عالمی اداروں کی ملکی سیاست پر چھاپ ۔ حصہ 2 — جاوید اقبال راو

0
  • 5
    Shares

اقوام متحدہ کا قیام جب ہوا تو اسکے تین بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا نسل انسانی کو ہولناک تباہی سے بچانے کے اقدامات اٹھانا۔ دوسرا بنیادی انسانی حقوق کی ترویج اور تیسرا عالمی قانون کا احیا۔ ان تین بنیادی مقاصد کو مد نطر رکھتے ہوے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر حق اور مخالفت میں تجزیے ہوتے آے ہیں اور مسلمان ممالک میں اقوام متحدہ کے بارے میں ایک منفی تاثر زیادہ پھیلا ہوا ہے جسکی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ زیر نطر مضمون میں بھی ایک پہلو سے عالمی قانون اور اقوام متحدہ کا جایزہ لینے کی کوشش کی ہے اور کہیں کہیں وہ مذہب کا ضرورت سے زیادہ ذکر کرتے یا کسی مخصوص نقطہ نظر پر تنقید کرتے محسوس ہوے ہیں۔ دانش کا انکے خیالات سے اتفاق لازمی نہیں ہے البتہ انکے خیالات پر مکالمہ کی گنجایش محسوس کرتے ہوئے اسے نیک نیتی سے شایع کیا جا رہا ہے۔ اگر اس کے مخالف نقطہ نظر پر کوئی صاحب لکھنا چاہیں تو دانش اسے بخوشی شایع کرے گا۔ (ایڈیٹر)


گزشتہ سے پیوستہ:  اس پر عبداللہ النعیم نے مثبت طرزِ فکر کیساتھ کچھ کام کرنے کی جانب راہ رکھائی ہے۔ انکا خیال ہے کہ سیکولر سٹیٹ کیساتھ اسلام کا براہِ راست تصادم ہے۔ اس میں وہ جان رال (بحوالہ 2003 میں لکھی گئی کتاب "سیاسی آزادیاں”) کی تجویز پر صاد کرتے ہیں جس میں عالمی سطح پر بنیادی انسانی آزادیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر کچھ حدود قیود عائد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ حدود و قیود نافذ کرنے کیلئے وہ سماجی دانش یا پبلک ریزن کے استعمال کی گنجائش پاتے ہیں۔ لیکن اس تجویز پر عمل کرنا بہرحال ایک مشکل کام ہے۔ اس پر بھی کھو پاریکھ کی تجویز ہے کہ مختلف ثقافتوں کا جامع جائزہ لیا جائے اور مختلف قسم کے قوانین کا جابجا اطلاق کیا جائے۔ یہ بھی ایک گورکھ دھندا ہوگا۔ اس لئے کہ عالمی قانون اپنے نوآبادیاتی پرچھائیوں سے کسی کو بھی صرفِ نظر کرکے بخشنے پر رضامند نہیں محسوس ہوتا۔ پاریکھ کے سن دوہزار کے مضمون کے مطابق انسانی حقوق جیسے عالمی اصول اس قدر کمزور ہیں کہ یہ تمام ثقافتوں کے بہت سے نازک معاملات کو حل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہماری موجودہ دنیا کا انسانی حقوق پر اس قدر وسیع اور گہرا انحصار بہت سے خطرات کا موجب بھی ہے جس کا ادراک ہمارے عالمی ادارے بروقت نہیں کرپائے۔ لیکن عبداللہ النعیم کے نزدیک اقوامِ متحدہ کو دوسرے معاشروں میں دخل اندازی کا بھرپور حق حاصل ہے۔ وہ دارفور کی مثال دیتے ہیں۔ لیکن کسی ایک مغربی ملک کو دوسرے پر حملہ کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے وگرنہ یہ نو آبدیاتی دور کا احیاء ہوگا جس سے کم ازکم افریقی بری طرح سے خوفزدہ ہیں۔

سوڈان کے خطے دارفور کی مثال دیکھیں تو یہ اقوامِ متحدہ کی بڑی ناکامی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ہی بعد ازاں افغانستان اور عراق بھی۔ جنرل عمر البشیر کے ساتھ معاملات حل نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اقوامِ متحدہ کے پاس اسلامی حکومتوں کیساتھ یا مذہبی گروہوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کا کوئی فریم ورک موجود نہیں تھا۔ چارٹر سے باہر کی تمام دنیا کو اقوامِ متحدہ اور عالمی قانون باز چارٹر کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے دھاوا بول دیتے ہیں۔ بھلے اس کے پیچھے اسلام جیسے گہرے، وسیع اور قابلِ عمل قانون کا ذکر ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے ذمہ دار عالمی قانون باز ہی ہیں جنہوں نے اسلامی قانون کی عالمی بنیادوں میں سے کوئی بھی مثبت سبق حاصل نہیں کیا جس کے تحت مسلمان گروہوں کیساتھ معاملات طے کئے جائیں۔ اس وجہ سے مسلم گروہ بھی ردِ عمل کے طور پر اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام قوانین کو خلافِ اسلام قرار دیتے ہیں یا اس سے جان چھڑاتے ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والی خرابی کے نتیجے میں اسلامی معاشرے طویل خانہ جنگیوں سے عبارت ہیں۔ لیکن اس کی کسے فکر ہے۔ بھلے ڈیڑھ کے ڈیڑھ ارب مسلمان کھیت رہے۔ اگر وہ یو این چارٹر میں نہیں آتے تو انہیں جینے کا حق ہی نہیں دیا جاسکتا۔ حالانکہ یو این چارٹر انسانی تاریخ میں 1945 سے قبل تھا ہی نہیں۔ اس کے آنے کے بعد بھی اسلامی ممالک کے مسائل کم نہیں ہوئے اور مسلمان من حیث القوم ترقی بھی نہیں کرپائے۔ آج بھی مسلم ممالک غریب ترین ہیں۔ سب سے زیادہ غیر مستحکم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ چارٹر کی کم نظری بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن قانونی حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے قوانین ہم پر لاگو ہوتے ہیں۔ جیسے امریکہ کی عدالتوں کا یہ فیصلہ کہ بچوں کا عالمی قانون امریکہ پر لاگو ہوتا ہے چاہے امریکی سینیٹ اور ریاستی پارلیمنٹ نے اس قانون کی توثیق نہیں کی۔ لہٰذا اس صورتحال میں ملکی مقننہ بھی بائی پاس ہوگئی۔

اس قضئیے کو اداراتی علوم کے تحت پرکھا جائے تو مسلم گروہ جائز روایات کے مالک ہیں۔ یہ جواز اندرونی طور پر حاصل ہے۔ اندرونی طور پر حاصل کردہ جواز ایک طویل عرصہ سے رائج بھی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تحریری ط ور پر موجودگی اسے مزید پختہ کردیتی ہے۔ اس تحریر کردہ روایاتی علم کو معاشرہ اجتماعی طور پر قبول بھی کرلیتا ہے۔ اداراتی علوم کے تحت یہی جواز کافی ہے۔ انکے جواز کو کوئی ایسا ادارہ چیلنج ہی نہیں کرسکتا جو خود پون صدی قبل وجود میں آیا ہو اور جسکا اپنا اخلاقی جواز دوسرے معاشروں کی اجتماعیت یا معدودے چند بڑے ممالک کی طاقت پر منحصر ہو یا کسی دوسرے وسیع تر پلیٹ فارم کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہو۔ اگرچہ مسلم گروہ اور ریاستیں ایسے اداروں کے رکن ہیں لیکن انکے پاس اس پلیٹ فارم کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ کار نہیں تھا اس بناء پر وہ اس کے خلاف نہ ہوسکے۔ طاقت بذاتِ خود کوئی خاص جواز ہی نہیں۔ اسلامی گروہوں کے پاس شرعی جواز کی موجودگی کے بعد انہیں اسلامی معاشرے کے اندر سے غیر قانونی ثابت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کیلئے باہر سے بم برسا کر انہیں خاموش کرنے کی جاہلانہ حکمتِ عملی سے دراصل جمہوریت اور انسانی حقوق ہی اخلاقی شکست سے دوچار ہوتے ہیں۔ ایسا اگر کئی اسلامی ممالک میں کیا جائے اور بار بار یہی طرز عمل دہرانا پڑے تو یقین کیجئیے کہ ہم جدید دور کے گھٹیا نوآبادیاتی ماڈل کے تجربے سے گزر رہے ہیں۔ کسی ایک ملک میں اس عمل کے دہرانے کے بعد باقی گروہوں سے مذاکات کرتے ہوئے معاملہ حل کرلینا چاہئیے تھا یا یہ یقین کرنا چاہئیے تھا کہ یہ طریقہ کار نامناسب ہے۔ ایسی صورت میں طریقہ کار بدل کر حل نکالنے کی کوشش کرنا تھی۔

ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کام کرنے کی آزادی فراہم کرنے کا ضامن ہے۔ اس ضمانت کے نتیجے میں تمام قسم کے ادارے اپنے اپنے ایجنڈے کے مطابق کام کرتے رہتے ہیں۔ کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔ آزاد معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں تمام افراد اور گروہوں کا تحفظ ممکن ہوتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ ایک سطحی سوچ ہے۔ آزادیوں کا قانون فقط افراد کی آزادی کیلئے کام کرتا ہے۔ گروہی آزادیاں صرف مخصوص گروہوں تک محدود ہیں۔ گروہی آزادیوں کو اداراتی شکل دی ہی نہیں گئی۔ جس کی بناء پر معاشرے غیر ضروری انفرادیت کا شکار ہوئے۔ یا گروہی خوبیوں کو استعمال کرکے کثیر المنفعت کا ذریعہ نہیں بنایا گیا۔ انسانی گروہوں کی اجتماعی جہد و مساعی کو درست میزانئیے پر سمجھا نہیں گیا۔ یہ گروہ منفعت بخش تھے لیکن زیادہ تر گروہوں اور مسلم تنظیمات کو مجرم کے روپ میں پیش کیا گیا ححالانکہ وہ کسی نہ کسی اسلامی اجتماعی روایت کو زندہ کرنے کے پر کام کررہے تھے۔ اگر ایسے گروہوں کو اہمیت دی جاتی اور انہیں بھی انسانی معاشرے کا حصہ تسلیم کیا جاتا تو آج اسلامی گروہوں کو قانون بنانے کی آزادی دی جاتی یا قوانین کی تشکیل میں ساتھ لیا جاتا۔ بہت سے ممالک اسلامی قانون کو اپنانے یا انہیں اپنانے کا جواز عطا کیا جاتا اور عالمی قانون میں بھی میں اسلامی شقوں کو شامل کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہ ہوپایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خود اقوامِ متحدہ جمود کا شکار ہے۔ یہ اداراتی جمود مسائل کا باعث ہے۔ خاص طور پر پرانی شہری تہذیبیں اور تاریخی روایات کے مالک معاشرے اپنی ہی روایات پر مصر ہیں۔ یہ معاشرے اپنی روایات کو چھوڑنے پر رضامند نہیں۔ انہیں راستہ نہ دینا بے وقوفی اور جہالت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ وسیع الظرفی کے خلاف ہے۔ انسانیت کی بھی توہین ہے۔ انسانوں کی ماضی کی مساعی و جہد کی نفی ہونے کے علاوہ نئے دور کی فسطائیت بھی ہے۔ ہمارے موجودہ ادارے اس مصنوعی خود پسندی کے خول سے باہر نہیں آسکے جس کی بناء پر کوئی بھی معاشرہ جدید و قدیم کو ساتھ لیکر باجواز جدوجہد نہیں کرپایا۔

پاکستان کے ساتھ ایک دوسری مشکل بھی ہے۔ ہم اپنی کسی بھی روایت پر مستقل مزاجی کیساتھ عمل پیرا نہیں ہوتے اور نہ ہی عالمی اداروں اور دوسرے ممالک کیساتھ ایسی روایات پر ڈائیلاگ کرتے ہیں۔ پاکستان کے آغاز میں ہونے والے تمام معاہدات میں اسلام کا حوالہ دیا جاتا تھا۔ لیکن بعد ازاں ایسا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ مثلا سندھ طاس معاہدہ ایسے کسی حوالے سے خالی ہے۔ میاں نواز شریف کے پہلے دور میں بچوں کے عالمی کنونشن پر ایک اعتراض اٹھایا گیا تھا جس میں اسلام کو بنیاد بنایا گیا لیکن بعد ازاں یہ اعتراض واپس لے لیا گیا۔ موجودہ دور میں تو پھوٹے منہ ایسا کوئی ذکر موجود نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس موجودہ دور میں وہی عالمی تناظر کے گھسے پٹے حوالے موجود ہیں جن کے ذکر سے کچھ معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے ساتھ کیا گیا ہے یا کسی دوسرے ملک کیساتھ۔ اصولوں کے بے معنی حوالے صرف ہمارا بوجھ بڑھاتے ہیں اور ہماری قوانونی روایات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اسلام اور اسلامی اصولوں کو، یا اس کے علاوہ کسی دوسرے تیسرے روایاتی سلسلے (اگر ایسا کوئی سلسلہ موجود ہے تو) کو باقاعدہ حوالہ بنانے کیلئے کوئی اداراتی تیاری نہیں کی گئی۔ یہ ایک بنیادی ضرورت ہے کہ معاہدات اور قوانین کے ابتدائی ڈھانچے میں اسلام اور اسلامی قوانین کو باقاعدہ اصول سمجھ کر طور حوالہے کے طور پر ذکر کرنے کیلئے تیاری کی جائے تاکہ ہماری مذہبی شناخت اور ہمارے معاشرے کی بنیادی اٹھان ان معاہدات میں ذکر کی جائے۔ اس سے ہماری عالمی مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ دنیا کے دوسرے ممالک اور ادارے پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے مخصوص اسلامی اور پاکستانی پسِ منظر اور اصطلاحات کا دھیان رکھیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان جیسے تمام اسلامی ممالک کا غیر متحرک کردار بھی ہے۔ تمام ممالک اپنی مخصوص پہچان کیساتھ زندہ رہتے ہیں۔ ممالک سے پہچان چھین لی جائے تو وہ کہیں کے نہیں رہتے۔ اسلام ہماری بنیادی پہچان ہے۔ اس بناء پر ہم اس سے وابستہ تمام حقائق کو اولیت دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ عالمی ادارے اور قوانین ہماری اس بنیادی پہچان کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں اس بناء پر ہمارے ادارے اور بااثر گروہ یا افراد اسلام کا باقاعدہ حوالہ دیتے ہوئے کتراتے ہیں۔ یہ عمل ہماری مشکلات کی زنجیر کو مزید طویل کردیتا ہے۔

مثال کے طور پر 1979 میں جب خواتین کا عالمی قانون سیڈا تشکیل دیا گیا تو پاکستان ایک توانا صورت میں موجود تھا۔ اس وقت تک اسلامی آئین تشکیل پاچکا تھا۔ 1973 کو گزرے ہوئے ایک چار سال ہوچکے تھے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب پردہ موجود تھی۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر ہمارے علماء اور محدثین کی رائے تحریری طور پر موجود تھی۔ ایسے میں پاکستان کو عالمی قانون کی بنیاد میں اسلامی خمیر کا اضافہ کرنے کی مہم چلانی چاہئیے تھی، مگر ایسا نہ ہؤا۔ اس کے برعکس پاکستان کے علاوہ سعودیہ کے کارپرداز بھی اس کوشش میں کوئی اضافہ نہ کرپائے۔ جس کی بناء پر دنیا میں خواتین کی آزادی کا ایسا قانون متعارف ہوا جسکا اسلام سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان نے اس قانون کو 1996 میں تسلیم کیا۔ اس قانون کی پہلی شق ہی مرد وخواتین کی ہمہ قسم برابری پر زور دیتی ہے۔ جبکہ اسلام میں عورت اور مرد کے حقوق و فرائض مختلف ہیں۔ سیڈا کا آرٹیکل 13 خواتین کے معاشی حقوق میں سے فیملی بینے فٹ ( وراثت وغیرہ) کا ذکر بھی کرتا ہے جبکہ خواتین کا اسلام کے تحت مردوں سے آدھا حصہ ہوتا ہے۔ یہ بنیادی تحفظات ہیں جن کی بناء پر عالمی قوانین اور ادارے مسلم تنظیمات اور اداروں سے کتراتے ہیں۔ کیا پاکستانی ادارے اور مقننہ یا عدالتیں اس عالمی قانون کو نظر انداز کرکے اپنا کام چلائیں گی یا اس کے خلاف کوئی تحریک پربا کریں گی؟ یا اس قانون کو اپنا کر اسلام سے روگردانی کی مرتکب ہونگی؟ یا ہمارے ادارے کسی جانب بھی نہیں ہونگے اور بے سمت فیصلے صادر کرتے رہیں گے؟ ہوسکتا ہے کہ ڈنگ ٹپاؤ اور وقتی فیصلے صادر ہوں۔ جس سے پاکستانی معاشرہ اقوامِ عالم کے سامنے مزید بے وقعت ہوجائے۔ یہ سنجیدہ معاملات ہیں جن پر بطور قوم سوچ سمجھ کر سیاسی شعور کیساتھ طویل مدتی فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور ان پر جم جانا ہوتا ہے۔ مسلم ممالک اپنے معاشرے کی بنیادی اقدار کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ غلط فہمی ہے کہ یہ اسلامی جماعتوں کی ناکامی ہے۔ دراصل یہ تمام معاشرے کی اجتماعی ناکامی ہے۔ جس قدر دیر سے اسلامی اقدار کو عالمی اداروں اور کسی عالمی فورم پر اٹھایا جائیگا، ہمارے معاشرے کی مشکلات اسی قدر بڑھتی چلی جائیں گی۔

ہم جس بھی مشکل کا شکار ہیں اس سے نکلنے کیلئیے یا تو مذہب کو نظر انداز کردیتے ہیں یا مذہب کو غلط قرار دیتے ہیں۔ یہ عالمی رجحان اب ہماری مقامی سیاست میں بھی وارد ہوگیا ہے۔ موجودہ دور میں بہت سی بہانے بازیوں کی وجہ سے یہ رجحان کافی پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔ اس کی بناء پر ہم کوئی بھی مقامی روایت اپنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ نتیجتا ہمیں عالمی قوانین کی دلفریب لفظی اصطلاحات کو اپنانا پڑتا ہے۔ لیکن اس سے ہمارا معاشرہ کھلونا بن جاتا ہے۔ ہماری روایات کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ آواز اٹھانے والے معدودے چند گروہ اپنے انجام کوپہنچ جاتے ہیں یا مصالحت اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کیساتھ ہی مسلم ممالک ایک قدم مزید پیچھے دھکیل دئیے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اس سے دنیا مثبت جانب چل پڑتی ہے۔ اس سے دنیا مزید غیر مستحکم ہوجاتی ہے۔ مشکلات کا حل ڈھونڈنے میں مزید مسائل درپیش ہوجاتے ہیں۔ بظاہر تو دنیا میں بینکاری کا نظام 2007اور 2008 میں غیر مستحکم ہؤا۔ اس کیساتھ ہی امریکہ کی ہاؤسنگ کی مارکیٹ مکمل طور پر بیٹھ گئی۔ دنیا بھر کا بینکاری اور معیشت کا نظام متوتر کئی سال تک انحطاط کا شکار رہا۔ لیکن کسی نے اسے اسلامی تحریکوں اور اسلامی قوانین کی مخالفت کے اثرات کے طور پر نہیں دیکھا۔ اس ناکامی کو عالمی اخلاقیاتی پیمانوں سے منسلک کرکے تجزیہ کرنے پر کوئی محنت صرف نہیں کی گئی حالانکہ ادارتی اکنامکس میں اس کی گنجائش موجود تھی۔ لہٰذا دنیا میں ہونے والی تحقیق بھی اپنے وسیع تر تناظر کے باوجود جانبدار ہی رہی۔ اس لئے جس قدر تحقیقاتی کوششیں کی جارہی ہیں، وہ جز وقتی بہتری لانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

—جاری ہے —

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: