بھٹکنا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ فارینہ الماس

3
  • 36
    Shares

“آپ بھٹک رہے ہیں؛ آپ کے سامنے کئی راستے ہیں مگر طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ آپ کو کس راستے پر جانا ہے ۔ بس سارا لطف بھٹکتے رہنے میں ہے ۔ بھٹکا ہوا آدمی کئی نئی ، نامعلوم چیزیں دریافت کر لیتا ہے “(ڈاکٹر ناصر عباس نیئر)

لیکن ہر بھٹکے ہوئے انسان کے بھاگ میں نامعلوم کی کھوج کی شرف اندوزی کہاں ۔۔۔ الجھے ہوئے راستوں میں ان دیکھے،ان جانے کی گھات ہر کسی کا مطمع نظر بھی نہیں ۔ ایسی آرزو اور تمنا ایک ایسے اضطراب قلب کی مرہون منت ہے ،جو کسی راہ گم گشتہ کے سفر میں درپیش ہر ابتلا و مصیبت کے کشٹ سہہ چکنے کے بعد اس کی راہ پر پیچ کو راہ طلب میں بدل دیتی ہے ۔ تب کہیں جا کے مخفی حقیقتوں کے پرت کھلتے ہیں۔

کبھی کبھی کوئی مقصد، کوئی حاصل، کوئی بھید جو تلاش کے سفر میں، نگری نگری گھوم کر بھی نہیں ملتا وہ اپنے اندر ہی کہیں چھپا بیٹھا مل جاتا ہے اور اسے نروان کے چکر سے ہی آشکار کیا جانا ممکن ہوتا ہے۔ جیسے گوتم کو در در بھٹک کر بھی ، نروان تو کسی پیڑ ،کسی بوڑھے برگد سے ٹیک لگا ئے ، آنکھیں موند ے ، خود اپنے اندر جھانکنے سے ہی مل پایا۔ لیکن یہ اس کے بھٹکنے کی صعوبت و دشواری ہی تو تھی جو اسے “دقت و مراقبت” کی منزل تک اس طور لے آئی کہ جہاں آواگون سے بچھڑنا اور روح کے نروان سے ملنا آسان ہوا ۔ سو اس بھٹکنے نے آگہی کے کیسے کیسے در نہ وا کئے ہوں گے ۔

روح پر ایسے کئی لمحہء گزراں بھاری ہوئے ہوں گے، جو آدرش کو چٹخنے اور کرچی کرچی ہونے کا سبب ہوئے ہوں گے ۔ اسی بھٹکنے میں بہت کچھ ٹوٹا بھی ہو گا اور ٹوٹ کر بکھر بھی گیا ہو گا لیکن گوہر مقصود پا لینے کے بعد معلوم پڑتا ہے کہ یہی بکھرنا تو اصل میں سب کچھ سمٹ جانے کے مترادف ہوا کرتا ہے، یہی کھونا تو درحقیقت سب کچھ پا لینا ٹھہرتا ہے۔
دنیا کا ہر بڑا تخلیق کار خواہ وہ شاعر تھا یا مصور ،پتھر کا مجسمہ ساز تھا یا لفظوں کا بت تراش وہ نامعلوم کے سفر پر عدم موجود عناصر کو کھوجتا اور انہیں موجود کا پیرہن عطا کرتا رہا ۔ لیکن وہ اپنے من اور اپنے فن کی بازیافت کے ہر پڑاؤ پر ٹوٹتا ،بکھرتا اور سمٹتا رہا ہو گا ۔ کیسے کیسے ابھوگ نہ کاٹے ہوں گے ۔۔۔اور کیسے کیسے خواب نہ ٹوٹے ہوں گے۔۔۔ کئی نوخیز اور شاداب خواب ۔۔۔ جو من ماری کے اس سفر میں گھائل ہوئے ہوں گے ۔ ۔ خوابوں کی شکستگی بڑی ہی جان لیوا ہوتی ہے ، زندگی کی بساط پر امید اور آس کی ہر چال ہی الٹ پلٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ کچھ ایسے بے زباں گھاؤ سونپ دیتی ہے جو کسی کو سنائی دیں نا دکھائی۔ کبھی کبھی تو پھر ان کے بننے کے واسطے درکار نیند ہی آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ انسان کے اندر ایسی شکست و ریخت برپا ہو جاتی ہے کہ پھر کوئی رستہ کوئی سجھاؤ میسر نہیں آتا ۔
لیکن بھٹکنا بحرحال بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان چھوٹے بڑے خوابوں کی شکست و ریخت میں گھل کر اک بڑے خواب کی ابدی و لازوال تعبیر میں جذب ہو جانے کے لئے
ایک ہی جیسی بد مزہ و لا حاصل راہ سے بے راہ ہونا بہت ضروری ہے ،خود آگہی کی دریافت و بازیافت کے لئے ۔۔۔۔۔
ہم نے کھو دیا ہے ۔۔۔۔۔ہم نے رستوں کی دقت اور سفر کی طلب کو کھو دیا ہے ۔ ہم اپنے لئے سیدھے سیدھے راستے چننے لگے ہیں ۔جن میں نہ تو رستوں کا الجھاؤ ہے اور نہ دریافت کی تشنگی ۔بس آسان اور سادہ سا راستہ جس میں پانا ہی پانا ہے کھونا نہیں۔اور کیا معلوم جو پایا ہے ،پانا اسے ہی کہتے ہیں یا اسے جو کھو دیا ہے ۔۔۔

لیکن جس سماج میں لوگ اپنی ذات کے سفر سے محروم ہونے لگیں وہاں دریافت اپنے رستے سمیٹ لیتی ہے ۔ مور اپنا ناچ اور پپیہے اپنا راگ بھول جاتے ہیں ۔ مصور سفید اور کالے رنگوں کے باطن سے ،شوخ رنگوں کی دھنک کشید کرنے سے بے اعتنا اور لکھاری لفظوں کے مجسمے تراشنے سے تائب ہو جاتے ہیں ۔معاشرہ بد مزاج اور بد قماش ہونے لگتا ہے َ۔بیزاری اور بے ہنری اس کی ہئیت کو بد شکل اور بد صورت بنا دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔جذبے کھردرے اور خواہشیں وحشی ہو جاتی ہیں ۔ آدرش کھوکھلا اور تصور بھیانک ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔حیات بے نمو اور عمر اک بار عظیم ہو جاتی ہے ۔

اس لئے بھٹکنا بہت ضروری ہے ، نامعلوم کی دریافت کے لئے ،خود آگہی کے ادراک کے لئے ۔۔۔۔

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. عمرفرید ٹوانہ on

    بہت کمال ۔۔۔کہیں کہیں لگا قلم آپکا ہے بول ہم رہے ہیں۔بہت خوب۔۔۔۔
    ایک ہی جیسی بدمزہ اور لاحاصل راہ سے بےراہ ہونا بہت ضروری ہے۔خود آگہی کی دریافت و بازیافت کے لیے۔۔۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: