِچہ سڑکوں پر بچے جَن رہی ہیں۔ کیا یہ ہے پاکستان کا وہ تبدیل شدہ ترقی یافتہ چہرہ جو ہم فخریہ اقوامِ عالم کو دِکھا رہے ہیں۔ یہ صوبائی دارالحکومت کی صورتِحال ہے۔ جہاں نا عملہ پورا ہے نا عوام کو ایمرجنسی صحت کی سہولیات میسر ہیں۔ یا پھر عملہ میسر ہے ہر مہینے بھاری تنخواہیں بٹورتا ہے جو انہی مزدورں اور عوام سے مختلف مد میں ٹیکسز کی صورت وصول کی جاتی ہیں۔ عملہ اپنے فرائض سے پہلو تہی اور کوتاہی برتتا ہے تبھی آ ئے روز ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سوالیہ نشان اٹھا رہا ہے کہ کیا انہیں خوراک اور صحت جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ یا وہ سڑکیں اس مقصد کے لیئے دھڑا دھڑ تعمیر ہو رہی ہیں کہ عوام بچے بھی سڑکوں پر پیدا کرلیا کریں۔ کہاں تھی وہ میٹرو بس سروس یا اورنج ٹرین منصوبہ جب زچہ سڑک پر بچہ پیدا کر رہی تھی۔ ایک عام عورت کی عزت کا یہ معیار ہے پاکستان میں کہ اسکی تذلیل سڑکوں پر کی جائے۔ کیا ایک عورت کی اس سے بڑھ کر تذلیل ہو سکتی ہے کہ اسے بچہ پیدا کرنے کے لیئے یوں سڑک پر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے۔

کیا یہ واقعہ اربابِ اختیار کو جھنجھوڑنے کے لیئے کافی نہیں ہے کہ جہاں حکمران ایک معمولی سے ریگولر چیک اپ کے لیئے بیرون ملک لاؤ لشکر سمیت تشریف لے جاتے ہیں کیا اس لشکر کے اخراجات میں اس مزدور کا خون پسینہ شامل نہیں ہوتا۔ جس کے بَل پر عیاشی کے یہ ٹھاٹھ باٹھ روا رکھے جاتے ہیں۔ عوام کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ان کو بر وقت علاج میسر آ سکے۔

مگر شاید۔۔۔۔ واقعہ کی تحقیقات کے لیئے ایک اور کمیٹی بٹھا دی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان کے نخرے اٹھانے جائیں گے۔ انکو نوازا جائے گا اور عوام کو بہلایا جائے گا چند دن بعد کمیٹی اپنی غیر جانبدارانہ رپورٹ پیش کرے گی معاملہ اندر کھاتے ٹھنڈا ہو جائے گا ایم ایس بھی بحال اور ہیلتھ ورکر بھی ڈیوٹی پر موجود ہوگی۔ اور کسی اور سڑک پر ایک اور، حادثہ، جنم لے رہا ہوگا ۔

زندگی چلتے رہنے کا نام ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: