طاقت کا سر چشمہ عوام ہے ! عمر فرید ٹوانہ

0
  • 2
    Shares

پنجابی کی دوسری کہاوت ہے کہ جٹ کو کہیں سے کٹورا ملا۔ اسے کسی فلسفی نے کہہ دیا ہوگا پانی پینا تمہارا بنیادی حق ہے۔ وہ بیچارہ پانی پی پی کے ہی اَپھر گیا۔ جٹ بحیثیت قوم پنجاب کی قدیم چوہدراہٹ کا غالب ”نشانہ“ رہا ہے۔ پہلی کہاوت تھی گاؤں کا چوہدری بھی شہر جا کے بس کی ایک سواری ہی بن جاتا ہے۔ چوہدراہٹ گاؤں کی حدود سے باہر نہیں نکلتی باہر چوہدری صاحب کو ہی نکلنا پڑتا ہے، خود میں سے چوہدراہٹ نکال کے ورنہ نکالی بھی جاسکتی ہے، یعنی بحیثیت چوہدری فرد کی ذاتی فکری و جسمانی قوت و طاقت کے علاوہ ایک مرتبہ یا مقام کی قوتِ اختیار و اثراندازی بھی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک فوجی ، پولیس مین ، ججِ پارلیمنٹیرینِ صحافیِ وکیل وغیرہ وغیرہ اپنے ڈیوٹی کے اوقات میں اپنی اپنی جگہ محترم ہیں لیکن اکثریت ایسے لوگوں کی جو اپنے منصبِ فرائض کے باعث محترم ہوئے تھے اوقاتِ خاص کے گزر جانے کے بعد بھی اپنی اصل اوقات یعنی عوام کا حصہ ہونے میں واپس نہیں لوٹ پاتے۔ یہ نہ تو یک طرفہ نفسیاتی مرض ہے اور نہ ہی یک طرفہ جبری مرض۔

چوہدراہٹ ایک رتبہ ،مقام یا اعزاز ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں صدیوں پہ محیط تہذیبی سفر کے باعث عمومی سطح پہ فرد کی ”ذاتی نفسیات“ میں اس کی جڑیں جس درجہ گہرائی میں اتر چکی ہیں انہیں ختم کرنا گر ناممکن نہیں تو اتنا آسان بھی نہیں ۔ اس ذاتی نفسیاتی سطح میں دَر آئی قباحتوں کو ہم کسی حد تک درست کرسکتے ہیں۔ اگر ہمارے نزدیک ترقی کرنا یا بہتری کی جانب سفر کرنا اپنے لحاظ سے اپنی ذہنی و جسمانی بہتری کی جانب سفر کرنا ہے تو ہمیں اس کے لیے رائے کسی دوسرے دیس کی مٹی سے نہیں اپنی مٹی سے لینا ہوگی۔ ہمیں طریقِ سفر و وسعتِ قدم کسی دوسرے تہذیبی بُت کے رخ و قد کے تحت نہیں اپنے تہذیبی پُتلے کے رخ و قد کے مطابق سنوارنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا آج گزرے کل سے بہتر ہو تو ہمیں اپنی ذات پہ توجہ دینا ہوگی۔اپنی صلاحیتوں اور ضرورتوں پہ توجہ دینا ہوگی۔ ضرورتوں میں بھی اولین ترجیح ہمارے اندر پائی جانے والی صلاحیتوں کی ضرورتوں کا خیال کرنا ہے۔

ضرورت بنیادی طور پر دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک ہماری ضرورت یعنی ضرورتِ صلاحيت در صلاحيت اور ایک ہماری صلاحيتوں کی انفرادی ضرورت۔ جیسے آزادئ اظہار ایک بنیادی حق ہے ہر بنیادی حق کسی بنیادی ضرورت پہ کھڑا ہے؟ ہر ضرورت ایک وجود سے عبارت ہے ہر وجود سے عبارت ضرورت بنیادی طور پر دو طرح کی ہے۔ اسے مزید واضح کرنے کے لیے ”زبان“ بطور مثال لے سکتے ہیں جو ہر بولنے کھانے پینے والے منہ میں پائی جاتی ہے۔ فرض کریں ہمارا پیٹ ایک انجن ہے اس انجن سے وجود کے مختلف حصوں کو فعال رکھنے کے لیے بنیادی انرجی مہیا ہوتی ہے۔ یہ اس کی انفرادی صلاحيت ہے۔ اس کی ضرورت خوراک ہے جو ہم براستہ منہ اسے مہیا کرتے ہیں۔ لیکن منہ میں چونکہ زبان بھی ہے اور زبان کی بھی اپنی ایک انفرادی صلاحيت ہے۔مثلا ذائقہ کا ادراک۔یہ زبان کی دیگر صلاحیتوں میں سے اس کی انفرادی صلاحيت ہے۔ اب پیٹ جسے ہم نے انجن فرض کیا تھا اس کی انرجی مہیا کرنے والی صلاحیت کو برقرار رکھنے والی ضرورت یعنی خوراک زبان کی انفرادی صلاحیت کے تحت جاچکی ہے۔خوراک خوش ذائقہ ہو ایک ضرورت۔خوراک ضروری اجزاء اپنے اندر رکھتی ہو دوسری ضرورت۔

کہتے ہیں کہ ادراکِ ذات پہلا زینہ ہے بہتری کی منزل کو۔ہم اکثر اشیاء یا رویوں کے نام جو انکے مختصر ترین تعارف ہوتے ہیں کو ادراک سمجھ لیتے ہیں۔جیسے چوہدراہٹ ایک ایسا مقام یا مرتبہ ہے جو اپنے حلقہء خاص میں اپنے اندر ایک قوتِ اختیار و اثراندازی رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسے مقامات کون کونسے ممکن ہیں۔ جنہیں چوہدراہٹ کے زمرے میں لایا جاسکتا ہے یا جو خود میں چوہدراہٹ والے اوصاف رکھتے عین چوہدراہٹ ہیں۔ مگر ان مقامات کو اپنی تشریف سے زینت بخشنے والے ”چوہدراہٹ نام کو“ ایک بت بنا کر سمتِ خاص میں خود بھی سنگ باری کرتے ہیں اور ”اپنی عوام“ سے بھی کرواتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک معروف و قابل قدر شخصیت کا قول کہیں راہ چلتے پڑھنے کو ملا کہتے ہیں کہ ”اسٹیبلشمنٹ جسے کہتے ہیں وہ کسی خاص فرد کا نام نہیں۔”طاقت“ کے زور پر چھینے ہوئے ”اختیار“ کا نیم تاریک منطقہ ہے“۔

میں جسے چوہدراہٹ کہہ رہا ہوں وہ تقریباً اس سے آگے کی چیز ہے۔کیونکہ یہ عمومی فردی نفسیات کا حصہ ہے اور کسی خاص فرد کا نام نہیں بلکہ ”طاقت“ کے زور کے تحت ”دئیے ،لیئے اور لینے میں چھینے ”اختیار“ کا کامل روشن منطقہ ہے!۔ قوت اور اختیار لازم وملزوم محسوس ہوتے ہیں۔کچھ دینا ،دینے کے پیچھے طے شدہ وجوہات کا ہونا۔۔۔کچھ لینا ۔۔لینے کا ہی ایک انداز چھین لینا !،،لینے کے پیچھے بھی کچھ وجوہات رہتی ہیں۔ہر دو طرح کی وجوہات۔کس لیے اور کیونکر ممکن ہوا ، وجوہات!!
ہماری چوہدراہٹ اپنے وجود میں چار شاخی یا مانند چوراہا ہے۔
١:- قوتِ بازو
یعنی جسمانی یا وجودی قوت خود میں ایک رعب یعنی چوہدراہٹ کا نام ہے۔ یہ قوتِ اختیار و اثراندازی رکھتی ہے خود میں۔قوی الجثہ ہونا عمومی معنوں میں مضبوط قوتِ دفاع ہر دو طرح کی داخلی و خارجی کا مالک ہونا ہے۔ یہ ایسی قوت ہے جو اپنے جسمانی اور قابلِ محسوس وجود کو بنائے رکھنے کے لیے مقابل و مخالف{داخلی و خارجی} پہ اپنا رعب جمانے یا جمائے رکھنے کو ممکن بناتی ہے۔مختصر و معروف معنوں میں یہ اختیار لیتی یا لینے میں چھینتی قوت کا نام ہے!

٢:- زمین و جائیداد یا وسائل کی وسعت
یعنی مالی آسودگی اس کا بھی اپنا ایک رعب ہوتا ہے یعنی یہ خود میں عین چوہدراہٹ ہوتی ہے بنیادی لذتوں اور ضرورتوں کے حصول کے تحت ایک قوی الجثہ کو ایک کمزور کی طاقت بننے پہ مجبور کردینے والی یا ایک طاقتور کو مزید طاقتور کردینے والی یہ قوت بنیادی و عمومی سطح پر ایک ”کمزوری“ ہے!

٣:- عمومی طریق و ذرائع آمدورفتِ نظری و فکری و وجودی و حادثاتی ضرورتوں پہ واقع ہونا۔
{آسان لفظوں میں چوہدری یا قابض ہونا}
یہ خود میں عین چوہدراہٹ بلکہ بے تاج بادشاہت ہے۔ معروف معنوں میں میڈیائی پٹاری ! یہاں بچہ جمورا کون ہوتا ہے! ؟ مداری کون ؟ پٹاری سے کیا نکلتا ہے؟؟مخاطب کونسی مخلوقات ہوتی ہیں؟ تماشائی کونسی مخلوق ہوتی ہے؟یاوہ گوئی کی حقیقت کیا ہے؟

٤:- قلم و عِلم!!!
قلم چوہدری کا کردار ہوتا ہے۔ چوہدراہٹ کا آئینہ دار ہوتا ہے!
علم فیصلوں میں زندہ ہے فصیلوں میں مقبرے ہوتے ہیں۔
ان دونوں کا تعارف کافی ہے ورنہ اتنی اینٹیں نہیں ریاستی عمارت میں جتنے قلم و علم کے چوہدری چُنے ہیں!
یہ چار جہتیں یا بنیادی شاخیں ہیں چوہدراہٹ نام کے درخت کی۔شاخوں پہ قائم گھونسلے اور گھونسلوں میں برپا چونچلوں کا طوفان اہم نہیں۔اہم ہے ان چار بنیادی شاخوں کو ترتیب دینا اور اس شاخ کی نشاندہی کرنا جس کو بنیادی شاخوں میں سے وقتی بیماری کی بنیاد کہا جاسکے۔۔

پہلے تو ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ملک پاکستان میں عوام نام کی کوئی ”مستقل مخلوق“ نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ ہماری ”عوامی نفسیاتی آسودگی“ کے عین مطابق ہمارے ہاں مستقل چوہدری نام کی کوئی مخلوق سرے سے وجود رکھتی ہی نہیں۔ ایک فوجی کُنبہ کے افراد مع چپڑاسی، سیاسی کُنبہ کے افراد مع چپڑاسی، عدالتی کُنبہ کے افراد مع چپڑاسی، سول ادارتی کُنبہ کے افردا مع چپڑاسی ، پروفیسرز یا استاتذہ کے کُنبہ کے افراد مع چپڑاسی ، صحافتی کُنبے کے افراد مع چپڑاسی اپنا اپنا چوہدری رکھتے ہیں۔ ان کا مشترکہ چوہدری کون ہے؟ کونسا قانون ؟کس کا قانون ؟ حکومت اور ریاست کے قانون میں کیا فرق ہوتا ہے؟یہ چیدہ چیدہ چوہدراہٹیں مزید محلوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ نفسیاتی آسودگی میسر ہے مستقل مقامِ چوہدراہٹ کی شکل میں کنڈکٹر یعنی حرکی و صحافتی و مُلائی و بندوقچی و توپچی و سیاسی و معزول و معزور چوہدریوں کی نسل کو۔ یہاں پہلا معرکہ محلوں کے حساب سے چوہدریوں و چوہدراہٹ کے دعویداروں کی درمیان ہوتا ہے۔پھر گھروں کے حساب سے نکلتے چوہدریوں اور چوہدراہٹ کے دعویداروں کے درمیان عام معرکہ ہوتا ہے۔

صبح نظریاتی دھجیاں اُڑاتی صحافت درمیانی دور سنسنیاں پھیلاتی صحافت۔ رات کو فکری دھجیاں اُڑاتی صحافت۔ صحافت جو کہ عمومی طریق و ذرائع آمد و رفتِ نظری و فکری و وجودی و حادثاتی پہ واقع تھی وہ مقبوض ہوچکی ہے! یا قابض ہوچکی ہے!۔سب چور ہیں تو مان لو صحافت سب سے بڑی چور چوہدرانی ہے اس ملک کی۔ یہ مینڈیٹ تعمیر نہیں کرتی نہ ہی اس کے کہے مینڈیٹ تعمیر ہوتا ہے۔یہ فرد کی تخریب کرتی ہے۔اسے باؤلا بناتی ہے۔
یہ وہ بس ہے جو آج کے دور میں سیاسی منزل طے کرواتی ہے!۔یہاں چوہدری ہی سوار ہوتے ہیں۔چوہدری ہی زیرِ بحث رہتے ہیں۔یہاں چوہدری ہی طرفدار ہوتے ہیں۔یہاں چوہدری ہی پیدا ہوتے ہیں۔اور اکثریت ان کی حرکی چوہدریوں یعنی کنڈیکٹروں پہ مشتمل ہوتی ہے۔۔

یہ عجیب ترین مخلوق ہے انہیں ایلین لکھا پڑھا اور سمجھا جائے۔کبھی انہیں فوج غلط لگتی ہے۔خود یہ ہر حال میں پارسا رہتے ہیں۔ کبھی ریاست خود میں ہی ناجائز پیدائش لگنے لگتی ہے۔خود یہ واحد جائز پیدائش بچتے ہیں۔کبھی ملک و حکومت بیوقوفی کی دلدل میں دھنسی لگتی ہے۔ خود یہ واحد و آخری مفکر ہوتے ہیں۔ کبھی عدلیہ بِکی لگتی ہے، کبھی اپنے گلے کا پٹہ انہیں نظر نہیں آتا۔ان میں کچھ کو نصاب کی چند ابواب سارے فساد کی جڑ نظر آتے ہیں۔کبھی اس نصابِ بیوقوفی پہ نظر نہیں کرتے جو یہ اپنے قول و فعل میں تضاد کی صورت سینہء قوم پہ رقم کرتے چلتے ہیں۔ کچھ کو ہر حال میں کوئی نہ کوئی بیرونی فلسفیانہ نظری یا فکری تلوا چاہیے ہوتا ہے چاٹنے کو۔اپنی اتنی اوقات نہیں ہوتی کہ خود سے کوئی عقلمندی کا ثبوت پیش کرسکیں اس لئےاکثریت کو عوام بیوقوف جاہل غلام ذہنیت نظر آتے ہیں۔ کبھی اپنی ذہنی و فکری غلامی پہ انہیں نظر کرنے کا موقعہ نصیب نہیں ہوتا۔ یہ چوہدری ہیں اور چوہدری کو تو سارے کمی ہی نظر آتے ہیں۔ اپنے علاوہ ہر حکومتی ایوان جنہیں ہمارے ہاں ”ریاستی ایوان“ کہا جاتا ہے اِنہیں ان میں برائیاں نظر آتی ہیں۔مگر اپنا گریبان نہیں ٹٹولتے کہ پٹہ انہیں کے گلے میں ہوتا ہے ہر بار۔

ہمارے ہاں آزادئ اظہار نام کا پنچھی انہیں ایلیینز کے پنجروں میں پھڑپھڑاتا ہے۔ ان کے پاس ہر معاملے میں بولنے کی لاکھ وجوہات اور تاویلات بلکہ معقول و مطلق حل ہوتے ہیں کبھی کسی معاملے میں خاموش رہنے کی وجہ اور تاویل مجھے نہیں ملی ان کے پاس۔ مجھے وہ چوہدراہٹ کا قدیم نشانہ جٹ یاد آتا ہے انہیں دیکھ دیکھ کے جسے کٹورا ملا تھا کہیں سے اور وہ پانی پینے کے اپنے ”حق“ کے باعث ہی پِی پِی کے اَپھر گیا تھا۔

ہمارے یہاں گوجرانوالے کا پہچانیہ کچھ یوں رائج ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ چاروں طرف سے آنے والی ٹریفک نے چوراہے پہ لگے سگنل کا احترام نہیں کیا۔سب ایک دوسرے میں پھنس چکے ہیں اور اوپر سے ایک دوسرے کو گھور بھی رہے ہیں تو سمجھ لیجیئے گوجرانوالہ آگیا ہے۔ اسی طور سے ہمارے ہاں ذاتی خُماری اس قدر حاوی ہوتی ہے کہ ہمیں اجتماعی خواری کا کبھی احساس نہیں ہوتا۔

گوجرانوالے کا طرء امتیاز۔۔۔
تہذیب و تمدن کی پھٹی چھاچھ اور قدیم و جدید گورے و کالے ادب و فلسفہ کے سری پائے ،گردے کپورے ، دل کلیجی اور اوجھڑی کھا کھا کے ہمارے اکثر اہلِ علم ، قلم کی سواری میں نظریاتی چوراہے پہ گوجرانوانیت کا شکار نظر آتے ہیں۔ ہم نہیں نکل سکتے کسی کو بھی نکلنے نہیں دیں گے! پنجابی کی تیسری کہاوت ہے کہ کِھدو دے وچوں لیراں ای نکل دیاں نے!! سو پاکستان چوہدراہٹ کا وہ کِھدو ہے جس کو پَھولنے یا کھولنے سے بس چوہدری ہی چوہدری برآمد ہوتے ہیں۔طاقت کا سَر یعنی عوام غائب ہو چکی ہے۔ اختیار اندھا ہوچکا ہے۔ وقار لُٹ رہا ۔چشمہ اپنا اپنا!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: