نظام انصاف اور عام آدمی: صبا فہیم

1
  • 28
    Shares

تین روز قبل آٹھ اکتوبر کو وکالت کے شعبے میں غلط رجحانات کے بارے میں اہم مضمون پڑھا. بے شک مصنف کا استدلال درست ہے۔ اسی لیے سوچا کہ ایک عام شہری سے جڑے ان معاملات پر اپنی رائے بھی پیش کروں۔

قانون و انصاف کا نظام جو اپنی قدیم روایات پر ناز تو بہت کرتا ہے لیکن اس میں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلیاں نہیں لائی گئی ہیں۔ وہی پرانے طریقے، اور وہی پرانا چلن کہ اب تو زمانہ بہت بدل چکا ہے۔ پہلے ادوار میں لوگوں کے پاس فرصت اتنی ہوتی تھی کہ تھانہ کچہری کو کار بےکاراں کے طور پر بھی لے لیا جاتا تھا۔ لیکن اب زندگی بے حد مصروف ہو چکی ہے اس میں خدانخواستہ کسی کو داد رسی کے لئے تھانہ یا عدالت سے سابقہ پڑ جائے تو مصیبتوں کی نئی کہانی شروع ہو جاتی ہے.

عدالت، پولیس اور قانون سے آپ مکمل طور پر جان نہیں چھڑا سکتے ۔کہیں چوری ہوئی ہے یا آپ کو کسی قبضہ مافیا کی وجہ سے دکان، گھر خاص طور سے پلاٹ سے محروم ہونا پڑا ہے تو آپ کہاں جا سکتے ہیں؟ درست کہا!!! تھانے ہی جانا ہوگا… اور عدالت کا دروازہ ہی کھٹکھٹانا ہوگا. مگر سچی بات تو یہ ہے کہ کبھی تھانہ یا عدالت سے سابقہ پڑ جائے تو مصیبتوں کی ایک لمبی کہانی شروع ہو جاتی ہے. عام لوگ تو چھوٹی بڑی مصیبتوں اور ظلم پہ صبر ہی کر لیتے ہیں. کہ کون اہنی رہی سہی عزت اس تھانے اور کیس کے چکروں میں برباد کرے۔

درحقیقت یہ ایسا، سنگین اور سلگتا ہوا مسئلہ ہے کہ جب کبھی کہیں جرم ہوتا ہےِ ظلم ہوتا ہے تو اس کے لئے سرکاری اداروں کو از خود ہی حرکت میں آنا چایئے یہ نہیں کہ شہری نے کبھی نظام انصاف سے انصاف مانگنا بھی چاہا تو الٹا اسے مزید بد حال ہونا پڑ جائے، یہ سالوں تک چلتے ہوئے مقدمات¸لمبی لمبی پیشیوں کے بھگتنے کے باوجود نتیجے میں صرف قیمتی وقت، پیسہ اور عزت کی بربادی ملتی رہے۔

بے شک انصاف فراہم کرنا اداروں کی ہی ذمہ داری ہے اور کبھی کسی شخص کو اسے ہاتھ میں نہیں لینا چاھیئے لیکن یہی ہو رہا کہ شہری اداروں سے اور ان کے دیر تک چلنے والے معاملات سے بیزار ہیں۔ کبھی کبھی متاثرہ شخص خود قانون ہاتھ میں لے لیتا ہے تاکہ اپنے اندر انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکے۔

ماہرین انصاف تو کافی وقت سے یہ تنبیہہ کر رہے ہیں کہ ملک میں نظام انصاف میں بہت زیادہ تاخیر سے عام لوگ طویل عرصے تک انتظار نہیں کر سکتے ہیں۔ اور یہ کہ مقدمات کو جلد فیصلہ کیا جانا چاہئے ورنہ عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ جب کہ ایسا ہو بھی رہا ہے۔ اس کے لئے ماہرین تجویز کرتے ہیں ہیں کہ قانون اور عدلیہ کے نظام میں مناسب اور فوری ترامیم کی جانی چاہیئں۔ جس سے عوام کو اطمینان بھی ہو کہ حکومت عدالتوں کی کاروائی بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے کہ عوام کو فوری انصاف مل سکے۔

بلاشبہ آبادی کا بے تحاشا اضافہ بھی ان مقدمات میں اضافہ کرتا ہے لیکن ساتھ ہی دیکھیں تو ابھی تک بہت سی جگہوں پر عدالت کا نظام درست طور سے کام نہیں کر رہا ہے۔ ججز اور ان کے ماتحت عہدے بھی خالی پڑے ہیں اور وکیل بھی وہی تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان وکیلوں اور پولیس کے درمیان بھی فاصلوں کی وجہ سے مقدمے بھی لٹکے رہتے ہیں۔ رہی سہی کسر قدم قدم پر رشوت اور مٹھایئوں نے پوری کر دی ہے اور تھانے ہوں یا عدالت کسی ایک فریق کے لئے وکیل بھی لمبی لمبی تاریخیں لیتے ہیں۔ عام خیال ہی بن چکا ہے کہ کمزور اور غریب کو انصاف نہیں ملتا۔ اور پیسے کی طاقت سے کسی بھی قانون کو اپنے حق میں استعال کرنے کے لئے کسی وکیل یا ادارے کی مدد لی جا سکتی ہے۔

یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے عام آدمی فوری انصاف کی راہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ قانون فراہم کرنے والے اداروں، پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کہ اگر کسی نے انصاف کی خاطر مقدمہ دایر بھی کیا تو نسل در نسل چلتا رہے گا۔ اس لئے نظام انصاف میں فوری اور مفید تبدیلیاں کی جانی چاہئیں۔ پیشیاں جلد دی جانے کی پابندی ہو، مقدمہ مخصوص مدت میں یعنی ٹائم باؤنڈ لمٹ میں نبٹا لیا جائے جیسا کہ فوجی عدالت میں تیزی سے مقدمات نبٹا لئے جاتے ہیں۔

اگر ان سب اقدامات کا خیال نہ رکھا گیا تو اس بنجر نظام سے محض مایوسی ہی پھیلے گی۔ معاشرہ میں تازگی نہیں اسکے گی کہ نظام انصاف کی خشک اور طویل خزاں بھی معاشرہ کا باقی حسن بھی ختم کرنے کو ہے ۔

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: