برما ——- عظمی اختیار

0
  • 39
    Shares

بساند اڑاتے ماحول اور ہر قسم کے کچرے کے ڈھیر سے جب گدھ کو اپنی بھوک مٹانے کو کچھ نہ ملا تو زرا فاصلے پر پڑی ایک زخمی نیم مردہ سی چڑیا پر جھپٹ پڑا…
پروں کو نوچتاچڑیا کو بنھبوڑتا گدھ……
چڑیا کی کمزور سی چیخ…. اور پھر جامد خاموشی…
کھیت میں کام کرتی سندر یہ منظر دیکھ کر ساکت ہوگئی تھی۔اسے اچھا نہیں لگا تھا چڑیا کا یوں بے بسی سے مرجانا….
اس نے بڑا سا پتھر اٹھا کر گدھ پر اچھالا تھا———
شام جیسی گہری….پرکشش سانولی رنگت کی چودہ سالہ سندر کا نام اسکی ماں نے بڑے پیار سے سندر رکھا تھا۔ زندان جیسے ماحول میں پلی بڑھی سندر اپنے باپ سے محروم دادا اور ماں کے ساتھ کھیتوں میں کام سارا دن کام کرتی تب کہیں جاکر پیٹ کا دوزخ بھرنے کا انتظام ہوتا————————
سندر ایسی دھندلی دھرتی کی باشندہ تھی جہاں پر ہونے والے مظالم بے حسی کی دھند میں گم ہوجاتے ہیں۔انہیں دنیا کی سب سے مظلوم قوم کا نام تو دیا جاتا ہے مگر انکی کرلاہٹ پر کوئی کان نہیں دھرتا۔
یہ اس سندر کی کہانی ہے جو برما کی ہے ۔

عظمٰی اختیار

جی….وہ ہی……..دھرتی کی ھتھیلی پر ایک پھوڑے کی طرح قائم برما…..جدھر ابھی کچھ پل ہی گزرتے ہیں….با حوصلہ لوگ اپنے زخموں پرخود ہی مرہم رکھنے لگتے ہیں کہ …وہاں کے ظالم بدھ مت پھر سے بھرتے زخم کو چھیل کر اس میں نمک مرچ بھر دیتے ہیں…. تاکہ ادھر کے مظلوم مسلمانوں کی درد کی شدت سے کرلاہٹ اور نوحوں کا ساز کبھی ختم نہ ہو۔کہ ان حیوانوں کی شائد یہی روح کی غذا ہے—————————-
سندر نے اپنے باپ کو دیکھا نہیں تھا۔نہ اسکے مرنے کا سبب جانتی تھی۔
مگر کبھی کبھی…..جب سورج کی کرنوں کو شام سمیٹ لیتی اور دھیرے سے رات کی شال اوڑھا دیتی۔جب موت جیسے سناٹے ہر جا منڈلانے لگتے …..تب وہ اپنی ماں کی دبی سسکیوں کو اپنے دل پر محسوس کرتی تھی۔
ایک صبح جب دادا سے باپ کی موت کے بارے میں استفسار کیا تو جانے کتنی ہی راتیں ماں کے ساتھ اسکی سسکیاں بھی شامل رہی تھیں۔ کتنا مشکل ہوا تھا باپ کے بارے میں جاننا..ٌٌ
کہ کیسے ایک ایک اعضاء کاٹ کر آخر میں جلا دیا گیا تھا….وہ بھی صرف اس لیے کہ ایک بدھ سے اسکی انجانے میں ٹکر ہوگئی تھی اور اسکی اسے بھیانک سزا دی گئی تھی—————————
"دادا ہر کسی کا دیس ہوتا ہے۔جہاں سے اسکی شناخت ہوتی ہے۔ ہمارا دیس کونسا ہے؟؟ "سندر کہیں سے ملے اخبار کے ایک ٹکرے کو پڑھتے ہوئے اچانک پوچھ بیٹھی۔

دادا نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بتانے لگے….. ” بٹیا یہ جو بدھ مت کے پیروکار دعوی کرتے ہیں نہ کہ یہ دیس ہمارا نہیں ہم باہر سےآئے …… اور یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو برما سے بلکل اسی طرح ختم کر دیں گے جس طرح اسپین سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو ختم کر دیا تھا….لیکن تاریخی حوالے سے برما کا ایک صوبہ اراکان وہ سر زمین ہے جہاں ہارون رشید کے عہد خلافت میں مسلمان تاجروں کے زریعیے اسلام پہنچا۔ اس ملک میں مسلمان تجارت واسطے آئے تھے اور اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی۔ اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثر ہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کر لیا۔اور ١٤٣٠ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی۔اس دیس پر ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی۔اس دیس کے پڑوس میں برما تھا۔ جہاں بودھوں کی حکومت تھی۔مسلم جات کی حکمرانی بودھوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے اراکان پر حملہ کر کے اسے برما میں ضم کر لیا اور نام بدل کر میانمار رکھ دیا۔پھر انگریز برما پر قابض ہوگئے۔ سو سال سے ذائد عرصہ غلامی کی زندگی میں گزار کر جب خودمختاری حاصل کی تو ان بدھوں نے مسلم مٹاؤ پالیسی کے تحت اسلامی شناخت ختم کرنے کی بھر پور کوشش کرڈالی اور پانچ لاکھ برمی مسلمانوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔مگر اب تک ان کا یہی مشن ہے….. کوئی مسلم جات نہ چھوڑی جائے۔وہ دن ہے اور آجکا دن….ہم اپنے گھر میں رہتے ہوئے بے گھر ہیں” دادا کو تاریخ سے گہری وابستگی تھی۔ماضی سے گزر کر حال تک آتے آتے ان کے لہجے کا کرب…..۔یوں ہانپنے لگے تھے جیسے میلوں دور سفر کر آئے…..اب خاموشی سے آنکھیں موندے لیٹے تھے۔
اور سندر کیلیے تو نیا دکھ تھا……شناخت کے ہوتے بے شناخت ہونے کا….
ایک نیا خدشہ تھا…..کسی بھی وقت اپنی باری کا۔
اور کبھی کبھی یہ ہولناک خدشات جلد تعبیر کی بد صورتیوں سمیت قسمت کی منڈیر پر آکر ٹک جاتے ہیں۔
پھر سے فسادات کی خبریں ملنے لگی تھیں۔روز کسی نہ کسی گاؤں میں یہ شرپسند اور برمی فوجی انسانیت سوز ظلم کر رہے تھے۔مردوں کے اعضاء کاٹ کاٹ کر آخر میں جان سے مارتے….بچوں کو انکی ماؤں کے سامنے کاٹتے…..ان کی عزت لوٹتے ….پھر ان کے اعضاء کاٹ کر نمائش کرتے…ہر طرف سے ایسی ہی خبریں ملنے لگی تھیں۔بستی میں لاشیں اس طرح کٹی پٹی ملتیں جیسے گاجر مولی ہوں۔
سندر دہشت ذدہ رہنے لگی تھی….اسکی ماں ہر وقت اسکو گھر کے اندرونی کمرے میں چھپائے رکھتی——–

اسی خوفزدہ ماحول کی ایک زرد صبح تھی۔سورج بیمار بیمار سا ذرد کرنیں بکھیر رہا تھا۔
دادا آج کافی پریشان لگ رہے تھے۔ "ہمیں چھپ چھپا کر یہاں سے ہجرت کرجانا چاہیے….دادا اپنی بہو سے کہہ رہے تھے…”آج رات ہم یہاں سے نکل جائیں گے”
سندر جہاں اپنا گھر چھوڑنے پر غمگین تھی وہیں خوش بھی تھی کہ خوف سے نجات کی کوئی صورت تو ہوئی۔
وہ خوف جو ہڈیوں میں سرایت کر گیا تھا۔ بدن ہر وقت نڈھال رہتا….
"رات آئے گی ہم یہاں سے نکل جائیں گے” وہ خود کو بہلا رہی تھی۔
وہ خوش تھی کہ اس کے پاس آجکی سیاہ رات میں امید کی روشنی موجود تھی۔
مگر رات تو رات ہوتی ہے۔چڑیل کی مانند….راتیں نگل بھی لیتی ہیں….مگر وہ تو روشنی کے عتاب میں آگئی تھی۔ابھی رات آئی نہیں تھی کی ساتھ والے گاؤں سے ادھ جلی ہوئی اسکی ماسی کو لوگ اٹھائے اسکے گھر پہنچ آئے۔
آدھی جلی ہوئی….اپنی زندگی کا تماشہ اپنے ہاتھوں دیکھ کر اب اسکی ماسی موت کی آرزو میں کراہ رہی تھی۔
سندر کی ماں غم سے کچھ دیر کو کراہ رہی تھی۔
اور سندر کی روح اسکے جسم میں کراہنے لگی…..
"کاش میں خود مختار ہوتی….اپنی روح کو اپنے جسم سے آذاد کر دیتی …”.سندر غم کی شدت سے سوچ رہی تھی۔
اسکی ماسی کو تو جسم کے ساتھ روح کا گھاؤ بھی لگا تھا۔اسکی روح کو چھیل کر پھر اسکا ماس ادھیڑا گیا تھا…..
بچوں کو یوں کاٹا تھا ظالموں نے جیسے کوئی سیب کی قاشیں کاٹ کر سجادے….اس کے شوہر کے سامنے اس کی عزت لوٹی گئی تھی اور پھر……
اور پھر اسکی چھاتیوں کو کاٹ کر ہوا میں اچھالا گیا تھا۔ وہ بے ہوش ہوگئی تھی کہ گھر میں آگ لگا کر ظالم چلے گئے…..جانے شوہر بچا تھا کہ مر گیا تھا….جانے وہ کیوں بچ گئی تھی۔
"آہ…..زندگی ایسے خراج وصولتی ہے؟؟؟”
سندر کا دل پھٹنے لگا۔اسے وہ آیت یاد آنے لگی….
دادا کل ہی تو اس آیت کو بے چینی سے پڑھتے تھے….
"آخر کیا وجہ ہے کہ تم ﷲ کی راہ میں ان بے بس مردوں, عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا دیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہماری طرف سے کوئی حامی و مددگار پیدا کردے”

"آخر کوئی کیوں نہیں آتا ہماری مدد کو…..کیا ہماری چیخیں کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتیں….ہماری عورتوں اور بچوں کے کٹے پھٹے برہنہ جسم کسی کی آنکھوں میں غیرت نہیں جگاتے…
ہائے…..کاش ….عمر(رض) ہوتے اس دور میں ….میں انصاف مانگتی ….”
بس اتنا ہی سوچ سکی تھی وہ کہ اس کے اپنے گاؤں میں بھگدڑ مچ گئی…..بھاری بوٹوں کی آوازیں….
گھر گھر کا دروازہ دھڑ دھڑایا اور گرایا جارہا تھا…..شور و غوغا….لگتا قیامت آگئی….. ماں نے سندر کو ایک کمرے میں بستروں کے بیچ چھپادیا۔باہر سے کنڈی لگادی۔عین اسی وقت اس نے اپنے گھر میں ابلیس کے قدموں کی چاپ سنی تھی…
ابلیس قہقہہ لگاتا اسکے گھر کی منڈیر پر بیٹھا اپنے چیلوں کی کاروائی دیکھنے لگا….گھپ اندھیرا تھا…..سندر عزت سے مر جانا چاہتی تھی مگر جان کے خاتمے کیلیے بھی کچھ میسر نہیں تھا۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا گلا دبانا شروع کر دیا….عین اسی لمحے اسے اپنی ماں کی چیخ سنائی دی تھی۔گھٹی گھٹی چیخیں…..
دادا کی منت بھری سسکیاں…..پھر دادا کی چیخ…..پھر ماں کا شدت سے رونا…..اُن کتوں کا ہنسنا…….
وہ بے اختیار بستر کے ڈھیر سے نکلی…..نیم اندھیرے کمرے میں دروازے کے پیچھے اسے ایک لوہے کا ڈنڈا نظر آیا…
دیوانوں کی طرح وہ ڈنڈا اٹھائے دروازے کی طرف بڑھی….عین اسی وقت کسی بھیڑیے کو یہ کمرا بھی تلاشنے کا خیال آگیا تھا…..
دروازہ کھلا….سندر نے جنونیوں کی طرح سامنے والے کے سر پر ڈنڈا مار دیا۔وہ تیورا کر گرا…..لمحہ بھر میں ماں اپنی برہنگی چھپاتی اسکی طرف بھاگتی آئی۔
مگر اس سے پہلے باقی درندوں نے اسے دبوچ لیا….
ایک دو کو تو زخمی کر چکی تھی۔مگر اب خود ان کے شکنجے میں تھی۔
ماں اپنے کمزور ہاتھوں سے سب کے آگے ہاتھ جوڑتی کبھی بلکتی بیٹی…کہ ایک نے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا….
ماں کی دلدوز چیخیں…..
"عمر (رض) آؤ…..
عمر آؤ…..ہمیں تمہاری ضرورت ہے….” سندر ہسٹریائی انداز میں چیخنے لگی…..پکار
اس رب کے آسمان کو دیکھتی آنکھیں…..
پکارتے مچلتے لب….
آسمان میں حشر برپا ہوگیا۔فرشتے جو اس آہ و بکا اور عرش کے لرزنے کو محسوس کر رہے تھے……سندر کی ہر بد دعا پر آمین کہتے۔
ابلیس سہم کر زرا پیچھے کو ہٹ گیا تھا….مگر یہ شیطان سے بڑے مردود انسان سندر کو اسی طرح نوچ رہے تھے جیسے گدھ اس ننھی چڑیا کو۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: