سفری خاکے: سینٹ گالن سے بریگنز تک — سلمان باسط

0
  • 17
    Shares

ان دیکھے راستے قدموں کو بلاتے ہیں یا قدم نئے راستوں کی کھوج میں خود اٹھنے لگتے ہیں۔ یہ بھید کوئی نہیں جانتا لیکن ان دونوں کے درمیان کوئی ایسا تعلق ضرور ہے کہ کچھ وقت گزر جانے پر دل و دماغ میں ایک سمفنی بجنے لگتی ہے ۔ راستہ کہاں ہے، کیسا ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس تال میل سے قدم ان دیکھی منزلوں کی طرف جانے والے راستوں پر تھرکنے لگتے ہیں۔ پھر اس رقص کا آغاز ہوتا ہے جو کبھی نہیں تھمتا۔

اس بار میری منزل ہٹلر کی جنم بھومی آسٹریا تھی۔ ہم سوئٹزرلینڈ سے کار کے ذریعے آسٹریا کے لیے روانہ ہوئے تو رُخ_ محبوب کی طرح کم کم نظر آنے والی دھوپ وسطی یورپ میں چاروں جانب پھیلے سبزے کو مزید سبز بنا رہی تھی۔ ہر منظر دعوتِ نظارہ دیتا ہوا اور ہر شاہراہ دامنِ دل کھینچتی ہوئی۔ دلفریب مناظر سے مزین مشہورِ زمانہ الپس پہاڑوں سے فطرت بار بار نقاب الٹ کر سامنے آ رہی تھی۔ میں ندیدے بچوں کی طرح ان سب مناظر کو اپنی آنکھ کے کشکول میں بھر لینا چاہتا تھا۔ میرا کیمرہ اور میری آنکھیں حسنِ فطرت کے ان محجوب نظاروں سے نظریں چرانے کو کسی بھی طرح راضی نہ تھے۔ کبھی ہماری کار بلندی پر پہنچتی تو حدِ نظر تک نظر آنے والی سبزرُو ڈھلوان پر میرا دل پھسلتا چلا جاتا۔ میرا جی چاہتا کہ میں کار چھوڑ کر ان نشیبی راستوں کو اپنے قدموں سے چھوؤں، کسی ڈھلوان پر نیم دراز ہو کر گہری وادیوں کو دیکھتا رہوں، گھاس کے اس مخملیں فرش کے ساتھ اپنے رخسار مس کروں اور وقت کو جادو کی کسی ڈبیا میں بند کر کے اپنی جیب میں ڈال لوں۔ میرے خواب کا طلسم تب ٹوٹتا جب گاڑی میں نصب جی پی ایس سے ہماری رہنمائی پر مامور خاتون کی آواز بلند ہوتی جو ہمیں بے رہروی سے بچانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔ وہ خاتون بضد تھی کہ میں اپنی مرضی سے کہیں نہ بھٹکوں اور اسی کے تعین کردہ راستوں پر گامزن رہوں۔ میں جو ہمیشہ بنے بنائے راستوں پر چلنے سے کتراتا آیا ہوں، اس مستور رہنما کے حکم کی تعمیل پر مجبور تھا۔

وسطی یورپ کے اکثر ممالک تصویرِ یار کی طرح ایک دوسرے کے پہلو میں ہی واقع ہیں۔ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی۔ زیادہ فاصلہ نہ زمیں پر ہے اور نہ ہی دلوں میں۔ باہمی قربت ہرانداز سے جھلکتی ہے۔ زبان، ثقافت، رہن سہن، مقامی ٹرانسپورٹ، کرنسی کی وصولی حتی کہ اکثر اوقات لینڈ سکیپ بھی ایک جیسا ہے۔ شنگن ویزے کے باعث ان ممالک کے درمیان آمدو رفت کی کوئی پابندی بھی نہیں لہذا سرحد عبور کرنے کا علم بھی تبھی ہوتا ہے جب آپ کے موبائل فون پر رومنگ چارجز کے اطلاق کا پیغام موصول ہو جائے۔ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے، اس ملک میں قدم رکھ لیں۔ نہ آپ ان کے لیے غیر ہیں نہ وہ آپ کے لیے۔ خریداری کریں، گھومیں پھریں، کھانا کھائیں اور جب تک جی چاہے رہیں۔ بارڈر پولیس کے منکر نکیر آپ سے کسی قسم کے سوالات نہیں کریں گے۔ ایسی آزادی دیکھ کر حسد نما رشک ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں تو بدقسمتی سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اپنے ہی شہر میں پولیس کے لاتعداد ناکوں سے گزرکر اور بہت سے غیر شریفانہ جوابات دے کر اپنے گھر پہنچا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہم یں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی نے ایک موڑ کاٹا تو میری نظر لبِ سڑک ایک ضعیف العمر شخص پر پڑی۔ وہ ایک بھاری ٹرالی بیگ کو گھسیٹ رہا تھا جبکہ ایک دوسرے بیگ کو کاندھے سے لٹکا رکھا تھا۔ کندھے سے لٹکا بیگ بھی بھاری لگ رہا تھا۔ بوڑھا شخص اس بوجھ کو اٹھانے کا متحمل نہیں لگتا تھا مگر جانے کون سی مجبوری اسے زندگی کے بوجھ کے ساتھ ساتھ یہ بوجھ بھی گھسیٹنے پر مائل کر رہی تھی۔ ہماری گاڑی اس کے قریب سے گزری تو میں نے مغربی معاشرے کی روایات کے برعکس جبلی خواہش کے تحت اسے مڑ کر دیکھا۔ اس کے چہرے پر برسوں کی تھکن لکیروں کی صورت میں نمایاں تھی۔ سامان کا بوجھ اس کی اذیت میں اضافہ کر رہا تھا۔ اتنی دیر میں ہم کافی آگے بڑھ چکے تھے۔ میں اسے مڑ مڑ کے دیکھتا رہا۔ جانے اسے کہاں جانا تھا۔ یہ بوجھ اسے کیوں گھسیٹنا پڑ رہا تھا۔ اس کا بوجھ اٹھانے والا کوئي کیوں نہیں تھا۔ میرا بہت جی چاہ رہا تھا کہ ہم گاڑی روک کراس کو سامان سمیت بٹھا لیں یا کم از کم میں اس کا بوجھ اٹھا کر اسے اس کی منزل تک پہنچا دوں مگر یہ یورپ تھا جہاں سب کو اپنا بوجھ خود پڑتا ہے۔ کسی کی ہمدردی میں اس طرح کی پیشکش بھی آپ کے لیے کسی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ پھر دنیا کے بدلے ہوئے حالات میں ہم مشرقی باشندوں پر تو کوئی بھی شک بڑی آسانی سے کیا جا سکتا تھا۔ میری ساری ہمدردی ان اندیشوں کی بھاپ کے ساتھ اڑ گئی لیکن میں اپنے ضمیر کو اس بوجھ سے بہت دیر تک آزاد نہ کر سکا۔

ہم سوئٹزر لینڈ کو آسٹریا سے ملانے والی شاہراہ ایسٹرن ہائی وے پر سفر کر رہے تھے۔ یہی شاہراہ ننھے منے ملک لخت ان سٹائن کو بھی سوئٹزرلینڈ سے ملاتی ہے۔ ہم راستے میں آنے والے خوبصورت قصبوں رورشا اور رائنک سے گزرے تو دل ان دونوں قصبات میں بھی اٹک گیا۔ یہ دونوں قصبے سوئٹزرلینڈ کی سب سے بڑی جھیل بوڈن کے کنارے واقع ہیں۔ یہ جھیل سوئٹزرلینڈ، جرمنی اور آسٹریا کے کناروں سے اٹھکیلیاں کرتی ہے اور جہاں جہاں اس کی خاموش مگر دلفریب لہریں رقص کرتی ہیں، حسن اس خطے کے نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے۔ ایسٹرن ہائی وے پر چلتے ہوئے تقریبا” 36 کلومیٹر کی ڈرائیو کے بعد آسٹریا کا بارڈر آیا لیکن بارڈر آنے اور دوسرے ملک میں داخل ہونے کے ثبوت ڈھونڈے سے نہیں مل رہے تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ہم ایک ہی ملک میں گھوم رہے ہیں۔ آسٹریا میں داخل ہونے کے کچھ دیر بعد گیساؤ کا ایک چھوٹا سا قصبہ آیا۔ گیساؤ 1798 عیسوی تک سوئٹزرلینڈ کے صوبے سینٹ گالن کا ہی حصّہ رہا۔ بعد میں اسے جانے کون سی سیاسی مصلحتوں کے باعث ایک معاہدے کے تحت آسٹریا میں شمال کر دیا گیا۔ ہمارا اگلا پڑاؤ سرسبز پہاڑوں میں گھرا بہت خوبصورت قصبہ ہوشٹ تھا۔ کئی صدیاں پہلے ہوشٹ ایک خود مختار ریاست تھی مگر پھر اسے بھی ہوسِ ملک گیری کی دیمک چاٹ گئی اور اس چھوٹی مچھلی کو بڑی مچھلی کھا گئی۔ خزاں رسیدہ درختوں کے زرد، بھورے پتوں اور خوشخط سبزے سے تحریر کردہ اس کے نقوش بوڈن جھیل کے پانیوں میں منعکس ہو رہے تھے۔ ہم نے سٹاربکس کافی شاپ کے پاس گاڑی پارک کی۔ موسم کی یخ بستگی کو موکا وائٹ چاکلیٹ کافی کی گرمائش سے دور کرنے کی سعی کی۔ کافی شاپ کی شیشے کی دیواروں سے جھیل کے منظر کو آنکھوں میں اتارا۔ میرے کیمرے نے کئی بار کلک کی آواز نکالی اور ہم اگلی منزل کی طرف بڑھ گئے۔ خانہ بدوشوں کا ایک جگہ پر اتنا ہی قیام ہوتا ہے۔ زیادہ دیر تک ایک جگہ رہنے سے قدم زمین میں دھنسنے لگتے ہیں اور ہم اس دلدل کے متحمل نہیں تھے۔

راستے میں ایک اور قصبہ ہارڈ آیا مگر ہم نے اس قصبے کی طرف صرف ایک ہوائي بوسہ اچھالا کیونکہ ہماری اگلی منزل اب آسٹریا کا تاریخی شہر بریگنز تھی۔ جب ہم بریگنز کی حدود میں داخل ہوئے تو دھوپ پیلی پڑ رہی تھی۔ سائے لمبے ہو رہے تھے۔ بدن کو چیردینے والی یخ بستہ ہوائیں میرے اوورکوٹ کے اندر گھسنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہم اس شہر کے حسن کو جرعہ جرعہ پینا چاہتے تھے مگر سہہ پہر کے ڈھلتے سایوں نے ہماری اشتہا بڑھا دی۔ ہم دن کی روشنی میں اسے زیادہ سے زیادہ دیکھ لینا چاہتے تھے۔ بریگنز 1500 سال قبل مسیح سے آباد ہے۔ اس شہر نے بہت تغیر دیکھا۔ کونسٹانس جھیل کے کنارے آیاد اس شہر پر مختلف لوگوں اور قبائل کا تسلط رہا۔ جرمن، سویڈش اور کچھ دیگر اقوام نے بھی اس شہر کو تاراج کیا۔ 1945کی دوسری جنگِ عظیم کے دوران اتحادی افواج نے اس شہر پر بمباری کی اور اسے نیست و نابود کر دیا۔ تاریخی قلعے اور دیوہیکل گرجا گھروں کے درمیان اس شہر کی عظمت آج پھر سے متشکل ہو چکی ہے۔ وورل برگ صوبے کے اس شہر نے جتنی تباہی اور جنگیں دیکھیں اب یہ اتنا ہی پر امن اور پرسکون شہر ہے۔ تقریبا” تیس مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط اس شہر کی آبادی بھی تقریبا” تیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ مارٹن ٹاور، سیکرڈ ہارٹ چرچ، سینٹ گیلس چرچ، تاریخی قلعہ اور وورلبرگ میوزیم یہاں کی قابلِ دید جگہیں ہیں۔ یہاں ہر سال موسمِ سرما میں جھیل کونسٹانس کے کنارے ایک عالمی میوزک فیسٹیول بھی منایا جاتا ہے جس کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ اس میں ہر سال ایک مختلف اور نئے اوپرا کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ بریگنز خزاں کا چوغا پہنے اور بھی بھلا لگ رہا تھا۔ اس کی گلیوں میں گھومتے گھومتے تھک کر میں سیکرڈ ہارٹ چرچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔ اس گھڑی جانے میرے اندر کون سے زمانے اتر آئے تھے۔ میں نے اس بلندی پر بیٹھ کر چشمِ تصور سے اس شہرِ دلربا پر بیتنے والے مختلف ادوار کو دیکھا۔ مجھے لگا جیسے یہ شہر مجھ سے اپنی کہانی کہہ رہا تھا۔ جیسے صدیوں سے تاراج ہوتے آئے اس شہر کومحبت کی نظر سے دیکھنے والا ہی درکار تھا۔ میں نے اس پر محبت کی نظر ڈالی تو اس نے مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا۔ میں خود کو پہچانتا تھا کہ محبت مجھے اسیر کر لیتی ہے۔ میرے قدم روک لیتی ہے اور میں تو خانہ بدوش تھا۔ کہاں رک سکتا تھا۔ مجھے تو ابھی مزید سفر کرنا تھا، کرتے رہنا تھا۔ میں میکانکی انداز میں سیکرڈ ہارٹ چرچ کی سیڑھیوں سے اٹھا۔ اوور کوٹ کے بٹن بند کیے، کالر اونچے کیے، مفلر کو گردن کے گرد لپیٹا اور اس شہر سے ہاتھ چھڑا کر نکل گیا۔ اپنی عادت کے برعکس پیچھے مڑ کر نہ دیکھا کہ میں پتھر کا نہیں ہونا چاہتا تھا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: