ہم زندگی کُش کیوں ہیں! قاسم یعقوب

0
  • 5
    Shares

ہر معاشرے صدیوں کے سفر کی مسافت کے بعد ایک فلسفۂ حیات کو ترتیب دیتا ہے۔ یہ فلسفہ وہاں کے لوگوں کے طرزِ حیات، عقائد، تاریخ اور جغرافیائی طبعی ضروریات کے تناظر میں پروان چڑھتا ہے۔ جب یہ عناصر تبدیل ہوتے ہیں تو وہاں کا فلسفۂ حیات بھی تبدیل ہونے لگتا ہے۔ مگر انھیں تبدیل کیا جاتا ہے، خود بخود تبدیل نہیں ہو جاتے۔ یہ تبدیل کرنے والے عناصر عموماً ایک طاقت کی شکل میں سماج پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ طاقت خود ایک سچائی ہے جو اپنے آگے ہر طرح کی سچائی کا نعم البدل قرار پاتی ہے۔ طبعی جغرافیہ تو تبدیل نہیں ہوتا مگراس میں موجود سماجی اکائیوں کے مابین نبرد آزما تخلیقی اور تہذیبی رشتے بدلنے لگتے ہیں۔ اسی فلسفۂ حیات کی روشنی میں معاشروں میں مستقبل کے نظریات کا با آسانی پتا چلایا جایا جا سکتا ہے۔ اگر لوگوں کے طرزِندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی یا عقائد، تاریخ کو سمجھنے کے طریقے ایک سے ہیں اور جغرافیائی طبعی حالات کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں کر پا رہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرہ جمود کا شکار ہے۔ لازمی اَمر ہے کہ وہاں کا طرزِ زندگی بھی جمود کا شکار ہو گا اوروہاں کے مقامی لوگ بھی ایک ہی طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے یا مجبور کئے جاتے ہوں گے۔ اس تناظر میں ہم دنیا کی بہت سی قوموں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں کا فلسفۂ حیات جبر، عقائد اور زندگی کُش عناصر کو اولیت دینے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر میں بہت مختصراً کہوں تو یہاں زندگی ایک خوش گوار تاثر نہیں بلکہ موت کی تیاری کا مرحلہ اور دوسرے لفظوں میں وقت گزاری کا نام ہے۔ ہم زندگی کُش کیوں ہیں اور زندگی کو صرف وقت گزارنے کا کارِ عبث کیوں سمجھتے ہیں؟ ان سوالات پر تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔

ہماری معاشرتی ترتیب کے نام پر بے ترتیبی کا غلبہ ہے۔ ہم اندر باہر سے بے ترتیب ہو چکے ہیں۔ (میں اس بحث میں نہیں جائوں گا کہ یہ ہمارے ساتھ کس طرح وقوع پذیر ہُوا) بے ترتیبی ہمارماضی اور حال تک پھیلی ہوئی ہے:

ہم اپنی برہنگی چھپاتے پھرتے ہیں
ایسی حالت میں تعارُف کا فلسفہ
دیوانگی میں بڑبڑانا ہو تا ہے
بکھری چیزوں کے انبار میں
کس کس کا رتبہ یاد رکھتے
ہم نے مرضی کی ترتیب بنالی
خوشبو کا اہتمام کہاں سے کرتے
بد بو ہمیں زیادہ پر تپاکی سے ملی
ہم اپنے ہی جسموں کو چھو کرخوش ہو جانے والے
سڑاند دیتی چیزوں سے صفائی مانگ رہے ہیں
ہمارے گھروں کی چھتوں پر بے آواز بارش ہوتی ہے
ہم جھلستے کمروں میں
پانی کے خواب دیکھنے کے لیے
اپنے بستروںسے دُور جاکے سو تے ہیں
ہماری آنکھوں کے شیشوں میں نیند نہیں
موت آ کے اپنا چہرہ دیکھتی ہے
ہم وہ اُکھڑے راستے ہیں
جس کو گرد کے پہرے داروں نے ہموار نہیں ہونے دیا
ہماری طویل سرگزشت میں تکرار ہی تکرار ہے
ہمیں صرف ایک رُخ والے صفحے پر تحریر کیا گیا
جو اپنے پہلے حصے سے آ ملتا ہے

____________

آپ نے کبھی روزمرّہ زندگی میں لوگوں کے محاورے سنے جو وہ اپنی گفتگو میں عام استعمال کرتے ہیں؟چلیں سنیے:

کسی سے ملاقات ہو تو سوال کیا جاتا ہے کہ کیسے ہو تو جواب آتا ہے:
’’شکر ہے رب کا، گزر رہی ہے‘‘
یا              ’’اللہ کا کرم ہے‘‘_____ ’’گزارہ ہو رہا ہے‘‘
’’جو لکھا ہوتا ہے وہی ملتا ہے‘‘
’’شاید یہی لکھا تھا‘‘
’’اچھے نصیبوں والی‘‘ وغیرہ وغیرہ

ہم نے کسی کو دعا دینی ہو تو کہتے ہیں:
’’اللہ تمھاری مشکلیں آسان کرے‘‘______’’اللہ تمھیں آسانیاں دے‘‘
’’اللہ تمھیں نیک اولاد دے‘‘
’’اللہ نظر بد سے بچائے‘‘

آپ ذرا ان محاوروں پر غور کریں۔ خدا کا شکر ادا کرنے کا مطلب ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل نہیں جو انتہائی مصیبت میں ہیں اور مر مر کے زندگی گزار رہے ہیں۔ گزارہ ہونا یعنی وقت کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، اللہ کی عنایت سے یہ سب ممکن ہوا ہے۔ ہماری دعائیں بھی لوگوں کو زندگیوں کی مشکلات سے نکالنے کی خواہشات پر مبنی ہوتی ہیں۔ نیک اولاد یعنی جو تمھاری لیے آسانی پیدا کر سکے۔ جغرافیائی دعائیں بھی عام ہیں جیسے اللہ تمھیں گرم ہوا نہ لگائے، چوں کہ گرمی اتنی زیادہ پڑتی ہے اس لیے لوگوں کی عام دعا بھی گرمی کی شدت سے بچنے پر مبنی ہوتی ہے۔

ہمارا مجموعی طرزِ زندگی حیات آفریں نہیں بلکہ حیات کُش ہے، زندگی سے نفرت ہمیں گھٹی میں ملتی ہے۔

ہمارا مجموعی طرزِ زندگی حیات آفریں نہیں بلکہ حیات کُش ہے۔ زندگی سے نفرت ہمیں گھٹی میں ملتی ہے۔ ہم زندگی کو ایک بے کار شے اور وجود کا بھاری بوجھ سمجھ کے گزارتے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ ہماری تفریح میں بھی زندگی سے زیادہ ہوس (Lust) اور کسی انجانی گھڑی کے بے موقع مل جانے والی خوشی ہوتی ہے۔ ہم تفریح میں Live نہیں کرتے بلکہ اُسے غنیمت سمجھ کے جلد جلد گزار دینا چاہتے ہیں۔ ہم تعلیمی اداروں سے علم نہیں حاصل کرتے بلکہ معاشرے میں Survival کی جنگ لڑتے لڑتے کچھ زخمی ہونے کا کارِ مشکل انجام دیتے ہیں۔ Survival کی جنگ یعنی اپنے وجود کے پیدا ہونے کے گناہِ عظیم سے نکلنے کا جتن۔ ہم اس گناہِ عظیم کے احساس سے ہر وقت لتھڑے ہوتے ہیں۔ ہم روزی رزق اس لیے کماتے ہیں کہ کچھ وقت گزر جائے ورنہ بغیر روزی رزق کے کیسے زندگی گزرے گی۔ ہم بچے اس لیے پیدا کرتے ہیں کہ زمانہ کہتا ہے، رسمِ دنیا ہے فطری عمل نہیں جو ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ ورنہ ہمیں اولاد ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں لگتی۔ مستنصر تارڑ نے سفر نامہ ’’ہنزہ داستان‘‘ میں ایک نیم پاگل شخص کی زبانی کہا ہے کہ میں بچے پیدا نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ وہ پہلے سے موجود بچوں کے رزق کا حق ماریں گے۔ میں اُن بچوں کو پہلے خوش حال دیکھنا چاہتا ہوں۔

جنس اور جنسی عمل خون اور تھوک کے دھبوں کی طرح ہمارے معاشرے میں ہر جگہ ملے گا۔ ایک عورت کا سب سے بڑا خوف جو ہر وقت اُس کے ساتھ لگا ہوتا ہے، جنسی خوف ہوتا ہے۔ اگر کوئی مرد اُسے احترام دے اور اُس کے ساتھ غیر جنسیت کا مظاہرہ کرے تو وہ اُسے دنیا کا سب سے اچھا انسان تصور کرنے لگتی ہے۔ ہمارے ہاں نیک انسان ہونا کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ فلاں مرد نے کسی عورت کو آج تک آنکھ بھر کے دیکھا تک نہیں۔ مذہبی پاکیزگی کا سب سے پہلا قرینہ ہی یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک فرد جنسی اشتعال انگیزی سے بچنے لگے۔ وہ شخص سے سب سے غلیظ تصور کیا جاتا ہے جو جنسی عمل میں ملوث پایا جائے۔ اس کے لیے حلال اور حرام ضابطوں کی قید بھی نہیں۔ شادی شدہ مرد بھی جنسی عمل کرتے دیکھے جائیں تو ایک نفرت کا احساس پیدا ہوتا ہے کہ دیکھو کیسے بے غیرت ہو چکے ہیں۔ آپ نے اکثر سنا یا مشاہدہ کیا ہوگا کہ نئی شادی شدہ لڑکوں کی بہنیں اور بھائی اُسے بیوی کے ساتھ ’’گلچھڑے‘‘ اڑاتے دیکھ کر برداشت نہیں کر پاتے۔ بلکہ کئی ساسیں تو بہوئوں کو طعنے بھی مارتی ہیں۔ یہ سب جنسی عمل سے نفرت کا ردعمل ہے۔

مارکس نے کسی جگہ کہا تھا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میں انسانی فکر کو معاشی چکر سے آزاد کرانا چاہتا ہوں تاکہ وہ انسانی کلچر اورثقافت یعنی پیداواری (Productive) کاموں میں اپنی تخلیقیت صَرف کر سکے۔ مگر یہاں تو معاشی چکر سے آزاد لوگ بھی زندگی سے محروم ہیں، یعنی معاشی گرادب سے نکلنے سے پہلے والی صورتِ حال میں ہی رہتے ہیں۔ اصل میں ہم سب Survival کے فلسفے کے زیرِعتاب ہوتے ہیں، جو ذرا معاشی چکر سے آزاد ہوتا ہے وہ اسی خوشی میں بقیہ زندگی گزار دیتا ہے کہ وہ معاشی چکر سے آزاد ہے۔ وہ اپنی آسائشوں، سہولتوں کو قابلِ فخر چیز سمجھتے ہوئے زندگی گزارتا ہے۔ وہ باور کراتا ہے کہ وہ معاشی چکر سے آزاد ہے۔ وہ غربت پر طنز کرتا ہے۔ ایسے شخص کی زندگی میں واضح فرق محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح بد حالی سے ایک فاصلے ’’خوش حالی‘‘ پر جا چکا ہے۔ ہمارے ہاں خوش حالی کا سارا تعلق ہی بد حالی سے علیحدہ ہونے کا ہے۔

آپ ہمارے معاشرے میں، زندگی کے ہر میدان میں اس ’’بچ‘‘ جانے کا مظاہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ جو زندگی کی ’’کاری ضَرب‘‘ سے بچ جاتے ہیں وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں اور ساری زندگی دوسروں کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ ’’بچے ہوئے‘‘ ہیں۔ اعلیٰ افسران، طاقت ور اور معاشی خوش حال افراد کی زندگیوں کو ذرا دیکھیے۔ ایسا لگتا ہے وہ ہر ہر قدم پر یہ احساس دلا رہے ہیں کہ وہ اُن افراد سے مختلف ہو گئے ہیں جو محکوم، مجبور اور معاشی گرادب میں زندگی کرنے کا جتن کر رہے ہیں۔ ذرا سی دولت یا پیسا کسی کے پاس آ جائے وہ شخص یہ احساس دلاتا نظر آتا ہے کہ دیکھو میں ’’بچ‘‘ کیا ہوں۔ میں Survival کے چکر سے اب آزاد ہوں۔ وہ اپنی گاڑی، گھر اور دفاتر کی آسودگی کے جہنم سے ہی نکل نہیں پاتا۔

آپ نے وہ ایک واقعہ نہیں سنا: ایک گاؤں کی بوڑھی عورت کا سامنا کسی جگہ ڈپٹی کمشنر سے ہو جاتاہے۔ وہ اُس کے سر پر ہاتھ پھیر کے دعا دیتی ہے۔ ’’اللہ تمھیں پٹواری بنائے‘‘ یہ اس لیے کہ اُس نے زندگی میں سب کچھ پٹواری ہی دیکھا ہے۔ وہ اُسے بھی اپنی خوشحالی کے اس حتمی تصور میں دیکھنا چاہتی ہے۔ ہماری طاقتور اشرافیہ اور معاشی خوش حال طبقات بے چارے ذہنی غربت کی اُسی سٹیج پر رہتے ہیں لہٰذا وہ ’’خوش حال‘‘ ہوکے بھی بد حالی سے ہی ایک فاصلے پر کھڑے رہتے ہیں۔ وہ ساری زندگی اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ’’ دیکھو یہ ہماری خوشحالی ہے اور یہاں سے اُدھر بدحالی کا علاقہ ہے۔ شکر ہے ہم بچے ہوئے ہیں اور اِس کو طرف ہیں‘‘۔ ہماری زندگی کی سب سے بڑی خو شیاں طاقت کا حصول، گھر بار حاصل کرلینا یابچوں کے اچھی معاشی و سماجی اہداف حاصل کرلینے تک محدود ہے۔ ہمارے معاشرے میں خوشیاں خوشی کے طور پر رائج نہیں بلکہ دکھوں کا غم ہلکا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ آپ نے وہ واقعات نہیں سنے کہ شادی بیاہ کے موقوں پر شراب کے کثرتِ استعمال سے اموات کا ہوجانا۔ آپ اندازہ کیجئے ہم خوشی میں اتنے خوش بھی ہو سکتے ہیں کہ مر جائیں۔ ویسے یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ ہماری زندگیوں میں سب سے اہم واقعہ شادی ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی بھی اُس دن ’وی آئی پی‘ ہونے کا احساس رکھتا ہے ورنہ تو عام یا غریب آدمی، ہمارے معاشرے میں کسی نالی کے کیڑے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں زندگی چند مشکلات پر قابو پانے کا نام ہے۔ زندگی پیداواری (Productive) اور زندگی آموز کاموں میں صَرف نہیں کی جاتی۔ پیداواری اور زندگی آموز کام کیا ہوتے ہیں؟ زندگی کا رَس کیا ہے؟ہم زندگی میں رہتے ہوئے زندگی سے دور کیوں ہوتے ہیں؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ زندگی فطرت کا ایک حصہ ہے ہم زندگی کو جب بوجھ محسوس کرتے ہیں تو زندگی اپنے رَس سے خشک ہو جاتی ہے۔ پیداواری کام زندگی کو محسوس کرنا ہے، وہ تمام اعمال جو زندگی کو فطرت کے معیار کے قریب لے جائیں، حیات پرور سرگرمیاں کہلاتے ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے ہمیں محبت نہیں کرنی آتی، ہم کسی سے بھی محبت نہیں کر سکتے۔ اپنے رشتوں سے محبت، اپنے ماحول سے محبت، فطرت سے محبت، اپنے جسم سے محبت، اپنے آپ سے محبت۔ ہمیں تو اپنے عقائد سے بھی محبت نہیں کرنی آتی۔ ایک منافقت کے ساتھ ہم اپنے خدا اور اُس کے عقائد کو مانتے ہیں۔ ہمیں اپنے دینی مسلک سے اس لیے محبت ہے کہ ہم کسی دوسرے مسلک سے نفرت کرتے ہیں۔ نفرت کو ساتھ رکھ کر محبت نہیں کی جاسکتی۔ خدا سے محبت ہو ہی نہیں سکتی جب دل میں خدا کے نہ ماننے والوں سے نفرت ہو۔ بچوں سے محبت ہو ہی نہیں سکتی جب دوسروں کے بچوں سے نفرت ہو۔ عورت سے محبت ہو ہی نہیں سکتی جب عورت ذات کی تذلیل دل میںہو۔ محبت ہو ہی نہیں سکتی جب ہوس کی اشتہا کا ذائقہ بھی زبان پر تیر رہا ہو۔

زندگی کو اولیت دیجیے۔ محبت کیجیے اور Survival کی جنگ سے نکلیے۔ جنگ کسی بھی حالت میں ہو ایک بے کار کام ہے۔ اگر آپ ’’بچ گئے ہیں تو فطرت کے قریب جائیے اور اس ’’بچنے‘‘ کے احساس کو دل و دماغ سے جھٹک دیجئے۔ زندگی کے کوئی معیارات نہیں ہوتے، زندگی ہر حالت میں اچھی، سچی اور پیاری ہوتی ہے بشرط یہ کہ زندگی سے فطرت کے ساتھ ملیے۔

آئیے حیات آموز رویوں کو فروغ دیں۔ معاشی چکروں سے نکلیں اور اپنے وجود کی فطرت کے ساتھ کچھ دیر گزاریں۔ دوسروں کو بغیر کسی مقصد کے قریب آنے دیں۔ بغیر کسی مقصد کے دوسروں کے قریب جائیں۔ زندگی میں فائدہ اور لالچ کو چھوڑ کے بے لوث ہوکے تازہ سورج کو دیکھیں۔ چاند کی ٹھنڈی لَو کے مزے لیں۔ یہی وہ ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم بہتر معاشرہ بنا سکیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: