دو لفظوں میں کیسے کہوں اک عمر کا قصّہ : سحرش عثمان

0
  • 2
    Shares

یوں تو انسان کا زمین پر آنا بجائے خود ایک حادثہ تھا۔ مگر گھڑی بھر کو ٹھہر کر، اپنے اپنے کولہو سے دو منٹ کی رخصت لے کر سوچیں کہ اس مسجودِ ملائک پر کیسا کیسا حادثہ نہیں گزرا۔

جنت سے نکالے جانے کا حادثہ کیا کم تھا جو جدائی والے چالیس برس مل گئے؟ جدائیوں کا عذاب بڑا دردناک ہوتا ہے۔ وہی شخص ساتھ اٹھتا بیٹھتا، چلتا پھرتا، ہنستا بولتا ہو تو کبھی یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ اسقدر اہم ہے۔ اور وہی اگر بچھڑ جائے تو کسی کل چین نہیں پڑتا۔ اٹھتے بیٹھتے بس اسی کا خیال۔ “یوں کرتا تھا وہ ۔۔۔ اس وقت ہوتا تو ایسے کہتا”۔ بظاہر ایک ماضی پرست یا ناسٹیلجک شخص کے جملے لگتے ہیں۔ پر جس پر بیت رہی ہو جدائی،وہی مفہوم سمجھ سکتا ہے اس سب کا۔

جدائیوں والا حادثہ ختم ہوا تو آدم کے دو بیٹوں کے دل میں ایک ہی ناری کا سمانا ایک نیا حادثہ تھا۔ ویسے یہ بھی تو آدم کی فطرت میں ہے نا، اس کا ناری پر جی ہار بیٹھنا اور پھر اپنی جنت داؤ پر لگا لینا۔ جب آدم کو انہی عناصر سے گوندھا ہے رب نے تو پھر کب تک فطرت سے لڑنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے ہم سب؟ پھر آج بھی ہم کسی کا کسی کے لئے والہانہ پن دیکھ کر تعجب کیوں کرتے ہیں؟ رب کے رسول کا ہی اٹل فرمان ہے نا کہ دو دلوں میں محبت میں نکاح کے خطبے سے بہترین بات کوئی نہیں؟
تو پھر ہم ملانے یا ملنے کی بات پر ایسا انہونا ردعمل کیوں دیتے ہیں؟ جیسے یہ پہلا ہی واقعہ ہوا ہو زمانے میں۔
سوچیں تو فطرت سے اس لڑائی سے بڑا حادثہ نہیں کوئی۔

اس حادثے کا اپائے سوچنے سے پہلے ہی اس جلد باز نے زمین اپنے ہی بھائی کے خون سے رنگین کرکے نئے حادثوں اور نئے امکانات کا در وا کیا۔
کیسا کیسا خیال آیا ہوگا اس وقت ذہن میں۔ قدیم و اولین ہی سہی، تھا تو انسان ہی نا۔ خدشات، خوف، امید و یاس میں بندھا۔

کھو دینے کا خوف، کچھ ہوجانے کا خدشہ، منزل سے دوری پر یاسیت ۔۔۔ آج بھی تو انہی بندشوں میں جکڑے ہیں نا ہم سب۔ اور رہ گئی امید ۔۔۔ اچھے وقتوں کی امید۔ امید سے بڑی کوئی برائی شاید زمین پر نہ ہو۔ نہ اس سے بڑی کوئی اچھائی ہی ہو گی۔ پینڈورا والی کہانی میں بھی تو اس لڑکی کے ڈبے میں رہ جانے والی “آخری برائی” امید ہی تھی۔ جسے لے کر پہاڑی راستے پر نشیب کی طرف گامزن ہوگئی تھی وہ، اچھے دنوں کی آس لئے۔ تو صاحبو، ہماری امید پرستی بھی اور یاسیت بھی حادثہ ہے۔ اور ان دونوں سے جنم لیتے ان گنت حادثے۔
ایک تو شاعر نے بتایا تھا نا کہ

بہت امید رکھنا اور پھر بے آس ہونا بھی
بشر کو مار دیتا ہے بہت حساس ہونا بھی

ویسے بشر کا مر جانا تو کوئی حادثہ نہ ہوا۔ جینا البتہ حادثہ ہو سکتا ہے۔ اور جیے ہی چلے جانا حادثہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ حادثے سے بھی بڑا۔۔۔سانحہ۔ کیسی پستی ہے۔ ساری مخلوق رب کا کنبہ ہے اور اس کنبے کا سب سے افضل فرد انسان بغیر کسی واضح مقصد کے جیے جا رہا ہے۔ اپنی اپنی مرضی کا طوق گلے میں ڈالے۔ اپنے اپنے تعصبات کے تمغے سجائے۔ اپنے اپنے کولہو میں سب جتے ہوئے ہیں۔ اپنی تخلیق کے مقصد سے بے نیاز۔
یہ لایعنی بے نیازی حادثہ ہے لوگو۔ پستی کے ساتھ یہ سیٹلمنٹ حادثہ ہے۔ دنیا جہاں کے فلسفے پڑھ کے جینے کا ڈھنگ نہ سیکھ پانا بھی حادثہ ہے۔ ویسے ڈھنگ سیکھنے والا موقف بھی بڑا عجیب ہے۔ یہ پرٹینڈ کرتی ہوئی “تہذیب” بھی تو حادثہ ہے نا۔ کلچر کے نام پر ہر بے جان تکلف کی غلامی سے بڑا کوئی حادثہ نہیں۔ معاشرت کے نام پر ہر اختیار رکھنے والے کا اپنے اختیار کا فرعون بن جانا بھی حادثہ ہے۔
اپنے ذرا ذرا سے فائدے کے لئے۔۔ بلکہ نہیں فائدے کی امید پر اوروں کے احساسات کا قتل سانحہ ہے۔ جو روز ہمارے گرد بیت جاتا ہے اور ہمیں حادثہ نہیں لگتا۔ یہ بےخبری المیہ ہے۔

اردگرد چلتی پھرتی زندہ لاشوں کے گروہ مسکراہٹ سے عاری لب زندگی سے عاری آنکھیں اور لہجے ان سب کو دیکھنا پھر بھی زندگی پر اصرار کرنا بھی حادثہ ہے اور یہ سب جانتے بوجھتے اپنے ہی بزدل انسان دنیا میں لائے ہی چلے جانا حادثہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: