ہے وہی تیرے زمانے کا ”ادارہ“ برحق : محمد عثمان جامعی

0
  • 82
    Shares

ہمارے دوست بنّے میاں شرافت، سادگی اور معصومیت کا مرقع ہیں۔ ان کی سادگی جب ان کی خوش عقیدگی سے ملتی ہے تو غضب ڈھادیتی ہے۔ ایک مرتبہ راسپوتین کی تصویر میں اس کا باریش چہرہ دیکھ کر کہنے لگے، ”کتنا نورانی چہرہ ہے، کون ہیں یہ بزرگ، کس سلسلے کے ہیں؟“ ہم نے ان کی لاعلمی پر تاو کھاتے ہوئے جواب دیا، ”سلسلہ ہَوسیہ۔ “ ”اچھا اچھا“ کہہ کر بڑی عقیدت سے دیر تک تصویر دیکھتے رہے۔ دراصل انھیں جہاں بھی تقدس نظر آئے ان کی رگ عقیدت پھڑک اُٹھتی ہے۔ شادی کی پہلی رات ان کی بیگم کو یہ بتانا منہگا پڑگیا کہ ”بانو تو مجھے پیار سے کہتے ہیں، میرا اصل نام قدسیہ ہے۔ “ بس پھر کیا تھا، موصوف پہلو سے اٹھے، بیڈ سے اُترے اور نیچے جاکر نظریں جھکائے دو زانو بیٹھ گئے۔ آخر نئی نویلی دلہن بڑی مشکل سے سمجا پائی کہ آپ کے لیے میں صرف بانو ہوں، تب کہیں جا کے موصوف بیڈ پر جانے اور ان کے بچے دنیا میں آنے کے قابل ہوئے۔

جب بَنّے میاں نے ہم سے پوچھا، ”بھئی ہم نے سُنا ہے کہ مقدس مقامات، ارواحِ مقدس اور نفوس قدسیہ کی طرح کوئی مقدس ادارہ بھی ہے، اگر ہے تو بتائیں کون سا ہے، تاکہ ہم اس کی تقدیس کا پورا خیال رکھیں، اَن جانے میں اس کے بارے میں پتا نہیں کیا کیا کہا ہوگا، خدا کے حضور معافی مانگیں گے، مگر پتا تو چلے ہے کون سا؟“
ہم نے قلندرانہ شان سے آنکھیں بند کرکے ارشاد کیا:

تونے پوچھی ہے ”ادارے“ کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا ”ادارہ“ برحق
جو تجھے حاضر وموجود سے بے زار کرے

بولے، ”یعنی“
”اس کا جواب ہم بعد میں دیں گے، پہلے ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں، مقدس ادارے کی تقدیس برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سوا کسی کو مقدس نہ سمجھا جائے۔ یہ بات بارگاہ مقدسہ میں ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں، اس کی سزا بیٹھے بٹھائے یہاں بھی مل سکتی ہے اور وہاں بھیجہاں وہ اٹھاکر لے جائیں۔ “ ہم نے حضرت ڈاکٹر اسرار احمد کی طرح آنکھیں نکال کر انھیں ڈرانے کی کوشش کی اور وہ ڈر بھی گئے۔
سہمے ہوئے لہجے میں گویا ہوئے، ”اچھا کیا آپ نے بتادیا، ایسی گستاخی ہم سے کبھی سرزد نہ ہوگی۔ “
پھر کچھ سوچ کر بولے، ”اچھا ادارہ¿ برحق کی آپ نے جو نشانی بتائی ہے اس پر کون سا ادارہ پورا اُترتا ہے؟“
”وہ ادارہ جو ہر حاضر و موجود سے بے زار کردیتا ہے، سیاست سے، جمہوریت سے، صحافت سے، جب اقتدار میں ہو تو عدالت سے، اور کبھی کبھی تو ریاست سے بھی۔ “ ہم سے مقدس ادارے کی پہلی صفت سُن کر بَنّے میاں کے شوق میں روانی آئی، جسے دیکھتے ہوئے ہم نے ان کے صبر کا امتحان لیے بغیر کہا، چلیے دوسری نشانی سُنیے:

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کے رُخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے

کچھ نہ سمجھے، ہونق بنے منہہ تکا کیے، پھر بولے، ”ائیں یہ کیا بات ہوئی، موت کے آئینے میں“
”ارے صاحب! بھٹو سے بُگٹی تک اور بنگال سے بلوچستان تک کتنی بار تو آپ کو موت کے آئینے میں ”رُخ دوست“ دکھایا گیا ہے، جس کے بعد ہم جیسے لوگ کہہ اٹھے کہ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہواوردیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی ”لشکروں“ ارے معاف کیجیے گادوستوں سے ملاقات ہوگئی۔ “ ہم نے وضاحت کی۔
”اوہ ہ ہ ہاور زندگی دشوار کرنے کا مطلب؟“
”چیف جسٹس سے لے کر وزیراعظم تک اور سیاسی جماعت سے لے کر منتخب حکومت تک، کسی کی زندگی بھی آناً فاناً دشوار بنادی جاتی ہے۔ یہی نہیں پہلے عوام کا جینا دوبھر کردیا جاتا ہے، پھر خود ہی ان کی زندگی آسان کرنے کے لیے جان ریمبو کے انداز میں یوں ایکشن میں آیا جاتا ہے کہ تھینک یو راحیل شریف قومی نعرہ قرار پاتا ہے۔ یوں سمجھیں اتنی دشواری سے دوچار کیا جاتا ہے کہ پھر ساری مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں، عوام کے لیے بھی ”ادارے“ کے لیے بھی۔
”اﷲ اﷲ کتنا نیک مقصد ہوتا ہے“ بَنّے میاں فرطِ عقیدت سے جھوم اٹھے۔
”مزید کیا عظیم مقاصد ہیں ادارہ¿ مقدس کے“ بڑے اشتیاق سے پوچھا۔
ہم نے وجد کی کیفیت طاری کرتے ہوئے کہا:

دے کے احساسِ زیاں تیرا لُہو گرمادے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

”تو اس مقصد کے لیے کیا جتن کیے جاتے ہیں“ بَنّے میاں ادارہ برحق کی شناسائی کے لیے بے تاب تھے۔
”ظاہر ہے احساسِ زیاں کے لیے زیاں کا ہونا ضروری ہے، جیسے مشرقی پاکستان کا زیاں، جیسے سیاچن گلیشیئر کا زیاں اور ضیاءالحق کے دور کا زیاں ہی زیاں، جنہوں نے قوم کو رلایا، شرمایا اور آخر اس کا لُہو گرمایا، یہ لُہو دفاعی بجٹ بڑھانے کے کام آیا، اور اس بجٹ نے فقر کی سان چڑھا کر قوم کو تلوار بل کہ ننگی تلوار کردیا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ شمشیر اپنے ہی سر پہ لٹکتی ہوئی تلوار ہوں میں کی تفسیر ہے۔ حالات کے زنگ کی وجہ سے یہ تلوار سبزی کاٹنے کے کام کی بھی نہیں رہی، زیادہ سے زیادہ اس سے کمر کھجائی جاسکتی ہے۔ “ یہ کہتے ہوئے ہم نے سر جھکا لیا۔
”واہ صاحب واہ! ان نشانیوں کے ذریعے میں مقدس ادارے کا سُراغ پاگیا۔ اب یہ بتائیے کہ غیرمقدس ادارے کی پہچان کیا ہے؟“
ہم نے جھٹ جواب دیا:

فتنہ¿ ملت بیضا ہے ”اِدارت“ اُس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

پھر ان کے سوال آنے سے پہلے ہی تشریح کردی، ”جو ادارہ بھی مسلمانوں کو سلاطین کا پرستار بنائے وہ غیرمقدس اور ناپاک ہے، ہمارے ہاں سلاطیں تو ہیں نہیں، ہاں کبھی کبھی سلطانئی جمہور ہونے کا گماں سا گزرتا ہے، جو ادارہ اس سلطانی کا شیدائی یا پیروکار ہو اس کی ادارت فتنہ قرار پائے گی، عامرلیاقت، مبشرلقمان اور شاہد مسعود کے ہاتھوں اس کا منہ کالا ہوگا، یوں نیکی کا ”بول“ بالا ہوگا، اے آر وائی کا رُتبہ مزید اعلیٰ ہوگا، باقی چینلوں پر تالا ہوگا۔ “
یہ سُنتے ہی بَنّے میاں کا چہرہ جوش سے تمتما اُٹھا، دایاں ہاتھ اٹھایا اور ”لبیک“ کہتے ہوئے ایسے گئے کہ مدت تک شکل نہ دکھائی۔ عرصے بعد ایک ٹی وی چینل پر ان کے درشن ہوئے، پروگرام ”اٹینشن سچ“ کے اینکر بنے ”ادارے“ کا ”ادارتی نوٹ“ پڑھ رہے تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: