فتح محمد ملک صاحب سے سیاسی، علمی، سماجی اور تاریخی گفتگو (حصہ 2)

0
  • 25
    Shares

ممتاز دانشور، ادیب، نقاد، ماہر تعلیم، ماہر اقبالیات اور ’دانش‘ کے سینئر بورڈ ممبر جناب فتح محمد ملک نے دانش سے خصوصی گفتگو میں مختلف موضوعات پہ کھل کے گفتگو کی۔ قارئین کے لیے اسکا دوسرا حصہ پیش خدمت ہے۔


سوال:۔ ملک صاحب جس طرح آپ نے بات کی کہ آج کے دور میں انسان جو ہے کمیونٹی بنتا چلا جا رہا ہے فرد کی بجائے چیز بنتا جا رہا ہے تو یہ ذرا فرما دیجئے گا کہ آپ تو انٹرنیشنل ملک بھی گئے ہیں وہاں پڑھاتے بھی رہے ہیں تو اگر آپ Comparison کرنا پڑے تو بطور قوم ہم نے غلطی کہاں کی تو کن چیزوں پہ آپ کی فوری نظر جاتی ہے؟

جواب: پہلی غلطی یہ ہے بطور قوم کہ ہم نے لیاقت علی خان کو شہید ہوتے دیکھا اس کے بعد سول اور ملٹری بیورو کریسی آگئی اس زمانے کی بیوروکریسی میں خاص طور پر اس نسل کی ان کی ذات میں اپنی غلامی پہ فخر ہوتا ہے نا وہ تھے اب دیکھیں کون لوگ تھے لیاقت علی خان کے شہادت کے بعد ان میں شریف ترین آدمی تو چودھری محمد علی تھے لیکن وہ بھی بیوروکریٹ ہی تھے۔ غلام محمد تھے، سکندر مرزا تھے، ایوب خان تھے۔ ان میں سے کون تھا جس کا مسلمانوں کی تحریکِ آزادی میں کوئی کردار تھا ؟ اب یہ آ گئے غلام تھے نام کے بھی کام کے بھی ۔ ایوب خان کی Biography کے تیسرے یا چوتھے Chapter جس کا عنوان ہے Man on the horse Back اگر صرف وہ پڑھ لیا تو آپ کو پتہ چلے گا کہ امریکہ کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ الیکشن ہونے والے تھے 56ء کے آئین کے تحت تو ایوب خان گئے ان کے وزیر خزانہ گئے انٹیلی جنس کا آدمی گیا اور انہوں نے سی آئی اے کو منتیں کر کر کے سمجھایا کہ آپ الیکشن نہ ہونے دیں کیونکہ اگر الیکشن ہوئے تو وہ Political Forces اقتدار میں آ جائیں گی جو سرد جنگ میں امریکہ کی حمایت سے انکاری کر چکے تھے۔ تو انہوں نے بہت سوچ بچار کر کے کیونکہ وہ سہروردی کو بھی اچھا سمجھتے تھے امکان یہ تھا کہ وہ آجائیں ان کے پارٹی میں تو مارشل لاء آ گیا بالاخر تو ایسا نہیں کہ وہاں سے Plane ہو چکا تھا بالکل نہیں بلکہ یہ گئے سمجھانے کے لیے اور پوری روداد اس میں موجود ہے تو اب سب سے بڑی خرابی یہ ہوئی ہے کہ لیاقت علی خان کو شہید کرایا گیا اس میں امریکہ کا ہاتھ ہے اب تو ساری کہانی باہر آگئی ہے لیکن اس کے بعد جمہوریت کو آمریت میں بدلنا فوجی آمریت میں بدلنا اس کے لیے زمین ہموار کرنے کے لیے پوری کوشش کی گئی وہ کوشش اپنی جگہ۔ وہاں جو وفد گیا تو اس نے سی آئی اے سے کہا کہ اپنی حکومت سنبھالیں یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ جو قریب ترین آدمی تھا الطاف گوہر وہ کہہ رہا ہے اور اس نے یہ کتاب لکھنے کے لیے امریکہ میں قیام بھی کیا۔ ہم پھر غلام ہو گئے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد۔

اب بھٹو کی عظمت یہ ہے کہ جہاں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوا تھا ذوالفقار علی بھٹو نے وہیں سے شروع کیا بڑی گہری نظر تھی ان کی تاریخ پہ۔ اس کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ زندہ نہیں رہنے دیا دیکھیں لیاقت علی خان اقتدار سے اور بھٹو اقتدار سے الگ ہو گئے، یہ اپوزیشن میں بھی رہتے تو یہ صاحب اقتدار لوگوں کو چیلنج کرتے رہیں گے تو ہمارے لیے خطرہ بنے رہیں گے امریکہ کے لیے خطرہ بنیں گے اس لیے ختم کر دیے گیے۔ تو تب سے لے کے اب تک یعنی اب بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد کسے لائیں جس نے اس ملک کے سب سے بڑے خطرے کو دور کیا خطرہ بس یہ ہے کہ اقبال کی جو تفسیر اور تفہیم ہے دورِ حاضر کے تقاضوں کو مدِّ نظر رکھ کے اسلام کی وہ اتنی انقلابی ہے کہ اس کا مقابلہ ملّایت سے نہیں کیا جا سکتا۔ تو وہ ایک ملّا کو لائے اور اس نے بڑی ہی سفاکی کے ساتھ ترکیب ساز قوتوں کو کچلا اور پھر وہ وقت آگیا کہ امریکہ کی جنگ لڑنا شروع کر دی۔ طالبانائزیشن سمیت یہ ساری چیزیں ضیاءالحق کے آنے سے پہلے تو نہیں تھی۔ بس بد نصیبی یہی ہے کہ ہم اصل قیادت سے محروم ہو گئے، مقامی ایجنٹ اور باہر کی قوّتیں قیادت کو پنپنے نہیں دیتیں۔

سوال:۔ پاکستان بننے سے پہلے جس طرح مسلمانوں سے تعصب بڑھتا جا رہا تھا کھانے پینے کی یا انہیں Brushed سمجھا جاتا تھا یا ان کی معاشی حقوق کی وجہ سے انہیں ایک ایسا ملک چاہئے تھاجہاں ان کو اپنی اہمیت کے مطابق ان کے حقوق مل سکیں لیکن جس طریقے سے قتل و غارت ہوئی جب پاکستان بنا ہے تو اس سے ایک نظریہ یہ بھی پیدا ہوا کہ پاکستان کا بننا ایک Pre Mature وقت پہ پاکستان بن گیا آپ اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں؟

جواب:  بات یہ ہے کہ ایک تو اسلام کا جو بیانیہ ہے وہ ضیاءالحق کے بعد بالکل ملّا کے ہاتھ میں چلا گیا اب یہ کہا جانے لگا پاکستان اسلام کے نام پہ بنا ہے یہ زیادہ سے زیادہ نیم صداقت ہے پاکستان بنا ہے جداگانہ مسلمان قومیت کے نام پہ۔ Separete Muslim Nation صرف مسلمان بھی نہیں تو Nationalism کا جدید تصوّر اور اسلام کی روح اس سے ایک نیا نظریہ بنا وجود میں آیا جو مذہب کو تنازعہ نہیں بناتا۔ مذہب کی انقلابی روح جو انسان کی عظمت، انسان کی خدمت، انسان کو جبر و استحصال سے نجات دلانا یہ ہے اقبال اور قائدِ اعظم یعنی بانیانِ پاکستان کا تصوّر۔ اب یہ تصور سامنے رکھیں تو ہندو معاشرت میں ذات پات کا، چھوت چھات کا، انسانوں میں Divinely Created Cast System کہ غریب، ناپاک، ملیچھ کو دیوتاﺅں نے بنایا ہے تو اس کا مطلب ملیچھ ہمیشہ ملیچھ رہے گا اس کی حالت نہیں بدلی جا سکتی اگر کئی خدا ہے تو ملیچھ ایک چھوٹے خدا کا پیدا کیا ہوا ہے اور برہمن جو ہے سب سے بڑے دیوتا کا بنا ہوا ہے۔ تو یہ جو Divinely Created مذہبی بنیادوں پہ یہ استحصالی نظام کو دوام بخشا جا رہا تھا اور اب بھی بخشا جا رہا ہے، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

بانیانِ پاکستان کا ویژن یہ تھا کہ اگر ہم اکٹھے رہے تو اکثریت تو Divinely Created Cast System پہ یقین رکھنے والوں کی ہے تو پھر ہمارا درجہ ملیچھ سے بھی نیچے ہو گا ہم ہندو نہیں ہیں ہم مسلمان ہیں تو ناپاک ترین ہوں گے یہ سب ہو رہا ہے جن جن علاقوں میں آنکھیں بند ہیں تو تصور تو بالکل یہ تھا اب اس تصور کو ہمارے علماء سمجھ نہیں پائے حتیٰ کہ علامہ عنایت اللہ مشرقی بھی نہیں سمجھ پائے یہ سارے لوگ جو تھے یہ بددیانت نہیں تھے یہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ صرف مسلم اکثریت صوبوں کو لے کے ہم بیٹھ جائیں چھوٹی مسلمانوں کی مملکت اِدھر چھوٹی سی ادھر۔ جب ہم آئے تو تعداد میں تھوڑے تھے اب پورے برصغیر میں حکمران بن گئے تو اب کیوں نہیں بن سکتے اب ان کے ذہن میں Nationalism کا جدید تصور تھا ہی نہیں یہ چونکہ سمجھتے نہیں تھے یہ اقبال کو، قائد اعظم کو اور بانیانِ پاکستان کو بھی یہ اپنے انداز میں سمجھتے رہے کہ انہیں نئے علوم اور جدید تعلیم نے خراب کر دیا ہے اسلام سے دور کر دیا ہے ورنہ مسلمانوں کا جذبہ یہ ہے گھوڑے دوڑاتے ہوئے اور تلوار لہراتے ہوئے آتے تھے اور ایک سرے سے لے کے دوسرے سرے تک Sub Continent پہ قابض ہو گئے۔ قائد اعظم اور جدید مسلمانوں کا جو Nationalism کا نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں مسلم سٹیٹس بنیں بنگال میں بھی جس حصے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مسلمان سٹیٹ بنے جس حصے میں ہندوﺅں کی اکثریت ہے ہندوﺅں کی سٹیٹ بنے انہیں بھی اسی طرح سے حق ہے وہ نہ چاہتے تھے کہ کوئی مسلمانوں پہ غلبہ پائے اور نہ مسلمان کسی دوسرے پہ غلبہ پانے کی خواہش رکھے۔

یہ جدید تصور تھا یہ سمجھ میں نہیں آیا قدیم علوم کے جو شناسات ہیں، ایک مثال دوں کہ مجلسِ احرار کے عطاءاللہ شاہ بخاری تھے انہوں نے اپنے بچوں کو انگریزی نہیں سیکھنے دی اب اسلام انگریزی سیکھنے سے تو نہیں منع کرتا وہ بڑے سخت سابران دشمن تھے تو سابران دشمنی ایک چیز ہے نئے علوم اگر ان ممالک میں پیدا ہو رہے ہیں پرورش پا رہے ہیں انہیں سیکھتا تو کوئی خرابی کی بات نہیں اسلام تو اجازت دیتا ہے کہ علم جہاں سے ملے حاصل کرو لیکن یہ ذہنی ساخت پر داخت ایسی علماءکی ہو گئی تھی کہ وہ چھوٹے سے جغرافیائی خطے پہ قناعت نہیں کرتے تھے۔ چونکہ جدید تصور نہیں تھا ان کے پاس Nationalism کا تو وہ تعداد گنتے تھے اور کہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ہے اور مسلمان اکثریت کی علاقوں تک ہی اگر مسلمانوں کی حکومت محدود ہو گئی تو کیا فائدہ۔ کچھ مسلمان ادھر رہ جائیں گے اب یہ فرق تب بھی انہیں سمجھ نہیں آیا اور آج کے طلبہ کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ بنگلا دیش اور پاکستان میں جتنے مسلمان ہیں الگ الگ دو ملکوں میں وہ تعداد میں تھوڑے ہیں لیکن تعداد سے کیا ہوتا ہے ان کی حالت کیا ہے Status کیا ہے ہم قوم ہیں وہ اقلیت ہے۔ اگر بنگلا دیش بھی جداگانہ وجود رکھتا ہوتا کلکتہ Dominated Area سمجھتے اور پاکستان میں الگ قائم نہ ہوتا تو بھلے اقلیت ہوتی لیکن بہت بھاری اقلیت ہوتی قوم پھر بھی نہ ہوتی۔ تو بنگلا دیشی بھی ایک قوم ہیں ہم بھی ایک قوم ہیں۔

اس میں کچھ جتنا میں سمجھ سکا ہوں یہ ہے کہ علما کی بددیانتی بالکل بھی نہیں تھی، ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ پرانے شہنشاہی دور میں رہ رہے تھے وہی سیاست ان کے ذہن میں تھی کہ اس وقت گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے تھے اب جیپوں پہ چلیں اور ٹینکوں پہ چلیں اور سب ہندوﺅں پہ قبضہ کر لیں اب بانیانِ پاکستان سمجھتے تھے کہ ہندوﺅں کو اپنے اکثریت علاقے میں آزاد رہنے کا حق ہے اور مسلمانوں کو کوئی حق نہیں کہ ان پہ حکومت کرے۔ اکثریت جہاں ہے وہی اپنے نمائندے چنے اور حکومت کرے۔ ہم جہاں اکثریت میں ہیں ان علاقوں کو الگ کر دیں۔ اب میری گذارش ہے کہ بتائیں اپنے لوگوں کو بھئی خدا کے لیے 1930ءکا خطبہ الہ آباد تو پورا پڑھ لیں یعنی اس میں کیا ہے اس میں یہ بات بھی ہے دو پیرا گراف ہے جن میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اگر ہندوستان کے مسلمان، یہودیوں، عیسائیوں، زرتش مت کو ماننے والوں، توحید پرست ادیان کے ساتھ رہ رہے ہوتے تو ان کے پیروکاروں کے ساتھ تو الگ ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب یہ کیا بات ہے اس پہ ابھی تک غور ہی نہیں کیا کسی نے توحید پرستی جو ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو ایک خدا نے پیدا کیا ساری انسانیت رنگ، نسل، عقیدہ مختلف ہو ان کا سرچشمہ ایک ہے۔ ان کا خالق ایک ہے وہ خدا کا کنبہ ہے تو خدا کا کنبہ صرف مسلمان نہیں بدھست بھی ہے، کرسچن بھی ہے، یہودی بھی کیونکہ ایک خدا کو مانتے ہیں جو ایک خدا کو مانے گا پھر سارا جو کچھ دنیا میں انسانوں کی جتنی شکلیں ہیں وہ ساری ایک خدا کی پیدا کردہ ہے تو ایک انسانی وحدت کا تصور اس میں آتا ہے۔ ہندو مت میں یہ نہیں ہے کیونکہ قدیم ترین مذہب ہے انسان اس وقت تک دھیان اس طور پر نہیں کر سکا تھا تو جہاں یہ کہتے ہیں کہ ملیچھ ہمیشہ ناپاک ہی رہے گا ملیچھ ہی رہے گا نسل در نسل کیونکہ یہ معاشرے نے نہیں بنایا ہے یہ دیوتا نے بنایا ہے۔ تو ا±س کے ساتھ مسلمان انسانی مساوات اور اخوت کا جو تصور ہے جو اسلام کا وہ اس میں شریک نہیں ہو سکتا۔ تو جب یہ ہے صورت تو پھر نظام کونسا ہو گا اگر ایک Sub Continent میں ایک خدا نہ ماننے والے یہ مذہبی عقیدے کو ایک طرف رکھ کے انسانیت کی وحدت، انسانیت کی اخوت و مساوات، یکساں حقوق یہ اگر اکثریت نہیں مانتی تو پھر مسلمانوں کا کیا مقدر ہو گا؟

یہ علماءکی سمجھ میں نہیں آئی وہ اب تک بھی قرونِ وسطیٰ ہی میں رہ رہے ہیں ابھی نکلے ہی نہیں وہاں سے باہر تو مسلمان دونوں ملکوں میں ایک طرح کے ہیں تو ابھی چونکہ ہمیں ٹھیک طرح سے پڑھایا نہیں گیا۔ Letters of Iqbal to Jinnah اس میں صاف صاف لکھا ہے ایک خط میں کہ دو الگ الگ مسلمان ملک ادھر جو انہوں نے 1937ءکی خطبے میں جتنے علاقے بتائے ہیں وہ اور ایسٹ کا علاقہ بنگال کا۔ اب وہ خرابیاں کہاں سے ہوئی کہ انگریز سمجھتے تھے کہ یہ جو دو آزاد اور خود مختار مسلمان ملک بن گئے ہیں ایک بالکل چین کی اس طرف ہے دوسرا اس سرحد پہ ہے ان کے مغرب میں پوری دنیائے اسلام پھیلی ہوئی ہے اور ساتھ آگے Russian اور South Union ہے۔ تو پھر یہ چھوٹا ملک مت سمجھیں اتنا کچھ کامن ہے ان میں کہ یہ جو سب ملک کے New Colonialism کا خواب تھا اسے منتشر کر کے رکھ دیں گے اور جب اقبال نے 1930ء کا خطبہ دیا انہوں نے تو اگلے دن Times of London میں اس خطبے کی جو خبر چھپی جو ایڈیٹوریل چھپا خبر کے ساتھ ہی ایڈیٹوریل ہے۔ اس میں توجہ دلائی گئی کہ دیکھیں یہ اقبال کس جغرافیائی خطے میں کہاں پہ ایک Separate Muslim State بنا رہا ہے اور اس خطے پہ اس وقت پہلی راﺅنڈ ٹیبل کانفرنس ہو رہی تھی اقبال نہیں تھے اس میں اِدھر خطبہ دے رہے تھے تو برٹش پریمیئر Sir Remzen of Roger نے کہا کہ ہماری سارے کیے پر اقبال نے پانی پھیر دیا۔ ہم تو انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ کے لوگوں کو رضا مند کر چکے تھے United India پر۔ اب ایک آدمی ہے درویش سا آدمی ہے اس نے ایک تقریر کر دی انہیں پتہ تھا کہ مسلم انڈیا وہی کرے گا جو اقبال کہہ رہا ہے کیونکہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنی فکر کے ذریعے مسلمانوں کی تربیت کر رکھی ہے اگر بات ووٹ پہ آئے گی تو کرنا اسی طرح سے ہی تھا۔ تو پھر اگلی راﺅنڈ ٹیبل کانفرنس میں اقبال کو بلایا گیا تیسری میں بھی بلایا گیا تو یہ جو مسئلہ ہے نا اسے الجھایا اس لوگت میں ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پہ بنا پاکستان Separate Muslim Nation ہے۔ Separate کیوں اس لیے کہ دوسرے لوگ توحید پرست نہیں ہیں انسانی اخوت و مساوات پہ یقین نہیں رکھتے اس لیے ہم ان سے Separate ہو گئے اور اس میں خود بھی یہ کہہ رہا ہے اگر ہندوستان کے مسلمان یہودیوں کے ساتھ، زرتشت کے ساتھ، کرسچن کے ماننے والوں کے ساتھ رہ رہے ہوتے تو Separation کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ سارے توحید پرست ہیں تو بات توحید پرستی کی ہے؟

۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

اس انٹرویو کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: