فلمیں پاکستانی: صہیب جمال

0
  • 12
    Shares

اس وقت پاکستان میں دو ڈرامے ڈائریکٹ کرنے والا بھی فلم کا ڈائریکٹر بنا ہوا ہے یا فلم بنانے کے چکر میں ہے۔ کئی تو ایسے ہیں جو فلم بناکر فنانسرز کے کروڑوں روپے ڈوبا چکے ۔فلم کے لیے سب سے اہم چیز ہوتی ہے۔۔کانٹینٹ یا اسکرپٹ، بدقسمتی سے اب تک آنے والی فلموں میں سب سے کمزور شعبہ ہی یہ رہا ہے ، کیونکہ پاکستان میں فلم رائٹر نہیں ہیں۔ جو ہیں وہ انڈین فلموں سے متاثر ہیں برسوں سے ان کی فلمیں دیکھ رہے ہیں اور لاشعور میں انڈین فلمیں ہی گردش کررہی ہوتی ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ ہر انڈین فلم “شعلے” نہیں، ہر آرٹ مووی “اجازت” نہیں، ہر گینگسٹر مووی “ستیا، کمپنی، گینگ آگ واسع پور” بھی نہیں، ہر پر مزاح فلم “گول مال، ہیرا پھیری، منا بھائی ایم بی بی ایس، بلو باربر” نہیں اور ہر لو اسٹوری “قیامت سے قیامت تک” نہیں ہر مہینے درجنوں فلمیں ریلیز ہوتی ہیں ہر فلم کامیاب نہیں ہوتی۔

ہمارے پاکستانی اسکرپٹ رائٹرز کنفیوژن کا شکار ہیں کہ کیا لکھیں؟ کیونکہ پروڈیوسر ان سے لکھواتا ہے وہ خود کوئی آئیڈیا لے کر نہیں آتا ، المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر پروڈیوسرز خود اپنا اسکرپٹ لے آتے ہیں۔ اسکرپٹ یا کہانی جہاں اہم ہوتی ہے بالکل اسی طرح اس کا اسکرین پلے اہمیت رکھتا ہے اور اسکرین پلے بہت زیادہ تحقیق مانگتا ہے، اسکرین پلے کیا ہے؟

مثلاً کوئی سین ایسا ہے کہ دو دوستوں کا مکالمہ ہے، اب اس میں یہ لکھا جاتا ہے کہ دونوں کس جگہ کھڑے ہیں دونوں کے اردگرد کیا ماحول ہوگا رکشہ پیچھے سے گذرے گا یا ٹھیلا، ان کے لباس کیسے ہونگے اگر آؤٹ ڈور سین ہے تو ہوا کا رخ کس طرف ہے تو بال کس طرف اڑیں گے اگر کسی تیسرے کریکٹر نے انٹری دینی ہے تو وہ کہاں سے آرہا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

یہاں یہ ہوتا ہے کہ بغیر سین بائی سین ریکی کیے لوکیشن کا جائزہ لیے سین پلان ہوجاتا ہے اور پھر وہاں لائٹ، ساؤنڈ کی جگاڑ کی جاتی ہے، جبکہ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلموں میں اردگرد ماحول بنایا جاتا ہے سب ایکٹر ہوتے ہیں، جب پروڈیوسر کو بتایا جاتا ہے کہ اس سین پر اتنے پیسے خرچ ہوں گے تو وہ دخل دے کر اخراجات کم کرتا ہے یوں فلم کے اس سین کی ڈیٹیلنگ خراب ہوجاتی ہے۔

فلم کی کمر کی ہڈی ہوتی ہے لوکیشن، ہمارے ملک میں لوکیشنز کی کمی ہے ، ہمارے پاس ہالی ووڈ تو بہت دور کی بات بالی ووڈ جیسی لوکیشن بھی نہیں ہیں جہاں جاؤ مسائل ہی مسائل ہیں، کوئی کنٹونمنٹ کا ایریا ہے تو کوئی کسی پارٹی یا مخصوص قوم کا، نہ ہمارے پاس بڑی حویلیاں ہیں نہ راجا کے محل اور نہ سینکڑوں ایکسٹراز، انڈیا میں ایکسٹراز کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر ایکسٹراز ہی رہیں گے، مگر ہمارے یہاں ہر ایکسٹرا ہیرو اور ہیروئین بننا چاہتا ہے شوٹ کے وقت اس کو بار بار یہ بتانا پڑتا ہے۔

ہمارے پاکستانی اسکرپٹ رائٹرز کنفیوژن کا شکار ہیں کہ کیا لکھیں؟ کیونکہ پروڈیوسر ان سے لکھواتا ہے وہ خود کوئی آئیڈیا لے کر نہیں آتا ، المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر پروڈیوسرز خود اپنا اسکرپٹ لے آتے ہیں۔

اب آجائیں جی ڈائریکٹر کی طرف۔ ڈائریکٹر پوری فلم کا گاڈ فادر ہوتا ہے، کہتے ہیں ناں کہ اگر گھر کا سربراہ ہی کم عقل ہو تو بائی پروڈکٹ یا نسل بھی قسمت سے کام کی نکلتی ہے، چند کمرشلز، چند ڈرامے بنا کر ڈائریکٹر فلم بنانے نکل جاتا ہے، اور ہوتا وہی ہے کہ سین ڈرامے جیسے بن جاتے ہیں کیونکہ ڈرامہ نیرو ویژن پر بنتا ہے اور فلم براڈ وژن پر، ڈرامے یا کمرشل میں کریکٹر کے سولو شاٹ بن جاتے ہیں مگر فلم میں دو کریکٹر یا تین کریکٹر مل کر ایکٹنگ کرتے ہیں جو ایک ہی سین میں نظر آرہے ہوتے ہیں اور تینوں چاروں کی بہ یک وقت ایکٹنگ اور ایکسپریشن چاہیے ہوتے ہیں، تو جناب ہمارے ڈائریکٹر صاحب پہلے دوسرے تیسرے دن جس جوش سے فلم کا کام شروع کرتے ہیں باقی دن نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ایک کریکٹر کا بھی ایکسپریشن خراب ہوا تو ری ٹیک کرنا پڑتا ہے اور اگر ڈائریکٹر اس پر کمپرومائز کر لے تو فلم کا کام لدنا شروع ہوجاتا ہے، پھر ڈائریکٹر صرف اسکرپٹ کے صفحے نمٹا رہا ہوتا ہے۔

اب سنیں ایکٹرز کی تو بدقسمتی سے ہمارے ملک میں فلم کے ایکٹر نہیں جو ہیں وہ لوگوں کو پسند نہیں، مثلا شان، ارباز خان، معمر رانا، ریمبو وغیرہ، اور جو فلموں میں لیے جارہے ہیں لوگ ان کو روز اپنے ٹی وی پر دیکھتے ہیں، اب چاہے وہ فہد مصطفی ہو، دانش تیمور، ہمایوں سعید یا مہوش حیات، تماش بین کے لیے کوئی نیا نہیں اور سب کی ایکٹنگ مخصوص ورائٹی نہیں یا وہ وراسٹائل نہیں، انڈیا یا ہالی ووڈ میں دونوں شعبے کے لوگ الگ الگ ہیں اور دونوں اپنے اپنے شعبے کی ضرورت و جزیات کو سمجھتے ہیں۔

یوں اسکرپٹ کمزور، ڈائرکشن ڈھیلی، اور ایکٹرز میں کچھ نیاپن نہیں تو فلم فلاپ ہوگی ہی۔

ٹیکنیکل سائیڈ پر بات کرنا یعنی کیمرہ، لائٹس، ایڈیٹنگ، میوزک، ساؤنڈ، کلر گریڈنگ اس کے ماہرین بھی چیدہ چیدہ ہی ہیں، فلمی موسیقی اور اشتہار کے جنگلز میں فرق ہوتا ہے کسی گلوکار کا البم مختلف چیز ہوتی ہے، فلم کے لیے بڑا ساؤنڈ چاہیے ہوتا ہے، بڑا کا مطلب لائیو انسٹرومنٹس، پاکستان کی سینما انڈسٹری بھی ستّر سال پرانی ہے مگر جدید سینما کی تاریخ چند سالوں کی ہے جس نے پرانی نسل سے کچھ سیکھا نہیں کیونکہ پچھلے پچیس سال پہلے انڈسٹری دم توڑ چکی تھی۔

پاکستان میں اس وقت تین موضوعات پر ہی فلم سازوں کا دھیان ہے، دہشت گردی، دوسری شادی یا شوہروں کی نظر بازی۔ ان موضوعات سے ہٹ کر جو فلمیں بنی ہیں وہ تھوڑی بہت کامیاب بھی ہوئی ہیں ۔

موضوع نئے ہوں اور پروفیشنلی ڈیل کیا جائے تو کامیابی مل سکتی ہے ٹیلنٹ ہے مگر پروفیشنل ازم نہیں اور سب سے بڑی بات کسی کو نام کمانا ہے، کسی کو پیسہ۔

جس دن معاشرے کی بہتری کا سوچیں گے اس دن ۔۔۔ “پی کے، او مائی گاڈ، یا تارے زمیں پہ” سے اچھی فلم بھی بنا سکتے ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: