کلاسیکی انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثر : منیر احمد خلیلی — دوسرا حصہ

0
  • 21
    Shares

گزشتہ سے پیوستہ:  انگریزی ادب میں جو عظمت اور شہرت شیکسپئر کو ملی وہ کسی اور شاعر اور ادیب کے حصے میں نہیں آئی۔ اسی وجہ سے اس کا تذکرہ ذرا تفصیل کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ جان ملٹن سولھویں صدی کا ایک نابینا شاعر تھا۔ خاندانی طور پراس کا تعلق تطہیری مذہب (Puritans) سے تھا، جس کے بارے میں اس سے قبل ایک تحریر میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اصلاحی اور تطہیری تحریک پر یہودی اثرات تھے۔ ملٹن کی شہرہ آفاق نظمیں Paradise Lost اور Paradise Found یہودی تاریخ کی روشنی میں خیر و شر کی کشمکش اور اس کے اثرات و نتائج کو واضح کرتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ یہودیوں نے خُدا کے قانون اور اس کی اطاعت سے منہ موڑا تو ان سے عظمت چھن گئی۔ اگر وہ رَب کے ساتھ جڑ جائیں تو انہیں ایک بار پھر ساری دنیا پر تسلط و اقتدار نصیب ہو سکتا ہے۔ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کو یورپی تاریخ کا عصرِ تنویر یا عہدِِ روشن خیالی (Enlightenment Age) تصور کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عرصے میں یہودیوں کی Haskalah Movement سامنے آئی۔ اس کو ہم برِّ صغیر میں کسی حد تک سر سیّد احمد خان کی علی گڑھ تحریک کے مماثل قرار دے سکتے ہیں۔ ان دونوں تحریکوں کا خلاصۂ ِ فکر یہ تھا کہ ’ترقی کرنی ہے تو جدید مغربی تعلیم اور مغربی کلچر اورطور طریقے اپنائو‘۔ دونوں تحریکوں میں فرق اثر پذیری اور اثراندازی کا تھا۔ علی گڑھ تحریک مغربیت کے لیے اپنے دروازے کھول دینے کا موجب بنی جب کہ یہودیوں کی Haskalah Movement ان کے توراتی و تلمودی تصورات و معتقدات کے لیے مغربی فکرکے دروازے کھولنے پر اور صیہونیت کو قابلِ قبول بنوانے میں مددگاربنی۔

کولرج

یہ وہی’روشن خیالی‘ کا عرصہ تھا جب برطانیہ میں شعر و ادب کی رومانوی تحریک پروان چڑھی اورکولرج، بائرن ا ور ولیم ورڈز ورتھ (Byron, Coleridge, William Wordsworth) جیسے نامور شاعروں نے اس میدان میں اپنے جوہر دکھائے۔ جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے کہ میرا مدعا انگریزی شاعری کا جائزہ اور سولھویں سے لے کر انیسویں صدی تک کے شاعروں کے فن پر تنقیدی نظرڈالنا نہیں ہے۔ میرے پاس اس کے لیے نہ مطلوبہ صلاحیت و مطالعہ ہے اور نہ ضروری اسباب و وسائل ہیں۔ میں نے صرف یہ کھوج لگانے کے لیے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے کہ یہودیوں کی Yiddish, Maskilin اور Zionist تحریکوں نے کس حد تک بالعموم یورپ، بالخصوص برطانیہ اور پھر امریکہ کے اعلیٰ درجے کے فہمیدہ اور دانشور طبقے پر اپنے اثرات قائم کیے۔ شعر و ادب کے راستے خاص و عام دماغوں پر اپنے اعتقادی اور تہذیبی و تمدنی نقوش پختہ کیے۔ آگے بڑھ کر بالتدریج ان ملکوں کے پورے سیاسی، معاشی، سماجی و ثقافتی، صنعتی و عسکری اور آئینی و قانونی نظام پر اپنی گرفت قائم کر لی تھی۔

سیموئیل ٹیلر کولرج اور ورڈز ورتھ انگریزی شعر و ادب کی رومانوی تحریک کے دو ناور شاعر تھے۔ اگرچہ ان دونوں کی یہودیوںسے گہری قربت کی کوئی بڑی شہادت میرے مطالعہ میں نہیں آئی ہے لیکن کولرج یہودی مذہبی کتابوں کی روشنی میں ان کے حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ان کے اندر ان پیغمبروں کے اخلاق اور اوصاف کی توقع کرتا تھا۔ Chris Rubinstein نے اپنی کتاب Coleridge and Jews کے صفحہ92 کے آخر میں جو واقعہ لکھا ہے وہ ممکن ہے حقیقی ہونے کے بجائے اس دور کے ڈراموں کی کوئی جھلکی ہو لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کولرج کے ذہن میں یہودیوں کی ماضی کی مقدس نسبتوں کے بارے میں واضح تصویر موجود تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ کولرج ایک کوچ میں سفر کر رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک یہودی بیٹھا تھا جو پیغمبر یشعیاء کی تصویر دکھتا تھا۔ یہودی نے کوچ کی کھڑکی بند کر دی۔ کولرج نے اسے کھول دیا۔ یہودی نے دوبارہ بند کر دی اور کولرج نے کھڑکی پھر کھول دی۔ یہودی جب اپنی حرکت سے باز نہ آیا اور اس نے تیسری بار کھڑکی بند کر دی تو اس پر کولرج نے بڑے شائستہ لہجے میں اس سے کہا: ’اے اولادِ ابراہیمؑ! تجھ سے بدبو آرہی ہے، اے اسحاق ؑ کے بیٹے! تویہاں ناگوار ثابت ہو رہا ہے۔ اے یعقوب ؑ کے فرزند! تم سراپا تعفّن بنے ہوئے ہو۔ چاند کی طرف دیکھو۔ وہاں کا آدمی کراہت سے اپنی ناک پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔ تمہیں احساس نہیں کہ میں بھی تمہارے سامنے بیٹھا ہوا ہوں۔ ‘اس پر اس یہودی نے اٹھ کر کھڑکی کھول دی اور کہا:’ مجھے اس سے پہلے اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا کہ کس شریف اور عظیم سلسلے سے میرا تعلق ہے۔‘

ورڈز ورتھ

اوریہ لارڈ بائرن! مثل مشہور ہے کہ بد سے بدنام برا۔ بائرن جتنا بدنام تھا اس سے زیادہ برا تھا۔ بو الہوسی اورعیاش طبعی میں وہ مقدس رشتوں کی حرمت کا احساس بھی کھو بیٹھا تھا۔ اس نے اپنی سوتیلی بہن سے جنسی تعلقات قائم کیے اور 1814 میں اس سے ناجائز بیٹی پیدا ہوئی۔ اس کی ساری زندگی سکینڈلوں کے داغوں سے آلودہ رہی۔ ذاتی زندگی کے اس تاریک پہلو سے قطعِ نظربائرن کا یہودیوں کے ساتھ گہرا ربط و تعلق تھا۔ ابھی سات سال پہلے شیلا اے سپیکٹر (Sheila A. Spector) کی نئی کتاب Byron and The Jews چھپی۔ اس میں اسحاق ڈیسرائیل اور اسحاق نتہن جیسے یہودی اہلِ فکر و دانش سے بائرن کے معاملات و تعلقات کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ یہودیوں کی Haskalah Movement مغربی اقوام کے علمی، ثقافتی اور سماجی خون میں سرایت کر جانے اور یورپ و امریکہ کے ہر شعبہ ٔ ِ زندگی میں اپنی جگہ بنانے کا ایک کامیاب حیلہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہودی اثرات عیسائیت کی رگوں میں داخل ہوئے جن سے صیہونی عیسائیت کی راہیںہموار ہوئیں۔ بائرن کے تراجم یہودیوں کی لسانی تحریکوں میں ظاہر ہوئے۔ یہ باہمی تعلق کی بنا پر ہی ہوا تھا۔

معروف فلسطینی مفکر آنجہانی دانشور ایڈورڈ سعید نے اپنے ایک مقالے میں بڑی خوبصورتی سے اور متأثر کن دلائل کے ساتھ مغربی عصرِ تنویر (Enlightenment Age) اور مغرب کی ظالمانہ استحصالی استعماریت اور نو آبادیاتی (Imperialism/ Colonization) کے باہم ہم عصر اور اعتقادی اور بہ اعتبارِ فطرت ہم آہنگ ہونے کا جائزہ لیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مغرب کی استعماری قوتوں نے سولھویں صدی میں خاص طور پر بلادِ اسلامیہ پر قبضے کے لیے جو قدم بڑھائے اور انیسویں صدی کے اواخر تک تقریباً سارے عالمِ کو اپنے استبدادی پنجوں میں جکڑ لیا تھا، اس ظلم و ناانصافی پر اس دور کے انگریزی اور یورپی شعرو ادب میں کوئی چیخ بلند ہوئی، کوئی صدائے احتجاج سنی گئی، کسی مزاحمتی رویے کی تحسین ہوئی؟ جواب بڑا مایوس کن ہے۔ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے سیاسی حلقوں ہی میں نہیں بلکہ اہلِ دانش و فکر اور اصحاب قلم نے صیہونیت کی تائید و حمایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مغربی اور امریکی سیاست دانوں ہی نے نہیں بلکہ دنیائے دانش نے بھی اس تصور کو اپنا عقیدہ بنا لیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا ظہورِ ثانی یہودیوں کی ارضِ موعود —فلسطین— کی طرف مراجعت، اس سرزمین پر قبضے اور وہاں داود اور سلیمان علیہما السلام جیسی طاقتور یہودی ریاست قائم کرنے سے مشروط ہے۔

مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: