کلاسیکی انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثر : منیر احمد خلیلی

1
  • 62
    Shares

میں نے انگریزی کے شعری اور نثری ادب کے اس مختصر جائزے میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولھویں، سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں، جسے دورِ روشن خیالی یا Enlightenment  Age کہا جاتا ہے، یہودی یورپی اور بالخصوص برطانوی مراکزِ دانش اور وادیِ شعر و ادب میں کس گہرائی میں سرایت کر گئے تھے۔ برطانوی دانش کدوں کا جائزہ اس لیے اہم ہے کہ یہ برطانیہ ہی تھا جس کی سرپرستی میں فلسطینیوں سے ان کی سرزمین اور گھر چھین کر یہودیوں کے لیے اسرائیل کے نام سے ایک ناجائز ریاست کی تشکیل ہوئی تھی۔ اعلانِ بالفور سے کوئی 78 سال پہلے کی بات ہے جب Anthony Ashley_Cooper, 7th Earl of Shaftesbu (انتھونی ایشلے کوپر) برطانیہ میں صیہونی عیسائیت کا سب سے بڑا بااثر نمائندہ بن کر ابھرا تھا۔ وہ صیہونی عیسائیت کے فروغ اور تبلیغ میں سرگرم کئی سوسائٹیوں کا سربراہ تھا۔ اسی نے Land without People & People without Land کا تصور پیش کیا اور اپنی سرکاری حیثیت میں یہ پرچار شروع کیا تھا کہ فلسطین ایک بے آباد سرزمین ہے اور یہودی ایک بے زمین قوم ہیں، اس لیے یہ زمین جس کا کوئی مالک نہیں اس کے اصل مالکوں یعنی یہودیوں کو لوٹائی جائے۔ اس نے 1841 میں یورپ کے پروٹسٹنٹ بادشاہوں کے نام ایک میمورنڈم Colonial Times میں شائع کرایا تھا جس میں یہودیوں کی فلسطین میں بحالی کی زور دار اپیل کی گئی تھی۔ شاعر اور ادیب اپنے ماحول کے عکاس ہوتے ہیں۔ شعر وادب سماج میں اپنے دور کی اجتماعی سوچ کی طرف بڑے نمایاں اشارے موجود ہوتے ہیں۔ خواجہ میر درد، میر تقی میراور غالب جیسے عظیم شاعر جس فضا میں سانس لے رہے تھے، ان کے کلام میں آشوبِ دہر اور زمانے کے حوادث اور المیوں کا دردکی پوری طرح موجود ہے۔ شاعر اور ادیب اگر ہمارے آج کے شاعروں اور ادیبوں اور اہلِ دانش کی طرح اپنے ماحول سے کٹا ہوا نہ ہو تو وہ ایک مخصوص دورکے نظریات، افکار، تصورات کاگواہ ہوتاہے۔ اہلِ تحقیق کو اگر کسی ایک دورکے فکری رجحانات کاکھوج لگانا مقصود ہو تو وہ اس دور کی شاعری اور ادب میں اور دانش و فکر کے سرچشموں میں جھانکتے ہیں۔

پانچویں صدی عیسوی سے پندرھویں صدی کے آغاز تک کے عرصے کو علمی، فکری اور تہذیبی طور پریورپی تاریخ کا سیاہ دور تصور کیا جاتا ہے۔ تیرھویں صدی سے سولھویں صدی تک یورپ میں سلسلہ وار ایک علمی اور فکری تحریک چلی جس کی چرچ، ملوکیت اور اشرافیہ سے کشمکش جاری رہی۔ اس کشمکش نے Renaissance کی تحریک کو جنم دیا۔ یہ فرانسیسی اصطلاح ہے۔ اردو میں ہم اس کوتحریک ِ احیائے ِ علوم کہتے اور لکھتے ہیں۔ علم و فکر اور معاشرت و تمدّن میں قرونِ ظلمت کی جہالت، اندھی تقلید، فرسودگی اور کہنگی کے نقوش مٹا کر اجتماعی زندگی کو ایک نیا مفہوم دینا اور ایک نئے علمی و فکری دور کا آغاز کرنا اس تحریک کا اصل مقصد تھا۔

ہسپانیہ سے جب مسلمان اور یہودی جبری طورپر جلا وطن کیے گئے تو یہودیوں کی ایک بڑی تعداد یورپ اور خاص کر برطانیہ میں جا کر بسی تھی۔ وہ اپنے ساتھ گرانقدرعلمی و تمدنی اور مالی سرمایہ بھی لے کر گئے تھے جو انہوں نے اسپین میں مسلمان اقتدار میں بلا روک ٹوک حاصل کیا تھا۔ جرمنی اور برطانیہ میں انہی یہودیوں کی خفیہ پشت پناہی سے عیسائی مذہب میں Protestant اور Puritans کے نام سے اصلاحی اور تطہیری تحریکیں اٹھی تھیں۔ ان تحریکوں کے اثر سے عیسائیت پر صیہونیت کے نقوش نمایاں ہوئے۔ ’صیہونی عیسائیت‘کا دائرہ مذہب تک محدود نہیں تھا۔ اس نے سیاست، معیشت و معاشرت، تہذیب و تمدّن اور ادب و ثقافت سمیت ہر شعبے کو اپنے زیر اثر لانے کی کامیاب کوشش کی۔ سولھویں صدی کے وسط میں جب برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اول تاج و تخت کی مالک بنیں توحکومت و اقتدار کے ایوانوں میں بھی صیہونی عیسائیت سرایت کر گئی۔ اس وقت جو بیج بوئے گئے وہ اُگے اور وکٹورین عہد میں تناور درخت بن کر بھرپور برگ و بار لانے لگے تھے۔ مغربی ادب –انگریزی شاعری اور نثر یعنی ناول اور افسانہ– میں جو بلند پایہ نام آج بھی ادب و ثقافت کے استعارہ کا درجہ رکھتے ہیں، ان کی تخلیقات سے بھی صیہونی عیسائیت کا رنگ جھلکنے لگاتھا۔

یہاں مختصرطور پر یہ بتانا مقصود ہے کہ صیہونی فکر نے یورپ اور بالخصوص برطانیہ کی ادبی دنیا پر کس حد تک اپنے اثرات ڈالے تھے۔ ہم جب وکٹورین عہد کے نثری ادب پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اہلِ قلم میں جوسب سے نمایاں نام ملتاا ہے وہ چارلس ڈکنز (Charles Dickens) ہے۔ اس کے شہرہ آفاق ناول Oliver Twist میں صرف فاگن (Fagin) ایک ایساکردار ہے جس سے یہودیوں کے بارے میں منفی تأثر ملتا ہے۔ ناول میں فاگن کا زیر زمین جرائم کی دنیا سے گہرا تعلق دکھایا گیا ہے جہاں وہ نوجوان لڑکوں کو جیب تراشی کی تربیت دیتا تھا۔ چونکہ اس کردار کی نسبت یہودیت سے جوڑی گئی تھی اس لیے یہودیوں نے اس پر وہی ہتھیار استعمال کیا جس کا آج اکیسویں صدی میں بھی وہ دانش و فکر کو زیرِ دام رکھنے کے لیے بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ ڈکنز پر سامیت مخالف ہونے کا الزام دھر دیا گیا حالانکہ اس نے اپنی تحریروں میں کئی یہودی کرداروں کوخیر اور بھلائی کے حامی اور نیکی اور پارسائی کے نمونے کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ یہودی ذہن نے اس ایک کردار پراتنا سخت ردِّ عمل ظاہرکیا کہ چارلس ڈکن کو اس کی تلافی کی فکر پڑگئی۔ جب اس طرف چاس ڈکن کی توجہ مبذول کرائی گئی اس وقت اس کے ناول کے 38 ابواب طباعت کے لیے پریس میں جا چکے تھے۔ بقیہ پندرہ ابواب میں اس نے کوشش کر کے بہت سے ایسے حوالے بدل دیے جن سے یہود مخالف ہونے کا تأثر پیدا ہوسکتا تھا۔ چارلس ڈکن نے اپنی اگلی کتاب Our Mutual Friend میں اہتمام کے ساتھ Mr. Riah کے نام سے ایک کردار تخلیق کیا جس کو اس نے دیانت و شرافت کا پیکر بنا کر پیش کیا گیا۔ نقادانِ فن کی رائے ہے کہ چارلس ڈکن نے یہ کردار Faginکی وجہ سے پیدا ہونے والے تأثر کو زائل کرنے اور یہودیوں سے معذرت کے طور پر تخلیق کیاتھا۔ جارج ایلیٹ کے قلمی نام سے لکھنے والی ایک معروف ناول نگار میری این ایوانز (Mary Ann Evans) ہیں۔ اس خاتون کاایک مشہور ناول Daniel Derendo ہے جو 1876میں منظرِ عام پر آیا۔ اس میں توراتی ادبیات اور صیہونیت نوازی کا رنگ صاف نظر آتا ہے۔ اس میں ایک خاص انداز میں اسرائیل کے قیام اور اس کے تحت عدل و حریت اور خوشحالی و فارغ البالی کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ بنجمن ڈیزرائیلی (Benjamin D’Israeli) جو 1868میں برطانیہ کاپہلا یہودی وزیر اعظم بنا، ادب و فکر میں بھی وہ ایک بڑا نام ہے۔ اس نے کئی ناول لکھے۔ وہ تھا ہی یہودی چنانچہ بحیثیت ایک ادیب اور مصنف اس کی تحریروں پر صیہونیت نوازی کا رنگ غالب ہونا باعثِ تعجب نہیں۔

کہنے کو تو سولھویں صدی کے وسطِ آخر اور سترھویں صدی کے پہلے ڈیڑھ عشرے کو ولیم شیکسپئرکا عہد کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملکہ الزبتھ اول کے زمانے میںاپنی شاعری کی دھوم مچانے والا شیکسپئر آج بھی صرف انگریزی ہی میں نہیں بلکہ عالمی ادب میں سب سے بڑا شاعر اور ڈرامہ نگار مانا جاتا ہے۔ انگریز اپنی ادبی تاریخ میں اس کو وہی درجہ دیتے ہیں جو ہم روحانیت میں اپنے اولیاء و صلحا کو دیتے ہیں۔ شیکسپئرکی زندگی اور فن پر شروع سے لے کر آج تک پراسررایت اور شکوک شبہات کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ فرانسس بیکن اور کرسٹوفر مارلوو (Christopher Marlowe) سمیت ایسے درجنوں آدمیوں کے نام ہیں جن کے بارے میں ناقدینِ فن کو شبہ رہا ہے کہ شیکسپئرکے پردے میں انہی میں سے کوئی ایک تھا جس کے تخلیقی کارنامے شیکسپئر سے منسوب ہو کر زندۂ ِ جاوید بنے۔ ملکہ الزبتھ اول کے عہد کے کچھ عرصہ بعد تک یہودیوں سے نفرت بھرا برتائو برطانوی سماج کا خاصّہ تھا۔ چنانچہ یہودیوں نے کمال کی ہوشیاری سے دانش و ادب اور علم و فکر کے راستے ذہنوں میں سرایت کرنے کے منصوبے تیار کیے تھے۔ بعید نہیں کہ انہی منصوبوں کے تحت شیکسپئر کو بطور آلۂ ِ کار سامنے رکھا گیاہو۔ اس نے گنوار پنے کی چادر اوڑھ کر شہرت خود کمائی اور فکر کسی اور نے پیش کی۔ ایک معتبر اورمعروف اہلِ قلم آرتھر مُلر (Ghislain Arther Muller) نے اپنی دو ٹوک رائے پیش کی ہے کہ شیکسپئرحقیقت میں یہودی تھا۔ 2016 کی بہترین شمار ہونے والی کتاب– The Woman Behind Shakespeare’s Plays Shakespeare’s Play Dark Lady Amelia Bassano Lanier میں جان ہڈسن نے ٹھوس شواہد اورمضبوط دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ شیکسپئر کے فن کے پیچھے جو Dark Ladyکارفرما تھی وہ امیلیا بسانو لانیر (Amelia Bassano Lanier) ہی تھی۔ اس کا تعلق ایک سکّہ بند یہودی خاندان سے تھا۔ یہ ملکہ الزبتھ اول کے درباری موسیقاروں کا ایک خاندان تھا۔ اس خاتون نے برطانوی سماج میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اپنی مذہبی شناخت پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ اس کی کرسٹوفر مارلوو جیسی نمایاں ادبی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ گہری آشنائی اور قریبی تعلقات تھے۔ ہمیں شیکسپئر کے ڈراموں میں دنیا کے مذہب، جغرافیہ اور علم و ادب کے بارے میں جن تلمودی و توراتی تلمیحات و استعارات اورتصورات بھی نظر آتے ہیں، ان کی توقع Stratford on Avon کے نیم گنوار باشندے شیکسپئر سے نہیں کی جا سکتی تھی۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل 2012 میں Stratford کے پروفیسر ولیم گرین نے اس موضوع پر پورے یقین کے ساتھ لکھا ہے کہ اہلِ تحقیق کے ہاں موجود بھاری دستاویزی اور تحقیقی مواد اس نظریے کو مضبوط بناتا ہے کہ شیکسپئرکے ڈرامے اصل میں امیلیا بسانو لینئر کے خلّاق ذہن کی پیداوار تھے۔ جس عورت نے شیکسپئر کو اتنی شہرت اور اہمیت دلائی اس کے اثر سے اس نے اگر درپردہ یہودی مذہب اختیار کر لیا تھا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اس دلچسپ موضوع کی حقیقت اور کھل کر اس طرح سامنے آ رہی ہے کہ شیکسپئر کی شہرت و عظمت کا فخر و اعزاز امیلیا بسانو لینئر کے نام کرنے کی سب سے بڑی مہم یہودی اہلِ قلم نے شروع کر رکھی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. کیا اس تحریر کامقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ یہودی شرارتی اور سازشی قوم ہیں جو رائے عامہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے اتنےلمبے طویل اور صبرآزما مراحل تک طے کرجاتےہیں جس پر دہائیاں کیا صدیاں بھی چھوٹی محسوس ہوتی ہیں۔؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: