رشتے کی زمین بنجر نہ ہوجائے : ثناء غوری

1
  • 2
    Shares

چھوٹی موٹی نوک جھونک محبت اور زندگی کی رنگینی کا عکس ہے۔ کچھ دیر کی ناراضی اور یہ انتظار کہ منانے میں پہل کون کرتا ہے، یہی ازدواجی زندگی کے نشیب و فراز ہیں۔ شادی کا بندھن ذمے داریوں اور رشتوں کی نزاکت کے ساتھ محبت اور ایک دوسرے کے لیے جینے کی آرزو کا دوسرا نام ہے۔

اس بندھن کے بعد مرد اور عورت اگر فقط ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھنے کا فیصلہ کرلیں تو مشکلات کی تپش بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے اور حالات کی سرد مہری کے کوئی معنی نہیں رہتے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا جذبہ مشکلات کامقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ محبت کو پروان چڑھانے اور آخر دم تک اس کی بالیدگی کے لیے اس رشتے کے کچھ تقاضے ہیں، اگر ان تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے تو رفتہ رفتہ یہ رشتہ بے جان ہو جاتا ہے۔ محبت کے برگ و بار مرجھا جاتے ہیں اور زندگی کا سفر ’’سمجھوتے‘‘ کی پُر خار راہوں پر چلتے ہوئے گزارنا پڑتا ہے۔

ان تقاضوں میں سب سے اہم، ایک دوسرے کا احترام ہے۔ ’’ادب پہلا قرینہ ہے، محبت کے قرینوں میں‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے دل میںایک دوسرے کا احترام ہونا ضروری ہے۔ جہاں کہیں یہ تقاضے نظرانداز ہوتے ہیں دلوں میں ایک خاموش جنگ کا آغاز ہوجاتا ہے۔ کوئی کب تک خود کو سمجھا بجھا کر رکھے گا، پے در پے سمجھوتوں سے جھنجھلاہٹ، چڑچڑاپن اور ناچاقیاں جنم لیتی ہیں۔ عموماََ خیال کیا جاتا ہے کہ خواتین سمجھوتا کرتی ہیں، کیوں کہ فطری طور پر صنف نازک نر م مزاج کی حامل ہوتی ہیں، ہر قسم کے حالات میںخود کو ڈھال لینا مردوں کے مقابلے میں خواتین کے لیے آسان ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں بدلتے ہوئے خاندانی نظام سے یہ تصور قدرے ماند پڑتا جا رہا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کام یاب شادی کے لیے معاشی استحکام اہم ہے۔ ہمارے معاشرے میں گھر کی کفالت مرد کی ذمے داری سمجھی جاتی ہے۔ گھر کے تمام تر ذمے داریاں خاتون خانہ پر ہوتی ہیں۔ ان ہی ذمے داریوں کا بوجھ ڈھوتے زندگی کے روز و شب تیزی سے بیت جاتے ہیں۔ میاں بیوی اپنی ذات کے سوا ہر موضوع پر ایک دوسرے سے گفت گو کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ محبت کے اظہار کی اہمیت فراموش ہو جاتی ہے۔

نئی نسل میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ میاں بیوی دونوں کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ مل کر خاندان کی کفالت کا بوجھ سہاریں۔ ایسی صورت حال میں جب کہ دونوں ہی گھر کو معاشی تعاون سے چلا رہے ہوں تو گھریلو ذمے داریاں بھی بانٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن گھرانوں میں میاں بیوی دونوں ہی ملازمت کرتے ہیں، وہاں عورت پر دوہری ذمے داری کا بوجھ پڑتا ہے، مرد گھریلو ذمے داریاں صرف اور صرف خاتون خانہ کا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ طرز زندگی کئی مسائل جنم دیتا ہے۔ مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو شادی شدہ جوڑے توازن کے اصولوں پر کاربند نہیں رہتے، ان کے تعلقات تلخیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، کیوں کہ بہ ہر حال معاشی طور پر دونوں ہی خود کفیل ہوتے ہیں۔ اسی باعث کوئی بھی رویہ زیادہ تیزی سے نتائج مرتب کرتا ہے، جب کہ یہاں سوال محبت کا ہے۔ توازن کا ہے۔ اور رشتے کو مضبوط اور خوش گوار بنانے کے لیے حاکم اور محکوم کے تصور سے بالاتر ہو کر صرف ذرا سی سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔

عورت اپنے شوہر کی خوشی میں خوش ہوتی ہے۔ اس کی خوشی کے لیے قربانیاں دیتی ہے۔ گھریلو ذمے داریاں جاں فشانی سے سر انجام دیتی ہے اور اس کے بدلے میں صرف اپنی محنت کی پذیرائی چاہتی ہے۔ جہاں عورت اتنا خیال کرتی ہے وہاں مرد بھی اس کا ساتھ دیتا ہے۔ شوہر اپنی بیوی کا خیال کرتا ہے۔ زندگی کی تمام سہولیات اسے دینا چاہتا ہے۔ بعض خواتین بے پروا نظر آتی ہیں۔ اپنے شوہر کے جذبات کو سمجھنے، ان کے ساتھ وقت گزارنے کے بہ جائے بہت سے دوسرے جھمیلوں میں خود کو اُلجھا لیتی ہیں۔ بس اپنے شوہر کو پیسہ کمانے کی مشین سمجھنے لگتی ہیں۔ ایسے میں بہ ظاہر گھر پُر سکون نظر آتا ہے، لیکن درونِ خانہ لاوا پک رہا ہوتا ہے اور جب نوبت شوہر کی بے وفائی تک پہنچتی ہے، تو خواتین رونے پیٹنے بیٹھ جاتی ہیں، در حقیقت معاملات تو بہت پہلے سے بگڑ رہے ہوتے ہیں۔

بعض خواتین گھریلو کاموں میں خود کو یوں الجھا لیتی ہیں کہ خود پر توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتیں، یہ تو حقیقت ہے کہ شوہر جب تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو سجا سنورا دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح صاحب خانہ کو بھی گھر آتے ہی تھکن کا اظہار کرنے کے بجائے مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہونا چاہیے۔

آج کے دور میں رہتے ہوئے بھی بہت سے مرد خاتون خانہ کو ایک گونگی بہری مخلوق تصور کرتے ہیں۔ اگر بیوی اپنے شوہر کے کسی مسئلے میں دل چسپی لے تو یہ کہہ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے کہ ’’تم کیا جانو باہر کی دنیا کو۔ ‘‘ اس چھوٹے سے جملے کی وجہ سے کئی خواتین احساس کمتری کا شکار ہو کر خود اعتمادی کھو بیٹھتی ہیں۔ ان کے شوہر کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ معمولی سا جملہ ان کی شریک حیات پر بجلی بن کر گرتا ہے۔ اس طرح نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں، یہ پہلو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ عورت اولاد کی تربیت کی ذمے دار ہے۔ اگر اس کی رائے ناقص قرار دے کر رد کردی جائے گی تو وہ کس طرح پُراعتماد انداز میں اپنے بچوں کی تربیت کر سکے گی۔

شادی شدہ زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے، جب میاں بیوی اپنی ذمے داریوں اور کام کاج تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ محبت چاہے کتنی ہی پختہ کیوں نہ ہو، اسے اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ اس لیے دن میں کچھ نہ کچھ وقت صرف اپنے شریک حیات کے لیے ضرور مخصوص کرنا چاہیے۔

شوہر اور بیوی کے تعلق میں دوستی شرط ہے۔ دوستی کرنے سے آپ کے لیے اپنے شریک حیات کے دل کی بات سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔ یوں محبت پروان چڑھتی ہے، ایک خوب صورت رشتہ پھلتا پھولتا ہے۔ سمجھیے دوستی میاں بیوی کے درمیان ایسا شجر ہے کہ جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔

جہاں محبت کا اظہار نہیں ہوتا وہاں ایک عجیب سرد مہری پیدا ہو جاتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جذبات کی یہ سرد مہری بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اظہار کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اور رہے گی۔ ہم سب اپنی تعریف سننے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ مرد ہو یا عورت، یہ خواہش ضروری ہوتی ہے کہ شریک حیات کی طرف سے پذیرائی ملے، ہماری اہمیت تسلیم کو کیا جائے۔ یہاں تک کہ اگر ہم اپنے شریک زندگی کے لیے کچھ کرتے ہیں تو وہ بھی اس بات کا اعتراف کرے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھ کر رشتوں کی تازگی برقرار رکھی جا سکتی ہے اور جیون کے ہر پل کو خوب صورت بنایا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: