عالمی اداروں کی ملکی سیاست پر چھاپ ۔ حصہ اول — جاوید اقبال راو

0
  • 29
    Shares

اقوام متحدہ کا قیام جب ہوا تو اسکے تین بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا نسل انسانی کو ہولناک تباہی سے بچانے کے اقدامات اٹھانا۔ دوسرا بنیادی انسانی حقوق کی ترویج اور تیسرا عالمی قانون کا احیا۔ ان تین بنیادی مقاصد کو مد نطر رکھتے ہوے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر حق اور مخالفت میں تجزیے ہوتے آے ہیں اور مسلمان ممالک میں اقوام متحدہ کے بارے میں ایک منفی تاثر زیادہ پھیلا ہوا ہے جسکی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ زیر نطر مضمون میں بھی ایک پہلو سے عالمی قانون اور اقوام متحدہ کا جایزہ لینے کی کوشش کی ہے اور کہیں کہیں وہ مذہب کا ضرورت سے زیادہ ذکر کرتے یا کسی مخصوص نقطہ نظر پر تنقید کرتے محسوس ہوے ہیں۔ دانش کا انکے خیالات سے اتفاق لازمی نہیں ہے البتہ انکے خیالات پر مکالمہ کی گنجایش محسوس کرتے ہوئے اسے نیک نیتی سے شایع کیا جا رہا ہے۔ اگر اس کے مخالف نقطہ نظر پر کوئی صاحب لکھنا چاہیں تو دانش اسے بخوشی شایع کرے گا۔ (ایڈیٹر)


سیاسی افق کی تابانی ہر نئے دور کے ساتھ عوام کیلئے حیرت انگیز کرشماتی دنیا کا دروازہ کھولتی ہے۔ مگر ہم اس افق کے پیچھے موجود عالمی تناظر سمجھ نہیں پاتے۔ اگرچہ ملکی سیاست کے اپنے رخ ہیں لیکن عالمی ادارے ہمارے تاریک پہلوؤں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں ان اداروں کا بغور مطالعہ ذرا دیر سے شروع ہؤا۔ اب شروع ہؤا بھی تو بہت سے ایسے ملکی ادارے قائم ہوچکے ہیں جنکی اٹھان ہی عالمی قوانین پر ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہم عالمی قوانین میں ملکی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں کروانے کی اہلیت کھوچکے ہیں۔ اس بناء پر عالمی ادارے ہمیں رگید کر رکھ دیتے ہیں۔

پاکستان کے بانی اور ابتدائی قیادت نے علی گڑھ سے عالمی قانونِ سیکھا تھا۔ انگریز کیساتھ کھینچا تانی میں مسلم لیگ کی قیادت اس تمام اونچ نیچ سے واقف تھی۔ لیکن بعد ازاں حالات کے دھارے نے ہمارے سیاستدانوں پر عالمی افق کے راستے بند کردئیے۔ پاکستان ایک فٹبال بن گیا۔ یہاں سوشلزم اور جمہوریت کے بے دریغ تجربات نے اسلامی روایت کا آغاز ہی نہ ہونے دیا۔ مقامی روایت کو دفن کردیا گیا۔ کسی نے پلٹ کر فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ عالمگیریہ کو دیکھا تک نہیں۔ نہ ہی اپنے کسی سابقہ تہذیبی روئیے یا اس پر مبنی روایاتی ڈھانچے کی جانب نگاہ کی۔ پاکستان کے قبائل کے طرزِ عمل اور اقوام کی عادات و روایات کے مجموعے کو سرے سے سمجھنے کے لائق ہی نہیں جانا۔ اس کے برعکس انگریزی اقوام کی تجارتی عادات اور روایات کا طومار ہمارے گلے میں ڈال دیا گیا۔ یہ تمام نہ صرف نو آبادیاتی طرزِ عمل تھا بلکہ آج کے دور میں یہ غیر اسلامی اور غیر فطرتی بھی ثابت ہوتا ہے۔ اسلامی اور مقامی تجربے پر عملی آغاز نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان قانونی روایات کا عجیب و غریب اکھاڑہ ہے۔ اس اکھاڑے کے کوئی بھی اصول نہیں کیونکہ ہم اصول تیار کرنے والے یا نافذ کرنے والے ہوتے تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔ ہمارے دو ادارے براہِ راست قانونی روایات تحریر کرتے ہیں۔ عدلیہ اور مقننہ دونوں قانون ساز ہیں۔ دونوں کی روایات کا خمیر بھی قوانین میں شامل ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ میں کبھی کبھی مارشل لاء کے تحت بھی فیصلے صادر کئے جاتے ہیں اس بناء پر اداروں میں قوانین کی اٹھان میں کچھ نادیدہ قوتوں کا اشارہ بھی شاملِ ہوتا ہے۔

سرِ دست اس مضمون میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی اداروں کی روایات میں سے ہماری مقننہ اور عدلیہ کیا حاصل کرتے ہیں اور کیسے عالمی قانون کی پیچیدگی کو پاکستان کے مقاصد سے ہم آہنگ کرتے ہیں! کرتے بھی ہیں یا نہیں۔ کیا ہم عالمی دباؤ کی صورت میں ہتھیار ڈالتے ہیں یا ہماری قانونی جدوجہد جاری ہے؟ یہ اہم سوالات ہیں جن پر قوم و ملت کی کامیابی کا انحصار ہے۔ لیکن اس سے قبل اس وسیع ترین تناظر کو سمجھنا ہے جس میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو عالمی افق پر قانونی روایات میں دخل در معقولات کا کوئی ہمدردانہ طریقہ کار رکھا ہی نہیں گیا جس کے تحت باجواز اور باعزت اجتماعی شہریت کا جواز موجود ہو۔

چونکہ قوانین کو جواز بخشنے والا ادارہ اقوامِ متحدہ ہے، اس لئے اس کے اثرات پاکستانی کی قومی سیاست پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ سیاسی گروہ ان اثرات کا براہِ راست فائدہ یا نقصان برداشت کرتے ہیں۔ قومی افق پر سیاسی گروہ ایک وسیع ترین قوسِ قزح کی صورت اختیار کرتے ہیں جس میں اقوامِ متحدہ کے مکمل پٹھو سے لیکر ان کے سو فیصد مخالف تک کے تمام رنگ بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہیں کسی پاکستانی روایت کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ان کیلئے اقوامِ متحدہ ایک مقدس گائے ہے۔ جس کے فیصلے ہرصورت میں نافذ العمل ہونگے۔ حقیقت بھی اس کے قریب ہی ہے۔ لہٰذا اعلیٰ سطح پر عالمی قوانین پر بے چون و چرا دستخط کرکے جان خلاصی کی جاتی ہے۔ کون ملاعمر کی طرح عالمی دیوِ استبداد کو للکارے۔ ہمارے حکمرانوں کو صرف یہ سجھایا جاتا ہے کہ مائی باپ آپ جان چھڑائیں۔ اس بناء پر ہمیں اپنے سیاسی گروہوں کا انجام پہلے سے ہی معلوم ہونا چاہئیے۔ مذہبی گروہوں میں سے جنہوں نے سخت گیر مؤقف اپنایا ہو، انہیں تو پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش آج ہی کرلینی چاہئیے۔ کل کا کوئی بھروسہ نہیں۔ دہشت گردی کا بھوت تو دکھانے کیلئے ہے۔ دراصل عالمی قانون سازی میں کمزور اور تیسری دنیا کے ممالک عقل و دانش کی جنگ ہار چکے ہیں۔ ان کے نظریات عالمی اکھاڑے میں کمزور پڑچکے ہیں۔ تکفیری دائرے بالکل ہی جدا ہیں۔ انکی تکفیری پرچھائیاں عالمی قانون کو درست سمت میں دھکیلنے کی کوئی واضح صورت نہیں دکھاتیں۔ اس لئے نتائج صاف ظاہر ہیں۔

1945 میں اقوام متحدہ کے قیام سے کافی قبل یورپ اور امریکہ کے کارپردازوں نے جان لاکی شریعت کو بنیاد بناکر انسانیت کو بادشاہت کے چنگل سے آزاد کیا تھا۔ لیکن ساتھ میں اسے نئی روایات کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ پہلی روایت آزادی کی بے مہار اونٹنی تھی جس پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد رکھی گئی۔ اسلامی گروہ اس وقت یا تو ترکی کے مردِ بیمار کی صورت میں جان کنی کے عالم میں تھے یا پاکستان و سعودیہ کی صورت میں ہنوز عالمِ تشکیل میں تھے۔ ایسے میں کسی اسلامی روایت کا کوئی ذکر عالمی قانونی دستاویزات میں نہیں ہو پایا۔ لیکن 1945 سے آج تک کوئی ایک بھی اسلامی قانون یا اسلامی قانونی روایت عالمی سطح پر تسلیم نہ کروائی جاسکی۔ یہ ہمارے لئے حیران کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بطور مسلمان ایک عام پاکستانی کا یہ یقین ہے کہ اسلام تو تمام عالم کیلئے خیر و برکت کا باعث ہے۔ کمی ہماری جدوجہد میں ہے یا عالمی سطح پر ہمارے اصولوں کی پذیرائی میں ہے۔ ہمارے اندر یہ کمی رہی کہ اپنی قانونی روایات کو سمجھ کر عالمی ماہرین اور قانونی اداروں سے تسلیم کرواسکیں جن کے ذریعے دنیا اسلامی قانونی روایت سے متصف ہوجائے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج ہم اپنے اسلامی معاشروں کی بقاء کیلئے قانونی جنگ بھی لڑ رہے ہوتے۔ یہ قانونی جنگ اس لئے ضروری ہے کہ چھوٹے ممالک پر حملے سے قبل اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اس کے مختلف ادارے لمبی چوڑی قانونی کاروائی کرتے ہیں اور حملوں کا جواز حاصل کرتے ہیں۔ ایسے ہی مختلف اسلامی گروہوں کو رگڑا جاتا ہے۔ اسلامی تنظیمات کو واچ لسٹ پر رکھا جاتا ہے۔ انکے کارکنان اور ارکان کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ جس سے معاشرے میں اضطراب پیدا ہوتاہے۔ لیکن ان سب سے بڑھکر مسلم معاشروں اور کمزور ممالک کے سماج میں سماجی تبدیلی کی وسیع ترین مہم بھی چلائی جاتی ہے جو کہ اکثر بے ڈھنگے طریقے سے جاری رہتی ہے۔ اس سے معاشرے اندر سے ڈھے جاتے ہیں، انکی روایات صفحہء ہستی سے مٹ جاتی ہیں اور کمزور گروہ غیر فطری موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر ہی عالمی قوانین کے کھیل کے رخ طے کرتا ہے۔ یہ چارٹر عالمی قوانین کے مختلف سرچشموں سے فائدہ اٹھانے کی صریح وضاحت کرتا ہے۔ یہ صراحت اسکے پہلے پیراگراف میں موجود ہے جہاں انسانی امن اور آزادیوں کا ذکر موجود ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ اسلام امن کا دین ہے اور اسلام کا بنیادی معنی ہی امن ہے تو اس کیلئے ہمیں دنیا میں اسلامی قوانین کی حقانیت ثابت کرنا چنداں مشکل نہیں ہونا چاہئیے۔ خاص طور پر اگر ہمارے پاس کوئی قانونی روایات موجود بھی ہیں۔ ہمارے پاکستانی قانون دان اور سیاستدان اسکا اظہار باربار کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اسلامی روایت کی امن کے قیام کیلئے اہمیت اور ضرورت کو دنیا سے تسلیم کروانے میں کوئی محنت اور کوشش نہیں کرتے۔ دنیا میں بھی اس حقیقت کو برملا تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس بہت سے افراد اور گروہ اس کے بالکل برعکس آواز اٹھاتے ہیں۔

افسوس کیساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں مذہب کا منفی حوالہ موجود ہے جہاں مذہب کو نسل، زبان اور جنس کیساتھ ایک تفرقے کی بنیاد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

افسوس کیساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تیسرے باب (آرٹیکل 13) کے پہلے جزو میں مذہب کا منفی حوالہ موجود ہے جہاں مذہب کو نسل، زبان اور جنس کیساتھ ایک تفرقے کی بنیاد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ بعینہ آرٹیکل 55 اور آرٹیکل 76 میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔ اس کے سوا اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں مذہب کا کوئی تیسرا حوالہ مذکور نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اقوامِ عالم بنیادی طور پر مذاہب کو اور یوں اسلام کو بھی تفرقہ بازی اور انسانوں میں تفریق کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ یہ تصور بھی دینا چاہتی ہے کہ وہ دنیا کے ماقبل موجود تمام نظریات، قوانین اور گروہی افکار سے بالاتر ہے اور انہیں دھتکارتی ہے۔ نئے تصور پر دنیا کو اکٹھا کرکے جدوجہد کرنا چاہتی ہے۔ اس بناء پر اقوامِ عالم کا قانون اسلام کے عالمی قانون سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے کیونکہ اسلام اس سے ماقبل موجود تھا۔ یہ تاثر الا ما شاء اللہ تمام عالمی اداروں کے الفاظ سے ظاہر و باہر ہے۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی لاء سکول سے کورٹنی ہولینڈ نے اپنے 1997 کے مضمون میں اس پر تفصیل کیساتھ واضح کیا ہے کہ مذہبی قانونی اقدار کا اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے براہِ راست تصادم ہے۔ اس مضمون میں مزید صراحت ہے کہ مذہبی قوانین کی بنیاد پر جتنے ممالک اقوامِ متحدہ کے قوانین سے احتراز کا رویہ اپناتے ہیں، وہ تمام چارٹر سے روگردانی کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔ قانون کا یہی سیدھا سادا مطلب ہے۔ اس میں کوئی تیسری راہ دیکھنے والے خود کو بے وقوفانہ وقت گزاری کا مجرم گردانیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ اقوامِ متحدہ اور عالمی قانون کے تحریر کنندگان یا تحقیق کار اپنے تیز تر نشتر لئے تمام اقوام اور مذاہب کا سیاسی و معاشرتی آپریشن کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہیں روکنے کیلئے کوئی بھی پرانا حربہ کارگر نہیں ایسے میں وقت گزاری مہلک ترین مسئلہ ہے۔ اسی بناء پر مذہبی اداروں کے اجتماعی کردار کو نظر انداز کرکے انہیں ایک منفی عنصر کے طور پر گنتے ہوئے تمام عالمی اداروں سے باہر کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ اداراتی علوم کے ماہرین کی تعریفات کی روشنی میں یہ ایک بڑی جہالت ہے۔

مذہب کے ایسے تذکرے سے لگتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنی اساس میں مذہب کے اجتماعی کردار سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ اس بناء پر اقوامِ متحدہ جانبداری سے کام لیتے ہوئے لامذہبیت کو فروغ دینے پر مصر ہے۔ اس چارٹر میں ایسا بالکل ذکر نہیں کہ غیر ضروری مذہبی تعصب اور بے جوازنظریاتی جانبداری سے پرہیز کیاجائیگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نظریاتی بنیادوں پر جانبداری نہیں اختیار کی جاسکتی؟ ایک ایسا گروہ جس کے کوئی بھی مذہبی عزائم نہ ہوں، وہ بھی مختلف انداز میں اپنے ہی گروہ کے حق میں جانداری کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ لیکن ایسا کوئی ذکر چارٹر میں موجود نہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اس مقام پر چارٹر میں مذہب کے حوالے کو سمجھنے اور اس کے قانونی پہلؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مذہب کے حوالے سے قطع نظر کسی بھی گروہی یا نظریاتی جانبداری کا ذکر کرکے انسانیت کو مشکلات سے نکال لیا جائے اور مذہبی قانونی روایات کو عالمی تناظر میں شامل کرنے پر باقاعدہ غور کیا جائے۔ 1945 سے لیکر آج تک مذہبی اداروں اور سیاسی تحریکات یا تعلیمی کوششوں کو نہ سمجھ پانا، اقوامِ متحدہ کی ناکامی ہے۔ اس سے اقوامِ عالم کی غیر لچکدار پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس سے معلوم پڑتا ہے کہ جیسے آج تک دنیا میں کوئی تبدیلی وقع پذیر ہی نہیں ہوئی۔ مذہبی ادارے کسی مثبت عمل کا حصہ نہیں بنے۔ یا ایسی کوئی سٹڈی ہی نہیں کی گئی جس سے یہ معلوم کیا جاتا کہ مذاہب کے اجتماعی کرادار کو نظر انداز کردینے یا مائنس کردینے سے دنیا پر کیا مثبت اور کیا منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنی اس ایک بنیاد پر آج بھی قائم ہے کہ مذہب انسانوں میں تفرقے کی بنیاد ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ایسی پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں تشکیل دیتے ہیں جن میں اسلامی اداروں، سیاسی جماعتوں اور اسلامی پلیٹ فارموں کو نظر انداز کردیا جائے۔ انہیں غیر مؤثر بنادیا جائے۔ اسلامی ممالک سے کسی دینی یا مذہبی قانون کا عالمی سطح پر اپنانے اور اسے پھیلانے کا سلسلہ موقوف کردیا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اسلامی معاشرے اور قوانین بانجھ ہیں۔ مذہبی ادارے ناکامی کی طویل کتھا ہیں اور اسلامی معاشروں نے اپنے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ اپنے مستقبل کیلئے اپنی روایات کے مطابق کوئی حکمتِ عملی طے نہیں کی۔ کوئی ایسے ادارے تعمیر نہیں کئیے جن سے مذہبی اقدار کے اجتماعی اظہار سے دنیا میں امنِ عالم کے ساتھ ساتھ معاشی، معاشرتی اور سیاسی حوالوں کے علاوہ فنی و تعلیمی کاوشوں کا آغاز نہیں کیا گیا۔ جس قدر بھی مذہبی ادارے قائم کئے گئے وہ بیکار تھے۔ انکا کوئی مثبت مقامی یا عالمی تاثر صفر ہی رہا۔

۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: