وقت کسی کا نہیں: برلن کا ایک یادگار سفر ۔۔۔ حصہ 1 ۔۔۔ شاہین کاظمی

0
  • 53
    Shares

کچھ زمینوں پر وقت جیسے منجمد سا ہو جاتا ہے یا اُس کے نقوش اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ کئی دہائیوں کے بعد بھی اِن سے لہو رستا محسوس ہوتا ہے۔ جرمنی بھی انھیں زمینوں میں سے ایک ہے جہاں وقت کی سفاک انگلیوں سے لگائی گئی کھرونچیں اَن مٹ ہیں۔ اس کے گلی کوچے، درویوار اس بات کے گواہ ہیں کہ وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا۔ آپ لاکھ اسے تابع کرنے کی کوشش کریں یہ اپنی سفاکیت دکھانے سے باز نہیں آتا۔ یہی کچھ جرمنی کے ساتھ ہوا۔ صرف پچھلی ایک صدی کی تاریخ ا ٹھا کر دیکھ لیں جرمنی نے اپنی عسکری طاقت اور نسلی تفاخر کے بل بوتے پر وقت کو تسخیر کرنا چاہا اور اس کے لئے ہر حد پار کی۔ لیکن کیا ہوا؟ اسی وقت نے اس کے چہرے پر ایسے نقوش چھوڑے کہ آنے والی نسلوں کے لئے اذیت کا سامان تو ہیں ہی باعثِ شرمندگی بھی ہیں۔

شاہین کاظمی

اس سے قبل بھی جرمنی جانے کا بارہا اتفاق ہوا۔ مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار جرمنی گئی تو مجھے ہر طرف سے یلغار کرتے جرمن ٹینکوں کی گھن گرج سنائی دے رہی تھی۔ ایک عجیب سا احساس ذہن و دل کو جکڑے ہوئے تھا لیکن اپنے پیاروں سے ملنے کے بعد یہ احساس جلد ہی زائل ہو گیا۔

جرمنی کا ایک یاد گار سفر جرمن درالخلافہ’’برلن،، کا تھا جس نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کرسمس سے کچھ پہلے ہونے والی چھٹیوں میں سال بھر کی کلفت اور تھکن مٹانے کے لئے طے پایا کہ گھر سے باہر نکلنا از بس ضروری ہے۔ اس بار سردیاں کچھ عجیب سی تھیں۔ سرد اور خشک ہوا سبزے سے زندگی نچوڑ کر اسے مٹیالے رنگ میں رنگ چکی تھی۔ لیکن برف کی پری کچھ ناراض سی تھی اسی لئے تو ابھی تک اپنے سرمائی محل سے نیچے نہیں اتری تھی۔

دسمبر اور برف کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ نومبر کے آخری ہفتے میں ہی کرسمس کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ دھند، انتہائی سرد موسم، ہر طرف جگمگاتے برقی قمقمے اور سفید پیراہن اوڑھے ماحول کی خوبصورتی کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنا بہت مشکل ہے۔ کرسمس گو ہمارا تہوار نہیں ہے لیکن سکول کے بچوں کے ساتھ اس کی تیاری کا اپنا ایک خاص لطف ہے۔ رات کے وقت گلیوں بازاروں کے مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جگہ جگہ لگائے گئے’’گلو وائن،، کے ٹھیلے اور ان سے بلند ہوتے قہقہے، ہڈیوں کو چیرتی سرد ہوا اور پیروں تلے چرچراتے زرد پتے اور برف کے ذرات سب مل کر دسمبر کو بہت خاص بنا دیتے ہیں۔

زیورخ ایئر پورٹ سے برلن کا سفر صرف ڈیڑھ گھنٹے کا تھا۔ شام چار بجے کے لگ بھگ ہم برلن پہنچے تو سورج اپنی مغربی فنا گاہ میں اترنے کی تیاری کر رہا تھا۔ سردیوں میں ویسے بھی دن بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن سہ پہر کے ساڑھے چار بجے ہی رات کی گہری تاریکی میرے لئے کافی حیرت کا باعث تھی۔ ہم ائیر پورٹ سے باہر آئے تو رات مکمل طور پر چھا چکی تھی۔ سرد ہوا اور دھند نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔ ہوٹل پہنچے تو شا م کے ساڑھے پانچ بج چکے تھے لیکن اندھیرے کو دیکھ کر آدھی رات کا گمان ہوتا تھا۔

سامان رکھنے اور فریش ہونے کے بعد شام کا کھانا کھانے باہر نکلے تو گلی کوچوں میں سائیں سائیں کرتی سرد ہوا نے ہوش اڑا دئیے۔ گھبرا کر ایک قریبی ریسٹورنٹ میں پناہ تلاش کی۔ ریسٹورنٹ کا مالک سرعت سے لپکا اور ہمارے بھاری بھرکم کوٹ اور جیکٹس لے کر لٹکائیں اور میز پر شمع روشن کر کے ہمیں بیٹھنے کی دعوت دی۔ وہ بھاری تن و توش کا بہت خوش مزاج شخص تھا۔ اس کے لہجے سے ہم اسے ترکش سمجھے لیکن پوچھنے پرمعلوم ہوا کہ وہ البانین ہے۔ ریسٹورنٹ بہت چھوٹا مگر گرم اور دوستانہ ماحول سے آراستہ تھا۔ ’’شیف،، نے بڑی محبت سے گرما گرم کھانا سرو کیا اور تمام وقت اپنی باتوں اور لطائف سے ماحول کو خوشگوار بناتا رہا۔

برلن بھی کرسمس کی روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ کرسمس سے پہلے ہر علاقے میں ’’کرسمس مارکیٹ،، لگائی جاتی ہے جس میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ کرسمس کے خاص تحائف اور بچوں کے لئے جھولوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ کھانا کھا کر باہر نکلے تو بلند عمارتوں کے پیچھے سے اُمڈتا روشنی کا سیلاب اپنی طرف بلانے لگا۔ یہ اس علاقے کی کرسمس مارکیٹ تھی۔ بڑے بڑے مصنوعی دروازوں کے اطراف میں رینڈیئرز اور ’’سانتا کلاز،، کی سلیجز کے ساتھ ساتھ پیتل کی گھنٹیاں بھی سجائی گئی تھیں۔ ٹنڈ منڈ درختوں پر اٹکائے گئے برقی قمقمے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے درخت پر روشنیاں اُگ آئی ہوں۔ ایک جگہ ’’سانتا کلاز،، کا قدِ آدم مجسمہ بنا کر نہایت نفاست سے کرسی پر ٹکایا گیا تھا۔ رات کے دس بج رہے تھے لیکن مارکیٹ کی جولانیاں عروج پر تھیں۔ تیز موسیقی کے ساتھ کوئلوں پر پکائے جانے والے’’ہاٹ ڈوگس،، اور گوشت کے پارچوں کی مہک فضا میں چکراتی پھر رہی تھی۔ چند بے فکرے ’’گلو وائن،، کے سٹال پر بھی شغل کرتے نظر آئے۔ ایک سٹال پر ’’جیکٹ پوٹیٹوز،، کی اشتہا انگیز مہک نے قدم جکڑ لئے اور کھانا کھانے کے باوجود کوئی بھی انکار نہ کر سکا۔ سرد موسم میں گرم گرم ابلے ہوئے آلو پر پگھلتا پنیرکھانے کا اپنا مزہ ہے۔

برلن دریائے شپرئے او ر دریائے حافل کے کنارے آباد یورپی یونین کا شہری آبادی کے لحاظ سے ساتواں بڑا شہر ہے۔ صبح شام کے کاروباری اوقات میں لوگوں کا ایک سیلاب سڑکوں پر اُمڈ آتاہے بسیں، ٹرامیں اور زیر زمین ریلوے کی چھوٹے چھوٹے کمپارٹمنٹس پر مشتمل صاف ستھری ریل گاڑیاں انتہائی مستعدی سے لوگوں کو ان کی منزلِ مقصود تک پہنچانے کا کام سر انجام دے رہی ہوتی ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر تباہ و برباد برلن شہر کھنڈر کا نظارہ پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف ٹوٹی پھوٹی عمارتیں، ادھڑی ہوئی سڑکیں، جلی ہوئی گاڑیاں تباہ شدہ ٹینک اور پناہ کی تلاش میں بھوک اور سردی کے ستائے ہوئے لاکھوں لوگ مارے مارے پھر رہے تھے۔ ایک خوبصورت ثقافتی شہر اتحادیوں کی اندھا دھند بمباری کی بھینٹ چڑھ کر مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ خوراک ختم ہو چکی تھی۔ لوگ ٹوکریوں میں پیسے بھر ایک وقت کا کھانا خریدنے کی کوشش کرتے لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ برلن پر یلغار کرنے والی اتحادی فوجوں نے جرمنوں کے لگائے گئے زخموں کا بڑی دیانت داری سے بدلہ لیا۔ خراش کے بدلے گھاؤ۔ سفید روس سے آنے والے فوجیوں کی ہیبت سے تباہ حال برلن کے تباہ حال مکین شدید خوفزدہ تھے۔ ہٹلر اور اس کے ساتھی اپنی قوم کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود راہ فرار حاصل کر چکے تھے۔ کچھ نے تو زندگی سے ہی فرار حاصل کر لیا۔ اس کڑے وقت میں تباہ حال برلن کے بے بس شہریوں پر کیا بیتی یہ ایک الگ داستان ہے۔ سڑتی ہوئی لاشوں کے ساتھ جنسی عمل پر مجبور کردی گئی بچیاں اور خواتین کس عذاب سے گزریں تاریخ اس بارے میں خاموش ہے۔ پچاس پچاس اتحادی فوجیوں کی جنونیت کے شکار چھلنی جسموں پر کبھی کوئی کتھا نہیں لکھی گئی۔ اگر لکھا گیا تو جرمن کنسنٹریشن کیمپس پر۔ اتحادی کنسنٹریشن کیمپس کیا ہوئے کوئی نہیں جانتا۔ تاریخ کا دھارا اُس وقت مکمل ہوتا ہے جب تصویر کے دونوں رخ سامنے لاکر رکھ دئیے جائیں۔ اگر وقت کی اس کتاب سے کوئی ایک ٹکڑا بھی غائب ہو تو کہانی بدل جاتی ہے۔ یہی رسمِ دنیا ہے۔ ازل سے کہانیاں بدلتی رہی ہیں۔ طاقت، جبر اور ظلم نے جو چاہا دکھایا۔ بے بسی اور مظلومیت نے ہر الزام نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کیا۔ وقت کی آنکھ میں وہ سارے مناظر محفوظ ہیں۔ وہ ان لمحاتی خداؤں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ ان کے خود ساختہ جاہ و جلال زیر لب مسکراتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ تم سے پہلے بھی بہت گزرے جنہیں اپنی طاقت اپنی دولت پر بڑا ناز تھا۔ جو اپنے خالق کے مدمقابل کھڑے ہو ئے لیکن میں نے انھیں مٹی کر دیا۔ آج ان کا نشان تک باقی نہیں۔ وہ ہر ایسے جابر کو یہی بتایا ہے صراطِ مستقم کی تلقین کے ساتھ۔ لیکن اس کی آواز سماعتوں پر لگی مہروں سے ٹکرا کر پلٹ جاتی ہے۔ بھوک خوف بے گھری اور جنسی درندگی کا شکار ہونے کے باوجود اس وقت برلن کی تباہ حال خواتین نے اپنی مدد آپ کے تحت برلن شہر کی صفائی کا بیڑا اٹھایا اور دن بھر کئی کئی گھنٹوں کی رضا کارانہ مشقت سے عمارتوں کے ملبے سے قابلِ استعمال اشیاء اور باقی سکریپ الگ کیا جاتا۔ ملبے سے ملنے والی لاشوں کو جلانے کا کام بھی رضاکارانہ بنیادوں پر کیا جارہا تھا۔ یہ سلسلہ اتحادی فوجوں کے برلن کو چار حصوں میں تقسیم کرنے اور انتظامی امور سنبھالنے کے بعد بھی جاری رہا۔

اتحادی فوجوں کے انتظام سنبھالنے کے فوراََ بعد برلن کی تعمیر نو کا کام شروع ہوا۔ آج اقتصادی اور صنعتی لحاظ سے برلن کا شمار ترقی یافتہ ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ لیکن اس کے چہرے پر لگے اس دور کے زخم بھدی اور بے ڈھنگی عمارتوں کی شکل میں جابجا موجود ہیں۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ برلن میں تعمیر ہونے والی عمارتوں کے پیچھے’’ ڈنگ ٹپاؤ،، جیسا کوئی جذبہ کار فرما تھا۔ اسی لیے تو ایک کے بعد ایک عجیب بے ڈھنگی اور بھدی طرزِ تعمیر کی عمارات زمین کے سینے پر ابھرتی چلی گئیں۔ یا کم از کم مجھے ایسا محسوس ہوا۔ لیکن سیمنٹ کی آسمان سے باتیں کرتی عجیب طرز کی عمارتیں دیکھ کر ذہن میں کوئی دوسرا خیال آتا بھی نہیں۔

دوسرے دن ہم تیار ہو کر ناشتے کے لئے ہال میں پہنچے تو پہلے سے بہت سے لوگ وہاں موجود تھے۔ بڑی بڑی میزوں پر کھانے پینے کی بے شمار اشیاء موجود تھیں ڈٹ کر ناشتہ کرنے کے بعد چند ابلے ہوئے انڈے کیک اور پھل اپنے پاکستانی ہونے کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے ’’ بعدمیں کھانے،، کی غرض سے بیگ میں بھر لئے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر قریبی شاپنگ سینٹر کا رخ کیا۔ پانی، جوسز، پھل اور کچھ دوسری اشیاء خریدنے اور انھیں کمرے تک منتقل کرنے کے بعد یہ طے پایا کہ سیر کا آغاز ’’دیوارِ برلن،، سے کیا جائے۔

1949 میں مشرقی اور مغربی جرمنی میں فیڈرل ریپبلک جرمنی اور مارکسسٹ لیننسٹ جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بعدمیں ہونے والی سرد جنگ اور مشرقی جرمنی سے آنے والے مہاجرین کو روکنے کے لئے 1961 میں ’’دیوارِ برلن تعمیر کی گئی جس نے ہزاروں دلوں اور خاندانوں کو کاٹ کر رکھ دیا۔ دس فٹ بلند اور سینکڑوں میل طویل یہ دیوار برلن کو تو دو حصوں میں تقسیم کر ہی رہی تھی لاکھوں دلوں اور محبت میں بھی حائل ہو گئی۔ خاندان ایسے تقسیم ہوئے کہ کئی دھائی تک ایک دوسرے کو دیکھنے سے بھی گئے۔ یہ وقت جنگ کے ہولناک ’’آفٹر شاکس،، سہتے جرمنوں پر ایک اور قیامت بن کر ٹوٹا۔ ایک ہی شہر میں چار نظامِ تعلیم۔ روسی، انگلش (برطانوی اور امریکی) اور فر انسیسی سکیھتے جرمن بچے اپنی زبان بھولنے لگے۔ تاوقتیکہ1989 میں ایک لمبے تکلیف دہ عرصے کے دیوارِ برلن کو گرا کر برلن کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ملا دیا گیا۔ دیوارِ برلن کی کچھ باقیات یادگار کے طور پر سنبھال لی گئیں۔ بس کے ایک گھنٹے کے سفر اور پھر تھکا دینے والے پیدل راستے کے بعد دیوارِ برلن سامنے آئی تو شدید دھچکا سا لگا۔ یہ جگہ تصویروں اور ہمارے تصور سے یکسر مختلف تھی۔ عام سی کنکریٹ کی پتلی اور تقریباََ دس فٹ بلند دیوار کا اندازََ پچاس میٹرز کا ٹکڑا ہمارے سامنے تھا۔ جس پر مختلف رنگوں اور عجیب غیر مانوس سے رسم الخط میں ہر جگہ کچھ نہ کچھ لکھا ہوا تھا جس نے دیوار کی اصلیت کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا تھا۔ کئی جگہ ’’نائٹ کلبس،، کے اشتہارات بھی نظر آئے۔ سردی تھکن اور دیوار کو دیکھ ہونے والی کوفت نے بھوک جگا دی۔ ہم نے وہیں ایک اداس سی سڑک کے کنارے بنے گھاس کے ایک سرسبز قطعے پر بیٹھ کر’’بعد میں کھانے،، والے انڈے پھل اور راستے سے لیا گیا سلاد نوش کیا اور کچھ دیر سستانے کے بعد اپنی اگلی منزل Fernsehturm کی طرف روانہ ہوئے۔

Fernsehturm یا ٹی وی ٹاور 368 میٹرز کی بلندی کے ساتھ الیگزینڈر پلاٹس Alexanderplatz پر واقع برلن کی سب سے بلند عمارت ہے۔ اوپر جانے کے لئے جدید لفٹس ہیں جو باوردی گارڈز کے زیر نگرانی کام کرتی ہیں۔ ٹاور کے اوپر بنی ہوئی گیند نما وسیع و عریض جگہ پر ایک خوبصورت ریسٹورنٹ ہے۔ چاروں طرف بنی شیشے کی کھڑکیوں سے برلن شہر کا ہوشربا نظارہ دکھائی دیتا ہے۔

گولائی میں بنائی گئی شیشے کی کھڑکیوں کی ساخت ایسی ہے کہ آپ باہر تو دیکھ سکتے ہیں لیکن کھڑکیوں کے قریب جانا لوہے کے موٹے جنگلے کی وجہ سے ناممکن ہے۔ اوپر بنایا گیا ریسٹورینٹ لوگوں سے بھرا ہوا تھاجن میں سے بیشتر کے سامنے بیئر یا شراب کے گلاس دھرے ہوئے تھے۔ ہم لوگوں نے خاموشی سے وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت جانی۔
رات کے کھانے کے لئے ایک قریبی ہوٹل کا انتخاب کیا گیا جو کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ یورپ میں دسمبر کے مہینے میں ایک خاص رواج ہے۔ تما م کمپنیاں، سکولز اور دفاتر وغیرہ اپنے ملازمین کو ’’کرسمس ڈنر،، پر مد عو کرتے ہیں۔ ہم ہوٹل پہنچے تو اس وقت بھی دو بڑی ڈنر پارٹیاں وہاں موجود تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ’’جرمن شیف،، نے تقریباََ آدھا رکوع میں جاتے ہوئے ہمارے لیے ایک میز پر جگہ بنا دی۔ جرمنی میں ہمارا کھانے پینے کا تجربہ بہت یادگار رہا تھا۔ جرمن شیف اور ویٹرز بہت خوش اخلاق اور کھلے ڈھلے تھے۔ بہت ہی دوستانہ ماحول میں اپنے گاہکوں کو کھانا سرو کرنا شاید وہاں کے مزاج میں شامل تھا۔ کھانا سامنے آیا تو بڑی بڑی بھری ہوئی پلیٹیں دیکھ کر ہمیں لگا کہ شاید یہ غلطی سے سرو کیا گیا ہے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ کھانے کا ایک عمومی’’پورشن،، اتنی ہی مقدار میں ہوتا ہے جو ہم جیسے ’’کم خوراک،، اور ’’ڈائٹ کے مارے،، لوگوں کے لئے قدرے حیرت کی بات تھی۔ پہلے تجربے کے بعد یہ ہوا کہ ہم نے فی کس آرڈر کرنے کی بجائے’’اتفاق میں برکت ہے،، پر عمل کرتے ہوئے دو یا تین کھانے آرڈر کرنے شروع کئے۔ یہ تجربہ کھانے اور پیسے دونوں کے زیاں سے بچاتا رہا۔

——— جاری ہے ———

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: