چین کی موجودہ پالیسی: صدر زی جن پنگ کی ترجیحات — جاوید اقبال

1
  • 18
    Shares

اٹھارہ اکتوبرکو چین کے صدر زی جن پنگ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی انیسویں نیشنل کانگریس کے اجلاس میں اپنی ترجیحات کا اعلان کریں گے۔ وہ اس سے قبل اپنے مقاصد کا اظہار پچھلی کانگریس میں کرچکے ہیں جن پر عملدرآمد جاری ہے۔

صدر زی جن پنگ نے 2015 سے چار جامع مقاصد طے کئے ہیں۔ (۱) درمیانے درجے کا خوشحال معاشرہ جامعیّت کیساتھ تعمیر کیا جائے (۲) اصلاحات کو نچلی تہہ تک پہنچایا جائے ۔(۳) قانون کے عین مطابق قوم کانظم و نسق جامع انداز میں یقینی بنایاجائے۔ (۴) کمیونسٹ پارٹی کا نظم سختی کیساتھ سنبھالاجائے۔

یہ تمام ایک جدید قائد کی بصیرت کی نشانیاں ہیں۔ لیکن اس جامع پالیسی کا کمیونسٹ پارٹی اور کمیونزم کے بنیادی نظریات سے تعلق سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ نفاذ صرف پارٹی ہی کو کرنا ہے یا اس پالیسی کو مستقبل میں پارٹی ہی قائم رکھے گی۔ اگر قائدین پارٹی کے نچلے طبقے سے ابھر کر سامنے آئے تو پارٹی یقیناً پچھلی پالیسی کے اثرات کی بنیادپر مستقبل کا فیصلہ کریگی۔ پارٹی سوشلسٹ نظریات کے مطابق ہی کام کرتی رہے گی۔ اس لئے مقاصد اور عمل کی ہم اہنگی کو سمجھنا ضروری ہے۔

اس دور سے قبل ڈین زیاو پنگ کی پالیسی تھی کہ معیشت کو چار گنا کردیا جائے۔ انکے خیال میں چین کے لوگوں کو عالمی میدان میں پیداوار اور منڈی میں مقابلہ کرنا ہوگا۔ منڈی اور منصوبہ بند معیشت (سوشلسٹ اور سرمایہ دارانہ نظام) دونوں کو ساتھ لیکر بڑھنا ہوگا۔ وہ عوام کو خطرات مول لینے کی تربیت دیتے تھے کہ کچھ نہ کچھ خطرہ زندگی میں مول لینا پڑتا ہے۔ آج تیاری کریں تاکہ کل دنیا بھر کیساتھ مقابلہ کریں۔ وہ ماو کی طرح سے عوامی جمہوری آمریت کے حامی تھے۔انکا مشہور قول تھا کہ اگر لوگوں کو مغربی انداز کی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ حقوق اور دئیے گئے تو وہ ملک میں بے چینی پیدا کریں گے۔ مضبوط چین میں لوگ سرمایہ کاری کریں گے جس سے ترقی آئیگی۔

ابھی تک چین سوشلسٹ معیشت ہی ہے۔ یہ ابھی تک مکمل سرمایہ دارانہ معاشرے میں نہیں ڈھلا۔ یہاں سٹیٹ۔ پارٹی (پارٹی اور ریاستی اداروں) کی مشترکہ حکومت موجود ہے۔ لیکن پر تعیش زندگی بھی فروغ پارہی ہے۔ پر تعیش اشیاءکی دوسرے نمبر پر فروخت چین ہی میں ہے۔جہاں ہم آہنگی، برداشت اور سماجی نظام (گوانگ زی) ابھی تک موجود ہے، ماو اور ڈینگ زیاو پنگ کے افکار موجود ہیں، وہاںسوشلسٹ معاشرہ تیزی سے امیر ہوکر نئے انداز میں فروغ پارہا ہے۔ دنیا میں مزید سوشلسٹ معاشرے بھی جدیدیّت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں نئی اصلاحات کے ساتھ ساتھ موجود پارٹی سسٹم کا سخت نظام سوشلزم کو برقرار رہ سکتا ہے جب تک پارٹی کسی بڑے اندرونی مسئلے یا بیرونی معاشی مقابلے سے دوچار نہ ہو۔ سرمایہ داری کے فروغ کیلئے نئے کاروباری طبقے اور امریکی کمپنیوں کا وجود اہم ضرور ہے ۔ جس سے چین میں تیزی کیساتھ سرکاری کارپوریشن کو ایک جانب دھکیلا جارہا ہے۔ لیکن تاحال سرکاری کارپوریشنیوں کا پیداوار میں بڑا حصہ ہے۔

لیکن ہیلتھ پالیسی میں سوشلسٹ اندازِ کار کی بجائے مغربی رخ زیادہ نمایاں ہے جس میں انشورنس کمپنیاں خرچ برداشت کرتی ہیں جبکہ کمپنیاں ادویات عوام کو بیچ کر نفع بھی کماتی ہیں۔ علاج میں عوامی ترجیحات کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے اس لئے عوامی غم و غصے کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ اس شعبے میں مکمل مفت اور سرکاری علاج کی سوشلسٹ روایت برقرار نہیں رہ پائی۔

اب آتے ہیں صدر کے مقاصد کی جانب۔
(۱) درمیانے درجے کا خوشحال معاشرہ جامعیّت کیساتھ تعمیر کیا جائے
2010 کی فی کس آمدن (4560ڈالر)کو 2020 تک دگنا کیا جائے۔ 2016 میں فی کس اوسط آمدن 7000 ڈالر کو چھو رہی تھی۔ ( Constant 2010 US$کے مطابق)۔ امید ہے کہ یہ ہدف حاصل ہوجائیگا۔ اوسط کی حد تک تو یہ ہدف حاصل ہوسکتا ہے۔ لیکن دوسرے پیمانوں (مثلاً GDP PPP Constant 2011) کے مطابق یہ ہدف ادھورا رہ جائیگا جس کے مطابق 2010میں 9525 ڈالر آمدن سے بڑھکر 14400 ڈالر فی کس آمدن تک پہنچ پائی۔ لگ بھگ 20,000 ڈالر فی کس تک پہنچانا کارِ دارد ہوگا۔ ڈین زیاوپنگ (1978 تا 1989) بھی معیشت کو چار گنا کرنے کا خواب دیکھا کرتے تھے کہ اس طرح سے چین دنیا میں پہلا مقام حاصل کرلیگا۔تب چینی معیشت 218 ارب ڈالر کی تھی۔ یہ ہدف 2000 میں حاصل ہوا۔

زی جن کا جامعیت سے کیا مراد ہے؟ یہ مشکل سوال ہے۔ ماہرینِ ترقیات و معیشت کا کہنا ہے کہ اس سے مندرجہ ذیل عوامل مقصود ہیں:

(۱)۔ آٹھ کروڑ سے زائد غریب آبادی کو غربت سے نکالنا ۔ (یہ اقوامِ متحدہ کے دئیے ہوئے اہداف ہیں)۔

(۲)۔ 30 کروڑ سے زائد شہروں میں ہجرت کرکے آنے والے دیہاتی(ہُکو) مزدوروں کو شہری سہولیات میسر نہیں۔ زی جن پنگ انہیں شہریوں کے برابر سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔(یہ خالصتاً سوشلسٹ اندازِ فکر ہے لیکن تمام شہری تاریخی طور پر یہ فریضہ انجام دیتے رہے ہیں۔ اس لئے اس طریقے میں سوشلسٹ کس طرح سے جدّت لائیں گے؟

(۳)۔ شہروں کی ترقی میں اضافہ کیا جائے۔ مثلاً بیجنگ کے گرد کے دو مزید صوبوں کو اکٹھا کرکے (پنڈی اسلام آباد کے جڑواں شہروں کی مانند)ترقی دینے کا بڑا منصوبہ ہے۔ (یہ بھی تمام کامیاب حکومتیں کرتی رہتی ہیں۔ اور اگر ضرورت سے زائد سرمایہ میسر ہو تو ایسا کرنا مزید آسان ہوتا ہے۔ چین کے پاس بچتیں 46% سے زائد ہیں اس بناءپر چین دنیا میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔لیکن یہاں بھی چینی کنفیوشس اندازِ فکر اور ماوزے تنگ کے فلسفے کا کیا اطلاق ہوگا؟)

اس سے قبل 80 کروڑ دیہاتیوں کیلئے مفت /سستی صحت کے منصوبے 2005میںشروع کئے گئے تھے۔جس میں30 تا 80فیصد تک کے اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔ ایسے ہی شہریوں کیلئے صحت کی انشورنس کا نظام شروع کیا گیا۔ نوّے فیصد سے زائد (پچاس کروڑ) لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ 1999 تک صرف 49% شہری جبکہ 7% دیہاتی اس انشورنس کی سہولت سے مستفید ہوتے تھے۔اب بڑے شہروں میں مغربی ممالک کے برابر کی سہولیات موجود ہیں۔ شہروں میں لوگ مفت سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کلینک سے بہتر سمجھتے ہیں حالانکہ شہروں کے چینی امیر شمار کئے جاسکتے ہیں۔ یہی نہیں بڑی عالمی کمپنیاں جیسے گلیکسو سمتھ کلائن اور مرک مارکر وغیرہ وہاں متحرک ہیں۔ میڈیکل کی تحقیق پر بے تحاشا کام ہے۔

علاج پر حکومتی اندازِ عمل /ہیلتھ پالیسی چین کے کمیونزم کی اونچ نیچ کا بڑا بہتر جائزہ فراہم کرتاہے۔ (۱) پہلے دور میں ماوزے تنگ کی پالیسی نے چینیوں کو 1949 کے بعد سے (1952تا1982) روس کی مانند بہت بہتر اور مفت صحت فراہم کئے رکھی۔ لیکن اس میں لینن کے بھیجے ہوئے مشیران کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ یہ عوام کیلئے سنہری دور تھا ۔ اس دور میں ننگے پاوں ڈاکٹر (کمیونٹی ہیلتھ ورکر)کی خدمات کا زیادہ فائدہ ہو¿ا۔ 1984 میں دوسرا دور شروع ہوا اور ہسپتالوں کو اپنے اخراجات خود پورے کرنا پڑے۔ ڈاکٹروں نے ذاتی کلینک کھولے۔ صحت کی سہولیات اور دوائیں مہنگی ہوگئیں۔ اس سے عوام میں غصہ بڑھ گیا اور کمیونسٹ پارٹی کے کنٹرول کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا۔ 2003 سے تیسرا دور شروع ہوا جس میں عوام کو صحت کا باہمی نظام /ہیلتھ انشورنس دیا گیا۔ 2008 تک یہ نظام کامیابی کی منزل نہ چھو سکا۔ صحت کی سہولیات مہنگی تھیں۔ اس کیلئے سستی مگر جامع سہولیات کا آغاز کیا گیا جن سے اب قریباً نوّے فیصد سے زائد لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ مفت صحت کا نظام تو 1984 میں ختم ہوگیا تھا کیونکہ مغربی انداز میں ملک کو منڈی کی معیشت کے طرز پر مقابلاتی میدان کیلئے کھول دیا گیا۔ لیکن اب حکومت مغربی ممالک کی مانند انشورنس کے ذریعے 60% اخراجات برداشت کرتی ہے (جسکا خاصا حصہ انشورنس کمپنیاں فراہم کرتی ہیں)۔ لوگوں کی آمدن کا پانچ فیصد (چالیس ہزار پاکستانی روپے) صحت پر خرچ ہوتاہے۔ ساتھ میں 2012 سے دیہاتوں میں مفت کلینک بنائے گئے ہیں۔ لیکن بڑے سرکاری ہسپتالوں نے اس نظام کے خلاف احتجاج کیا۔یہ ہسپتال مفت کی بجائے قیمتاًعلاج کرتے تھے۔ اس پر حکومت نے 2012 میں پرائیویٹ سرمایہ داروں کو 20 فیصد حصص حوالے کرنے کا اعلان کیا تاکہ معیاری علاج کو یقینی بنایا جائے۔ اس سے قبل چینی صحت کے بارے میں ماہرین ڈاکٹروں کی پروفیشنل معیار کی شدید کمی کی نشاندہی کرتے تھے۔ (موجودہ دور کے چینی مسیحاوں پر یہ شدید ترین نکتہ چینی ہے جسے تمام دنیا میں دہرایا جاتا ہے) موجودہ اندازِ علاج میںغریب اور امیر علاقوں کیلئے تفاوت ہے۔یہ سوشلزم کی روح کے خلاف ہے۔اسے چوتھا دور کہا جاسکتا ہے۔ اس دور کے مسائل زیادہ ہیں ۔ چین کاعلاج کا اندازِ عمل مغرب زدہ ہے۔ لیکن عوام مطمئن ہیں۔ ذاتی دواساز کمپنیاں انشورنس کے ذریعے سے نہ صرف سہولیات کیلئے رقم فراہم کرتی ہیں بلکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں حصہ دار بھی ہیں۔یہاں بڑے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ذاتی/پرائیویوٹ دواساز کمپنیوں کو صحت جیسے اہم عوامی خدمت کے میدان میں غریب عوام سے نفع کمانے کی کھلی اجازت دینا مسائل کا باعث ہے۔ اس میں کمیونسٹ نظامِ حکومت کی بنیادی اقدار اور پارٹی کے اہم عہدیداران پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔ پھر منڈی کی معیشت ناکام بھی ہوجاتی ہے۔ جس سے اس قدر وسیع نظام ِ صحت کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کا کوئی متبادل بھی موجود نہیں اور شاید متبادل نظام لانے پر کام بھی نہیں ہورہا۔ یہ کمیونسٹ پارٹی کا بڑا دردِ سر ہوسکتا ہے کیونکہ علاج کی سہولت ہر خاص و عام کو چاہئیے۔ موجودہ تحقیق زیادہ تر مغرب زدہ ہے جس میں نظام کو مزید پرائیویٹائز کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس کوشش سے کمیونسٹ پارٹی کیسے جان بچائے گی؟ کیا چینی تجربہ مزید مغرب زدہ ہوجائیگا یا اس میں سے مخصوص مشرقیت کا سا انداز ابھر سکے گا؟ یہ اہم سوالات ہیں لیکن موجودہ قائدین کو عوام کیلئے فوری علاج کی سہولت ہر گھر تک پہنچانا ہے چاہے کوئی سا بھی انداز ہو۔عمل میں نظریاتی اور مخصوص مشرقی پسِ منظر کا خیال رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ خصوصاً جب پالا زیادہ پڑھے لکھے طبقے سے پڑجائے۔ بعض اوقات عوامی خدمت بڑا سوال بن جاتا ہے۔

ہسپتالوں میں اخراجات اور معیار پر لُو پنگ زاو نے کام کیا جسے 2013 میں پول نے چھاپا۔ بیجنگ کے تین ہسپتالوں پر 2006 تا 2010 تک اس مطالعہ کے مطابق ساڑھے چھے لاکھ لوگ داخل ہوئے۔فی قیام اخراجات میں دو فیصد تا بہتر فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن فی دن قیام کے اخراجات میں چار سو فیصد سے زائد اضافہ بھی ہو¿ا۔ اسکی ایک وجہ چینی عوام کی آمدن میں اضافہ بھی ہے ۔ اب چینی شہری بہترین اور مہنگا علاج چاہتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ اگر آبادی کا اس قدر بڑا حصہ (50 کروڑسے زائد لوگ) امیر ہوجائیں تو انہیں زبردستی سستا اور غیر معیاری علاج فراہم نہیں کیاجاسکتا۔ نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات 36% کم ہوئی۔

تینوں سرکاری تدریسی ہسپتال ہیں جنہوں نے اس دوران میں جدید مشینیں خریدیں۔ علاج کے اخراجات پر کنٹرول کیا۔ ہسپتالوں کا انتظام بہتر ہوا۔ معالجین کی تکنیکی مہارت بڑھ گئی۔ سوشلسٹ حکومت کے قوانین اور انکی نگرانی میں بہتر ی آئی اور اس سے عوام کو فائدہ ہو¿ا۔ بہت سے ہسپتال اس دوران میں بہت زیادہ کام، مریضوں کا بہترین تحفظ اور ساتھ میں ادارے کیلئے منافع بھی کمارہے ہیں۔ کچھ ہسپتال اتنی رقم کمارہے ہیں کہ انہیں سمجھ تک نہیں آتی کہ کہاں خرچ کریں۔ غریب ترین صوبوں میں بھی سرکاری ہسپتالوں میں اضافہ اور ترقی دیدنی ہے۔ ایک سرکاری ہسپتال کی40% آمدن انشورنس سے آتی ہے جبکہ حکومت صرف 5% دیتی ہے۔ علاج کا باقی 55% عوام خود ادا کرتے ہیں۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ عوام اس قدر ادائیگی انشورنس سے قبل بھی کررہے تھے۔ لہٰذا جو کچھ انشورنس کمپنی دیتی ہے وہ ہسپتال اور معالجین کا حصہ ہے۔ یہ انشورنس کمپنیاں مہنگی ادویات اور مہنگے ٹیسٹ کیلئے ادائیگی نہیں کرتیں۔ چینی حکومت مغرب کے برعکس عوامی ضروریات اور عوامی ترجیحات کو سامنے رکھ کر کام کررہی ہے ۔جبکہ بیشتر مغربی اقوام علاج سے نفع کمانے کی انفرادی معاشی حکمتِ عملی پر انحصار کررہے ہیں۔ یہ تحقیقی مطالعہ وضاحت کرتا ہے کہ مبنی برنفع اندازِ عمل سے عوامی علاج میں فوائد نہیں نقصان ہوسکتے ہیں۔

(۲)اصلاحات کو نچلی تہہ تک پہنچایا جائے ۔
یہ مشکل ترین کام ہے۔ اصلاحات سے کیا مراد ہے؟ مضبوط، مہذب ، جمہوری اور جدید ترین سوشلسٹ ملک بننا۔ اس کیلئے فوج میں تبدیلیاں کی گئیں۔ آرمی کی تعداد دس لاکھ کم کرکے نیوی اور ائیر فورس کی تعداد بڑھا دی گئی۔ کمیونسٹ پارٹی کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ اسے مسائل کے حل پر کام کرنا ہے۔ موثر انداز اختیار کرنا ہے۔
سیاسی نظام میں جنرل سیکرٹری کو مرکزیت حاصل ہے لیکن کام کیلئے عوامی ترجیحات کو مدِّنظر رکھا جاتا ہے۔ اختیارات تقسیم کرکے طاقت کو مقامی حکومتوں کے حوالے کیا جاتا ہے اور فیصلے پارٹی کے علاقائی عہدیدار کرتے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد سرکاری کارپوریشنیں ملک کے عوام کی ملکیت شمار کی جاتی ہیں۔ ان میں کی جانے والی اصلاحات پر کچھ سوالات تاحال موجود ہیں۔

جدیدیت کو اپنانے کیلئے تحقیق و ترقی میں چین نے روس کی نسبت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ وہاں یونیورسٹیوں، حکومتی اداروں اور کاروباری افراد میں تعلق زیادہ بہتر ہے جس سے تحقیق میں مدد ملتی ہے۔
چین سوشلسٹ مارکیٹ معیشت ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ابھی تک مکمل سرمایہ دار نہیں ہوا۔ سٹیٹ، پارٹی (پارٹی اور ریاستی اداروں) کی مشترکہ حکومت ہے۔ پر تعیش زندگی فروغ پارہی ہے۔ معاشرہ تیزی سے امیر ہوکر نئے انداز اختیار کررہا ہے۔ سرمایہ داری کے فروغ کیلئے نئے کاروباری طبقے اور امریکی کمپنیوں کا وجود اہم ضرور ہے ۔ جس سے چین میں تیزی کیساتھ سرکاری کارپوریشن کو ایک جانب دھکیلا جارہا ہے۔لیکن تاحال سرکاری کارپوریشنیوں کا پیداوار میں بڑا حصہ ہے۔ پچھلے سال کی پہلی چوتھائی کے دوران میں سرمایہ کاری میں سرکاری کارپوریشنوں کا 60% حصہ تھا۔ 2011 میں انکا حصہ کل پیداوار میں 40% رہا۔ تاریخی طور پر یہ زیادہ منافع بخش رہی ہیں۔ لیکن ریاستی کاروبار میں اصلاحات نہیں کی گئیں بلکہ انہیں غیرضروری رعایت دی گئی۔ کارپوریٹائز نہیں کیا گیا۔ انکی درست طور پر تنظیم نو نہیں کی جاسکی۔ وہاں غیر ضروری نوکریاں دی جاتی ہیں اور کرپشن ہوتی ہے۔ اس تمام کے باوجود انکا نفع زیادہ رہا۔ لیکن یہ یاد رہے کہ لوگوں کے ذاتی کاروبار زیادہ بڑھ رہے ہیں۔ 80% چینی مزدور ذاتی کاروبار سے منسلک ہیں۔ اصلاح پسندوں کیلئے یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ اس میں ناکامی کا مطلب اصلاحات کی ناکامی کے علاوہ کمیونزم کی ناکامی بھی ہوگا۔

ملک میں رسد/ سپلائی سائڈ اصلاحات کی جارہی ہیں جن سے معیاری اشیاءکی پیداوار مین اضافہ کیا جانا مقصود ہے۔ مزدور کی پیداواریّت میں اضافہ کیا جارہا ہے اور طلب کو دیکھتے ہوئے پیداواری فیصلے کئے جائیں۔

(۳) قانون کی حکمرانی کیساتھ قوم کانظم و نسق جامع انداز میں یقینی بنایاجائے۔
Rule of Law / قانون کی حکمرانی ایک بڑا اہم سوال ہے۔ لیکن یہ مغربی دانشوری کا کمال ہے کہ ایسا لفظ چین میں بھی جا پہنچا۔ قانون کی بالاتری اور اسکا جامعیّت کیساتھ التزام ۔ ریاست کے ہاتھوںشہریوں کا مکمل استحصال اسے ہی کہا جاتا ہے۔ کمیونسٹ ممالک میں عوام قانون کے ماتحت زندگی گزارتے ہیں۔ پارٹی قیادت کا تمام علاقوں میں موجود رہنا اور انکی بالاتری کا احساس قائم رہنا ہی قانون کی حکمرانی بھی ہے۔ مغرب اپنے مخصوص پسِ منظر کیساتھ قانون کی حکمرانی کاتصور اپناتا ہے۔شاید اب عوام کو پارٹی کے بالمقابل کچھ آزادیاں دیدی جائیں۔

چین میں بھی زی جن پنگ نئے انداز کیساتھ عدلیہ کو مقامی حکومت کی قید سے آزاد کرنے کی مہم چلائیں گے۔ عدلیہ کا یہ انداز یقینی طور پر بہتر ہے لیکن اس کیلئے کمیونسٹ پارٹی کی تربیت بہت ضروری ہوگی کیونکہ عدلیہ کے فیصلوں کو عوام پر لاگو کرنے سے قبل پارٹی میں اس کیلئے ماحول پیدا کرنا ضروری ہوگا۔مغربی میڈیا نے 2014 سے ہی جب سے عدالتی نظام کے اصلاح کا آغاز کیا گیا تھا، چینی عدلیہ کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے۔ زاو¿ چیانگ (سپریم پیپلز کورٹ کے صدر) کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انہوں نے مغربی روایاتِ عدل پر تنقید کی ہے۔ عدلیہ پر سے کمیونسٹ پارٹی کے اثر و نفوذ کم کرنے سے پارٹی پر کیا اثرات ہونگے، یہ اہم ہے لیکن عوام کو عدل و انصاف کی فراہمی یقینی ہو جائیگی۔ عدلیہ کی آزادی صرف مغربی ہی نہیں، اسلامی تصور بھی ہے۔ جہاں کچھ آوازیں اس تصور کے خلاف ہیں وہاں اس تصور کو 2015 کی نظامِ انصاف کی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔1980 سے چین کا آئین میں بھی یہی عدلیہ کی آزادی کاتصور تحریر ہے۔ لیکن چین میں مغربی اصطلاحات کے خلاف ایک مہم جاری ہے۔ جیسے آئین میں سے آئینی جمہوریت کے لفظ کو صدر زی جن پنگ نے تبدیل کرکے ”آئین کے مطابق نظمِ حکومت“ کردیا ہے۔ یہ نیا لفظ صدر نے 2012 میں تلاش کیا تھا۔ موجودہ عدالتی بحث کیلئے شاید یہ بہتر ہوگا کہ عدلیہ کیلئے بنیادی اصول وضع کرکے عدلیہ کو کام کرنے کی آزادی دیجائے۔ اصول چینی فلسفہ زندگی کی نمائندگی کریں۔ لیکن اس تمام عمل میں شاید کچھ وقت صرف ہوگا۔لیکن اس دوران میں چین کی عدلیہ نے اپنی حیثیت تسلیم کرالی ہے کیونکہ اسکی قانونی اور عدالتی مہارت قابلِ دید ہے جیسا کہ زاو یارنونگ نے تحقیقاتی مجلّے ” فرنٹئیرز آف لاءاِن چائنا“2017 جون میں تحریر کیاہے۔ ۔ کمیونسٹ پارٹی نے عدالت کی آزادی کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کا نعرہ بھی 2015 میںبلند کرڈالا ہے۔ اسے زی جِن پنگ کی کامیابی تصور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ نظریاتی بحث جاری رہیگی کہ کیا عدلیہ کی آزادی مغربی نظریہ ہے اور کیا چین میں اسکے سوا کوئی دوسرا نطام عدل رواج پاسکتا ہے؟ پرانے نظامِ عدل کے اثرات کا درست جائزہ اور موجودہ اندازِ عدل کا مقام مستقبل ہی میں معلوم ہوپائے گا۔ کمیونسٹ پارٹی اور عدلیہ دونوں ہی چینی آئین کے ماتحت ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی ججوں کے انتخاب میں شامل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جائزہ لے سکتی ہے کہ جج آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں یا نہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے موجودہ مقاصد کا تعین 2013 میں کیا گیا۔ (۱) معاشرے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ (۲) ریاست کی طاقت میں اضافہ اور (۳) عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری۔

یہاں اہم یہ ہے کہ چینی میڈیا کو عدلیہ کے ٹرائل کی رپورٹ حاصل کرنے اور نشر کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ سرکاری افراد ، عدلیہ کی پالیسی اور قائدین عدلیہ میں ضروری تبدیلیاں کرنے کے حامی ہیں۔ مقامی سطح کی مانند مرکزی سطح پر لیگل اور سیاسی کمیٹی کا آغاز کیاجاسکتا ہے جس سے مقامی کمیٹیوں پر احتسابی نظر رکھی جاسکے گی۔

(۴) کمیونسٹ پارٹی کا نظم جامعیّت اور سختی کیساتھ سنبھالاجائے۔
موجودہ صدر کی دو حیثیتیں ہیں۔ ملک کا صدر اور پارٹی کا جنرل سیکرٹری ۔ موجودہ جنرل سیکرٹری نے کامیابی کیساتھ کمیونسٹ پارٹی کا نظام سنبھالا ہو¿ا ہے۔ پارٹی پر تمام چین کا نظام استوار ہے۔ پارٹی کا کنٹرول پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن 1982 سے پارٹی میں چیئرمین کی جگہ جنرل سیکرٹری کا عہدہ ہے۔ جنرل سیکرٹری پولٹ بیورو کے ممبران کے برابر تصور کیا جاتا ہے۔ کیا زی جن پنگ کے اہم کردار کو دیکھتے ہوئے چیئرمین کا عہدہ پارٹی میں دوبارہ بحال کیا جائیگا اور انہیں چیئرمین مان لیا جائیگا؟ اس اجلاس کا یہ ایک بڑا سوال ہے۔ موجودہ سکرٹری جنرل کا کردار اس لئے بھی اہم ہے کہ اس دور میں آرمی کی دو اہم پریڈیں ہوئیں ۔ پہلی ہانگ کانگ کی حوالگی کی اور دوسری چائنا ڈے کی۔ بھارت کیساتھ اہم جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران سپاہیوں کو بتلایا گیا کہ زی جن پنگ عام قائد نہیں بلکہ چیئرمین کی سی حیثیت رکھتا ہے۔

ساتھ میں پارٹی کے آئین میں ضروری ترامیم کی جارہی ہیں۔ اس سے قبل ماو زے تنگ نے آئین تشکیل دیا۔ بعد ازاں ڈینگ زیاو پینگکے تین نکات شامل کئے گئے۔ جہاں آئین میں مارکس اور لینن کیساتھ ماو کا نام درج ہے وہاں ڈینگ زیاو پینگ کے نام بھی ہیں ۔ لیکن کیا موجودہ ترامیم کیساتھ زی جن پنگ کا نام بھی درج ہوگا؟ بہرحال اسکے تیار کردہ نظریات، اصطلاحات اور فرامین کو ترامیم کے ذریعے آئین میں شامل کیاجارہا ہے۔ یہ فیصلہ وقت ہی کریگا کہ کیا زی جن پنگ اتنا بڑا قائد ہے ؟

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. یہ کہنا کہ “اشتراکیت کا یہ تجربہ انجام کے قریب ہے” ایک خواہش ہے۔ چینی محتاط ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے کمیونسٹ چینی کمیونزم پر اس لحاظ سے برہم ہیں لیکن چینی عمل کے میدان میں عملی فیصلے کررہے ہیں۔ اس سے کیا سوشلزم ہی ظہور پذیر ہوگا یا سرمایہ داری کا کوئی نیا چہرہ سامنے آئیگا؟ اس پر سوشلزم اور سرمایہ داری کے فلسفے کا جائزہ لیکر ہی کچھ سمجھا جاسکتاہے۔ میں اس پر پڑھ رہاہوں لیکن یہ ایک مشکل اور بڑا موضوع ہے۔ زیادہ تر مغربی ماہرین چین کے موجودہ رویئے سے حیران و پریشان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ساتھ ساتھ کمیونزم بھی مضبوط ہورہاہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی مضبوط ہے۔ ریاستی کارپوریشنیں بڑی ہیں، منافع بخش ہیں اور انکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہاہے۔ معیشت میں ذاتی/پرائیویٹ کمپنیاں بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہورہاہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔ لیکن سرمایہ داری بھی دنیا میں اختتام پذیر ہوسکتی ہے۔ اس کی جگہ اسلام یا کوئی دوسرا مذہب یا کوئی تیسرا نظام سامنے آسکتا ہے۔ موجودہ سوشل ڈیموکریسی اور این جی اوز کی پارٹیسی پیٹری/ شراکت دارانہ جمہوریت یا ہیومن رائٹس کے قوانین کو سرمایہ داری سے تعبیر کرنا بڑا مشکل ہے۔ یہ عجیب سا ملغوبہ ہے۔ وقتی ضرورت کے تحت کئے گئے سیاسی فیصلے کسی بھی نظرئیے کی تعریف پر پورے نہیں اترتے۔ دنیا نظریات کی بجائے وقتی فوائد پر زور دے رہی ہے۔ اس لئے چینی کمیونسٹ پارٹی نے دانش کیساتھ عملی فیصلے کئے۔ یہ سب ڈینگ زیاو پینگ کی عملیـت پسندی تھی جسے جاری رکھا جارہا ہے۔ یہ مکمل طور پر سرمایہ داری بھی نہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: