سول بالادستی کا سالار؟ اسحاق ڈار

0

اسحاق ڈار ملک کے وزیر خزانہ ہیں، لیکن آج کل وہ صرف پریشان ہیں۔ ان کے سامنے کوئی حدیبیہ پیپر مل کے اعترافی بیان کا تذکرہ بھی کردے تو چراغ پا ہوجاتے ہیں، یہ بات ان کی چڑ بن گئی ہے اور بابو لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جو فیصلے کچھ عرصہ قبل بروقت ہوسکتے تھے، وزیراعظم عباسی کو اب وہ کام جلدی جلدی کرنے پڑ رہے ہیں۔ معاشی امور میں ان کے قریبی ترین مشیر دو بزنس مین ہیں اور کابینہ کے اجلاسوں میں اب وزیروں سے سے زیادہ بیوروکریسی کی بات پر دھیان دیا جاتا ہے اور یہ افواہ کسی حد تک اب خبر بنتی جارہی ہے کہ ملک میں ٹیکنو کریٹس کی ”حکومت“ ہے۔

رانا آصف

اسحاق ڈار سول بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وزیر اعظم بھی ان کی اس جدوجہد کا اس قدر احترام کرتے ہیں کہ کئی اہم امور میں براہ راست سیکریٹری اور ایف بی آر ہی سے بات کرلیتے ہیں کہ کہیں اسحاق ڈار صاحب کو زحمت نہ ہو۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اسحاق ڈار کی تعریف بھی کی کہ وہ اپنے کئی پیش رو وزرائے خزانہ سے کارکردگی میں بہتر ہیں۔ ڈار صاحب کی کارکردگی کے بارے میں بزنس کمیونٹی کا مجموعی تاثر اگرچہ اس کے برعکس ہے، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ اس وقت ملک میں سول بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ جدوجہد قوم کو کس قیمت پر پڑ رہی ہے، عشق میں سود و زیاں کا کیا حساب کریں۔

زرمبادلہ کے ذخائر، تجارتی خسارہ، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور کئی اہم مسائل اس وقت معیشت کو درپیش ہیں۔ آئی ایم ایف کا پروگرام اب ختم ہونے کو ہے اور ہمیں بہر حال انہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ نو اکتوبر سے 15اکتوبر تک ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے بوڑد آف گورنرز کا سالانہ اجلاس ہے۔ خبر یہ ہے کہ 2013 میں وزیر خزانہ بننے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ اسحاق ڈار اس میں شرکت نہیں کریں گے بلکہ سیکریٹری فنانس شاہد محمود پاکستانی وفد کے سربراہ ہوں گے۔ یہ سالانہ اجلاس کئی اعتبار سے اہم ہوتا ہے۔ عالمی معیشت کے اہم ترین سٹیک ہولڈر اس میں شریک ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر مالیاتی مسائل اس میں زیر بحث آتے ہیں، سرمایہ کاری، اور قرضوں کی فراہمی کی اسکیموں سمیت کئی اہم امور پر فیصلہ سازی ہوتی ہے۔ خدا کرے کہ یہ خبر غلط ثابت ہو اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو وزیر خزانہ وہاں صرف اس لیے نہیں ہوں گے کہ 12اکتوبر کو ان کی پیشی ہے، انہیں پاکستان میں سول بالادستی کی جدوجہد کرنی ہے۔

ستمبر 2016 میں پاکستان نے ٹیکس امور کے لیے میوچیول ایڈمنسٹریٹو اسسٹنس کے کنوینشن پر دستخط کےے تھے۔ آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے اس معاہدے پر دستخط کے بعد 104 ممالک میں آف شور اکاونٹس اور مالیاتی ترسیلات سے متعلق معلومات کی رسائی، پاکستان کو حاصل ہونا تھی، پنامہ پیپر کے بعد اس کی ضرورت ہمیں یوں بھی بہت زیادہ تھی۔ لیکن اس معاہدے کے بعد ہمیں بھی کچھ اقدامات کرنے تھے۔ پاکستان میں چھے آٹومیٹڈ ایکسچنجز آف انفارمیشن (اے ای او آئی) زونز قائم کرنا اس کی بنیادی شرط تھی۔ لیکن اس سلسلے میں پیش رفت کیا ہوتی ، خدشہ اس بات کا ہے کہ او ای سی ڈی کا وفد اگر اپنی گائڈ لائن پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے دورے پر آگیا تو ہمیں ٹیکس امور میں معلومات کی رسائی دینے سے انکار کردیا جائے گا، کیوں کہ ہم وہ اقدامات ابھی تک نہیں کرسکے جن کی شرط عاید کی گئی تھی۔ تاخیر کی وجہ کیا ہے، ایف بی آر وزیر خزانہ سے پوچھے بغیر ایک قدم نہیں اٹھاتا اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار اس وقت نیب میں اپنے مقدمات میں مصروف ہیں اور کئی اہم فیصلے التوا کا شکار ہیں۔

سینیٹ کی فنانس کمیٹی اور مختلف حلقے وزیر خزانہ کے استعفی کا مطالبہ کرچکے ہیں، لیکن حکومت شاید منتظر ہے کہ انہیں بھی نکالا جائے۔ سول بالا دستی کی اس جنگ میں اسحاق ڈار صاحب کے اس اہم کردار کی وجہ سے کچھ چھوٹے موٹے نقصان ہورے ہیں، ان کا ازالہ ممکن ہے۔ مثلاً کسی ایسے ملک میں سرمایہ داری فیصلہ کتنا آسان ہے اگر اس کا وزیر خزانہ ہی مالی وسائل سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں پیشیاں بھگتا رہا ہو؟ حکومت کی توانائیاں، درپیش چیلنجز کے لیے پالیسی سازی کے بجائے، اپنی بقا کی قانونی جنگ پر صرف ہورہی ہوں؟ عوام کا فائدہ نقصان تو غیر متعلق بات ہے۔ حکومت اس لیے بھی سکون سے ہے، ماضی کی طرح وہ بھی آنے والوں کے لیے نالائقی کا پورا جواز خود ہی تراش کر دے جائے گی، لیکن سول بالادستی کے معرکے میں ہر اول دستے کے سالار، اپنے وزیر خزانہ کی قربانی نہیں دے گی کہ کہیں کوئی سازش کام یاب نہ ہوجائے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: