بھارت میں مجوزہ حج پالیسی: صادق رضا مصباحی

0
  • 2
    Shares

وہی ہوا جس کاڈر تھا۔ چنددن قبل جب یہ خبرمیڈیا تک پہنچی کہ مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی ۸ اکتوبرکو ممبئی کےحج ہائوس میں حکومت ہندکی نئی حج پالیسیوں کااعلان کریں گے تواندازہ یہی تھا کہ کچھ نہ کچھ ’’نیا‘‘ہوگا اورکچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا جو بی جے پی کی پالیسیوں کے مطابق ہوگا اور جس سے مسلمان ایک بار پھر دفاع پر اتر آٓئیں گے۔ مختار عباس نقوی تو اعلان کرکے چلے گئے مگر پورے ملک کے مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑا گئے اور خاص طور پر وہ حضرات زیادہ ہی مضطرب ہیں جو دین سے قریب ہیں۔ ظاہر ہے انہیں تو مضطرب ہونا ہی ہے کیوں کہ حکومت کی ایک پالیسی تو واضح طور پر ایسی ہے جو شریعت سے متصادم ہے اورجس سے کسی بھی حال میں مفاہمت نہیں کی جاسکتی۔ وہ پالیسی یہ ہے کہ ۴۵سال سے زائد عمرکی خواتین کوغیر محرم کے ساتھ حج پرجانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس پر ہمارے مذہبی حلقو ں کی جانب سے احتجاج کیاجانا فطری ہے۔

مگراس ضمن میں مجھے ایک اہم بات عرض کرنی ہے۔ غیر محرم کے ساتھ حج کرنا شریعت کی نظرمیں تو جرم ہے ہی، خود سعودی عرب کے قانون کی نظرمیں بھی جرم ہے اس لیے اب یہ مسئلہ براہ راست سعودی عرب حکومت سے متعلق ہو گیاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگرکوئی عورت غیر محرم کے ساتھ حج پرجاتی ہے توکیا سعودی عرب اسے حج کرنے کی اجازت دے گا؟ یہ عورت نامحرم کے ساتھ سعودی عرب کی زمین پر قدم رکھتے ہی مجرم بن جائے گی۔ حکومت ہندکی وزارت اقلیتی امور نے کیاحج پالیسی بناتے وقت سعودی عرب سے کوئی رائے مشورہ طلب کیا تھا یا محض ہمارے معزز وزیراعظم اور آرایس ایس نواز طبقے کی خوش نودی ہی مدنظر رکھی تھی؟ ہم اپنے مذہبی حضرات سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ہندوستان میں مقیم سعودی سفیر بسے رابطہ کریں اور ان سے استفسار کریں کہ کیا ان کی حکومت ایسی عورت کوحج کرنے کی اجازت دے سکتی ہے؟ حکومت ہند کے سامنے ہمارے احتجا ج سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا کیوں کہ جوہمارے مودی صاحب  فرما دیتے ہیں وہ پتھر کی لکیر ہو جاتا ہے اور اس لکیر کو عبور کرنا جرم عظیم قرار پاتا ہے اس لیے بے چارے مختارعباس نقوی اور ان کے ہم نوا بھی مجبور محض تھے بلکہ غلام۔ محض حکومت کاحصہ بنے رہنا ہے تو انہیں ایسی ہی پالیسیا ں بنانی ہوں گی جو ان کی حکومت کی پسندیدہ ہوں اور جو مسلمانوں کی ذہنی اذیتوں کاسامان لیے ہوئے ہوں۔

مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ حج جیسے مذہبی فریضے کی پالیسیاں وہ لوگ بناتے ہیں جومحض دکھاوے کے مسلمان ہیں ۔پالیسیاں بناتے وقت علماء سے رابطہ بھی نہیں کیا جاتا ہے اور اگر علماء سے پوچھا بھی جاتا ہے تو بس انہی سے جو حکومت کے ہم نوا ہیں۔ یہ کیسا مذاق ہے کہ پالسیاں وہ لوگ بنارہے ہیں جن کا اسلام سے تو کیا کسی بھی مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیوں کہ ان لوگوں کا مذہب صرف اورصرف موقع پرستی، ضمیر فروشی، مفادپرستی اورکاسہ لیسی سے عبارت ہے۔ آپ ان سے کوئی توقع بھی نہیں رکھ سکتے اس لیے مطالبے اور احتجاج سے ہماری ’’دینی ذمے داری‘‘تو پوری ہوسکتی ہے، تبدیلی نہیں آسکتی کیوںکہ مطالبہ ان سے کیا جاتا ہے جو مطالبہ تسلیم کریں مگر جو غلام ہوں، جن کے ضمیر ہی فروخت شدہ ہوں ان سے کسی تبدیلی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ غلامی میں انسان کا شائد ضمیر بدل جاتاہے بلکہ ضمیر نام کی کوئی شے رہتی ہی نہیں۔ اس معاملے میں مختار عباس نقوی صاحب ہوسکتا ہے کہ اندرسے ان پالیسیوں کے مخالف ہوں مگر وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ تبدیلی نہیں کرسکیں گے کیوں کہ ذہنی اورفکری غلامی زبان میں آبلے ڈال دیتی ہے۔

یہ پالیسیاں دراصل اب ہمارے ہندوستانی علماء کے لیے سخت امتحان ہیں۔ ان کواس سلسلے میں بہت ہوش مندی سے حکومت ہند سے رابطہ کرکے اس نئے بحران سے مطلع کرناہوگا۔ حالاں کہ حکومت اس بحران سے اچھی طرح واقف ہے بلکہ وہ تو ان پالیسیوں کے اعلان سے قبل بھی واقف تھی۔ یہاں یوں کہاجاناچاہیے کہ یہ پالیسیاں لائی ہی اسی لیے گئی ہیں تاکہ بحران پیداہوجائے۔ اس سیاق و سباق میں یہ کہنا بالکل بجاہے کہ سب کچھ طے شدہ اور منصوبہ بند ہوا ہے اس لیے اگرچہ احتجاج سے کچھ ہونے والانہیں ہے مگر ہماراخاموش رہنا بھی جرم ہے اس لیے کچھ نہ کچھ توکرناہی پڑے گا۔ دیکھتے ہیں کہ کس طرح اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ اس پورے معاملے میں مجھے سب سے زیادہ رحم مختارعباس نقوی پر آرہا ہے جو کچھ بھی نہیں کرسکے۔ بے چارے مختار عباس نقوی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: