فتح محمد ملک صاحب سے سیاسی، علمی، سماجی اور تاریخی گفتگو (پہلا حصہ)

0

ممتاز دانشور، ادیب، نقاد، ماہر تعلیم، ماہر اقبالیات اور ’دانش‘ کے سینئر بورڈ ممبر جناب فتح محمد ملک نے دانش سے خصوصی گفتگو میں مختلف موضوعات پہ کھل کے گفتگو کی۔ قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔


سوال:۔ملک صاحب زندگی اور عدم کی بات چل رہی تھی تو یہ بتائیں کہ آپ زندگی کو کیا سمجھتے ہیں، کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب:۔ میں اسے عطیہ خدا وندی سمجھتا ہوں اور اب میری عمر اسی سال سے زاید ہو گیی ہے۔  یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے کہ مجھے لکھنے پڑھنے کا شوق ہوا۔ اور عمر بھر جب میں صرف پڑھاتا تھا تو اس وقت خوب لکھتا تھا جبکہ جب تعلیمی اداروں میں ہی چھوٹے موٹے انتظامی عہدے ملنے لگے تو اس کی وجہ سے ہمیشہ لکھنے پرھنے سے جڑا رہا اور ہمیشہ یہ خیال رہا کہ میں اصل کام جو مجھے کرنا ہے وہ لکھنے پڑھنے کا ہی ہے۔ اب مجھے لگتا ہے کہ بھئی یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ مجھے پڑھنے لکھنے کا شوق ہے اور میں مصروف رہتا ہوں یہ نہیں انتظار کر رہا کہ اب میرا کام ختم ہو گیا یاکیرئیر ختم ہو گیا۔ یہاں اب یکسوئی کے ساتھ لکھتا پڑھتا اس لیے ہوں کہ جدھر بھی جاتا ہوں تو لگتا ہے مثلاً جب F-7 سے گزرتا ہوں تو لگتا ہے کہ یہاں ضیاء جالندھری رہا کرتے تھے۔ پنڈی جہاں زیادہ وقت گزرا کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو ہماری دوستوں میں سے نہ تھا۔ شورش ملک تھے اور اْن کے ساتھ ایک پورا کارواں ہوتا تھا۔ کچھ صحافیوں کے ساتھ دوستیاں تھیں اب اْن میں سے کوئی بھی نہیں ابھی تھوڑا ایک عرصہ پہلے ہمارے ایک ساتھی جن کے ساتھ بیٹھ کے باتیں ہوا کرتی تھیں جب بھی شورش ملک صاحب کی جنگ سے ہفتہ وار چھٹی ہوا کرتی تھی تو پھر یہ چھے سات لوگ اکٹھے ہوتے تھے اْن میں سے آخری آدمی زاہد ملک وہ ابھی Recently چلے گئے تو اگر یہ شوق نہ ہوتا لکھنے پڑھنے کا تو میں ایسا ہی ایک بیکار سا آدمی ہوتا جو ہر وقت اسی فکر میں رہتا کہ اب میری باری کب آئے گی کب اجازت ملے گی اس دنیا سے رخصت ہو کے اگلی دنیا میں قدم رکھنے کی۔

سوال:۔ اچھا ملک صاحب آپ نے اتنے بڑے ناموں کا نام لیا جو اپنی شخصیت میں بھر پور لوگ تھے جنہوں نے بھر پور زندگی گزاری جس طرح جناب شورش ملک صاحب کا آپ نے نام لیا، جناب ضیاء جالندھری کا نام لیا۔ تو آج کے دور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ Mediocrity کا دور ہے یعنی صلاحیتوں کے اعتبار سے درمیانے درجے کے لوگ ہیں۔ آپ نے ضیاء جالندھری کا نام لیا تو ان کے ایک اور دوست حمید نسیم  کی کتاب پڑھ کے احساس ہوتا ہے بہت لائق فائق تھے لیکن اپنے آپ کو تیسرے درجے کا لکھاری کہتے ہیں جبکہ آج جو تیسرے درجے پہ ہیں وہ اوّل درجے پہ خود کو فائز سمجھتے ہیں۔ آپ ان لوگوں میں سے آخری رہ گئے ہیں، آپ اسے کس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ جو اتنا بدلاؤ آیا ہے اور اس زمانے میں لوگوں کا جو مینٹل لیول تھا جو قابلیت تھی وہ زیادہ تھی۔ کیا یہ سچ ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ کیوں ہے؟

جواب:۔ یہ سچ ہے تو میں اس میں یہ کہوں کہ ہمارا نظام تعلیم جو ہے وہ بنجر ہو کے رہ گیا۔ یعنی ایک زمانہ تھا جب پاکستان قائم ہوا تو پنجاب یونیورسٹی تھی کراچی یونیورسٹی قائم ہوئی، سندھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی۔ یہ ادارے، یونیورسٹیاں تھیں۔ اب وہ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ ہے جن کے اوپر یونیورسٹی کا بورڈ لگ جاتا ہے میری رائے میں جس یونیورسٹی میں ادبیات، دینیات، فلسفہ، سوشیالوجی یہ مضامین نہیں پڑھائے جاتے جنہیں Humanities کہتے ہیں (انسانی علوم) جو انسان کو انسان بناتے ہیں تو وہاں (ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں) انسان مشین کا پرزہ بن کے رہ جاتا ہے اور جہاں تک ہماری روایت کا تعلق ہے زبان بھی ہماری دیکھیں تو کبھی صرف علم نہیں بولا جاتا تھا علم و ہنر۔ تو پہلے علم سیکھیں تو اس میں سے کچھ ہنر نکل آئے گا روٹی روزگار کا مسئلہ بھی آجائے گا لیکن اصل چیز ہے آپ کی ذہنی تربیت، آپ کی قلبی واردات اور وجدان آپ کاایسا تربیت پاتا تھا کہ ایک تعلیم کے ساتھ تربیت کا لفظ تعلیم و تربیت اور علم و ہنر۔ تو اب اْدھر ہی اْدھر ہے تو وہ (طلباء) مستری و مزدور بن کے رہ گئے ہیں جو آدمی کمپیوٹر کے دنیا میں بہت ترقی کر کے پہنچ گیا اسے یہ پتا نہیں کہ مسلمانوں کی روایت میں دانشوری کیا ہوا کرتی تھی، امام غزالی کا کیا مقام ہے، حلّاج کیسے پیدا ہوا، یہ ساری چیزیں وہاں تک تو آتی ہیں۔ ضیاء جالندھری، مختار صدیقی، حمید نسیم بھی اسی کارواں کے آدمی ہیں لیکن اب چپ گئے ہیں۔ ہمارے ہاں جب یونیورسٹیوں کے فہرست گنواتے ہیں اور ان کا سٹینڈرڈ بنواتے ہیں تو کہتے ہیں قائدِ اعظم یونیورسٹی بہت بڑی یونیورسٹی ہیں میں خود اْس یونیورسٹی میں رہا وہیں سے پہلی ریٹائرمنٹ ہوئی لیکن میں اْسے یونیورسٹی نہیں مانتا اس لیے کہ جس یونیورسٹی میں فلسفہ کا سبجیکٹ نہیں ہے، ادب نہیں ہے، دینیات نہیں ہے، دینیات کا بار بار میں اس لیے کہتا ہوں کہ دینیات کو ہم نے دینی نام دینیات دے دی مسجدوں، مدرسوں کے سپرد کر دیا۔

دینی مدرسوں کا اب یہ عالم ہے کہ ہمارے گاؤں کی سرحد پہ اتنا بڑا مدرسہ قائم ہوا تو وہ کسی سلسلے میں ملنے آئے مدرسہ کا مہتمم تو میں نے انہیں کہا کہ آپ تشریف رکھیں میں آپ کو تفسیر کی کچھ کتابیں دیتا ہوں مختلف لوگوں کی اْس میں مولانا ابو الکلام آزاد کی بھی تھی، مولانا مودودی کی بھی تھی اور جو مولانا مودودی سے ناراض تھے لوگ اصلاحی وغیرہ اْن کی بھی تھی۔ میں نے کہا یہ میں نے دیکھ لی ہے اور اب باقی زندگی ہے اْس میں نہ میرے بچے پڑھیں گے مجھے نہیں پتا اور اگر پڑھیں گے بھی تو انگریزی پڑھیں گے تو یہ آپ اپنے مدرسہ میں جو لائبریری ہے وہاں لے جائے تو کہنے لگے ہم اپنی لائبریری میں کسی دوسرے دینی مکتب کی کتاب نہیں رکھتے یعنی دوسرے مسلک کی دینی کتاب ہے قرآن پاک ہے اْس کی تفسیریں اگر ابوالکلام آزاد نے لکھی ہے یا پوری تو نہیں لکھی لیکن خاکسار تحریک کے علامہ بشیر نے بھی ایک جلد لکھی تھی پھر نہیں لکھ پائے اور باقی جو مسلک ہے اْن کی بھی ہیں۔ تو وہ (مدرسے کا مہتمم) کہتے ہیں، نہیں ہم تو دوسری کتابیں رکھتے نہیں ہیں کیونکہ ہمارے سٹوڈنٹ پڑھیں گے تو کنفیوژ ہوں گے۔ اچھا اب دینی مدرسوں کا یہ حال ہے کہ دین تو بڑی چیز ہے، مذہب بھی بڑی چیز ہے وہ تو چھوٹے چھوٹے کوئی شیعہ ہو یا سنی ہو پھر اْس پہ بھی مختلف کر رہے ہیں تو اگر ہم دینی علم مدرسوں میں چھوڑیں گے اور یونیورسٹیوں میں نہیں لائیں گے اور یونیورسٹی کے سطح پر اْس پہ ریسرچ  یا تفہیم نہیں ہو گی تو پھر کیا ہو گا۔ نہ دین رہے گا اور نہ دنیا رہے گی، وہاں طالبانائزیشن ہو جائیگی۔ اس اعتبار سے کہ بھئی آپ بس روٹی روزگار کے وسائل پیدا کر لیں گے۔ لیکن وہ اْدھر جس سائنس سے نکلا ہے، جس علم سے نکلا ہے اْس سے ناآشنا ہو جائے میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی وجہ اْس کی یہ ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم مکمل نظام نہیں ہے۔ اب اگلی بات میں یہ کروں گا کہ یہ حادثتاً نہیں ہے۔ میری سوچ کے مطابق 65ء کی جنگ میں جس طرح سے عوام نے شاعری کا یعنی جنگ عام آدمی نے بھی لڑی اور عام آدمی نے جس طرح سے ردِّ عمل کا مظاہرہ کیا اور بجائے شہروں سے بھاگنے کے جو ہتھیار ملا آگے گئے اور جو ترانے ریڈیو کے ذریعے عام ہوئے اور جو پرانی اقبال کی نظمیں اور ساری چیزیں آئیں تو انھیں پتہ چلا کہ بھئی ہم ناکام کیسے ہوئے فوج کو تو بے خبری میں آپ نے لیا لیکن جب لوگوں کو خبر پڑی تو پھر لوگوں نے اپنی فوج کا ساتھ دیا اس طرح سے ساتھ دیا کہ وہ ہماری ساری بے خبری ہندوستان کی جارحیت یہ ساری چیزیں ایسی تھی کہ ان کیلئے قوم مغلوب نہیں ہو سکتی ان کا کوئی ادارہ بیوروکریسی، یا فوج یا اسی کو سیٹ بیک ہو سکتا ہے لیکن قوم جو ہے وہ سچی پاکستانی ہے اور سچی پاکستانیت اسلام ہی کے تصورات میں سے نکلی ہے ملّایت سے نہیں اسلام کے انقلابی تصورات سے۔

اس کے بعد اس طرح ہوا کہ ہمارے ہاں این جی اوز آئی۔ ساری این جی اوز خراب نہیں ہوتیں جیسے یہ ہمدرد فاؤنڈیشن ہے، ایدھی کی ہے اور یہاں پنڈی میں فیض الاسلام ہے۔ لیکن بہت سی این جی اوز ایسی ہے کہ جنہیں باہر سے فنڈز ملتے ہیں اور ایک فوجی ہماری اٹک کا ہی جب مشرف کا وزیر تعلیم بنا تو وہ اتنا نالائق آدمی تھا کہ اس نے یہ جو ایجوکیشن منسٹری کا سیکرٹریٹ میں پورا فلور ہے وہ این جی اوز کو دے دیا وہ بیٹھے پاکستان کا نصابِ تعلیم بنا رہے تھے۔اب اس سے یہ ہوا کہ نہ ہم دین کے رہے نہ دنیا کے۔ ہماری نسلیں جو موجودہ ہیں وہ بنجر ہیں ان کا ذہن زرخیز نہیں ہے۔ تو ہمیں یہ کرنا ہو گا کہ اپنا نصابِ تعلیم اپنی قومی و ملّی تقاضوں کے مطابق نئے سرے سے ایک مرتبہ ہو جائے۔ آدمی کالج میں جا کے داخلہ ہو جائے تو اس سے پہلے ہی اس کی تربیت ہو جاتی ہے۔

میں یہ بات بار بار لکھتا بھی ہوں اور جب میں بچہ تھا تو پرائمری سکول میں جاتا تھا تو اس وقت ہماری گاؤں میں تمام بچے جو پرائمری سکول جاتے تھے وہ سکول جانے سے پہلے مسجد میں جاتے تھے قرآن پاک پڑھایا جاتا تھا پھر ظہر کے وقت نماز کے بعد سارے بچے تو نہیں جاتے تھے لیکن بیشتر بچے جاتے تھے اور پڑھتے تھے۔ اب وہ جو زمانہ ہے اس زمانے میں قرآن پاک پڑھانے والا ساتھ ساتھ سعدی کو پڑھا رہا ہے، مولانا روم کے حوالے دے رہا ہے بتا نہیں رہا کہ یہ کس کے ہیں تو بڑے ہو کے پتہ چلا کہ اب مجھے رہ رہ کے یاد آجاتی ہے کہ ہماری اگلی نسل اس سے محروم ہیں کہ مسجد میں پرائمری کے سٹوڈنٹ کو جب یہ بتایا جاتا تھا ”پوری انسانیت ایک ہے“ یہ ایک سعدی کی شاعری سے سبق ہے۔ بڑے ہوئے بہت قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ یہ سعدی نے تو قران پاک کا ترجمہ کر دیا ہے ”وَخَلقنَا بَنِی آدَمَ کَنَفسٍ وَاحد“ اب جب ایک پسماندہ سے گاؤں میں نیم خواندہ مولوی سمجھتا ہے کہ قرآن کو سمجھانے کے لیے آپ کو سعدی اور رومی اور شاعری کا واسطہ درکار ہے۔ ادبیات اور دینیات کا یہ جو گہرا رشتہ ہے یہ بہت ہی مثبت ہے ہمارے ذہنوں میں راسخ کر دیا اب یہ نہیں ہے جب سے ہم آزاد ہوئے ہیں پھر سے یہ سوچنا شروع کیا ہے ہم تو مسلمان ہیں بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں ہے کہ ہمارے اندر سے حقیقی اسلام کی روح نکالنے کی خاطر ہمارے بچوں کو یہ این جی اوز جو ہے وہ ایسا نصاب لا کے دے رہی ہے۔

سوال:۔ اچھا ملک صاحب جس طرح بڑے بڑے نام لیے گیے اگر این جی اوز پہ بحث ہوتی ہے سوسائٹی میں کسی ملک میں معاشرے میں اس کی جگہ پہ کوئی اس طرح کہتے ہیں کہ سوسایٹی میں پاور کب آئے گی جس طرح کسی نہ کسی نے تو وہ لازمی کرنا ہے۔ تو اب یہ فرمائے گا کہ کیا یہ ہمارے دانشور کا فیلیئر نہیں ہے کہ ہماری سوسائیٹی فیل ہو تی جاتی ہے؟

جواب:۔ بالکل ہے بالکل ناکامی ہے بات یہ ہے کہ جہاں تک پرائیویٹ ہی ہے سب کچھ یعنی پرائیویٹ ادارے ہیں تعلیم کے وہ بھی اور جو پرائیویٹ ادارے ہیں طالبات کے دونوں کے مقاصد غیر شعوری طور پر ایک ہو کے رہ گئے ہیں خاص طور پر دین کی روح یعنی یہ بات کہ میری نسل کو سکھایا گیا پوری بنی آدم ایک ہی خاندان ہے ایک وجود ہے تو یہ اگر بچوں کو پڑھایا جاتا تو وہ قتل و غارت نہیں کرتے۔ اب دیکھیے سعودی عرب سے، خلیجی ممالک سے جو فنڈنگ ہوتی ہے تو وہ بلا مقصد تو نہیں ہوتی وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ پڑھاؤ۔ میں نے اپنے بچپن میں دیکھا ہے کہ ایک ہی مسجد ہے اْس میں لوگ ہاتھ کھول کے بھی نماز پڑھ رہے ہیں اور ہاتھ باندھ کے بھی نماز پڑھ رہے ہیں۔ شیعہ سنی ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں محرم کے دن آتے ہیں سنی فضائل بیان کرتے ہیں اور شیعہ مصائب بیان کرتے ہیں۔ ایک ہی گاؤں میں اور بعض اوقات ادھر سے اْدھر چلے جاتے ہیں اْدھر سے ادھر آجاتے ہیں کسی کے ایمان میں خلل نہیں پڑتا جو بھی سنی ہے سنی ہے جو بھی شیعہ ہے شیعہ ہے اور کوئی ایسی بات نہیں شیعہ سنی میں شادی بیاہ بھی ہو رہا ہے۔ جب مجھے پہلے پتا چلا کہ آنحضور نے بعض اوقات ہاتھ کھول کے بھی نماز پڑھی تو میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا ا تو انہوں نے کہا اکثر ہاتھ باندھ کے پڑھی ہے لیکن ہاتھ کھول کے بھی پڑھی ہے توتب مجھے پتا چلا کہ اصل بات ہے نماز پڑھنا کس طرح پڑھتا ہے کوئی تو یہ اشتراک عقیدہ کا، عمل کافی نہیں ہے کہ شیعہ سنی ہر مسلک کا آدمی نماز پڑھتا ہے اب کس طرح پڑھتا ہے کوئی آمین اونچا کہتا ہے کوئی دل میں کہتے ہیں تو یہ کوئی جھگڑے کی بات ہے یہ ملّایت ہے۔ تو یہ تب ختم ہو سکتی ہے کہ سائنٹفک شعور کے ساتھ دین کو پڑھایا جائے یونیورسٹی میں یعنی Religious Studies جو ہے وہ اس طرح سے ہوں تو اْس طرح سے نہیں پڑھایا جائے گا جس طرح طالبات کو آج کل تعلیم دی جا رہی جس طرح میں آپ کی سمع خراشی کرتا چلا جا رہا ہوں۔

(جاری ہے، دوسرا حصہ کل ملاحظہ کیجئے)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: