اسیر ذات : محمد خان قلندر

0
  • 1
    Share

سماجی رسم و رواج اور روایات نے عورت کے ذہن میں یہ بات دنیا بھر میں راسخ کر دی ہے کہ محبت، دوستی اور ازدواج کے معاملات میں اس کی قبولیت کی سند کم سنی، بھولپن اور دنیا کے بارے میں کم فہمی اور معصومیت کے اظہار میں پنہاں ہے۔

اس کے برعکس مرد بلا تفریق عمر اس زعم میں مبتلا کر دیئے گئے ہیں کہ ان کی مقبولیت ہر فن مولا ہونے، بڑا پن دکھانے، طاقتور اور ہر فیلڈ میں تجربہ کار ہونے کے مظاہر میں ہے۔
یہ رویئے عمومی طور پر کئی نفسیاتی الجھنیں پیدا کرتے ہیں، اور باہمی تعلقات میں اعتماد کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

خاص طور جذباتی اور حساس تعلقات میں، بسا اوقات اس عمومی رویئے کے بر عکس بھی ہوتا ہے، جیسے بیس بائیس سال کی لڑکی کی دوستی اگر پینتیس چالیس سال کے مرد سے ہو. تو وہ اپنے کو کم سن نہی بنائے گی۔ بلکہ پارٹنر سے اس کی میچورٹی کے لیول پر جا کے ربط کرے گی، اور اس خلا کو پورا کرنے کے لئے، دوست کے ہم عمر یا اس سے بڑے اپنے کسی حقیقی یا تصوراتی عزیز کے کردار کو ، اپنے تجربے کا تاثر دینے کے لئے گفتگو میں مشابہہ رکھے گی۔

اس گو مگو، میں جذبات کیا رنگ بکھیرتے ہیں اس رؤداد میں دیکھئے
لڑکی حسین، ذہین، اور بذلہ سنج ہو تو سہ آتشہ ہوتی ہے۔
……………………………………………….

صوفیہ نور العین، بھی ایسی ہی تھی اور صوفی کے عرف سے معروف تھی۔
ہمارے ایک سینئیر دوست کی بیٹی زیب کی دوست تھی، اس سے ایم ایس میں ایک سمسٹر پیچھے تھی۔ دونوں یونیورسٹی ہاسٹل میں رہتی تھیں۔ زیب بینکنگ اسپیشل کے ساتھ امتحان دے چکی، تو اس کے والد صاحب کا حکم ملا کہ اس کے مزید چھ ماہ ہاسٹل میں رہنے کا انتظام تو انہوں نے کر دیا ہے اب ہم نے اسے رزلٹ کے بغیر ہی کسی بینک میں انٹرن شپ کرا کے دینی ہے. جو ہم نے اپنے آفس کے بل بوتے پر کروا دی. آفیشل اکاؤنٹ اسی برانچ میں تھا تو بنک اکثر جانا بھی ہوتا تھا. تو ایک روز وہاں صوفی سے پہلی ملاقات ہوئی زیب نے تعارف کرایا
وہ یک دم بولی، "آپ سے مل کے بہت مایوسی ہوئی”
ہماری حیرانی کا لطف لیتے ہوئے مزید اضافہ کیا، "آپ کا میرے ذہن میں خاکہ تو گبر سنگھ جیسا تھا مگر آپ تو گھگو لگتے ہیں میرے سر عثمان کی طرح..”
ہم نے اپنی ہُنکار کو قہقہے میں چھپایا، قریبی ریسٹورینٹ میں ہم تینوں نے لنچ کیا، زیب واپس بنک چلی گئی اور ہم دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔
اور میں نے تکلفا” کہا کہ میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔
اس نے جملہ اچک لیا اور بولی، "آپ نے مجھے پکڑا کب ہے جو چھوڑیں گے. چلیں ڈرائیو پہ چلتے ہیں.”
تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو میں اندازہ ہو گیا کہ وہ ہمارے بارے میں کافی باخبر ہے، شکر پڑیاں سے جب کشمیر روڈ کی جانب آۓ تو اس نے ہلکے سے انداز میں، قریب واقع موٹل میں، جہاں ہم نے کمرہ ماہانہ کرایہ پے لیا ہوا تھا اس کا پوچھا تو ہم نے گاڑی موٹل کی طرف موڑ لی۔
رات کو ہم اسے ہاسٹل چھوڑ کے اپنے گھر چلے گئے۔

معمول یہ بن گیا کہ وہ کلاسیں اٹینٹڈ کر کے یونیورسٹی کی بس پہ آتی زیب کے بنک اور ہم تینوں مل کر لنچ کرتے اب زیب کو بنک میں ضروری کام ہوتا اور ہم دونوں اکھٹے ہوتے، رات تک….
اس کے سر عثمان کے ذکر کو چھوڑ کے برجستہ چٹکلے، اور محبت میں دن کیسے گزر گئے پتہ ہی نہ چلا، اب اس کے اپنے امتحان نزدیک آ گئے اور ساتھ ہی اس کی خالہ لندن سے، اپنے بیٹے کے لئے اس کا رشتہ کرنے، جس کی اطلاع اس نے مجھے اس طرح دی…
"میری خالہ پاگل ہے، مجھے لندن کے خواب دکھا رہی ہے. میں نے امی کو سر عثمان کے ذریعے بتا دیا ہے کہ وہ یہاں کسی ریڑھی والے سے میری شادی آپ کے توسط سے کر دے. آپکو ملنے میں مسئلہ نہ ہو تو میں نبھا لوں گی، لندن میری جوتی بھی نہیں جاۓ گی.”
کہتے ہیں انسان جدائی کے خوف میں جدائی کے اسباب خود پیدا کرتا ہے۔
صوفی نے انشورنس کو اسپیشلی منتخب کیا اور اس کا تھیسس ہم نے مکمل کروایا۔
زیب نے امتحان امتیازی پوزیشن میں پاس کیا اسی بنک میں اس کی سیلیکشن ہم نے اپنے تعلقات سے کروا دی اور کراچی میں اس کی ٹریننگ کے بعد اس کی اسکے اپنے آبائی شہر میں پوسٹنگ بھی طے ہو گئی۔

یونیورسٹی میں صوفی کا آخری دن تھا جس دن اسُ کا وائیوا تھا۔ زیب کی ٹریننگ کا بھی وہی آخری دن تھا، اور اس کے دو دن بعد صوفی کی خالہ نے لندن واپس جانا تھا۔
ہمارے ذہن پر بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا تھا.یونیورسٹی سے آنے والی آخری بس بھی آ کے جا چکی تھی۔ زیب اور میں بس اسٹاپ کے سامنے مارکیٹ کی سیڑھیوں پر چُپ بیٹھے تھے کہ ایک کار آکے رکی صوفی اس کی فرنٹ سیٹ سے اتری. ہم دونوں بے تابی سے اس کی طرف بڑھے۔ ڈرائیونگ سیٹ سے ایک شخص اترا صوفی نے اس کا تعارف کرایا کہ یہ میرے پروفیسر ہیں، سر عثمان اور اپنے مخصوص انداز میں اس سے کہا،
"سر آپ نے مجھے اتنی دیر روکے رکھا، اب مجھے اے پلس کے ساتھ پاس کیجئیے گا اب یہ تو میرا حق بنتا ہی ہے۔ اور ہاں ان سے ملیں یہ ہیں میرے وہ انکل دوست.”
پروفیسر صاحب نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا، "اچھا تو آپ ہیں وہ جنہوں نے ہماری یونیورسٹی کا سب سے خوبصورت پھول چن لیا ہے”.
ہمارے دل کی دیوار جو جدائی کے خوف سے ہل چکی تھی شک اور وہم کی اس ہوا سے اور بھی کمزور ہو گئی. زیب کو حسب معمول کوئی کام یاد آگیا. اب وہاں ہم اور صوفی رہ گئے.اس نے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا،
"جلدی چلیں،مجھے لگتا ہے میں بالکل نچُڑ چکی ہوں، میری بری حالت ہے.”
لیکن ہم اس کی بات سمجھنے سے قاصر تھے. نہہ موٹل اور نہ ہوٹل گاڑی سیدھی ہاسٹل کی پارکنگ میں جا کے روکی.
اس دوران وہ کچھ بھی نہ بولی، بس ٹشو پیپر سے آنسو خشک کرتی رہی،
گاڑی بند کر کے ہم نے کہا. "بہتر ہے کہ تم خالہ کی بات مان لو”.
پہلی دفعہ یہ ہوا کہ وہ چُپ رہی، اپنا پرس گاڑی میں چھوڑ کے وہ ہاسٹل کے اندر چلی گئی۔
جب لوٹ کے آئی تو اس کے ہاتھ میں وہ سارے گفٹ تھے جو ہم نے اسے دیئے تھے۔
اور پھر اس نے کانوں سے بندے اتارے، گلے سے لاکٹ اور انگلی سے انگوٹھی اتار کے میری گود میں ڈالتے ہوۓ کہا،
میں تو آپ کو گبر سنگھ سمجھی تھی لیکن آپ واقعی گھگو ہیں۔
پروفیسر صاحب! سر عثمان- میرے سگے ماموں ہیں۔”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: