جمہوریت کے نام پر یہ سیاسی اور معاشی دہشت گردی۔ آخر کب تک؟

1
  • 53
    Shares

ملک میں موجودہ صورت حال کو سمجھنے اور اس پے تبصرہ کرنے کے لئے زمینی جغرافیہ اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھنا اور ان کو سمجھنا بنیادی امر ہے۔ جغرافیہ دیکھیں تو آج بھی ایف سی کے پانچ جوان افغان سرحد کے قریب آپریشن میں شہید ہوئے ہیں۔ بھارتی ایمبیسی کے ناظم الامور کو آج بھی بھارتی سرحد پے فائرنگ پر احتجاج کے لئے فارن آفس طلب کیا گیا۔ امریکہ کے کچھ سرکاری اہلکار یہاں سے ہو کر گئے ہیں اور انکے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کے پاکستان کے دورے کی نوید ہے۔

برطانوی آرمی چیف پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، یہ سب ملاقاتیں آرمی چیف نے کیں اور کریں گے۔
زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو ہماری سویلین حکومت کے پانچ وزیر اعظم بیک وقت موجود دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے شاہد خاقان عباسی جنہوں نے ٹی وی کیمروں کے سامنے وزارت عظمی کا حلف لیا تھا۔ دوسرے نواز شریف جنہیں خاقان عباسی اور انکی کابینہ اب بھی وزیراعظم تسلیم کرتی ہے۔ اور انکے زیر ہدایت کام کرنے کی داعی ہے۔ تیسرے خواجہ آصف جو وزیر خارجہ ہیں لیکن ملک کے جملہ مسائل اور پالیسی پر بطور سربراہ حکومت بیان دیتے ہیں۔ چوتھے احسن اقبال ہیں، وزارت داخلہ میں وہ چوہدری نثار کے جانشین ہیں اور ان سے بڑھ کر حکومتی امور کا مکمل انچارج ہونے بلکہ تمام ریاستی اداروں کے ان کے زیر کنٹرول ہونےکے دعوی دار ہیں۔ پانچویں وزیراعظم مریم نواز ہیں جن کو ساری کابینہ جواب دہ ہے۔

طُرفہ تماشہ یہ ہے کہ سوائے خاقان عباسی کے باقی چاروں ملک میں اپوزیشن بھی ہیں۔ ایک طرف یہ بطور اپوزیشن یہ اعلان کرتے ہیں کہ نواز شریف کو عدالت عالیہ کے نااہل قرار دینے کے فیصلے سے ملکی معیشت تین ماہ میں بیٹھ گئ ہےاور ساتھ ہی باری باری بطور حکومت اپنی حکومتی کی تاریخ ترقی کا چرچا بھی کرتے ہیںاور معاشی پالیسیوں کی کامیابیاں گنواتے ہیں۔ ایک سانس میں ممکنہ معاشی عدم استحکام اور بیرونی قرضے کی قسطیں ہی نہ ادا ہونے کی خبر دیتے ہیں، تو دوسری سانس میں آئی ایم ایف سے کسی بھی نئے پروگرام کی ضرورت سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔

معیشت کے بارے میں قومی سلامتی کے اداروں کی تشویش کے اظہار کو یہ جمہوریت پر ممکنہ حملے کی تیاری سمجھ کے اداروں پے بیان بازی کی گولہ باری کر دیتے ہیں۔ ان سب تضادات سے عوام کو ذہنی انتشار، پریشانی اور بے یقینی میں مبتلا رکھ کے یہ ملک میں کون سی بہتری لانا چاہتے ہیں؟ یہ سرکاری راز ان سب کے یا صرف میاں نواز شریف کے سینے میں دفن ہیں، جنہیں آشکار کرنے کی دھمکی وقفے وقفے سے دی جاتی ہے۔

بظاہر عوام کے ساتھ ریاستی ادارے بھی اس مہم جوئی سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد میں نیب کی عدالت میں مریم نواز اور صفدر کی قیادت میں جو ہنگامہ آرائی ہوئی، جس میں نُون لیگی وکلا اور ورکرز ایک طرف اور اسی نُون لیگ کی پارٹی کی حکومت کے ماتحت ادارے، وفاقی وزیر مملکت وزارت داخلہ کی موجودگی میں تصادم کا ڈرامہ کرتے دیکھے گئے لیکن تشویش ناک امر تو یہ ہے کہ عدالت نے اس ہلڑ بازی کا کوئ نوٹس نہی لیا۔ اس سے پہلے رینجرز کے ساتھ وزرا کی محاذ آرائ بھی رینجرز کی واپسی پر ہی منتج ہوئی۔ نیب کورٹ میں یہ مقدمات عدالت عالیہ کے حکم پر اور ایک جج صاحب کی نگرانی میں چل رہے ہیں، اور یہ کار سرکار میں مداخلت، عدالتی کاروائی میں رکاوٹ اور توہین عدالت کے جرائم کےزمرے میں آتا ہے۔

کیا عدالت اپنے پے لگنے والے الزامات سے حساس ہے !
کیا سول سوسائٹی اور میڈیا کے لوگ ریاستی اداروں کے خلاف اس مہم میں شریک ہیں !
قوم کے سامنے سب یہ سوال ہونا چاہیئے کہ: اگر مذہبی دہشت گردی کو روکنے کے لئے افواج پاکستان، آپریشن راہ نجات، ضرب عضب اور رد الفساد کر چکی ہیں، تو ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کی ماں، معاشی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کُرپشن سے نجات، کا آپریشن کیوں نہی کر سکتیں ؟
ملکی سلامتی، اور معاشی خود مختاری لازم ملزوم ہیں تو پھر کیوں جمہوریت کے نام پر ان غیرجمہوری ہستیوں کو احتساب سے بچانے کے لئے، لبرل، کمرشل، مزہبی، اور نام نہاد سیاسی عناصر، ان کے آگے سجدہ ریز ہیں۔
کیا ایک عدالت سے نااہل شخص کو ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں رچائے گئے ڈرامے، اور ختم نبوت جیسے حساس معاملے کو چھیڑنے کے بعد، احتساب کے قانون ختم کرنے عدالتی اختیارات، پر قد غن اور دفاعی اداروں میں مداخلت کے لئے۔
نئی آئینی ترامیم کی تیاری ہو رہی ہے؟

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت عمدہ تحریر۔ بطورِ خاص پانچ وزرائے اعظم کو ایک ہی نشست میں بیان کرنا کمال ٹھہرا۔ اس کو اگر افقی زاوئے سے دیکھاجائے تو شاید مریم بی بی واقعی سرِ فہرست ہیں۔
    معاشی دہشت گردی کے نکتےپر ہی تو احسن اقبال نے پچھلے دنوں عوام کی ہمدردی اپنے حق میں استعمال کرنی چاہی اور کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔
    جہاں تک ایسے کسی آپریشن کی بات ہے تو خیال رہے کچھ سیاسی پنڈتوں کے نزدیک حکومت ایسی پوری کوشش میں ہے کہ یہ ہوہی جائے مگر حیرت ہے کہ مارچنگ بیل دُوردُور تک نہیں سنائی دے رہی۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: