نئی شائع ہونے والی کتاب ’روداد ریل کی‘ پر عامر کاکازئی کا تبصرہ

0
  • 49
    Shares

حال ہی میں شائع ہونے والی فضل الرحمان قاضی کی کتاب ’روداد ریل کی‘ جو کہ تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس منفرد موضوع پر اس کتاب کا انداز بیان اتنا رواں ہے کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔  یہ اندازہ صرف وہ لگا سکتا ہے جس نے یہ خوب صورت کتاب پڑھی ہو۔ ہم نے اج تک جتنی کتابیں پڑھیں ہیں، یہ ان میں سے ایک ہے جس کو ایک ہی نشست میںختم کر کے ہی اٹھ سکے۔ یہ کتاب ایمل مطبوعات اسلام آباد نے خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ معیاری انداز میں شائع کی ہے۔

مصنف کا خاندان  تلاش  روزگار  کے سلسلے میں پٹیالہ سے ہجرت کر کے کوئٹہ جا بسا تھا. یہاں یہ ریل سے منسلک ہوگئے۔ ریل جیسے شعبے سے منسلک ہونے کے باوجود مصنف کی یہ کتاب ایک اعلی پائے ادیبانہ اسلوب کا مظہر ہے۔

“روداد ریل کی”جیسا کہ نام اور منظر سے واضح ہے کہ ریل کے سفر ارتقاء پر مشتمل ہے. جس میں آغاز اور اس کے بعد ہندوستان میں آمد سے متعلق تمام تر تاریخ کو دلچسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔

ابتداء ہی ریل کی تاریخ سے کی گئی ہے جو کہ پہیے کی ایجاد سے شروع ہوتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ

“سڑکیں اور پگڈنڈیاں اتنی ہی قدیم ہیں جتنی کہ انسانی تہذیب۔ شاہراہوں کا زکر ہندوؤں کی کتاب رگ وید میں بھی ملتا ہے۔ چندر گپت موریہ کے عہد میں شاہراہوں کی باقاعدہ درجہ بندی ہوتی تھی۔ جیسے شاہی سواریوں کے استعمال کے لئے، رتھوں کے لیے، فوجی گاڑیوں کے لیے اور دیہاتیوں کے لیے۔ ان کے لیے باقاعدہ قوانین وضع کیے گے تھے۔ وہ اگے لکھتے ہیں کہ دنیا کی پہلی سرکلر ریلوے غالبا تاج محل کی تعمیر کے لیے بنائی گئی تھی جو کہ 644 کلومیٹر پر مشتمل کی تھی۔ “

معروف تاریخ دان ٹریلولیان لکھتے ہیں کہ ریلوے، دنیا کو انگلستان کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ ہے۔ انگلستان ہی وہ ملک ہے جہاں بھاپ سے چلنے والے انجن ایجاد ہوئے. ہندوستان میں 34 کلو میٹر لمبی ریلوے لائن مبمبئی سے تھانہ تک کا اجرا اپریل 16, 1853 کو ہوا۔ یہ انڈیا میں ریل کے پہیے کو حرکت میں لانے کی ابتداء تھی۔

ساری کھیڈ لکیراں دی
گڑی آئی ٹیشن تے
آکھ بھیج گئی ویراں دی___

ان کی کتاب سے کچھ فقرے تو بہت ہی شاندار ہیں. جس سے مصنف کی حسِ مزاح کی عمدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلا
“زن و شوہر کے تعلقات میں کشیدگی ہی نہیں اتی ۔ بلکہ محبت سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ سکتے ہیں، ویسے اج کل معاملات ہاتھ پکڑنے سے کہیں اگے جا چکے ہیں۔”

مگر ریلوے سے جڑی روایتوں، کہانیوں اور برجستہ اشعار کے انتخاب نے اس کتاب کو ایک منفرد جہت دی ہے اور ریلوے کی خشک تاریخ کو دلچسپ بیانیہ کی پٹڑی پر اس خوبی سے گزارہ گیا ہے کہ تمام تر شان و شوکت دوبالا ہوجاتی ہے.

ماضی میں ایک اصطلاح “وایا بٹھنڈہ” تعلیمی سیاق وسباق میں اس طریقہء کار کے بارے میں استعمال ہوتی تھی جس میں منشی فاضل یا مولوی فاضل کی سند حاصل کرنے لے بعد بغیر کسی کالج سے تعلیم کے صرف ایک مخصوص انگریزی کا امتحان پاس کر کے بی اے کی سند حاصل کی جا سکتی تھی۔ ان گریجویٹ کو طنزیہ بی اے وایا بٹھنڈہ کہا جاتا تھا۔
براہ راست بی اے اس زمانے میں قابل فخر ڈگری تھی۔ دولہے اور دلہن فخریہ شادی کے بلاوے کے کارڈ پر نام کے ساتھ بریکٹ میں بی اے چھپواتے تھے۔

“ایں سعادت بزور بازونیست ۔ تانہ بخشد خدائے بخشدہ۔ ایک بے نیک دُختر کی شادی خانہ ابادی میں شرکت بھی باعث تنکمنت تھی۔”

کتاب کی تقریب میں افتخار عارف اور احمد، اقبال مصنف کے ہمراہ

.

ایک گارڈ ایک انگریز جوڑے سے اس کے کتے کے بارے میں پوچھتا ہے.

Are   you   à  booked   dog?

ایک فلم کا سین تھا کہ ایک ہیروئین  تالاب میں نہا رہی تھی، اس كا بدن گردن تک اندر ہوتا ہے۔ جونہی وہ تالاب سے نکلنا چاہتی ہے تو ایک ٹرین آجاتی ہے. تماشائیوں اور اس حسینہ کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔ جب ٹرین نکل جاتی ہے تو حسینہ بھی نہا کر جا چکی ہوتی ہے۔ ایک صاحب نے وہ فلم باقاعدگی سے کئی روز تک دیکھی اس امید پر کہ شاید آج ٹرین لیٹ ہو جائے. مگر نہ بھئی نہ، یہ انگریز اصولوں کے بڑے پکے ہوتے ہیں گاڑی کبھی لیٹ نہیں ہونے دیتے بلکہ عین بے وقت پر اتی ہے۔

’’صرف خطہء نادار و نامراد کے باشندے اور بندر ایسا اعضاء شکن آسن مادر کے گھٹنوں اپنے وعدہ خلاف اور وعدہ معاف کی بشارتیں سُتے ہیں۔ بندر کسی ہرجائی کی راہ تکتے ہیں۔ اگر کوئی یورپین یا امریکن خود کو توڑ مروڑ کر اوراعضاء کو تہہ در تہہ کر کے ایسی بیٹھک کی کوشش کرے تو اس کے گھٹنے گوڈے اور ہڈیاں چٹخنے لگیں گی۔ اس کے منہہ سے خوخیانی چیخیں ساکٹ سے انکھیں اور انسو نکل پڑیں گے۔ “

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
یاد نے کنکر پھینکا ہو گا
شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اترا ہو گا___
               ……ناصر کاظمی

’’جیسے کہ ہمارے ملک میں جب بھی کوئی نیا منصوبہ اتا ہے تو سب لوگ ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ یا کوئی نئی چیز ایجاد ہوتی ہے تو حرام کا فتوی پہلے آجاتا ہے، یہ ہی کام اس وقت کے انگلستان میں بھی ہوا تھا. ریلوے کی مخالفت میں ایک جرمن ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ریل گاڑی کے گزرنے کے منظر  دیکھ کر لوگ پاگل ہو جائیں گے۔ اگر ریلوے لائن کے دونوں جانب پردے کے بورڈ نہ لگائے گئے تو گائیں  کھٹا دودھ دینے لگیں گی۔ جاگیرداروں، اشراف اور امرا، نے کھلی مخالفت کی۔ بعض نے ریلوے کے زریعے سفرکرنے کو اپنی قبریں آپ کھودنے سے تعبیر کی۔ ایک خاتون صحافی نے اپنے اندیشوں کا یوں اظہار کیا کہ ریلوے کی وجہ سے کمزور اعصاب کے مالک لوگوں میں ہذیانی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ جس کے نتیجے میں وہ خود کشی کر لیں گے۔

ایک اخبار نے لکھا کہ ریلوے معاشرے کی قوت دفع اور قوت محرک کے لیے ایک دھچکہ ثابت ہو گا۔ یہ لوگوں کے باہمی تعلقات کو تبأہ کر دے گا۔ صوبوں کے تمام وسائل کو اپنی جانب کھینچ لےگا۔ کیا کوئی ذی شعور ایسی گاڑی میں سفر کرے گا جو ایک ٹین کے پائپ اور تآنبے کے بوائلر کے رحم و کرم پر ہو۔ ریلوے آنجن کے دھاڑنے سے معزز لوگوں کا سکون برباد ہو جائے گا۔ حتی کہ ملکہ وکٹوریہ کو بھی ریل پر اعتماد نہیں تھا۔‘‘

بقول شاعر، ٹکٹ نہ دَئیں باؤ۔۔۔۔۔۔
ایہہ رات جُدائیاں دی__

اسی لیے کارل مارکس نے ۱۸۵۳ میں لکھا کہ “مجھے معلوم ہے کہ انگریز سامراج ریلوے کو ہندوستان میں صرف اپنے صنعت کاروں کے مفاد کے لیے اور پیسہ بٹورنے کے لیے بچھانا چاہتا ہے۔ “

گاندھی کے ٹرین یاترا پر سروجنی نائڈو نے ایک بات کہی کہ کاش باپو کو علم ہوتا کہ ان کی غربت کو برقرار رکھنے کو قوم کو کیا قیمت أدا کرنا پڑتی تھی۔

مصنف نے زیرک نگاہی سے ریلوے صنعت کی تباہی و بربادی پر بھی جائزہ پیش کیا اور ان تمام عوامل کو واضح کیا ہے،جن کی وجہ سے ایک سستا اور مفید عوامی زریعہء آمد و رفت، تباہی کے کنارے آ لگا۔ لکھتے ہیں

’’نچلی سطح کی نوکر شاہی ریلوے پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ یہ اور ان کے خاندان دیمک کی طرح ریلوے کو کھا رہے ہیں۔ پاکستان ریلوے پر اگرچہ باہر سے بھی مصیبتیں نازل ہوئیں۔ مگر جنرل ضیاء نے ریلوے کو این ایل سی کے جبڑوں میں دھکیل دیا۔ جو جنرل این ایل سی کا انچارچ تھا، وہی ریلوے کا وزیر بنا دیا گیا۔ گویا بلی دودھ کی رکھوالی بن گئی۔ این ایل سی سے پہلے کارگو کا سب سے بڑا زریعہ پاکستان ریلوے تھی۔ اگر ریلوے اسی طرح کامیابی سے کارگو کا کام کرتی رہتی، تو این ایل سی کو کون پوچھتا؟ لازم تھا کہ ریلوے کو کارگو سے بے دخل کیا جائے سو کیا بھی یہی گیا‘‘۔

جنرل مشرف کے زمانے میں بھی اسی قسم کی مصیبتیں ریلوے پر نازل ہوتی رہی ہیں. ملائیشیا کے حوالے سے گالف کلب کا سکینڈل اسی عہد ایونی میں پیش آیا۔ جب مشرف کے وزیر ریلوے نے دھرم پورہ میں افسروں کی تفریح کے لیے گالف کورس میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ اس قیمتی زمین کا ٹھیکہ 49 سال کے لیے ملائیشیا کی فرم کو غیر شفاف انداز میں دیا گیا۔

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
…….منیر نیازی

کتاب کے بارے میں فیس بک پیج کا لنک۔ کتاب کے حصول کے لیے بھی اس لنک پہ رابطہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: