ہم سب زمین سے ہیں: احمد اقبال

0

آٹھ اکتوبر کے زلزلے پر ایک تاثر بے حسی کے نام۔ مایہء ناز ادیب احمد اقبال صاحب کے قلم سے آج کی ایک کہانی
———————————————————————————————————————————

گڑیا گھر لگنے والے گھر عمارتیں بن گئے اورسیاہ لکیر پرگاڑیاں دوڑتی دکھائی دینے لگیں تو اسے یقین آیا کہ قطاروں میں بیٹھے لوگوں کے درمیان جو محض خفیف سا ارتعاش لگتا تھا وہ جہاز کا ایک ہی سمت میں سفر تھا جس کا اختتام بالاخر اپنے نقطہؑ آغاز پر ہورہا تھا۔۔ زمین وقعی گول تھی. زمین نے ایک دم اوپر اٹھ کے جہاز کے قدموں کو چوما اور اسے خفیف سا جھٹکا لگا تو اس نے پھر خوشی کی وہی سنسنی محسوس کی جس سے وہ نا آشنا نہیں تھا ۔ اب سے بائیس سال چار ماہ اور بائیس دن پہلے جب اس کے جہاز نے اپنی زمین کو چھوڑا تھا تب بھی اس خوشی کی مسرت ایسی ہی تھی۔ درمیان میں کئے گئے لاتعداد سفر کوئی جذبہ نہیں رکھتے تھے۔

باہر ایک نئی اور اجنبی دنیا میں بھی اس کے لئے حیرانی نہیں تھی۔ اس نے ایک ہی سمت میں روبوٹس کی طرح متحرک انسانوں سے مختلف نظر آنے کی خواہش بھی نہیں کی لیکن اپنے وجود میں بیدار ہونے والے خوشی اور شرمندگی کے جذبات کا جو ریلا سا اٹھا تھا اب اس کی شدت سے وہ سینے میں گھٹن محسوس کر رہا تھا۔ باہر آکے اس نے نیم دایرے میں موجود ساکت چہروں پرلگی آنکھوں میں انتظار کو مجسم دیکھا تو پرسکون اور غیر جذباتی رہنے کے ارادے کا بوداپن اسے لاحاصل لگا. کسی ایک آنکھ میں اس کے لئے شناسائی تک نہ تھی۔۔ جیسے وہ کسی کو نظر ہی نہیں ارہا تھا۔ شناخت کے پیچھےجو رشتہ ہوتا ہے وہ کسی نظر مین نہ تھا۔ وہ مریخ پر اترنے والا انسان ہوگیا تھا.

اس نے از خود آنکھ سے اتر کر گال پر آجانے والے گرم پانی کو رومال سے صاف کیا ۔۔ کچھ کہے بغیر وہ ایک سفید گاڑی میں بیٹھ گیا جو تقریبا نئی تھی ایک طرف صف بستہ کالی پیلی ٹیکسیوں کے ساتھ اس جیسی اور بھی تھیں۔ سفید وردی والا ڈرائیور اس کا سوٹ کیس ڈکی میں رکھ کے اپنی سیٹ پر بیٹھا تو اس نے کہا، “ایبٹ آباد کے راستے بالا کوٹ”
” یس سر” ڈراییؑور نے سیٹ بیلٹ باندھتے ہوےؑ سر ہلایا.

زمین آسمان کے درمیان کچھ بھی بدلا نہیں تھا لیکن اس کے ساتھ اجنبیت کا رشتہ جتانے کی کمینگی میں مبتلا تھا۔ وہ سب سے بے نیاز ہوکے صرف حرکت کو دیکھتا رہا جس میں تیقن تھا کہ فاصلہ مزید سمٹ رہا ہے۔ ایک مصروف سڑک پر نظر آنے والے بنک کے سائین بورڈ سے اس پر انکشاف ہوا کہ وہ ایبٹ آباد سے گزر رہا ہے تو اسے وہ خوابیدہ سا قصبہ جیسا شہر یاد آیا جس میں کہیں برن ہال اسکول بھی تھا۔ وہ لڑکا کرکٹ کی بے داغ سفید یونیفارم میں بیٹ اٹھاےؑ البم کی کسی تصویر کی طرح نظر ایا جو وہ خود تھا۔ انہی خیالوں میں بالا کوٹ آگیا.

ڈرائیور کے سوال پر وہ چونکا۔۔”آں؟ میرا خیال ہے۔۔ مجھے یہاں اتار دو.”
سوٹ کیس کو ہینڈل سے کھینچ کر وہ ایک کیمسٹ کی دکان تک گیا۔ وہ ٹھیک جگہ ہی ا ترا تھا اپنی بے خیالی میں سڑک عبور کرتے ہوئے اس نے کسی بریک لگانے والے مشتعل ڈرائیور سے بائیس سال بعد ایک گالی سنی تواسے آشنائی کا یہ اظہار خوش آمدید جیسا لگا۔ گلی میں ایک جگہ کو اس نے دیکھتے ہی پہچان لیا جہاں ایک جیسے دو گھر اس کی طرح بوڑھے ہو جانے کے باوجود وہی تھے.

اس نے ساتھ والے گھر کی گھنٹی پر انگلی رکھی ۔ گھر کا رنگ روغن ضرور نیا تھا لیکن ایک منزل کے اضافے کے سوا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ بارہ چودہ سال کے ایک بچے نے آدھا دروازہ کھول کے اسے سوالیہ نظر سے دیکھا۔”جی؟”
“اشرف جدون صاحب سے ملنا ہے مجھے۔۔” اس نے جھجکتے ہوےؑ کہا
بچے نے سر اندر کی طرف گھما کے آواز لگاؑئی، دادا! آپ سے ملنے آیا ہے کوئی” اور غائب ہو گیا۔۔ اس کی جگہ صورت سے بیمار اور کمزور نظر انے والے ایک بوڑھے شخص کا چہرہ نمودار ہوا جس کی بالشت بھرلمبی سفید داڑھی تھی. وہ اس کی انکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتا رہا” اشرف! مجھے غور سے دیکھو۔۔۔میں افضل ہوں۔۔ افضل خان”
اشرف باہر اس کے سامنے آگیا ،”افضل۔۔” اس نے بے یقینی اور یقین کے پل صراط پر ایک زہر آلود منجمد لمحے میں کہا اور پھر پیچھے ہٹ گیا “اجاؤ -اندر آجاؤ-”
وہ کچھ دیرکرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور بائیس سال پہلے کا وقت ان کے درمیان رکا رہا۔ اندر سے ایک ان جیسی بوڑھی عورت درمیانی دروازے میں نمودار ہوئی، اشرف کی بیوی اب بہت موٹی ہوگئی تھی.
“میں معافی مانگنے ایا ہوں اپنی بے وقوفی کی۔۔”افضل نے بڑی مشکل سے کہا
“کیوں؟” اشرف نے بہت دیر بعد تلخی سے کہا
“بس۔۔ میں نے بڑی غلطی کی تھی بڑا گناہ کیا تھا۔۔ ضد اور دشمنی میں گھر تمہیں نہیں دیا تھا۔۔بند کر کے چلا گیا تھا مرنے سے پہلے اس کی تلافی ہوجائے بس ۔۔اور کویؑی مقصد نہیں۔۔ یہ مکان تم لے لو ۔۔اسی قیمت پر”
“اسی قیمت پر؟” میاں بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ” تمہیں معلوم ہے اب قیمت کیا ہے یہاں زمیں کی؟”
“نہیں۔۔لیکن قیمت لے کر اب کیا کرنا ہے مجھے۔۔ اگر تم برا نہ مانو تو میں وہ قیمت بھی نہ لوں۔۔ بس یہ بتادو کہ اب تمہیں کوئی گلہ نہیں۔۔ تم نے معاف کردیا ہے مجھے۔؟” افضل لجاجت سے بولا.
اشرف بے حس و حرکت بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ اس کی بیوی دروازے کی چوکھٹ میں پھنسی کھڑی رہی۔
” کیا؟ کیا؟ اب تمہیں۔۔۔ ضرورت نہیں رہی اس کی؟” افضل نے مایوسی سے کہا. مسکراہٹ اشرف کے چہرے پر روشنی بن گئی ضرورت تو آج پہلے سے بہت زیادہ ہے۔۔ اب یہ دومنزلیں بھی میرے خاندان کوبہت کم پڑتی ہیں۔۔ کل کی غلطی کی کیا بات کرتے ہو؟ آج ایک فرشتہؑ رحمت بن کر آےؑ ہوتم۔۔”
۔۔۔وہ اٹھا اور افضل کے گلے لگ گیا۔ وہ دونوں خاموشی سے روتے رہے کیونکہ وہ آنسو روک نہیں سکتے تھے۔ ان رایؑگاں جانے والے سالوں سے پہلے بھی ان کے درمیان نصف صدی کے تعلق کا رشتہ تھا.
“اس کا مطلب ہے” الگ ہو کے بیٹھنے کے بعدافضل نے سکون اور طمانیت کی گہری سانس لی” میرا سفر رائیگاں نہیں گیاـ میں بہت تھک گیا ہوں بھابی۔۔۔ سونا چاہتا ہوں اب”.
موٹی عورت محبت سے مسکرائی۔۔” بھائی تم ہاتھ منہ دھوکے کپڑے بدلو۔۔ میں کھانا لگاتی ہوں”۔ افضل نے سر ہلا کے اس عورت کو دیکھا جو ان کے درمیان دشمنی کا سبب بنی تھی۔۔ یہ سب کتنا عجیب لگتا ہے آج…!!!

وہ نصف شب کے بعد تک ساتھ ساتھ لگی چارپائیوں پر لیٹے باتیں کرتے رہے۔۔ ان کے درمیان مکمل اتفاق راےؑ تھا کہ صبح وہ عدالت جاکے زمیں کی منتقلی کے کام کا آغاز کر دیں گے
“میرے پاس وقت کم ہے۔۔ اور یہ عدالتی معاملات پاکستان میں بہت لمبے ہوتے ہیں.”افضل نے نیند سے بوجھل لہجے میں کہا.” تم فکر نہ کرو۔۔پیسے کا ایکسلریٹر دینا پڑتا ہے۔۔ اسپیڈ جتنی چاہو تیز کرلو” اشرف ہنسا “کب واپس جانا ہے تمہیں؟؟” اشرف نے پوچھا لیکن افضل سوچکا تھا۔ اشرف بہت دیر جاگتا رہا اور گذر جانے والے وقت کے بارے میں سوچتا رہا.

وہ زلزلہ جس نے باقی شہر کی طرح دونوں مکانوں کو بھی برابر کردیا صبح ان کے جاگنے سے پہلے آیا..!!!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: