عسکری، فاروقی اور آصف فرخی ۔ ایک خواب …. عزیز ابن الحسن

0
  • 4
    Shares

مطالعات عسکری پر سند کا درجہ رکھنے والے برادر بزرگ عزیز ابن الحسن، اپنی سانسوں سے لے کر انگلی کی پوروں تک ادیب اور دانشور ہیں، ذرا دیکھئے تو خواب بھی کیسے ادیبانہ، خلاقانہ، عالمانہ اور تخلیقی دیکھتے ہیں۔ لگتا ہے جیسے ’ہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں‘۔ ش۔ا۔


رات کے آخری پہر ایک عجیب ساخواب دیکھا جسکی کوئ توجیہ یا تعبیر سمجھ میں نہیں آرہی۔ جب سے آنکھ کھلی تب سے خواب ذہن پر یوں طاری ہے گویا یہ کسی حقیقی واردات سے گزر کے آیا ہوں۔

مقام معلوم نہیں۔ قیاس ہے کہ اسلام آباد کا نواح ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ آصف فرخی ہیں اور انکے ساتھ محمد حسن عسکری و شمس الرحان فاروقی ہیں۔ منظر یوں ہے کہ فرخی عسکری اور فاروقی کو ایک معروف درگار کے گدی نشین بزرگ کے پاس لے جانے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ حاشیے کے طور پر خواب دیکھنے والا بھی شریکِ مجلس ہے۔

محمد حسن عسکری

یہ درگاہ وضاحتاً گولڑہ شریف ہے اور گدی نشین بزرگ اغلباً پیر نصیرالدین شاہ نصیر ہیں۔ یہ سب لوگ اکھٹے ان بزرگوار کے ہاں جاتے ہیں۔ وہ پیر خوش خصال مہمانوں کی خوب تواضح کرتے ہیں مگر عسکری و فاروقی کے ساتھ عام فوری نوعیت کی باتوں کے علاوہ کسی ادبی و علمی مسئلے پر گفتگو نہیں کرتے۔ بس مؤدبانہ میزبانی میں مصروف ہیں۔ کھانا بے تکلفی کے ماحول میں شروع ہوتا ہے مگر ختم ہوتے ہوتے مہمانوں اور میزبان کے مابین کچھ کھنچاؤ سا آنے لگتا ہے اور رخصت ہوتے ہوئے طرفین ایک دوسرے سے کوئ بات بھی نہیں کرتے اور بغیر کسی الوداعی سلام و کلام کے وہاں سے نکل آتے ہیں۔ ملاقات کا مقصد اگرچہ ابتدا میں بھی کچھ واضح نہیں تھا مگر واپسی پر راستے میں کچھ یوں مترشح رہا کہ جیسے جانے کا مقصد پورا نہیں ہوا۔ عسکری صاحب کے اطوار میں ایک بے نام سی بے قراری اور اضطراب ہے۔ میں بڑی بے چینی سے منتظر ہوں کہ آخر پتا چلے کہ ان بزرگوار کے پاس جانے کا مدعا کیا تھا اور اب عسکری صاحب مضطرب کیوں ہیں مگر کچھ کھلتا نہیں۔ عسکری سے کچھ پوچھنے کی کسی کو جرأت بھی نہیں ہورہی۔

یہاں پھر ایک اور عجیب بات ہوتی ہے۔ واپسی پر یہ جگہ لاھور کا ریلوے اسٹیشن ہے مگر اسکے قرب و جوار کا سارا منظر خوبصرت سرسبز پہاڑیوں میں گھری کسی وادی کا ہے۔ یوں تاثر ملتا ہے کہ گولڑہ ہی کا گوئ نواحی گاؤں ہے۔ گھاس کی ایک ڈھلواں روش پر عسکری بے تابانہ ٹہل رہے ہیں۔ پہلے منظر کے برعکس اب وہ پاجامہ شیروانی کے بجائے کوٹ پتلون میں ملبوس ہیں۔ انکے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ہیں ہونٹوں میں سگریٹ دبا ہے اور بےتابانہ ٹہلے جاتے ہیں۔ میں اور فرخی بس دیکھے جا رہے ہیں اور ہمت نہیں کہ ان سے سبب پوچھیں۔ اچانک فاروقی صاحب آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں "اجی عسکری صاحب کچھ بولیے بھی یہ بچے بہت پریشان ہوگئے ہیں” مگر عسکری کچھ نہیں بولتے اور فاروقی کا ہاتھ پکڑ کر ڈھلان میں ایک چشمے کی طرف چل پڑتے ہیں اب ان کے چہرے کا تناؤ کم ہوگیا اور قدرے مسکراہٹ آگئ ہے۔ کچھ یوں اندازہ ہوتا ہے کہ اب وہ کسی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس ملاقات کی واردات وہ اگلے مہینے کی "جھلکیاں” کیلیے ایک مضمون کی صورت میں لکھیں گے۔

یہاں منظر میں ایک اور تبدیلی آتی ہے۔ عسکری اور فاورقی جیسے ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگتے ہیں میں شش پنج میں ہوں کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم نے جس بے کل آدمی کو دیکھا تھا وہ عسکری ہی تھے یا فاروقی؟ ہوا یوں کہ چشمے کے شفاف پانی سے جیسے روشنی کی کوئ موج اٹھی اور عسکری و فاروقی اس میں پگھل سے گئے ان کے جسم سیال بن کے چشمے کی طرف بہہ گئے۔ روشنی کے تیز کوندے نے ہماری آنکھیں چندھیا دی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ عسکری تو وہاں کبھی تھے ہی نہیں جہاں کچھ دیر پہلے دونوں کھڑے تھے وہاں اب صرف فاروقی ہیں ان کے ہاتھ میں ایک قلم ہے۔ آصف فرخی کو قلم دیتے ہوئے فاروقی کہتے ہیں "یہ عسکری کا ہے اور لکھو ‘جھلکیاں’ "، فرخی لکھنا شروع کرتے ہیں فاروقی بولتے جاتے ہیں:
"میں کون ہوں اے ہم نفساں؟
دیکھو جدید عورت کی پرنانی نے آگ کے پیڑ کی کلیاں چنی اور ادب کی روش پر بکھیر دیں۔ ادب جل اٹھا مگر اب صرف دھواں ہے۔
مغرب سے کشمکش کا طوفان اٹھا۔ ہم ایسے گنبدِ بے در میں جا پڑے ہیں جہاں ہم تو سب دیکھتے سنتے ہیں مگر ہماری پرانی آوازیں باہر نہیں جاتیں۔
یہ بوسیدگی کی تہذیب ہے، یہاں ہر شے ڈھلتے ہی پرانی ہو رہی ہے۔ کیرکےگور کچھ نہیں
یہاں حسنِ قدیم بھی زمین کے ہنگاموں میں رپٹ گیا۔۔۔۔۔”

فاروقی یہ غرائب بولتے جارہے اور فرخی لکھتے جاتے تھے کہ ایک تیز چنگھاڑ نے خواب دیکھنے والے کو جگا دیا۔ آخری دھندلی سی یاد اس خوابِ عجیب کی یہ حدیث غریب ہے جو فارقی نے عسکری کی طرف سے فرخی کو سنائی:

من گُنگ و خواب دیدہ و عالم تمام کرّ
من عاجزم زگفتن و خلق از شنیدنش

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: