دینی مدارس کا غیر حقیقی کردار: عامر منیر

0
  • 2
    Shares

برصغیر پاک و ہند کے مسلم سماج میں دینی مدارس کا کردار اور ان کا مستقبل ایک پیچیدہ امر ہے جسے اس کے تاریخی تناظر کو سمجھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ دینی مدارس کا موجودہ مزاج، کلچر اور فکری نہج برصغیر پر برطانوی تسلط کا رد عمل ہے۔ ایک غالب اور جابر تہذیب جو منظم تشدد کے ذریعے مسلمانان برصغیر کو اپنے سامنے جھکانے پر تلی ہوئی تھی، اس کے مقابلے اور اسے بزور قوت نکال باہر کرنے کی آخری کوشش جب 1857 میں ناکام ہو گئی تو اسلام کا درد رکھنے والے دلوں نے مدارس کی شکل میں ایک فکری اور علمی نوعیت کی قلعہ بندی میں ہی عافیت جانی۔ ان قلعوں کے اندر اسلام کی روح کو بشمول اس کے ہندی ثقافتی رنگ محفوظ رکھنے اور اسے اگلی نسل کو ہر ممکنہ حد تک اصل، اوریجنل حالت میں منتقل کرنے کا اہتمام کیا گیا اور بلاشبہ یہ کوشش کامیاب رہی، دارالعلوم دیوبند سمیت اس مساعی کے حصہ دار تمام مدارس بلاتفریق مسلک و مکتب فکر قابل تحسین اور ہمارے محسن ہیں۔

عامر منیر

1857 کی ناکامی کے ہی ردعمل میں ایک اور سوچ نے بھی جنم لیا جس کا ماننا تھا کہ انگریزوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں، ان کی سوچ اور جدید علوم کو اپنانے سے ہی مسلمانان برصغیر ترقی کر سکتے ہیں اور فلاح پا سکتے ہیں۔ اس سوچ کے ترجمان سرسید احمد خان اور علی گڑھ یونیورسٹی تھے، یہ ذہن میں رہے کہ فکر اور لائحہ عمل میں بعدالمشرقین کے باوجود ان بزرگوں کا مطمع نظر بھی مسلم قوم کی فلاح اور نئے زمانے میں اس کے تشخص کی بقا ہی تھی، اس سوچ نے مسلمانوں میں جدید علوم کی ترویج کے لئے جدوجہد کی اور ہم باقی سب کچھ ایک طرف رکھتے ہوئے صرف جدید علوم کے پروردہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کی مسلمان قوم کے لئے خدمات کو ہی دیکھ لیں تو یہ کاوش بھی اتنی ہی گرانقدر اور قابل تحسین ٹھہرتی ہے جتنی دینی مدارس کی خدمات ۔۔۔۔۔۔

اب آ جائیے تاریخ کے اگلے سنگ میل، یعنی قیام پاکستان کی طرف۔ قیام پاکستان نے اس سیاسی اور سماجی منظرنامہ کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا جس کے ردعمل میں دیوبند و علیگڑھ اور ان کے اختلافات ابھرے تھے، اب مدارس کو قلعہ بندی کی نہیں بلکہ ان قلعوں سے باہر نکل کر سیاست اور سماج کے عملی مسائل کے کھلے میدان میں سامنے کی ضرورت تھی، بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ ہم ابھی تک دینی مدارس کو اسلام کے قلعے بنانے پر تلے ہوئے ہیں جن کے اندر محصور، فتووں کے تیر ترکش میں ڈالے مسلمان ہمہ وقت چوکس ہو کر کسی خطرے کے انتظار میں بیٹھا رہے اور جیسے ہی دین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق دکھائی دے، جھٹ سے ایک فتوے کا تیر اس پر داغ دے۔ یہ ذہنیت ان قلعہ داروں کو بھی مرغوب ہے جن کے لئے یہ قلعے شان و شوکت، جاہ و حشمت اور مال و دولت کی ایک مسلسل فراہمی کا ذریعہ ہیں، اسی لئے وہ موجودہ کلچر میں کسی قسم کی تبدیلی کے خلاف شدید مزاحمت کرتے ہیں۔ لکھنے پر آؤں تو داستان لکھ دوں، لیکن صرف اتنا کہنے پر اکتفا کروں گا کہ اہل مدارس ماضی میں جی رہے ہیں، حال سے لاتعلق ہیں، خیالی عفریتوں سے برسرپیکار ہیں اور انہیں اپنے اسلاف سے کوئی نسبت نہیں جنہوں نے ان مدارس کی بنیاد رکھی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: