زندگی خوبصورت ہے : شاہین کاظمی کا اٹلی کا سفرنامہ حصہ 3

0

سفرنامہ ہے یا طلسمِ ہوشربا کی داستان ۔۔۔۔ ایک ایسے علاقے کا سفرنامہ جہاں بڑے بڑے جغادری بھی پتہ پانی کرتے ہیں۔ ان کے بیچ ایک عورت کے نازک جذبات و احساسات سے گندھی سحر انگیز مگر خوفناک دشوار گزار علاقے، بلند و بالا پہاڑوں کی یاترا ۔۔۔۔ پرفسوں چاندنی رات کا نظارہ ۔۔۔۔۔ خوبصورت الفاظ و تراکیب سے سجا شاندار مگر خوفناک گھاٹیوں کا سفر۔ جہاں جمال وکمال کے ساتھ ساتھ مختلف علاقائی روایات کا بیان بھی محترم خاتون کی عمیق نظری اور مشاہدے کا نچوڑ ہے۔ جہاں جان ہتھیلی پر تو روح حلق میں مچل رہی ہے۔ شاہین کاظمی کا حسین قلمی شاہکار ۔۔۔۔۔  دانش کے قارئین کے لئے اسکی دوسری قسط پیش خمت ہے۔ پہلی قسط کا لنک یہ اور دوسری قسط یہاں پڑھی جاسکتی ہے۔


اگلا قصبہ province of Sondrio کا Chiavenna کھیاوانا نامی تاریخی قصبہ تھا۔ دریائے میرا Mera کے کنارے آباد یہ قصبہ اپنے نام کے صوتی اور معنوی اعتبار سے بہت اچھا لگا۔ Chiavenna کا لفظ شاید ابتدا میںپری لیٹن pre-Latin سے لیا گیا تھا۔ جسے امتدادِ زمانہ نے کیا کا کیا بنا کر رکھ دیا۔ اِس کا نام اپنی جغرافیا ئی حیثیت کی وجہ سے پڑا۔ جس کالفظی مطلب fallen rocks of a mountain تھا۔ کھیاوانا میں ایک قدیم قلعہ کے آثار قابلِ دید ہیں۔ اِس کے ساتھ ہی پہاڑی چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی اُن فرمانرواؤں کی مورتیاں بھی ہیں جو کھیاوانا پر صدیوں پہلے حکمرانی کرتے رہے تھے۔

ہماری منزِل مقصود صوبہ سوندریو کا ایک بارونق قصبہ سوندریو تھی جو اٹلی کے شمال میں واقع ہے۔ بلند پہاڑوںمیں گھرا یہ خوبصورت علاقہ انگوروں اور شراب کے لئے بہت مشہور ہے۔ دس بجے کے قریب ہم منزِل مقصود پر تھے۔ سب سے پہلے جس چیزنے مجھے متوجہ کیا وہ لکڑیوں کے دھویں کی باس تھی۔ بے اختیار پاکستان کی یاد آگئی۔ گاڑی سے باہر نکلے تو ایک خاتون تیزی سے ہماری طرف لپکیں اور سوٹ کیس اٹھا لیا اور ہوٹل کے کمرے تک رہنمائی کی۔ کھانا کھانے کے بعد سونے کی کوشش جاری رہی۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل ڈرائیو نے جسم کو پھوڑا بنا دیا تھا۔ چائے کی شدید طلب کافی بھی نہ مٹا سکی۔ سونے کی کوشش جاری رہی لیکن راستے کی دہشت اور اِس سوچ نے کہ پھر اُسی راستے سے واپس جانا ہے رات بھر سونے نہ دیا۔ مگر صبح یہی فیصلہ ہوا کہ بھلے فاصلہ سینکڑوں کلو میٹرز زیادہ سہی مگر splügenpass سے نہیں جانا۔

اگلی منزل کومو جھیل کے کنارے واقعی قصبہDomaso ڈوماسو تھا۔ جھیل اور بڑے بڑے شاندار محلات سے گھرا یہ قصبہ جدید اور قدیم کا خوبصورت امتزج لئے ہوئے ہے۔ زمانہ قدیم سے اِس علاقے کوامراء اور خواص کا علاقہ گنا جاتا تھا۔ شاندار محلات جن میں 18th century Villa Camilla اورChurch of San Bartolomeo قابل دید ہیں۔ کومو جھیل کے کنارے آباد یہ قصبہ رومن عہد میں ارسٹو کریٹ اور امراء کی گرمائی رہائش گاہوں کے طور پر مشہور تھا۔ آج بھی یہ علاقہ اپنے قدرتی حسن اور جھیل کی وجہ سے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ جھیل کومو اٹلی کی تیسری بڑی جھیل ہے جو اپنے دیومالائی حسن کے لئے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ 146 کلومیٹرز کے رقبے پر پھیلی یہ جھیل جب سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوتی ہے تو ’’ لوگانو جھیل،، کہلاتی ہے۔ Lugano کا قدیم شہر سوئس کے جنوبی صوبےTicino میں واقع ہے۔ کومو جھیل کے ساتھ ساتھ چلتی یہ طلسمی پگڈنڈی سوئس اور اٹلی کے درمیان راہداری کا کام کرتی ہے۔ایک طرف جھیل کا مسحور کردینے والا حسن اور دوسری طرف بلند ہوتے پہاڑوں پر قدیم رومن عہد کی یاد دلاتیں آبادیاں جو آج بھی وہی پرانا طرز تعمیر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

سوئس کا جنوبی صوبے ٹاچینو پری آلپس میں گھرا دنیا میں اٹلی کے علاوہ اٹالین بولنے والا سب سے بڑا علاقہ شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ پتھرکے زمانے سے آباد چلا آرہا ہے۔ 48.7اسکوائر کلو میٹرز کے رقبے میں پھیلی ہوئی ’’لوگانو جھیل،، بھی اتنی ہی قدیم ہے۔ یہ علاقہ پہلی صدی عیسوی میں رومن سلطنت کے زیر اہتمام رہا ہے۔

لوگانو اپنے قدیم گرجا گھروں، پرانے محلات اور قدیم میوزیمز کے لئے مشہور ہے۔ اِن میں سان لورینزو کتھیڈرل، سانتا ماریا چرچ اور سان روکو کا چرچ قابلِ دید ہے۔ اِس کی کئی مشہور اور قابل دید جگہیں Swiss heritage site of national significance میں بھی شامل ہیں۔ بلند پہاڑوں میں گھرا سان روکو کا گرجا گھر اپنے مخصوص قدیمی طرزِ تعمیر اور نقش و نگار کے لئے بہت مشہور ہے۔ میں نے پہلی بار جب یہ چرچ دیکھا تومجھے لگا میں شاید کسی قدیم عہد میں کھڑی ہوں جب عیسائیت نے ایک اذیت ناک دور کے بعدرومن سلطنت کے کسی بادشاہ کے دل کو متاثر کیا۔یہ گھرجا گھر اُسی ابتدئی دور کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ پہاڑ کی بلندی سے شہر کا خوبصورت نظارہ جھیل کے گہرے سبز پانیوں میں ڈولتیں ننھی ننھی سفید کشتیاں اور بڑے جہاز، ساحلی پٹی پر چھوٹے چھوٹے ہٹس میں دستیاب تیز مصالحے والی مچھلی اور اُبلی ہوئی سیپیاں سیاحوں کے لئے خاص کشش رکھتی ہیں۔ لوگانو میں سوئس کی مشہور قدیم و جدید عمارات کے’’منی ایجرز،، اس خوبصورتی سے تعمیر کئے گئے ہیں کہ آنکھوں میں حیرت اور دید کی تمنا کم نہیں ہوتی۔ یہ منی ایجرز اصلی عمارتوں کی مکمل ترین نقل ہیں۔ گڑیوں کے گھروں جیسی یہ ننھی منی عمارتیں دیکھ کر انسا ن خودکو خواہ مخوہ ہی’’ جائنٹ،، تصورکرنے لگتاہے۔ لوگانو گو کہ سوئس کا حصہ ہے لیکن اپنے مزاج اور عادات کے اعتبار سے جرمن سوئس سے قدرے مختلف ہے۔ جرمن سوئس سوئٹزرلینڈ کا ستر فیصد علاقہ اپنے انتظامی معاملات اور صفائی ستھرائی میں بے مثال ہے۔ ٹرانسپورٹ کا شاندار نظام اِس علاقے کی خصوصیت ہے۔مجال ہے کوئی بس یا ریل گاڑی لیٹ ہو۔ اگر کبھی کسی وجہ سے ایسا ہو بھی جائے تو باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کو اپنے آفس یا ادارے میں لیٹ ہونے کی صورت میں کسی بھی دقت کا سامنا ہو تو آپ کا باس اِس نمبر پر ہم سے رابطہ کر سکتاہے۔ اگر آپ کا کوئی انتہائی ضروری اپائمنٹ ہے او آپ ر بس یا ریل کا ٹکٹ خرید چکے ہیں لیکن کسی بھی وجہ سے بس یا گاڑی اتنی تاخیر کا شکا ر ہے کہ آپ اپنا یہ اپائمنٹ مس کر سکتے ہیں تو آپ بلاجھجھک ٹیکسی بلوا کر اپنی مطلوبہ جگہ پر جائیے اور ٹیکسی کے کرائے کی رسید اور ریل یا بس کا ٹکٹ انتظامیہ کو بھجوا دیجیئے آپ کو پیسے واپس مل جائیں گے۔لیکن لوگانو میں ہر آنے والی ریل گاڑی کو پانچ سے دس منٹس لیٹ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ صفائی ستھرائی کامعیار بھی جرمن سوئس کے مقابلے میں کمتر نظر آیا۔

ان گھڑ پتھروں سے بنے اونچے نیچے گھر وں کی ڈھلوانی چھتیں اور آہنی دروازوں پر جھولتی خوشنما بیلیں۔ سورج کا لمس پا کر جھیل کے سرد پانی سے اٹھتی بھاپ نما دھند۔ بلند پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکتی سورج کی اوّلیں کرنیں کہتی ہیں زندگی خوبصورت ہے۔ تنگ بل کھاتی سڑک جو ہر چند کلو میٹرز کے بعد کسی چھوٹی سے سرنگ میں داخل ہو جاتی ہے۔ چمنیوں سے اٹھتا دھواں اور فضامیں رچی اِس دھویں کی باس نوید دیتی ہے زندگی خوبصورت ہے۔منظر کی خوبصورتی میں کھو کر غلط موڑ مڑنے اور پھر صراطِ مستقیم کی تلاش میں ہونے والی جدو جہد کہتی ہے زندگی خوبصورت ہے۔ اپنی بیوقوفیوں پر لگنے والے قہقہوں کے باعث آنکھوں میں اترتی نمی کہتی ہے زندگی خوبصورت ہے۔اٹلی کو خیر باد کہتی نظر، سوئس بارڈر پر اٹالین بولتے سوئس عملے کو جرمن اور انگلش میں سمجھانے کی کوشش میں زچ ہوتے ہوئے کہ ہمارے پاس شراب نہیں ہے اور پھر اذن ملنے پر گاڑی کی فراٹے بھرتی کُوک کہتی ہے زندگی خوبصورت ہے۔

کبھی کبھی لفظ ہار جاتے ہیں وہ سب نہیں کہہ سکتے جو آنکھ دیکھتی ہے۔ اِس حسن کو بیان کرنے سے معذور ہوتے ہیں جو حدِ نظر پھیلا ہوا ہوتا ہے۔آپ کو جکڑتا ہوا۔۔۔۔۔ مدہوش کرتا ہوا۔۔۔۔۔ اس وقت آپ خود کو کسی اور ہی دنیا میں محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔۔ روح جھیل کے یخ پانیوں سے اٹھتی دھند میں ہلکورے لینے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔حجاب اٹھنے لگتے ہیں۔۔۔۔ راز عیاں ہوتے ہیں اور آپ۔۔۔۔۔۔۔ آپ اپنا ایک حصہ وہیں کہیں بھول آتے ہیں۔۔۔۔۔ جو توانائی کشید کرتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ منظر سے حسن نچوڑ کر روح کی گاگر بھرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ گاگر چھلک اٹھتی ہے اور آپ اس خالقِ کائنات، اُس مصورکے ہنر کے قائل ہو کر اپنا سر ہمیشہ کی طرح اُس کی بارگاہ میں جھکا دیتے ہیں۔۔۔۔ سو اُس دن بھی یہی ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا بھی ایک حصہ وہیں کہیں اُس یخ بستہ جھیل کے پانی پر دھند میں کھو گیا جو آج بھی سندیس بھیجتا ہے بلاتا ہے۔ زندگی کے خوبصورت ہونے کی نوید کے ساتھ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: