2017 کا ادبی نوبیل انعام یافتہ جاپانی نژاد برطانوی ادیب: کازواو اِشیگورو

1
  • 97
    Shares

جاپان کا عظیم بیٹا:
قارئین اور مصنف ایک ایسے رشتے سے بندھے ہوتے ہیں، جو تخلیقی ہوتا ہے۔ اس رشتے میں خاموش امیدیں اور خواہشوں کے سرسبز خواب بھی شامل ہوتے ہیں۔ کسی مصنف کے لکھے ہوئے شہ پارے کو قاری تو پسند کرتا ہی ہے، مگر جب اس کی پسندیدگی کا دائرہ اتنا وسیع ہو جائے کہ ادارے اور ممالک بھی پسند کرنے لگیں، تو سب سے زیادہ خوشی اسی قاری کو ہوتی ہے، جو اس مصنف کا مداح ہے، یقینی طور پر کسی بھی لکھنے والے کے لیے سب سے بڑا اعزاز اس کے پڑھنے والے ہی ہوتے ہیں۔ یہ انمول اور بے لوث بندھن ہے۔

عالمی ادب میں نوبیل پرائز ایک معتبر ادبی انعام ہے، ہر چند کہ کچھ برسوں سے یہ متنازعہ بھی ہے، مگر اس مرتبہ یہ انعام ایک ایسے مصنف کو دیا گیا ہے، جس پر پوری دنیا میں ادب پڑھنے والے متفق ہیں کہ وہ اس کا حقدار تھا۔ جی ہاں سویڈش اکادمی کی طرف سے2017 کا نوبیل پرائز جاپانی نژاد برطانوی مصنف ’’کازواواِشیگورو۔ Kazuo IshiGuro‘‘ کو دیا گیا ہے۔
اس انعام کو دیتے ہوئے ان کے تخلیقی کام کی تعریف کرتے ہوئے سویڈش اکادمی کی طرف سے جو تعریفی کلمات ادا کیے گئے، وہ یہ ہیں’’ان کے ناول عظیم جذباتی قوت کے حامل ہیں، جو انسان اور دنیا کے درمیان تعلق کی گہرائیوں سے پردا ہٹا دیتے ہیں۔ ‘‘ 1989 میں بکرپرائز کے علاوہ دیگر کئی بڑے اعزازات بھی اپنے نام کر چکے ہیں، جن میں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر، فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف آرٹس اور رائل سوسائٹی آف لٹریچر شامل ہیں۔

8 نومبر 1954 کو ’’کازواواِ شیگورو‘‘ جاپان کے شہر’’ناگا ساکی‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر صرف 5 سال تھی، جب ان کے والدین نے ہجرت کی اور یہ جاپان سے برطانیہ آبسے۔ اس دوران یہ صرف ایک مرتبہ 70کی دہائی میں جاپان گئے۔ ان کے ذہن میں جاپان سے متعلق ذاتی زندگی کی یادیں بہت دھندلی ہیں، یہی وجہ ہے، تمام عمر ایک تصوراتی جاپان سے جڑے رہے، کیونکہ جاپان، ان کاآبائی وطن تھا اورلندن میں رہتے ہوئے بھی، انہوں نے ایک ایسے گھر میں تربیت حاصل کی، جہاں مکمل طور پر جاپانی تہذیب وتمدن کا دور دورہ تھا، جاپانی زبان بولی جاتی تھی اور جاپانی ثقافت کے اصولوں کی پابندی کی تربیت دی جاتی تھی، اسی لیے ’’کازواو اِ شیگورو‘‘ کے پہلے دو ناول اسی تصوراتی جاپان کو بیان کرتے ہیں، جن کو محسوس کرکے انہوں نے اپنی کہانیوں میں ڈھالا۔

’’کازواواِشیگورو‘‘نے ابتدائی تعلیم جاپان میں حاصل کی، لندن میں سکونت پذیر ہونے کے بعد، اسکول، کالج اور مختلف جامعات میں اعلیٰ تعلیم پائی، جن میں یونیورسٹی آف کینٹ اور یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیابھی شامل ہیں۔ 1980 میں اپنا تعلیمی سفر مکمل کیا، بالخصوص انگریزی زبان اور فلسفے کے مضامین پڑھے اور کریٹیورائٹنگ میں ماسٹرز کیا۔ اپنے ماسٹرز کے تھیسیز ہی کو بہتر کرکے ناول کی شکل دی، یوں ’’A  Pale  View  of  Hills‘‘ کے عنوان سے 1982 میں، ان کا یہ پہلا ناول شایع ہوا۔

اب تک یہ 8کتابیں اور 7اسکرین پلے لکھ چکے ہیں۔ ان کی کتابوں کے تراجم، دنیا کی تقریباً 40زبانوں میں ہو چکے ہیں، جن میں فرانسیسی، ہسپانوی، سویڈش، جرمن، جاپانی اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔ ان کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ Nocturnes کے نام سے 2009 میں شایع ہوا، جبکہ ان کے انگریزی زبان میں شایع ہونے والے ناولوں کے نام بالترتیب مندرجہ ذیل ہیں۔

A Pale View of Hills (1982)
An Artist of the Floating World (1986)
The Remains of the Day (1989)
The Unconsoled (1995)
When We Were Orphans (2000)
Never Let Me Go (2005)
The Buried Giant (2015)

انگریزی ادبی منظرنامے پر رہنے کے باوجود، یہ ایسے مصنف ثابت ہوئے، جنہوں نے اپنے طورپر دنیا کو دیکھا اور اپنے محسوسات کو بیان کیا، ان کے تخلیق کیے ہوئے ادب میں جاپانی ثقافت کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے، پھر ان کے ناولوں کا پلاٹ تاریخ کے واقعات پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ناول نگار ہے، جو تاریخ کی راہدریوں میں چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں کہیں ان کی ذاتی زندگی بھی اس ادب میں چھلکتی ہے۔

’’کازواو اِشیگورو‘‘ کا پہلا ناول A  Pale  View  of  Hills ایک ایسی جاپانی خاتون کی کہانی ہے، جوانگلینڈ میںسکونت پذیر ہے، تنہائی کا شکار ہے، اس کی بڑی بیٹی خودکشی کر لیتی ہے اور وہ اپنی چھوٹی بیٹی سے اپنی زندگی کے مصائب پر تفصیلی گفتگو کرتی ہے۔ اسی تناظر میں یہ ناول جاپان کی ثقافت اور یورپ کے طرز زندگی کے ساتھ ساتھ مصنف کے ذاتی احساسات کی جھلکیاں پیش کرتاہے۔ 4 سال بعد1986 میں دوسرے ناول An  Artist  of  the  Floating  World کا دور دوسری جنگ عظیم کے بعد کا ہے، جس میںا یک مصور کے ذریعے جاپان کی زندگی کو بیان کیا گیا ہے، وہ مصور اپنے ماضی میں جھانکتا اور زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ان دونوں ناولوں میں ایک مرکزی کردار کے ذریعے کہانی کو بیان کیا گیا۔ 1989 میں تیسرا ناول The  Remains  of  the  Day شایع ہوا، جس کو 1989 میں بکرپرائز بھی ملا۔ اس میں بھی ایک مرکزی کردار کے ذریعے ماضی کی زندگی، مشاہدے اور تجربات کو بیان کیا گیا۔

1995 میں ان کا چوتھا ناول The  Unconsoled وسطی یورپ کے کسی نامعلوم شہر کے بارے میں ہے، حسب سابق، ایک مرکزی کردار کے ذریعے کہانی آگے بڑھتی ہے۔ 2000 میں شایع ہونے والا ناولWhen We Were Orphans پانچواں ناول ہے، جس کا موضوع جرم اور تجسس ہے، اس کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ 2005میں اشاعت پذیر ناول Never Let Me  Go کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی، اس کو ٹائم میگزین نے ایک صدی کے بہترین انگریزی ناولوں میں شمار کیا۔ اس ناول کا موضوع سائنس فکشن اور اعضا عطیہ کردینے کے متعلق ایک ایسے کردار کی کی کہانی ہے، جس کو مستقبل میں اپنے اعضاعطیہ کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ 2015 میں ان کا ساتواں ناول The Buried Giant شایع ہوا، جس کا موضوع رومان ہے، جس میں کئی کرداروں کے ذریعے پرانے برطانیہ کو دکھایا گیا ہے۔

عمدہ ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ’’کازواو اِشیگورو‘‘ ایک اچھے گیت نگار بھی ہیں، انہوں نے شارٹ فکشن بھی لکھا اور اسکرین پلے بھی لکھتے ہیں، مگر ان کی بنیادی شہرت ناول نگار کے طور پر ہی ہے۔ ان کے دو ناولوں پر فلمیں بھی بنائی گئیں، پہلی فلم 1993 میں ان کے ناول The Remains of the Day پر بنائی گئی، جس میں Anthony  Hopkins اور Emma Thompson سمیت کئی عظیم فنکاروں نے کام کیا، یہ فلم آسکرایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئی۔ 2010میں ان کے دوسرے ناول ’’Never Let Me Go‘‘ پر فلم بھی بنائی گئی، جس میںکیری موگیلن اور کیرا نائٹلی جیسی اداکارہ نے بھی کام کیا، اس فلم نے متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔ یہ سوشل ورک بھی کرتے ہیں، اسی شعبے میں ان کی ملاقات Lorna MacDougall سے ہوئی، جن سے بعد میں انہوں نے شادی کی، ان سے ایک بیٹیNaomi ہے۔

’’کازواو اِشیگورو‘‘ کے ادب پر جاپانی ادب کا اثر کم ہے، البتہ یہ فیودر دوستووسکی اور مارسل پروست سے متاثر رہے ہیں۔ سویڈش اکادمی کی مستقل سیکرٹری Sara Danius نے، ان کے تخلیقی انداز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ جین آسٹن اور فرانز کافکا کا امتزاج بھی ہیں۔‘‘ ویسے بھی انگریزی ادبی حلقوں میں ان کا موازنہ سلمان رشدی، ہنری جیمز اور جین آسٹن سے کیا جاتا ہے، مگریہ اس طرح کی موازنے کو تسلیم نہیں کرتے، البتہ خود ایسے اور کئی بڑے کلاسیکی ناموں سے متاثر ضرور رہے ہیں۔

اس مرتبہ نوبیل ادبی انعام کے لیے نامزد ہونے والے دیگر ناول نگاروں میں، عالمی ادب کے مقبول ترین جاپانی ناول نگار ’’ہاروکی موراکامی‘‘ بھی نامزد تھے، وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ نامزد ہوچکے ہیں، مگر ابھی تک وہ فاتح نہیں بن سکے، البتہ اس مرتبہ ’’کازواواِ شیگورو‘‘ کی جیت نے جاپانیوں کو بھی مسرت فراہم کی اور برطانوی بھی خوش ہوئے۔
جاپان کے وزیراعظم شنزوآبے سمیت ناگاساکی شہر کے میئراور شہر کے دیگرلوگوںنے، ان کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ اہل ناگاساکی نے ان کو ’’ناگاساکی کاعظیم بیٹا‘‘کے نام سے یاد کیاہے اور وہاں سب بہت خوش ہیں۔ لندن میں ان کے ایک 40 سال پرانے دوست اور ان کی کتابوں کے ایڈیٹر Robert  McCrum نے ان کو ’’بغیر انا کا فنکار‘‘ سے تعبیر کیاہے۔
جاپان میں ان کی کتابوں کے خریدنے والے قطار در قطار کھڑے ہیں، چند دنوں میں کتابوں کاذخیرہ اتنی تیزی سے فروخت ہوا ہے، اب ختم ہونے کے قریب ہے اور اس انعام کو حاصل کرلینے کے بعد شہرت کا چرچا مزید بڑھنے لگا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: