وقت کسی کا نہیں: برلن کا ایک یادگار سفر ۔۔۔ حصہ 2 ۔۔۔ شاہین کاظمی

0

گزشتہ سے پیوستہ:  ہمارا اگلا حدف Potsdamer Platz, Reichstag، Brandenburg Gate تھا۔ یہ سب برلن کے مرکز میں واقع تھے۔

Reichstag یا جرمن پارلیمنٹ کی عمارت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے سامنے گھاس کے خوبصورتی اور نفاست سے تراشے گئے سرسبز باغیچوں میں بہت سے لوگ اندر جانے کے انتظارمیں بیٹھے نظر آئے۔ پارلیمنٹ کی یہ عمارت1894میں تعمیر کی گئی تھی۔ لیکن دوسری جنگِ عظیم نے اسے مکمل طور پر تو نہیں اسی فیصد کھنڈ ر میں بدل دیا اور باقی کا رہا سہا حصہ آگ چاٹ گئی۔ 1960 میں اس کا کچھ حصہ از سرِ نو تعمیر کیا گیا جبکہ1990 میں اسے مکمل طور پر بحال کرنے کے بعد پارلیمنٹ کی عمارت کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔
Brandenburg Gate جرمنی کا ایک مشہور و معروف لینڈ مارک ہے۔ اسے 1788 تا 1791میں Frederick William II of Prussia نے امن کی علامت کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔ آج بھی یہ یورپیئن اتحاد اور امن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بڑے بڑے سنگی ستونوں پر مشتمل یہ ایک بڑا سا دروازہ ہے جس کے نیچے سے پانچ سڑکیں شہر کے مختلف علاقوں کی طرف نکلتی ہیں۔ صاف ستھرے اور انتہائی جدید علاقے میں واقع یہ دروازہ قابلِ دید ہے۔
شدید سردی اور یخ بستہ ہوا چمکتے ہوئے سورج کی حدت نگل رہی تھی۔ بھاری کوٹوں اور جوتوں کے ساتھ دن بھر پیدل چلنا کافی دشوار ہوتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ’’ شوق دا کوئی مُل نئیں،، سو ہم بھی دن بھر آوارہ گردی کرنے کے بعد رات کو بستر پر بیٹھ کر تھکے اور سوجے پاؤں کی مالش کرتے اور اگلے دن کے لئے تیار ہو کر نیند کی وادیوں میں کھو جاتے۔ ہمارے ہوٹل کے سامنے ایک تھیٹر ہاؤس تھا۔ جس کی شیشے کی بڑی بڑی شفاف کھڑکیوں سے اندر کا منظر واضع نظر آتا۔ یوں سونے سے پہلے روایتی کلاسیک کہانیوں پر مہارت سے کیے گئے رقص کا بلا ٹکٹ موقع د ن بھر کی تھکن کم کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتا۔

جنگ عظیم دوم میں نازیوں نے مفتوح علاقوں کے مکینوں اور جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا دنیا اس بے خبر نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس میں بہت سا پروپیگنڈا بھی شامل ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ نازیوں نے سفاکی کی انتہا کردی۔ جرمنی میں جگہ جگہ بنائے جانے والے ’’کنسنٹریشن کیمپس،، کسی بھی حساس دل کو باور کرانے کے لئے کافی ہیں کہ ان جہنم کدوں میں انسانیت کس پستی میں جا گھری۔ یہ بھی سچ ہے کہ جرمنی نے اپنے ان سفاکانہ جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انھیں جراءت اور بہادری سے’’اون،، کیا ہے۔ اسی کوشش کا ایک نتیجہ Memorial to the Murdered Jews of Europe یاHolocaust Memoria l ہے۔ 4.7 ایکڑ کی ڈھلوانی سطح پرپھیلا ہوا یہ میموریل کنکریٹ کی سلیبز یا “stelae” پر مشتمل ایک علامتی قبرستان ہے۔ بظا ہر اس جگہ کچھ خاص نہیں ہے۔ لیکن ایک انتہائی مصروف اور گنجان آباد علاقے میں ہونے کے باوجود اس کی خاموشی اور ویرانی ڈستی ہے۔ ایک عجیب سا احسا س آپ کو جکڑ لیتا ہے اور آزاد نہیں ہونے دیتا۔ آپ کنکریٹ کی ان سلیبز پر بیٹھ کر چشمِ تصور میں ان مظالم سہنے والے بے بس اور ناتواں لوگوں کو ظالموں کے شکنجے میں تڑپتا دیکھتے ہیں۔ لیکن منظر بدلتا ہے۔ تصویرکا ایک اور رخ سامنے آتا ہے۔ کل کے مظلوم آج ظالم کی کرسی پر براجمان اپنے جیسے جیتے جاگتے انسانوں کو درد کی انھی انتہائی منزلوں سے گزار کر قہقہے لگا رہے ہیں جن سے کل ان کے آباؤ اجداد یا ان کی قوم کو گزارا گیا تھا۔ میرے لئے مظلوم سے ظالم تک کا یہ سفر ناقابلِ یقین تھا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم اپنے اندر کا غبار اور غصہ نکالنے کے لئے ہمیشہ کمزوروں کا انتخاب کرتے ہیں؟یا طاقت پا کر کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ ابدی نہیں ہے؟ کوئی ایک دن ایسا آئے گا جب منظرنامہ پھر سے تبدیل کر دیا جائے گا۔ سورج کبھی بھی ایک جیسی بلندی اور ایک ہی جگہ پر نہیں رہا۔ مشرق سے اُگتے سورج کو مغرب میں ڈھلنا ہی ہوتا ہے۔ وقت انسان کو کتنا بدل پایا؟ کیا انسان کی خونی جبلت کبھی مکمل تبدیل ہو پائے گی؟ میں بہت دیر تک اُس یخ سلیب پر بیٹھ پر ماضی و حال کے ورق الٹتی رہی لیکن انسانی فطرت کی تہہ داری کھل نہ سکی۔

برلن سے 35 کلو میٹرز کی دوری پر Oranienburg میں واقع Sachsenhausen concentration camp ہماری اگلی منزل تھی۔ میں نے نازی کیمپوں میں ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں بہت کچھ پڑھا، سنا اور دیکھا تھا۔ سچ پوچھیں تو مجھے یہ کیمپ دیکھنے کا بہت’’چا،، تھا۔ اُس دن سورج بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ حسب معمول بھاری بھرکم کوٹ اور جیکٹیں چڑھائے ہم Oranienburg پہنچے۔ یہ ایک چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے۔ جس کی خاموشی گاہے بگاہے باہر سے آنے والے سیاح توڑتے رہتے ہیں۔ وہیں چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے امبس میں دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ہم Sachsenhausen concentration camp کی طرف روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر میں کیمپ کے بیرونی احاطے کا بڑا سا داخلی دروازہ ہمارے سامنے تھا۔ وہیں بنے ہوئے استقبالیہ کاؤنٹر سے ایک آلہ حاصل کیا جس میں کیمپ کے ہر حصے کی تفصیل مختلف زبانوں میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

کیمپ کے اندر جانے والی “T” شکل کی سڑک جس کے دائیں کنارے پر کیمپ کے ملازمین کے رہائش گاہیں اور دوسرے سرے پر کیمپ کی اندرونی عمارت اور کیمپ کی دو منزلہ استقبالیہ بلڈنگ تھی جہاں کسی زمانے میں بھاری مشین گن نصب کی گئی تھی جسکی گولیاں کبھی بھی کسی وقت بھی قیدیوں کو چاٹ سکتیں تھیں۔ ہمارے ساتھ دنیا بھر سے آنے والے اور بھی سیاح تھے۔ سب کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ” T” کے آخری سرے سے پہلے ہی کیمپ کی اندرونی دیوار، اس پر لگی خاردار آہنی باڑ اور جگہ جگہ بنائی گئیں چیک پوسٹس نظر آنا شروع ہو گئیں تھیں۔ دیوار کے ہر دس فٹ کے فاصلے پر بنائے گئے ستونوں کے درمیانی حصے میں قیدیوں کی تصاویر اور مختصر تاریخ نے ہم سے جوش کے ساتھ ساتھ ہوش بھی چھین لیے۔ شاید اس سے پہلے کسی کو بھی پوری طرح اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا دیکھنے والے ہیں۔ لیکن اس جہنم کی ایک ہلکی سی شکل واضع ہوئی تو روح تک میں کپکپی کا احساس جاگ اٹھا۔

Sachsenhausen concentration camp میں 1936 سے 1945 جنگی و سیاسی قیدی رکھے جاتے رہے۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق روسی افواج سے تھا۔ نازی کیمپوں کو ان کی دہشت ناکی کی وجہ سے اکثر ’’ ڈیتھ کیمپس،، بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کیمپ جرمنی کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے جہاں کھلے بندوں کئی سالوں تک موت کا کاروبار ہوتا رہا۔ ان میں Auschwitz کا کیمپ اپنی بے مثال سفاکی اور دہشت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا یہ کیمپ پولینڈ کی شمالی سرحد پر واقع ہے۔ یہ وہ کیمپ ہے جہاں مشہورِ زمانہ ڈاکٹر جوزف مینگلے نے اعلیٰ ترین جرمن نسل پیدا کرنے اور جڑواں بچوں پر مختلف سائنسی تجربات کرنے کے لئے چھ ہزار بچوں اور لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ Auschwitz اپنے وقت کا ایک ایسا جہنم کدہ تھا جہاں سفاکیت کی ایک نئی مثال قائم کی گئی۔ آج بھی وہاں ٹنوں کے حساب سے محفوظ کئے بال۔۔ کہ کیمپ میں داخلے کے وقت بلا امتیاز صنف و جنس تمام قیدیوں کے جسم کے ہر حصے سے بال اتار دئیے جاتے تھے۔ لاکھوں کی تعداد میں مختلف سائز کے جوتے۔۔ کہ ہر قیدی کو کیمپ کی طرف سے پہننے کے لئے لکڑی کے کھڑاویں نما جوتے دئیے جاتے تھے۔ بیساکھیاں اور وہیل چیئرز۔۔۔ کہ کسی بھی لحاظ سے معذور افراد، بوڑھے اور بچوں کو فی الفور گیس چیمبر میں بھیج دیا جاتا۔ قیدیوں کے زیر استعمال تام چینی کے مگ اور پیالے آج بھی محفوظ ہیں۔

یا گیا۔ شاید آج بھی وہاں انسانی کھال سے بنائے گئے ٹیبل لیمپس کے شیڈز کہیں محفوظ ہونگے جو قیدیوں کے زندہ جسموں سے جبراََ اتاری اور شیڈز پر منڈھی جاتی رہی۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ شغل ایک خاتون فرماتی رہیں۔ اس نے نہ جانے کتنے قیدیوں کو محض اپنی تفریح طبع کے لئے موت کی نیند سلا دیا۔ معمولی غلطی پر ان کی کھالیں کھنچوا کر شیڈز پر منڈھنا اور ان سے اپنے گھر کی زینت میں اضافہ کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ آج بھی کہیں وہ جھیل موجو د ہے جس کا پانی کرینیٹوریم میں جلائے جانے والے انسانی جسموں کی بچی کچھی راکھ کی وجہ سے آج بھی سیاہی مائل سرمئی ہے۔ اس جھیل میں وہ راکھ سالوں تک ڈمپ کی جاتی رہی۔

بات کہیں دور جا نکلی۔ بات ہو رہی تھی Sachsenhausen concentration camp کی۔ یہ سب سے پہلا کیمپ تھا جو نازیوں نے جنگی اور سیاسی قیدیوں کے لئے تعمیر کیا۔ اس کے مرکزی دروازے پر ایک نعرہ درج ہے”Arbeit macht frei” یعنی کام آزادی بخشتا ہے۔ یہاں رکھے جانے والے قیدیوں سے بیگار کا کام لیا جاتا تھا۔ قیدیوں کو سرد موسم اور ناکافی لباس میں روزانہ کئی کئی میل پیدل چلا کر کام کی جگہ پر لے جایا جاتا۔ خوراک نہ ہونے کے برابر تھی۔ پانی کی طرح پتلا شوربہ نما سوپ اور سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا دن بھر بس اتنا ہی راشن ہر قیدی کو دیا جاتا تھا۔ گھنٹوں شدید مشقت کے بعد پھر وہی میلوں کا پیدل سفر ٹھنڈ، بھوک اور تھکن۔۔ کئی قیدی راستے میں ہی دم توڑ دیتے۔ انھیں مختلف سائنسی تجربات کی بھینٹ بھی چڑھایا جاتا۔ ڈرگز کا انسانی جسم پر ردعمل جاننے کے لئے کسی بھی قیدی کو چن کر دنوں اذیت سے گزارا جاتا۔ غیر انسانی سزاؤں کے لئے یہ کیمپ بہت مشہور تھے۔

کیمپ میں صرف تین بیرکس موجود تھیں باقی سب کو مسمار کیا جا چکا ہے۔ ان تین میں سے ایک کچن کی عمارت اور سٹور رومز تھے جہاں کھانے پینے کی اشیاء سٹور کی جاتی تھیں۔ دوسری عمارت لانڈری کی تھی جہاں قیدی اپنے کپڑے دھوتے تھے۔ تیسری عمارت اسپتال کی تھی۔ جہاں علاج کے بہانے قیدیوں کو نت نئے سائنسی تجربات کی بھینٹ چڑھایا جاتا۔ اسپتال کی اوپری منزل کو اب میوزیم اور آڈیو ویوژل لائیبریری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ تہہ خانہ جو اس وقت مردہ خانہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ میں جب تہہ خانے میں اتری تو دو کمروں سے آگے جانے کی ہمت نہ کر پائی۔ یہ نہیں کہ وہاں روشنی نہیں تھی یا میں اکیلی تھی۔ دن کے اجالے کی سی روشنی اور ساتھ میں کئی دوسرے سیاحوں کے ہونے کے باوجود میں آگے جانے کی ہمت نہیں کر پائی۔ ایک عجیب سی بے چین کردینے والی کیفیت نے قدم روک لئے۔

بہت بڑے اور ویران احاطے کے اُس پار کہیں گیس چیمبرز اور کرینیٹوریم تھے جہاں غسل کے بہانے لے جا کر قیدیوںکو گیس کے ذریعے موت کی نیند سلا دیا جاتااور ان کی لاشوں کو کرینیٹوریم کی نذر کر دیا جاتا۔ ہم میں سے کوئی بھی وہاں جانے پر تیار نہ ہوا۔ اس جگہ کی ہولناکی کا دل و دماغ پر بہت گہرا اثر تھا جو کئی ماہ۔۔۔۔ بلاشبہ کئی ماہ تک برقرار رہا۔ مجھے لگا سارے قیدی میرے گرد جمع ہیں۔۔۔۔ اپنے اپنے دکھ کہتے ہوئے۔۔۔۔ اپنی اپنی حسرتوں کی کہانیاں سناتے ہوئے۔۔۔۔ میں وہاں سے واپس آنے کے بعد کم از کم ہفتہ بھر تو رات کو کمرے کی بتی نہ بجھا سکی اور نہ اس خوف کی کیفیت سے نکل سکی۔ میرا خیال ہے اس کیفیت کو خوف کہنا بجا نہ ہو گا۔ شاید میرے پاس اس کیفیت کو بیان کے لئے کوئی مناسب لفظ نہیں ہے۔ بس ایک عجیب سا بے چین کر دینے والا احساس تھا۔ انسانی فطرت کیا ہے؟ جبلت کیا ہے؟ انسان اپنے جیسے انسانوں کو انسان سمجھنا کیوں چھوڑ دیتا ہے؟ آج تک نازل ہونے والی آسمانی کتابیں انسان قلب پر کندہ قابیلی نقش کو کس حد تک مٹا پائیں؟جس دن قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اس وقت سے لے کر آج تک کس قدر خونِ ناحق بہایا جا چکا ہے مگر مقامِ حیرت ہے کہ آج تک انسان کی خون کی یہ پیاس نہیں بجھی۔ آج بھی قلبِ انسانی رحمت سے خالی اور ظلم سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے سینے میں آج بھی غیظ و غضب کا ایک سمندر موجرن ہے۔ اگر تاریخِ عالم کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانوں نے اپنے جیسے انسانوں پر ایسے ایسے ظلم روا رکھے جنہیں سوچ کر ہی دل سینوں میں خون ہونے لگتے ہیں اور انسان ورطہ ء حیرت میں ڈوب جا تا ہے کہ انسانیت ذلت کی ایسی اتھاہ گہرائیوں میں بھی گر سکتی ہے؟ کیا دل سختی میں اس قدر بڑھ سکتے ہیں کہ ان سے ہیرے کا جگر د ولخت کیا جا سکے؟

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: