عالمی اداروں کی ملکی سیاست پر چھاپ ۔ حصہ 3 — جاوید اقبال راو

1
  • 9
    Shares

اقوام متحدہ کا قیام جب ہوا تو اسکے تین بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا نسل انسانی کو ہولناک تباہی سے بچانے کے اقدامات اٹھانا۔ دوسرا بنیادی انسانی حقوق کی ترویج اور تیسرا عالمی قانون کا احیا۔ ان تین بنیادی مقاصد کو مد نطر رکھتے ہوے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر حق اور مخالفت میں تجزیے ہوتے آے ہیں اور مسلمان ممالک میں اقوام متحدہ کے بارے میں ایک منفی تاثر زیادہ پھیلا ہوا ہے جسکی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ زیر نطر مضمون میں بھی ایک پہلو سے عالمی قانون اور اقوام متحدہ کا جایزہ لینے کی کوشش کی ہے اور کہیں کہیں وہ مذہب کا ضرورت سے زیادہ ذکر کرتے یا کسی مخصوص نقطہ نظر پر تنقید کرتے محسوس ہوے ہیں۔ دانش کا انکے خیالات سے اتفاق لازمی نہیں ہے البتہ انکے خیالات پر مکالمہ کی گنجایش محسوس کرتے ہوئے اسے نیک نیتی سے شایع کیا جا رہا ہے۔ اگر اس کے مخالف نقطہ نظر پر کوئی صاحب لکھنا چاہیں تو دانش اسے بخوشی شایع کرے گا۔ (ایڈیٹر)


گذشتہ سے پیوستہ: مذاہب نے انسانیت کو درپیش مسائل کا صاف، سیدھا اور فطری رخ دکھانے کی سعی کی۔ اخلاقیات کے اعلیٰ ترین اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسانوں کو اپنے دور کے چیلنج سے نکالا۔ تا آنکہ نبئی اکرم محمد الرسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وسلم) تشریف لائے جنہوں نے انسانیت کو درپیش تمام مسائل کے حل کیلئے ہمہ گیر عالمی اصول و قوانین عطاء کئیے جس کیساتھ ہی دنیا سے نا انصافی اور تباہی کا دور گزر گیا۔ بعد ازاں برپا ہونے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلام سے اصول اخذ کئیے لیکن اسکا اظہار نہیں کیا۔ اسلامی معاشرے اپنے اصولوں کے مطابق ہی قائم رہے۔ اسلامی معاشروں کا معاشرتی نظام اسلامی اصولوں سے ہٹایا نہیں جاسکا جس کی بناء پر یہ معاشرے اپنی بنیاد سے دور نہ ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود یہ کامیاب معاشرے کہلائے اور آج تلک قائم ہیں۔ ان معاشروں کو عالمی اداروں نے سبق پڑھانے کی سعی و جہد کی ہے۔ لیکن عالمی معاشرہ خود ہی ناکامی کی راہ دیکھ لیتا ہے۔ کبھی معاشی تنزلی تو کبھی سیاسی اودھم اور کبھی جنگ و جدل۔ جس کی بناء پر عالمی قوانین پر مبنی معاشرہ مکمل طور پر قائم نہیں ہوپاتا۔ اگر کبھی ایسا عالمی معاشرہ قائم ہؤا تو وہ اسلامی معاشرے کی قبر پر قائم ہوگا۔ اسلامی قوانین کو اسلامی معاشروں کی جڑوں سے اکھیڑ کر ہی عالمی قوانین کی عملداری قائم ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں ایکدوسرے کی ضد ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلامی معاشرے کو اسلام کی بنیاد سے اکھیڑ کر غیر اسلام یا لامذہبیت کی بنیاد پر قائم کرنا کسی طور ممکن ہے یا فائدہ بخش ہوسکتاہے؟

1998 میں انٹرنیشنل کریمینل کورٹ نے شرعی اصولوں کو اپنانے پر روم کانفرنس میں عرب ریاستوں اور مغربی ممالک میں اختلاف ابھر کر سامنے آیا تھا۔ سٹون سی روچ نے اس پر مضمون لکھا اور تجویز دی کہ شرعی اصولوں کو قوانین کا درجہ دیا جائے۔ اگر بفرض محال ایسا کربھی لیا جائے تو کیسے ممکن ہے کہ یو این چارٹر تو مذہب کی مخالفت کرتا ہو جبکہ اسکی ایک عدالت سے شرعی اصولوں پر فیصلے دئیے جائیں۔

اس کیلئے پاکستان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی قانون کی بنیادوں کو سمجھنے اور پھر اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلام پر ہے۔ اسلام کی ایک بنیادی قدر تقدس رسالت مآب (ختمِ نبوت) ہے۔ جب کوئی فرد لا الٰہ الااللہ محمد الرسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا اقرار کرتا ہے تو تمام ادیان سے کٹ کر صرف محمد (صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو آخری نبی مانتا ہے۔ ختمِ نبوت کے عقیدے کے مطابق آپ (صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد کوئی نبی نہیں آئیں گے۔ اس عقیدے کے بعد ہی کوئی شخص مسلمان قرار پاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں شک کرتا ہے تو وہ مسلمان ہی نہیں۔ اگر کوئی شخص مسلمان نہیں اور ساتھ میں تقدس رسالت مآب سے بھی انکاری ہے تو وہ پاکستانی معاشرے کی اجتماعی گروہی عادات اور روایات سے اختلاف کرتا ہے۔ بنیادی اصول سے انکار کرتا ہے اور یوں قانون سے اختلاف کرتا ہے۔ ایسا شخص ہمارے اجتماعی ضمیر اور یوں اسکے قانونی احکامات تسلیم نہیں کرتا۔ اس بناء پر اسے پاکستان کے اجتماعی معاشرے میں ضم نہیں کرسکتے یا اہم مقام نہیں دے سکتے۔ قانون کی یہی ایک تصریح ہے۔ اس کے سوا قوانین کی بنیاد کی تشریح نہیں کی جاسکتی۔ سمجھنا یہ ہے کہ اگر ایک گروہی عادت کو اصول بنایا جائے تو وہ کونسی بنیادی روایت ہے جس پر پاکستانی معاشرہ قائم ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ جبکہ اسلام صرف اور صرف ختم نبوت کی بنیاد پر قائم ہے۔ ورنہ ہر دوسرے دن ایک نیا فرد کھڑا ہوکر نعوذ باللہ نئی گروہی روایات لاتا پھرے۔ اس پر میکس ویبر نے 1921 میں تحریر کردہ کتاب اکانومی اینڈ سوسائیٹی صفحہ 894 میں تحریر کیا ہے کہ پیغمبر ہی نئی روایات پر گروہوں کو قائم کرتے ہیں۔ قانوندان (فقہاء ) پہلے سے موجود روایات کو باقاعدہ اصولوں کی صورت میں صرف اور صرف تشکیل دیتے ہیں۔ جن سے بعد ازاں قوانین ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے الفاظ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں:

Prophets are the only ones who have taken a really consciously “creative” attitude toward existing law; only through them has new law been consciously created. For the rest, as must be stressed again and again, even those jurists who, from the objective point of view, have been the most creative ones, have always and not only in modern times, regarded themselves to be but the mouthpiece of norms already existing, though, perhaps, only latently, and to be their interpreters or appliers rather than their creators. This subjective belief is held by even the most eminent jurists  (Weber, Max. 1921 reprinted 1978).

قانون دان نئے سماجی نظام کی تشکیل نہیں کرسکتے۔ نئی جائز سماجی روایات اور باجواز گروہی عادات تخلیق نہیں کرسکتے۔ سماجی معاملات میں دخل اندازی انتہائی مہلک ہے۔ تقدس رسالت مآب پاکستان کی سماجی قدر کا درجہ رکھتی ہے۔ سوال کو دوسری سمت سے دیکھیں۔ کیا اسلام ہماری بنیادی قدر نہیں؟ کیا ختمِ نبوت اور تقدس رسالت مآب اسلام کی بنیادی قدر نہیں؟ کیا ہمارے فیصلہ ساز اس بنیادی قدر سے انکار کرسکتے ہیں۔ ہمارے قانون دانوں اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ سازوں کو ماننا پوگا کہ سماجی قدر میں تبدیلی کرنے یا کسی بھی بناء پر اسے ترجیحات میں کم درجہ دینے سے معاشرہ بکھر جائیگا۔ پاکستان ایسے ہی وجود میں آیا تھا۔ بنیادی قدر کو اقلیت کی عینک سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اقلیتوں کو اس فریم ورک میں کس تناظر سے دیکھا جائے، اس پر پھر کبھی بات کی جاسکتی ہے۔ معاشرہ اپنی بنیادی قدر کی حفاظت ضرور کرتا ہے۔ وگرنہ معاشرہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تقدس رسالت جیسی بنیادی اقدار کو عالمی قانون کا درجہ دلوانے کی جدوجہد کیوں نہ کی گئی؟ اسلامی روایات کے مطابق خواتین کیلئے ترتیب پانے والے عالمی قانون میں تبدیلی کیلئے جدوجہد کیوں نہ کی جاسکی؟ معاشرے کو اسکی بنیادی روایت سے ہٹانے پر زور صرف کرنے والے اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد پاکستانیوں پر رحم کریں۔ معاشرے کو کسی نہ کسی ایک روایت پر قائم ہونا ہے۔ جمہوریت کے مطابق ریفرنڈم کرلیا جائے تو بھی اسلام اور ختمِ نبوت کے خلاف شاید پانچ فیصد سے کم ووٹ آئیں۔ اس صورتحال میں پاکستانیوں کو ان کی روایات سے ہٹانے کی بجائے اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں تبدیلی کیلئے کوشش کرنا تھی۔ لیکن ہم آج تک الٹی جانب سفر کرتے رہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی اس کو بالکل بدل کر نئے رخ پر نئے سرے سے شروع کرسکتے ہیں؟ اور کیا اس کیلئے وقت بھی ہے یا نہیں؟

بنیادی اصول اور روایات اس قدر اہم ہیں کہ انکے نفاذ کیلئے عوامی تحریکات چلتی ہیں جیسے تحریکِ پاکستان۔ حکومتیں اور ملک اہم ترین اصول کی بناء پر الٹ جاتے ہیں۔ اسے ہم تخت الٹنا اور تاج اچھلنا کہتے ہیں۔ ملکوں کے ملک کسی ایک بنیادی قدر کی بناء پر تباہ ہوجاتے ہیں۔ قوانین بھی معاشرے کے اجتماعی ضمیر اور بنیادی اصولی اقدار پر مبنی ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں بھی بنیادی قدر آزاد روی ہے جسے لبرٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق اور آزادی کی تمام بحث اسی حقیقت سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن مغربی معاشرہ بھی ایک خاص حد تک آزادروی کی اجازت دیتا ہے۔ ورنہ وہاں قوانین اور انکے تحفظ کیلئے ادارے موجود ہی نہ ہوتے۔ اداروں کی موجودگی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ کوئی نہ کوئی بنیادی اصول موجود ہیں جن پر معاشرہ ترتیب پارہا ہے۔ ہمیں بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ لبرٹی کو ہی اصول بنانے اور اسکے گرد معاشرے تشکیل دینے سے ایک نئی قدر کا اضافہ تو نہیں ہوگیا؟ ہم یہ غلط عقیدہ مان ہی نہیں سکتے کہ کوئی نیا پیغمبر آیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔ فکری آزادروی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے صرف لبرٹی ہی بنیادی قدر ہے۔ امریکی اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں کہ “جہاں میری ناک کی حد شروع ہوتی ہے، وہاں تمہاری چھڑی کی حد ختم ہوجاتی ہے”۔ ایسے ہی جہاں کسی معاشرے کی بنیادی قدر پر سوال اٹھے گا، وہاں آزاد روی کی حد ختم ہوجائیگی۔ کسی کے ناک سے مراد صرف ایک فرد کی عزت کا سوال نہیں ہے۔ یہ اجتماعی معاملات میں بھی ایسے ہی لاگو ہوگا کہ کسی ایک گروہ کی اجتماعی قدر پر سوال اٹھایا جائے۔ بنیادی قدر کو پامال کیا جائے۔ ایسا نہ مانا جائے تو اجتماعی ضمیر کہاں سے باقی رہے گا۔ جب اجتماعی ضمیر باقی نہ رہیں تو معاشرے کسی کے پابند نہیں رہتے۔ بڑے بڑے معاشرے انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اس اجتماعی انتشار سے بچنے کیلئے معاشرے میں حکومتی نظم و نسق کا بنیادی اصول تشکیل پاتا ہے جسے پبلک آرڈر کہتے ہیں جوکہ حکومتی نظم و نسق کے دو اصولوں میں سے ایک ہے۔ پہلا اصول “اجتماعی اقدام” ہے۔ پبلک آرڈر کے ذریعے سے معاشرے میں پھیلنے والی بے چینی کو دور کیا جاتا ہے۔ لیکن انتشار سے بچنے کیلئے پہلے معاشرے کی بنیادی اقدار کی حفاظت کرنا ہوگی۔ بنیادی قدر پبلک آرڈر نہیں جس کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اقدامات کرتے ہیں۔ اصل مقصد تو بنیادی قدر کا تحفظ اور نفاذ ہے۔ اس قدر کے تحفظ کیلئے کام کرنے والا ہی ہمارا حقیقی محافظ ہے۔ اس کے بغیر ہم اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے۔

اس لحاظ سے اقوامِ متحدہ کا چارٹر ایک فرسودہ دستاویز ہے۔ جسے انسانی عادات اور گروہی روایات اور پھر قانون سازی کی بنیادوں سے کچھ زیادہ نسبت نہیں۔ اس کی بجائے آزادی کی واحد قدر کو اپنا کر تمام گروہوں کو ایک ہی لاٹھی کے ساتھ ہانکنا چاہتا ہے۔ اس بناء پر یہ تمام اقوام کے مسائل کو سمجھ نہیں پاتا اور نہ ہی انکا کوئی حل دے پاتا ہے۔ اقوامِ عالم کے مسائل کی بنیادی وجہ عالمی اداروں میں بصیرت کی کمی ہے۔ اس کا رونا کب تک روئیں؟ اس ایک وجہ کی بنیاد پر تمام اسلامی گروہ مسائل کا شکار ہیں۔ انکے مثبت طرزِ عمل کو اپنانا اور انکی درست اور اعلیٰ روایات کو سمجھنا کسی عالمی ادارے کے بس کی بات نہیں۔ قوانینِ عالم اس بناء پر معاشروں کے اندر موجود پیچیدہ دھاگوں کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جس سے معاشرے غیر مستحکم ہوجاتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب بھی مسلم اقدار کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان سے صرفِ نظر کی جاتی ہے تو تمام عالمی نظام ہی غیر مستحکم ہوجاتا ہے۔ اس المیے کا اندازہ کرنے کیلئے کسی کا افلاطون ہونا ضروری نہیں۔ بہرحال عالمی کتھا سے ہمیں کچھ زیادہ لینا دینا نہیں۔ ہمارا لینا دینا تو اپنے سیاسی اکھاڑے سے ہے جہاں اسلامی سیاسی ادارے اور تنظیمات اپنا کھیل ہار کر میدان میں دھرنا دیتی ہیں اور پاکستان کے اعلی ادارے انہیں دخل در معقولات کا مجرم گردانتے ہوئے پرے دھکیل دیتے ہیں۔ مقننہ ہماری روایات سے صرفِ نظر کرتی ہے۔ عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین ادارے عالمی قوانین کو اپناتے ہوئے فیصلے صادر کردیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کیلئے اپنی روایات اور اسلای قوانین کی بالادستی کیلئے کوئی طریقہ کار باقی نہیں رہتا۔ جس کے بعد ہماری دنیا اندھیر ہوجاتی ہے۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. کوشش کی کہ اس تحریر پر نگاہ ڈال سکوں مگر سچ کہوں چکر آگئے۔ شاید اس وقت اتنی سنجیدہ چیز پڑھنے کا من نہیں۔ یا پھر رات کے اس پہر جب نیند کے جھٹکے آرہے ہوں اور آپ کی رات کی شفٹ بھی ہوتو کیا پڑھا جائے؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: