مارشل لاء اور آپا کا سروتا: رانا آصف

0

ہوش سنبھالا تو بڑی بوڑھیوں سے ایوب کے مارشل لاء کی کہانیاں سنیں۔ نانی اماں جنھیں ہم آپا کہتے تھے، اللہ بخشے ان کے نزدیک مہ و سال کا حساب اہم واقعات سے ترتیب پاتا تھا، یہ کیلینڈر اس دور کے بزرگوں نے خود ہی مرتب کیا تھا۔ ایوب کا مارشل لاء، ایوب کی جنگ، بھٹو کی جنگ، بھٹو کی پھانسی اور ضیا کا مارشل لاء وغیرہ اس تقویم کے اہم ترین سنگ میل تھے۔ پیدائش و اموات اور شادی بیاہ کی تواریخ کا ریکارڈ بھی انہی واقعات کے حوالے سے محفوظ تھا۔ سچی بات ہے کہ مارشل لاء کا تذکرہ اس افسانوی انداز میں ہوتا تھا کہ بچپن میں اسے”دیکھنے” کا شوق ہوگیا۔ کبھی کبھی آپا سے پوچھ بھی لیتے کہ مارشل لاء کیسا ہوتا تھا تو وہ ہمارے سوالوں سے تنگ آکر کہتیں”بھیا! اب کیسے بتاؤں کہ ماشلا کیسا تھا۔ ایوب کا ماشلا اچھا تھا، قصائیوں کی دکانوں پر یہ بڑی جالیاں لٹکتی تھیں، کھانے پینے کی چیزیں سب ڈھکی ہوتیں۔ ضیاء کے ماشلا میں بڑی سختی تھی، لیکن بے چارہ، دیکھیو! کیسے موت ہوئی۔ بھٹو بھی بھلا مانس تھا۔۔۔” اور یوں سروتے سے چھالیاں کاٹتے کاٹتے وہ بے ربط سی کہانیاں سناتیں۔ ہمارے سوال رکنے میں نہ آتے تھے۔ مارشل لا کو ہم کوئی کوئی ایسی مادی شے سمجھتے تھے کہ جو تنبو کی طرح تان دی جاتی ہو اور اس کے بعد ماحول میں کوئی عجیب غریب تبدیلیاں آجاتی ہوں۔ یا مارشل خود الگ سے کوئی سرزمین یا سیارہ ہو جس کی سیاحت ہمارے بزرگ کر آئے ہیں اور ہم اس کا سفر نامہ سننا چاہتے ہیں۔

مثلاً ہم یہ بھی پوچتھے کہ آپا مارشل لا میں گرمی زیادہ ہوتی تھی یا سردی، شادیاں کیسے ہوتی تھیں، لوگ ایک دوسرے سے کیسے ملتے تھے، کیا ہر جگہ فوجی ہی فوجی نظر آتے تھے، اور نہ جانے کیا کیا۔ سوالوں کی یہ بوچھاڑ سن کر یکدم ان کا سروتا رک جاتا اور وہ فضا میں گھورنے لگتیں پھر کہتیں “بھاڑ چولھے میں جائیں سارے، ہمیں تو کون کھانے کو دیتا تھا۔ غریب کا تو کوئی نہ ہوا۔ کیوں میرا دماغ کھاتے ہو”۔ پھر ان کا سروتا کچھ اور شدت سے چلنے لگتا چھالیوں کی ڈھیری میں کچھ تیزی سے اضافہ ہونے لگتا۔ سروتے کی رفتار سے ہم آپا کے مزاج کا اندازہ لگاتے اوراسی وجہ سے مزید سوال کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے تھے۔ لیکن یہ خواہش دل میں دو چند ہوجاتی کہ بڑے ہوکر مارشل لاٗ ضرور دیکھیں گے۔

کیا خبر تھی کہ “ماشلا” دیکھنے کی ہماری خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ آج ہی تو دن تھا جب کمانڈو وردی میں جب پرویز مشرف پی ٹی وی پر نمودار ہوئے، ملک پر کیا گزری کون خوش تھا اور کون غمگین، کس نے احتجاج کیا اور کس نے دعا دی، ہم اس سے بے خبر ایسے ہی جوش و خروش سے ٹی اسکرین کے سامنے بیٹھے تھے جیسے کرکٹ کا میچ یا اپنے پسندیدہ کارٹون ٹام اینڈ جیری کی کوئی انتہائی دل چسپ قسط دیکھ رہے ہوں۔ پرویز مشرف کو دیکھا تو ان میں نہ ایوب خان جیسی وجاہت نظر آئی اور نہ ہی ضیا الحق جیسی ہیبت ناکی۔ اس لیے انہیں دیکھتے ہوئے ہم سوچ میں پڑ گئے کہ یہ والا “ماشلا” ایوب والے جیسا اچھا ہوگا یا ضیا دور کی طرح۔ پھر جرنل صاحب نے اپنے لیے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر یا صدر کا عہدہ نہیں اپنایا۔ وہ چیف ایگزیکیٹو بنے، کچھ امید بنی کے اب ملک کسی کارپوریٹ ادارے کی طرح چلے گا، ہر جگہ میز کرسیاں ہوں گی، دھلے دھلائے لوگ صاف ستھرے کپڑے پہنے ہر جانب نظر آئیں گے اور ملک بالکل پرستان میں بدل جائے گا، جہاں ہر سو سکون ہی سکون ہوگا۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ خیر، دن گزرتے گئے مارشل لاء دیکھنے کی پچپن کی خواہش کتنا بچپنا تھا اس کا اندازہ بھی ہوتا گیا۔ ملکی پالیسوں کا لیفٹ رائٹ اور اباؤٹ ٹرن دیکھا، آگرہ یاترا کی کوریج اور ناشتے مشرف صاحب کی دھواں دار تقریر دیکھی اور کچھ ایسا اثر ہوا کہ ان کا ہیئر اسٹائل بھی اچھا لگنے لگا۔

نجی ٹی وی چینلوں کا ظہور ہوا تو زندگی یکسر ہی بدل گئی۔ موبائل فون عام ہونے لگے، سڑکوں پر کاریں بڑھ گئیں، انتخابات ہوئے پھر بلدیاتی انتخابات ہوئےاور ایک بعد ایک ہنگامے نے یہ یکسر بھلا دیا کہ اپنی پہلی تقریر میں سات نقاط جو کمانڈو نے بیان کیے تھے ان پر کتنا عمل ہوا؟ وہ سفید براق لباسوں والے دھلے دھلائے لوگ کہاں گئے جن کا ہمیں انتظار تھا؟ اور نہ جانے کتنے ہی ایسے سوال ذہن میں آتے ہیں۔ کبھی تو خیال آتا ہے کہ اس دور کے بعد ہم کہاں بلکہ کہاں کہاں کھڑے ہیں؟ سوچتے ہیں اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے لیکن پھر آپا کا سروتا یاد آجاتا ہے۔ اور صاف بات ہے ہم بچپن ہی سے سروتے سے بہت ڈرتے ہیں۔ یاد اور ہاں سروتے سے یاد آیا، مشرف صاحب کسی سے ڈرتے ورتے نہیں تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: