مادے اور احساسات کا گٹھ جوڑ: زید محمود

2
  • 2
    Shares

ہمارے جذبات اور احساسات دراصل جسم کے اندر ہونے والی حیاتیاتی, کیمیائی اور رویے کی تبدیلیوں کے ساتھ پیچیدہ، ذہنی تجربہ ہے۔

 جذبات, احساس، سوچ بھی در حقیقت ہمارے اعصابی نظام، جسمانی تبدیلیوں، اور چہرے سے احساسات کے اظہار اور نقوش میں ہونے والی تبدیلیوں پر اور رویوں کی اتارچڑھاؤ پر مشتمل ہے۔ مختلف لوگوں کے محسوسات اور جذبات کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں۔ عموما لوگ اپنے جذبات کے ماخذ اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں سے پریشان بھی ہوتے ہیں اور انکے نزدیک یہ انسانی عقل سے ماورا ہیں گویاکہ ان پر گفتگو نہی کی جا سکتی انکو الفاظ سے بیان نہی کیا جا سکتا اور ان پر قابو پانا ناممکن ہے۔

انسان کی ہر حرکت اسکے رویے کا اتارچڑھاؤ اور مثبت و منفی احساسات ایک مربوط طریقہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں اور جسم کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں احساسات کا محرک ہیں۔ بنیادی طور پر انسانی جذبات اسکی جسم میں وقوع پذیر ہونے والی مختلف نفسیاتی و جسمانی اور کیمیائی تبدیلیوں کے مرہون منت ہوتے ہیں

انسانی جسم میں پیغام رسانی دو طرح کے میکانزم سے ہوتی ہے۔

1۔ نروس سسٹم
2۔ اینڈوکرائن سسٹم

اول الذکر میں انسان کی پورے جسم کی حرکات جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں وہ ایک انتہائی باریک تاروں کے جال کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور اسکا تعلق دماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے ہے۔ انسان کا ماحول میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے نتیجے میں جو ہمارے مختلف اعضاء جو جواب دیتے ہیں وہ نروس سسٹم کے مرہون منت ہے۔ یہ ایک کمپیوٹر کے برانچڈ نیٹورک کی مانند ہیں۔

ثانی الذکر میں انسانی جسم میں مخصوص قسم کے خلیات سے نکلنے والے کیمائی مادے اور ہارمونز جنکی ترسیل خون کے ساتھ ہوتی ہے ایک مخصوص قسم کے خلیات (cells) سے نکلتے ہیں جنہیں اینڈوکرائن(Endocrine) سیلز کہا جاتا ہے۔

یہ ہارمونز انسانی محسوسات کو کنٹرول کرتے ہیں۔
ان میں سے چند ایک کو یہاں بیان کرنے کی کوشش کروں گا کہ کونسا ہارمون کس قسم کے محسوسات اور جذبات کا ذمہ دار ہے۔ ان چند ہارمونز کے نام اور انکی زیادتی یا کمی کی صورت میں ہم کونسے احساسات کا سامنا کرتے ہیں۔

ایسٹروجن:

یہ صنف نازک کی اووریز سے نکلنے والا بنیادی جنسی ہارمون ہے۔ انکے کیمیائی کردار کو بیان کرنا مقصود نہیں ہے سو جب اسکا لیول بڑھتا ہے تو خواتین کو شدید بے چینی اور موڈ سوِنگز گویا کہ پل میں تولہ پل میں ماشہ والی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ہارمون کے نارمل لیول سے ہٹنے کی صورت میں ان میں چڑچڑاپن اور کنفیوژن والے کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پروجیسٹرون:

یہ بھی ایک تولیدی ہارمون ہے جو اہم کردار ادا کرتا ہے اور انسانی دماغ ہر گہرا اثر ڈالتا ہے سو جذبات (ایموشنز) بھی اسکے بڑھنے یا کم ہونے کی صورت میں تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ ہارمون اچھی اور پرسکون نیند اور جنسی طلب کو بہتر بناتا ہے۔ نارمل لیول سے ہٹنے کی صورت میں انسومنیا (نیند کا غائب ہو جانا) سر درد اور بے چینی جیسی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹیسٹو سٹیرون:

یہ خالص مردانہ ہارمون ہے جو انسان کی جنسی صلاحیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسکی کمی کی صورت میں پریشانی, دباؤ, موڈ سوِنگز اور ڈیپریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایپی نیفرین اور نار ایپی نیفرین:

یہ دونوں ایڈرینالیں اور نار ایڈرینالین بھی کہلاتے ہیں جو کہ گردوں کے اوپر پائے جانے والے غدود سے نکلتے ہیں یہ شدید گھبراہٹ, دہشت اور ہنگامی صورتحال میں کام کرتے ہیں۔ کسی بھی ناگہانی آفت یا مصیبت کی صورت میں یہ ہارمونز سٹریس ہارمونز کو ریلیز کرواتے ہیں جس سے فشار خون (blood pressure) بلند ہو جاتا ہے جسکے نتیجے میں جسم کا درجہ حرارت,خلیات میں ہونے والے سرگرمی(میٹابولزم) اور دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے جو انسان کو متوجہ اور ہوشیار رکھتی ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے۔

ایپی نیفرین ہارمون کی وہ قسم ہے جو گردوہیش کے ماحقل کے مطابق جذبات جیساکہ ڈر, خوف, جوش, خوشی اور غصہ جیسے جذبات کا ذمہ دار ہے۔

سیروٹونن:

 اسکےاخراج کا تعلق آنتوں اور خون کی نالیوں سے ہے یہ قدرتی طور پر اینٹی ڈپریسنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ انسان کو سارا دن چست و توانا اور پرسکون رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسکی کمی کی صورت میں انسان غصیلاپن اور جھگڑالو طبیعت کا مالک بن جاتا ہے اور یہ کیفیت انسان میں ڈیپریشن اور حساسیت پیدا کرتی ہے۔

گابا (Gamma aminobutyric acid (GABA):

یہ ایک نیوروٹرانسمیٹر ہے جو بڑھوتری ہارمونز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ دباؤ اور بے چینی کی کیفیات کو تحلیل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی آرام دہ نیندمیں معاون ہوتا ہے۔ اسے مسکن ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کمی کی صورت میں انسان کو بےچین اور بے سکون رکھتا ہے۔ دوہری شخصیت (bipolar) والے مریضوں میں اسکی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

ڈوپامائن:

 یہ ہارمون بنیادی طور پر جسمانی عضو کی حرکات و سکنات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے مثلا دل کی دھڑکن اور پٹھوں کی حرکات پر دسترس۔

انسان میں یہ مثبت احساسات پیدا کرتا ہے خوش رہنے میں معاون ہوتا ہے اور کمی کی صورت میں موڈ سوِنگز اور انسانی دماغ کی یاداشت تخیل اور پہیلی کو حل کرنے والی والی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے جس سے مریض پریشان اور ٹینشن کا شکار رہتا ہے۔

ایسیٹائل کولین:

یہ ہارمون ایڈرینالین ہارمون کی سرگرمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ مثلا جب انسان غصہ میں ہوتا ہے تو یہ دل پر اثر انداز ہو کر اسکو کمزور کرتا اور شریانوں کی لچک کو ختم کر کے ان میں تناؤ پیدا کرتا ہے جس سے انسان کے دوسرے احساسات کو تحریک ملتی ہے جیسے بے چینی اور دماغی تناؤ جسکی وجہ سے یکدم آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی ہے اور انسان کی طبیعت سے تناؤ والی کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن کولیسٹرول کی زیادتی والے افراد کو دل کا دورہ پڑجاتا ہے۔

آکسی ٹوسین:

 یہ ہارمون تولیدی عمل کا کا ذمہ دار ہے۔ جنسی عمل سے ملنے والی تسکین اسی کی بدولت ہوتی ہے۔ عمومی طور پر اسے لوو ہارمون بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دو انسانوں میں باہمی اعتماد اور شخصی تعلقات کو بہتر بناتا ہے اور نفسیاتی طور پر جوڑوں(کپلز) کے مابین مثبت طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور مخالف جنس کے لیے مثبت جذبات اور خوشگوار احساسات پیدا کرتا ہے جیسا کہ محبت, لگاؤ اور اُنسیت۔  دل موہ لینے والے احساسات اور دوسرے انسان کے لئے دیوانگی کے احساسات اسی کی بدولت ہوتے ہیں کہ انسان نتائج سے بے پروا ہو کرسب کچھ قربان کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔ اُکساؤ اور بے قراری والی کیفیات بھی اسی کی بدولت ہوتی ہیں۔

اسکے علاوہ درج ذیل ہارمونز کا تعلق مختصرًا کن احساسات کے ساتھ ہوتا ہے پڑھ لیں۔

کارٹیسول: دباؤ والی کیفیت
ایسیٹائلکولین: بیداری اور چستی والی کیفیت
سیروٹونن: اشتعال یا ڈیپریشن کی صورت میں سکون لاتا ہے خوشی نہی بس اچھا محسوس ہوتا ہے۔
گلوٹامین: چستی و پھرتی والی کیفیت
گلوٹامیٹ: پُرجوش اور گرمجوشی والی کیفیت
میلا ٹونن: یہ ِپینیئل غدود سے نکلتا ہے اور اندھیرے میں نیند کی ترغیب دیتا ہے اور سونے جاگنے کے دوران دل کو ایک مخصوص ردھم یا لے میں دھڑکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اگر مندرجہ بالا بتائی گئی تمام معلومات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہماری ایک ایک حرکت چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نا ہو جیسے کسی کو چھپ کر دیکھنے سے پیدا ہونے احساسات یا کوئی گناہ کا کام کرتے ہوئے دل کی دھڑکن کا تیز ہونا یہ سب ایک خودکار میکانزم کے تحت انسانی جسم میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔

اس سب میں ذرا سے تبدیلی آپکے مزاج اور طبیعت میں ایسی تبدیلیاں لانے کا موجب بنتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اور حیران کن حد تک ہمارے ہارمونز ہمارے اردگرد بسنے والے افراد اور ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جیسے گھر میں داخل ہوتے ہی تناؤ زدہ ماحول دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہےکہ کچھ مسئلہ ہوا ہے یا ایک بہادر جرنیل کی کمان میں سب سپاہی سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں اور بزدل قیادت می صورت میں پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلتے ہیں۔

 گویا انسانی احساسات اور جذبات کیا ہیں؟
کچھ بھی نہی سوائے ایک پیچیدہ کیمیائی مادوں کا اخراج اور انکی خون میں سطح, جسکی بنیاد پر انسان خود کو منفرد خیال کرتا ہے جس میں اسکا کوئی کمال نہیں ہوتا۔

پڑھیں سمجھیں اور اپنے رب کی اس پیچیدہ تخلیق کو دیکھیں اور شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں اتنے زیادہ احساسات کے ساتھ پیدا فرمایا اور ہم ہیں کہ شکرگزاری پر ہی آمادہ نہی ہوتے ہمارا بس چلے تو اس دنیا کو تہس نہس کر دیں۔ اور خود خدا بن جائیں۔

 اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔۔۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. بہت عمدہ۔ ۔اگر ہم یہ سب سمجھنے لگ جائیں تو کافی رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے بہت اچھی بہترین کاوش سلامت رہییے ۔ ۔بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ۔

  2. عمدہ تحریر اور سائنسی نقطہِ نظر سے مدلل نکات بیان کئے گئے ہیں۔
    اس طرح کی تحاریر زیادہ سے زیادہ آنی چاہییں تا کہ انسانی شخصیت اور اس کو سمجھنےکے وقت ہم ہارمونز کی اہمیت کو سامنے رکھ کر کسی کے بارےمیں فیصلہ یا رائے دےسکیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: