ارزاں دانشوری کا گورکھ دھندہ: ابن فاضل

1
  • 3
    Shares

زرخیزیِ تخیل پہ نازاں، وارفتگی آگہی میں رقصاں، توصیف کے نشہ میں مست، تفاخر کے اسپِ فربہ پہ سوار نفسِ بے لگام کا پہلوان جب شعور کے بالا خانوں میں اودھم مچاتا ہے۔ تو خال چاہتے نہ چاہتے کوئی حرفِ نامروت، کوئی جملہ نامہرباں کسیِ ساعتِ بے رحم میں کسی مہرباں کے لیے موزوں ہو جاتا ہے یا بارگاہِ ایزدی میں نامقبول کوئی دعویٰ استکبار، ایسے میں ضمیر کا محافظ، خوداحتسابی کا نصاب لیے روانیِ تحریر و تقریر کے آگے بازو پھیلائے کھڑا ہو جاتا ہے۔اب من اگر مائل بہ انکسار واطاعت ہوا تو افکارِآتشیں پر نظرثانی، ندامت ومعذرت بصورتِ دیگرمحافظ مذکورکے پھیلے بازو جھٹک جادہِ بغاوت پر رفتار مزید سبک۔ پھر کیا، کئی دن جاتے ہیں کہ آمد مسدود، خیال نو مفقود، قلم مقبوض۔ سعی تحریر اک مشقِ آوردگی و لاحصل۔ گویا اک کیفیت لا ینحل و مرموز۔ فہم ادھر پیہم متحیر ,ترسیدہ و مضطرب، کیسی یہ بلائے ناگہانی، کیا ہوئی وہ تخیل کی فراوانی وہ قلم کی روانی۔ عارضہ جاں گسل ہوئی کوئی حدیث لن ترانی۔ جواب مگر غیر موجود۔ کچھ اور بھی انمول روز و شب، حیاتِ جاوداں کا ایندھن ہوئے۔ بحر تخیل میں سعی تقویم کے گھوڑے بہت دوڑائے۔ پہروں، سر نیوائے نوک قلم کے تیسے چلائے۔ مگر قطعہ قرطاس پرکوئی قصرِ لفظی بنا نہ پائے۔ بہت سٹپٹائے،دل بھی گھبرائے،جی جیسے کسمسائے۔ یہ اشتہائے ستائش تو جان کو آئے۔ کاش کہیں سے کوئی موہوم سی صدائے توصیف ہی آئے۔ مگر کیوں، کیسے،کہ کچھ تالیف ہی نہیں کہ نذر کیا جائے پھر کیونکر کوئی واہ کی تان اٹھائے۔ …… پھریک بیک اس روز بیٹھے بٹھائے اک درس کامل موزوں ہوتا جائے۔ کہ جیسے غیب سے کوئی ندا آئے۔ عنوان تا بہ حرف آخر پیرائے با پیرائے۔ مگر یہ کیا کہ بارِ دگر جب کی اس پہ نظر۔ پایا اس کو حرفِ بے مہر، اک توشہِ شر۔ ستیغِ شرر۔ نہیں نہیں، یہ نہیں میرا اندازِ فکر۔ یہ تو وسوسہ عدو مبین ہے سراسر۔ پھر یکبارگی یکسر، جیسے کوئی ان دیکھا مقرر، کہیں عدم سے ہو حضر۔ بولا اے مصنفِ ماہر، عبث ہے تیرایہ ڈر، یہ تو ہے بالیقین کلام بےضرر، اور حد درجہ بااثر کہ مشاہیر بیشتر، روانی تحریر میں لکھتے رہے فروتر۔۔۔۔۔ نہیں نہیں معذرت کہ میرا ہنر ہے وقفِ اصلاحِ بشر۔ اوریہی میرا ہدفِ اکبر کہ بدلیں قلب و نظر۔ ہر زید و بکر ہوں یارب راست عمل و راست فکر، میرا حوالہ بے حد معتبر۔ مگر یہ تو نرا کلامِ خلفشر، الحذر الحذر۔۔۔۔۔۔ وہ یک بیک شعلہ و شرر، ٹھیک ہے۔پھر مرو بے برگ و ثمر، جب نہ ہوگا شُہرہ تو کون سنے گا تیری تقریر۔ صدا بہ صحرا ہوگی ثقہ و کامل تحریر۔ ہر چند کہ شمس العلماء ہو تب بھی لازم ہے تشہیر۔جو چکا چوند وہی صاحبِ توقیر۔ ایسا ہی ہے یہ عہدِ حسیر۔ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کی تعبیر۔ ادھر وہ محوِ تفسیر ادھر یہ متحیر گومگو کی تصویر۔ دیکھ کرمتفکر پیرِ کایاں نے بدلی چال۔ بولا اے مصنفِ باکمال، اے دانشورِ بیمثال اے مجسمہ حسن وجمال تجھ سے مل کر ہوں ازحد نہال، بخدا تیرے جیسا ہوگا کوئی خال۔ غم نہ کر نہ ہو بیحال۔ دیکھ تو کلامِ غلام فرید اور وہ شکوہِ اقبال۔ نہیں اس میں کچھ بھی توہیں کا احتمال۔ نہ کسی کا ابطال۔یہ تو ہیں بس لاڈ و پیار کے دلکش اشکال۔ دیکھنا کیسا ہوتا اسکا استقبال۔ بھر پور اور فقیدالمثال۔۔۔۔۔ اور پھر یوں ہی ہوا۔ اسکو شائع جب کیا، ہوا اک غلغلہ، بے طرح برپا۔ کچھ نے کہا کافر زندیق اوردیگر نے واہ بھئی واہ۔ کئی دیر اک ہنگامہ سا رہا۔ پھر تو گاہے یہی سلسلہ، کبھی کوئی حرف ناروا۔ کوئی بے لباس سی کویتا۔ کفر کی حدود پہ ٹہلتا کبھی کوئی فلسفہ۔ کبھی فنون لطیفہ کی آڑ سے جھانکے اثم و گناہ۔ سنگ سنگ اک ہجومِ جاہلاں۔ اور جمِ غفیرِ آزادی خواہ۔ عَلم توصیف بدست بصدائے واہ واہ۔۔۔۔۔ ایک زمانہ ہوا اب شہرت چہار دانگ ہے قریہ قریہ شہر شہر۔
مگر انا کے مرقد میں دفن بہت گہرا ہے ہدفِ اصلاح بشر۔
وہ سعیِ ارتقاءِ کردار و جذبہءِارتفاعِ فکر ونظر۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اےمیرے ہمنشین و ہم رازکیا ہے یہ جملہِ افکار؟ جب سے آئی ہے زیرِ نگاہ تحریر، حواس ہیں منتشر و بےترتیب۔ زباں بندی ہے کہ زباں درازی، خیال آفرینی ہے کہ کمالِ ہُنری۔ بہرکیف جو بھی ہے کمال ہے، بےمثال ہے اورپُرجمال ہے۔ دانش پر ایسے مظموں کی موجودگی وجہِ حیرت نہیں، بلکہ ایسی تحریر کا کمیابی وجہِ تشویش ہے کہ جس زاویہِ آنکھ سے آپ نےاہلِ علم کوسیدھا کیا ہے بےنظیر ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: