سیکولرازم کیا ہے؟ بنیادی بحث ۔ عمر فرید

0
  • 18
    Shares

بنیادی طور پر یہ ایک ”بلیف سسٹم“ Belief   System ہے۔ کوئی پولیٹیکل فلاسفی یا نظم و قانون نہیں۔ ہاں قانون ”مکمل یقین“ یعنی نظریہ حیات کے تحت بنتے ہیں۔ اور نظریہ حیات میں ایمان بالغیب نام ”بنیاد“ ہوتی ہے۔ بلیف انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ اور اس کا تقریباً مفصل معنی کچھ یہ بنتا ہے:
”خاص کر ”بنا کسی ثبوت“ کے کسی چیز یا رویے یا خیال وغیرہ کو ماننا کہ وہ وجود رکھتی، یا خود میں سچ ہے“۔

قصہ مختصر ایمان بالغیب ”ایمان بلاشک، بلا ظن، بلا شہادت“

بنیادی ساخت میں کوئی بھی خیال جو بلیف یا یقین کے مقام پر فائز ہوتا ہے یعنی بنا ثبوت کے منوانے والی قوت رکھتا ہے وہ خود میں پہلے سے موجود خیال کا ایک رد ہوتا ہے، ”ریجیکٹر“۔ ایک خیال فہم میں پہلے سے موجود ہے اور کچھ وجوہات کے تحت مقامِ یقین یعنی بلیف پہ متمکن ہے۔ نیا آنے والا خیال اپنے قیام کے لیے ریجیکٹنگ یعنی رد کرنے والا انداز اپنائے گا۔ وہ ابزاربر یا جاذب نہیں خود میں لیکن عین ممکن ہے کہ پہلے سے موجود خیال کا کچھ حصہ یا روح اس میں باقی رہے۔ مسلمانوں کے لیے تو ان کا پہلا کلمہ مثال کے طور پر غور کرنے کے لیے کافی ہے۔

دوسرے لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مثلاً آپ نے ایک مخالف خیال شخص کی تحریر پڑھنی شروع کی۔ جس کو پہلے کبھی آپ نے پڑھا نہیں تھا بس اپنے کچھ معتبر و محترم افراد کے کہنے اور سمجھنے پہ اسے اپنا نظریاتی دشمن و فکری مخالف سمجھنے لگے تھے۔ آپ کے دماغ میں یہ خیال ”بلیف یا ایمان بالغیب“ کے درجے پہ پہلے سے موجود ہے کہ یہ بندہ غلط ہے۔ لیکن تحریر کے اختتام تک آپ محسوس کرتے ہیں دراڑ اپنے اس بلیف میں جو کہ یہ بندہ غلط ہے کی بنیاد پہ قائم تھا۔ یعنی نووارد خیال پہلے سے موجود بنا ثبوت کے قائم خیال پہ ہی وارد ہوتا ہے اصل میں۔ اور آپ نے جو پڑھا وہ خود میں مکمل شخص بھی نہیں فقط ایک تحریر ہے۔ جزوی خیال یا حصہ ہے اس کی نظریاتی و فکری شخصیت کا جسے آپ پورا غلط سمجھتے رہے ہیں۔ اور یہ جزوی حصہ اسی مقام پہ وارد ہوگا جہاں اس شخصیت یا خیال کا ریجیکٹر موجود ہے اور اسے ریجیکٹ کرے گا۔ مزید جو نفسیاتی و نفسانی تعمیر ہے اس کی جستجو کی ابتداء۔
قصہ مختصر سیکولرازم بنیادی طور پر ایک بلیف سسٹم ہے اور بلیف کو اس کی بِنا ثبوت والی خصوصیت کے بنا پر ایمان بالغیب کہا جاسکتا ہے کہ ”ایمان بلا شک وشہادت و ظن“ ایمان بالغیب ہی کے اوصاف ہیں۔ دوسری بات کوئی بھی خیال جو بلیف کے مقام پر فائز ہوتا ہے وہ اصل میں ریجیکٹر ہوتا۔

سیکولرازم ”ایمان بالغیب“ کی وہ شاخ جو ”مذہبی اجاره و ادارہ جاتی بُت“ کو ریاستی معاملات اور عوامی تعلیمی نظام سے دیس نکالا دیتی ہے؟؟
ہم ریاستی معاملات پر جانے سے پہلے فرد کے معاملات کو زیرِ بحث لائیں گے کچھ حد تک۔ کیونکہ یہ فرد ہے جو نظرِ انتخاب رکھتا ہے۔ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ محفوظ رہنا چاہتا ہے۔ میں بطور انسان ایک جسم ہوں۔ روٹی، کپڑا اور مکان۔ پھر میں ایک نظریاتی تشخص کا مالک ہوں۔ یعنی ”نظریہ حیات“ رکھتا ہوں۔ بائی چانس مسلم بائی چوائس کو کوشاں۔ پھر میرا ایک فکری وجود بھی ہے جو کہ تفریحات کا رسیا ہے۔ یعنی میں بنیادی طور پر ایک تسکین کا متلاشی متجسس وجود ہوں۔ ہر سہ طرفہ تسکین بھی چاہتا ہوں اور فکری تجسس کو ہوادار کھلا رستہ بھی۔

ریاستی معاملات کیا ہیں!۔ ”ریاست معلم ہے“۔ یعنی تعلیم دیتی ہے۔ تعزیر ایک انتہا، بھی اصل میں تعلیم ہی ہے؟
ریاست محافظ ہے!۔ ہم ٹیکس کس لیے دیتے ہیں؟ غلام ہیں کیا؟۔ یقیناً ہم ریاست کے غلام نہیں آزاد ہیں یعنی ریاست کے افراد کہلواتے ہیں عوام!۔ ریاست کس چیز کی محافظ ہے؟۔ ہماری بنیادی تسکین و ضرورت کی۔ یعنی میں بطور فرد ”جسم، نظریہ اور فکر“ ہوں۔ اب میرے نظریہ حیات کی اساس ہے ایک خاص طرح کا ”ایمان بالغیب“۔ میں مختارِ حقیقی ایک اللہ کو مانتا ہوں۔ میرا بلیف سسٹم یہ ہے۔ پاکستان کی اکثریت کا بلیف سسٹم یہی ہے۔ اب جس معاشرے میں اس اصطلاح سیکولرازم یعنی بلیف سسٹم کی پیدائش یا افزائش ہوئی ہے وہاں اس کی ضرورت تھی۔ ان کے پاس اکثریتی لحاظ سے ایمان بالغیب نہیں تھا۔ کوئی بھی چیز بنا بنیاد کے نہ کھڑی ہو سکتی ہے ”نہ رہ سکتی“! اور میرا ایمان ہے ایمان بالغیب کی بنیاد کے بنا ”بلیف“ سرے سے ہی ممکن نہیں۔ اور یہ بنیاد بلیف سسٹم کی واقعی ان معاشروں کے قیام کے لیے انتہائی ضروری ہے مگر میری ضرورت نہیں ہے۔

سیکولرازم ”سٹیٹ کے معاملات اور پبلک ایجوکیشن“ سے میرے ایمان بالغیب یعنی میری نظریاتی شخصیت کو دیس نکالا دے بس میری فکری شخصیت کو ”خاص حد“ میں قبول کرتا ہے۔ آپ کیسے کہتے ہیں میں آزاد ہوں؟

ہم نے اوپر بیان کیا ریاست معلم ہے۔ پھر کہا ریاست محافظ ہے۔ اور ریاست ثالثی بھی ہے۔ ایک ثالثی کو کن خواص کا حامل ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں گونگا بہرہ اور اندھا ثالثی نہیں بن سکتا۔

ریاست خود کیا ہے؟
ہم ریاست کو بنیاد سمجھتے ہیں۔ ایسی نظریاتی بنیاد جس پہ افراد کو منظم و ”قدرے محکوم“ رکھنے کے لیے اجارہ و ادراہ جاتی تعمیر قائم ہو۔ کیا ریاست کہتی ہے کہ میں محافظ ہوں مجھے ٹیکس دو؟۔ یا میں کہتا ہوں تو میری محافظ بن میں تجھے ٹیکس دونگا؟ یعنی نظرِ انتخاب میری بطور فرد کی ہے! ریاست کو چلنے کے لیے میرے یعنی عوام کے کندھے درکار ہیں۔ اور مجھے چلائے رکھنے کے لیے بطور ”آزاد فرد“ ریاست کو کیا درکار ہے؟ سیکولرازم کہتا ہے میں ایک رد الیقین ہوں۔ میں ابزاربر نہیں ریجیکٹر ہوں۔ اب جو ریجیکٹر ہے وہ یقیناً اپنا چارج یا خاص رویہ رکھتا ہے یعنی وجود رکھتا ہے بنا اہلیت کا ثبوت فراہم کیے یعنی خود میں ایمان بالغیب رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ میرا نظریاتی وجود یعنی میرا یقین رد کرکے مجھے خاص حدود میں فکری پرواز کی اجازت دیتا ہے!۔ یہ آزادئ ہے یا بدترین غلامی؟؟۔ ۔ ایک اصطلاح کہیں قائم ہوتی ہے جو خود میں نظامِ قانون ہونے کی دعویدار نہیں ایمان بالغیب کا دعویدار ایک خیال بشکل یقین ہے!۔ یہاں میں اکثریت میں اپنا ایک ”ایمان بالغیب“ رکھتا ہوں۔ اب دو ایمان بالغیب آمنے سامنے آ رہے ہیں۔ میں اپنے ایمان بالغیب کا ثبوت فراہم کرتا ہوں اپنی کتاب اور خاص گوشہء تاریخ سے جب کہ نیا خیال تقریباً موجود سے پیش کرتا ہے جو کہ مجھے تسکین نہیں دے پارہا۔ میں کہتا ہوں بنیادی طور پر یہ ایک دھوکہ ہے۔ میرے لیے اپنے ملک میں رہتے ہوئے جہاں کہ اکثریت کی اساسِ ایمان بالغیب ایک اللہ قادرو مطلق ہے اسے قبول کر لینا ”ایک لحاظ“ سے انسان کو خدا مان لینے جیسی غلامی کی بدترین شکل ہے۔

ریاست کی ضرورت کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ ریاست کی بنیادی ضرورت ہے اپنے وجود یعنی ادارے کو قائم رکھنا اور اپنی روح یعنی افراد کی جائز نظریاتی و فکری تسکینات کو بلا تفریق جلا بخشنا نہ کہ گلا گھونٹنا۔ ان کے نظریاتی وجود کو بھی اتنا ہی معتبر اور قابل احترام و حفاظت و ”اثر انداز“ ماننا خود پہ جتنا کہ عقلمندی کا تقاضہ ہے۔ یہاں سیدھی سیدھی دو دونی چار والی بات ہے۔ ریاست ریجیکٹر نہیں ہوسکتی افراد کی اکثریت کے یکساں ایمان بالغیب کے رہتے کسی اور ایمان بالغیب کی دعویدار نہیں ہوسکتی اس معاشرے میں کہ یہاں اکثریت ایمان بالغیب کی دعویدار ہے۔ اگر ایسا ہو تو ریاست اپنا بنیادی حق ادا نہیں کرپائے گی۔ بلکہ قائم ہی نہیں رہتی۔

اگر معاشیات کے اصولوں کے تحت بھی دیکھا جائے تو ایک بڑے بزنس مین کو ریاست زیادہ سہولتیں دیتی ہے یا عام آدمی جتنی؟ اگر ریاست ایک بڑے بزنس مین کو غیر معمولی فیسیلٹیٹ نہیں کرتی تو وہ کاروبارِ ریاست کیسے چلا سکتی ہے؟۔ کیا وہ خود میں قائم رہ سکتی ہے؟ یہ ”وقتی ضرورت“ نہیں بہاؤ کی ضرورت ہے۔ اُن کے ہاں جن کے ہاں یہ اُس طرح لاگو ہے جس طرح کا تم یہاں چاہتے ہو وہ وہاں کے نظریاتی و فکری بہاؤ کی ضرورت ہے۔ وہاں ریاست کو اپنی اجاره و ادراہ جاتی ساکھ کو مضبوط کرنے کے لیے یہ سہارا لینا پڑا۔ انسانی تعمیر شدہ ایمان بالغیب کا!!!۔ ہمارے ہاں ضرورت تو ہے مگر اس کی ضرورت نہیں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: