زندگی خوبصورت ہے : شاہین کاظمی کا اٹلی کا سفرنامہ

0
  • 4
    Shares

سفر نامہ ہے یا طلسمِ ہوشربا کی داستان ۔۔۔۔ ایک ایسے علاقے کا سفر نامہ جہاں بڑے بڑے جغادری بھی پتہ پانی کرتے ہیں۔ ان کے بیچ ایک عورت کے نازک جذبات و احساسات سے گندھی سحر انگیز مگر خوفناک دشوار گزار علاقے، بلند و بالا پہاڑوں کی یاترا ۔۔۔۔ پرفسوں چاندنی رات کا نظارہ ۔۔۔۔۔ خوبصورت الفاظ و تراکیب سے سجا شاندار مگر خوفناک گھاٹیوں کا سفر۔ جہاں جمال وکمال کے ساتھ ساتھ مختلف علاقائی روایات کا بیان بھی محترم خاتون کی عمیق نظری اور مشاہدے کا نچوڑ ہے۔ جہاں جان ہتھیلی پر تو روح حلق میں مچل رہی ہے۔ شاہین کاظمی کا حسین قلمی شاہکار ۔۔۔۔۔  دانش کے قارئین کے لئے آج سے سلسلہ وار


پاؤں میں چکر لئے پیدا ہونے والوں کو راستے پکارتے ہیں۔ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں کے دونوں اطراف سر نیہوڑائے بوڑھے پیڑ صدائیں دیتے ہیں۔ اُن کے جھکے ہوئے سروں کے ٹھنڈے ٹھار سائے تلے جانے کتنی اَن کہی اَن سنی کتھائیں کانوں کی منتظر ہوتی ہیں ہوائیں بدن پر خوشبو کے پیراہن لپیٹے سندیس بھیجتی ہیں۔ اَبر انتظار کے گیت گاتے ہیں اور جھرنوں کا والہانہ رقص قدموں کو کشاں کشاں اُس سمت کھینچ کر لے جاتا ہے۔

شاہین کاظمی

ایسی ہی ایک صدا پر لبیک کہتے ہوئے ہم پیڑوں کی سرگوشیاں سننے نکل کھڑے ہوئے۔ منزلِ مقصود اِ ٹلی کی راجدھانی تھی۔ سردیوں کے دن بھی کیا بچونگڑے سے دن ہوتے ہیں صبح آٹھ بجے سورج نکلا اور شام چار بجے ہی نڈھال ہو کر شب کی گود میں جا گرا۔ پورا دن ایک گو مگو کی سی کیفیت میں گزارا۔ بالآخر شام پانچ بجے کے بعد سفر آغاز ہوا۔ دسمبر کا مہینہ دوسرے لفظوں میں پوہـ کی سردی، رات اور دھند۔ لیکن پاؤں کے چکر نے جنجال میں ڈالا ہوا تھا سو کسی بھی چیز کی پروا کئے بغیر کچھ ضروری سامان گاڑی میں رکھا اور عازمِ سفر ہوئے۔ شدید دھند ہماری ڈرائیونگ کی قابلیت کو للکا ر رہی تھی۔ کانٹے کا مقابلہ جاری تھا۔ پہلا موڑ ہی ہم نے پورب کی بجائے پچھم کا لیا۔ سرمئی دھند کا رنگ بدلا تھا یا اپنی ہار پر ہماری آنکھوں میں سُرخی اُتر آئی تھی۔ بہر حال دس کلو میٹر کے ’’ ولے،، کے بعد پھر سے راہ راست پر آئے اور دھند سے ایک بار پھر سے مقابلہ شروع ہوا۔ صد شکر کہ گھنٹے بھر کے مقابلے کے بعد دھند کی سانسیں اکھڑ گئیں۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دھند زندگی بھر راستہ نہیں دیتی۔ لاکھ ’’ولے،، مارو مگر دھند ساتھ چلتی جاتی ہے بدنامیوں کی طرح اور ہر منظر سے رنگ چوس کر اُسے بے رنگ کر دیتی ہے اور انسان کے پاس بے بسی سے دیکھتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

مشرقی شاہراہ جس پر ہم سفر کر رہے تھے آسٹریا اور ایک منے سے ملک لختن شٹائن کو سوئٹزر لینڈ سے ملاتی ہے۔ اِسی شاہراہ پر سوئٹزر لینڈ کا سب سے بڑا صوبہ Graubünden واقع ہے جو مشہور زمانہ آلپس میں گھر مشرقی صوبہ ہے۔ Graubünden اِس لحاظ سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ سوئس کا واحد صوبہ ہے جہاں سرکاری طور پر تین زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اٹالین، جرمن اور رومینیش۔ رومینیش جرمن اور اٹالین کا ملغوبہ کہی جا سکتی ہے۔
15قبل مسیح میں یہ سارا علاقہ رومن سلطنت میں شامل تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تقسیم در تقسیم کے خونی عمل سے گزرتا یہ علاقہ آج پُر امن سوئس کا حصہ ہے۔

3000میٹرز بلند کئی برفانی چوٹیوں میں گھِرا Graubünden کا صوبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔دشوا رگزار برفانی راستوں پر بچھی ریل کی پٹڑی جو’’ بیر نینا،، Bernina پاس کے ذریعے اٹلی کو سوئس سے ملاتی ہے ایک ایسا ریلوے ٹریک ہے جسے یونیسکو کے ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔ تقریبا9000 فٹ کی بلندی پر واقع یہ ریلوے ٹریک شاید دنیا کا نواں عجوبہ کہلا سکتا ہے۔ سردیوں میں برف کی یخ بستگی میں لپٹے قرب و جوار کا اپنا ایک الگ حسن ہے۔ جبکہ موسمِ گرما میں اس کی زیبائی مبہوت کر دیتی ہے۔ ننھی منی جھیلیں، تراشیدہ پہاڑی ڈھلانوں پر اُگے مختلف رنگوں کے خو شنما پھول اور سبزہ اور اوپر بلند چوٹیوں پر جمی برف ایک دل موہ لینے والا نظارہ پیش کرتی ہے۔ چھوٹی بڑی اُنیس سرنگوں پر مشتمل یہ ٹریک سوئس کے کئی خوبصورت مقامات تک بھی جاتا ہے جن میں ڈیوس اور آروزہ بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں مقامات اپنے بے مثال قدرتی حسن کے علاوہ سرمائی کھیلوں کے لئے بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

قدیم زمانے میں انھی آلپس پر سرحدوں کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بھاری تن و توش اور بلند قامت لوگ متعین کئے جاتے تھے۔جو وہیں پہاڑوں پر بنائے گئے لکڑی کے گھروں میں مقیم ہوتے تھے۔ کھانے کے نام پر خشک گوشت، خون سے تیار کردہ ’’ ہاٹ ڈوگز،، انڈے، دودھ اور پنیر میسر ہوتا تھا، سبزیوں میں محض آلو ہی دستیاب تھا، اس کے علاوہ خشک میوہ جات اور مختلف پھلوں سے تیار کردہ مربہ جات بھی خوراک میں شامل ہوتے تھے۔ گرمیوں میں دیکھ بھال آسان رہتی۔ کبھی کبھی چمکنے والا سورج اعصاب پر جمی تنہائی کی برف پگھلا کرتازہ دم کر دیتا۔ گرمیوں میں انھی پہاڑی ڈھلوانوں پر اُگنے والے گھاس کو کاٹ کر آنے والے سرد موسم کے لئے محفوظ کیا جاتا تاکہ جانور وں کو چارہ مہیا ہوسکے اور ان سے جڑے انسانوں کی زندگی کا دائرہ مکمل ہوتا رہے۔ شدید برف باری کے موسم میں یہ پہرے دار مہینوں وہیں پہاڑوں پر پھنسے رہ جاتے۔ کہتے ہیں اِسی طرح ایک بار تین پہرے دار دوست شدید برف باری کی وجہ سے چوٹی پر پھنسے رہ گئے۔ ہفتوں ایک ہی کمرے میں جانوروں کے ساتھ بند رہ رہ کراُِن کے اعصاب جواب دینے لگے لیکن فرض تو فرض تھا۔ اُن میں سے ایک دوست نے وقت گزاری کے لئے گھاس پھوس سے ایک مجسمہ بنانا شروع کیا۔ بقیہ دوست بھی اُس کا ہاتھ بٹانے لگے۔ بالآخر خشک گھاس سے ایک دوشیزہ نے جنم لیا۔ ایک رات ایک دوست کی نیت خراب ہوئی اور اُس نے دوشیزہ کو دبوچ لیا۔ اچانک گھاس پھوس کے مجسمے میں زندگی جاگ اُٹھی اور ایک جیتی جاگتی خاتون کڑے تیور لئے اُس دوست کے سامنے کھڑی تھی۔ اِ س کی ڈر کے مارے گھگھی بندھ گئی۔ خاتون نے برف صاف کرنے والا بیلچہ اٹھایا اور اِس کے سر پر دے مارا۔ دوسرا دوست مدد کو لپکا مگر اُسے بھی بیلچے کا کاری وارچت کر گیا۔ تیسرے نے سونے کی ایکٹنگ کرنے میں ہی عافیت جانی۔ خاتون نے بیلچہ پھینکا اور دروازہ کھول کر رات کے اندھیرے میں گم ہوگئی۔ اگلی صبح تیز بخار میں پُھنکتا ہوا تیسرا دوست کسی طرح قریبی گاؤں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور لوگوں کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اِ س داستان میں کتنی سچائی اور کتنی رنگ آمیزی ہے کون جانے۔ لیکن ابھی تک گراؤبیونڈن اور اس کے گرد و نواح میں سردیاں ختم ہونے پر گھاس پھوس کا ایک باقاعدہ دیو ہیکل مجسمہ بنا کر نذرِ آتش کیا جاتا ہے تاکہ صدیوں پہلے مفرور ہونے والی دوشیزہ گرمیوں میں پہاڑوں سے اُتر کر انھیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ سچ ہی کہتے ہیں تواہم پرست ہونے کے لئے پاکستانی ہونا شرط نہیں یہ بیماری کسی بھی اچھی بھلی قوم کو لگ کر اُس کی عقل ماؤف کر سکتی ہے۔

اِسی شاہراہ پر آنے والا ایک اور خوبصورت شہر Bad Ragaz ہے جو اپنے قدرتی گرم چشموں اور انتہائی صاف آب و ہوا کے لئے ایک صحت افزاء مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں آٹھویں صدی میں بنائے گئے ’’ باتھز،، یا حمام قابلِ ذکر ہیں جو دریائے رائن کے کنارے بنائے گئے ہیں۔دریائے رائن یورپ کا ایک طویل دریا ہے جو جرمنی آسٹریا اور سوئس سے ہو کرگزرتا ہے۔ یہ حمام آج بھی مختلف جلدی اور دوسرے امراض کے علاج کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ خوبصورت پتھریلی دیواروں والے یہ حمام قدرتی گرم چشموں پر تعمیر کئے ہیں۔قدیم اور جدید کا دلکش امتزاج آنکھوں کو بہت بھلا لگتاہے۔
بذریعہ کار اٹلی کا یہ ہمارا پہلا سفر تھا۔ بڑی شانِ بے نیازی سے جی پی ایس میں ایڈریس ڈالا تو ایک ناقابلِ فہم لہجے میں جرمن بولتی خاتون جی جان سے ہماری راہنمائی کو تیار نظر آئیں۔ اُ ن کے اشارے پر دائیں بائیں گھومتے گھامتے جب راستے تنگ اور مشکل ہونے لگے تو جی ہولانے لگا۔

’’یا اللہ یہ خاتون تو ہم بھی زیادہ کھسکی ہوئی ہیں کہاں کہاں لیے پھر رہی ہیں، ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ رائٹ ٹرن کا نادر شاہی فرمان جاری ہوا تو ہمیں مجبوراََ ہائی وے چھوڑ کر چھوٹی سڑک پر رائٹ ٹرن لینا پڑا جو ہر گز آسان نہ تھا۔ اندھیرے نے تنگ سی سڑک کو مزید تنگ کر دیا تھا۔ ہم دل ہی دل میں ساری دعائیں پڑھتے ہوئے گاڑی کو تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھگانے لگے۔ یہ مشہورِ زمانہ splügenpass شپلیوگن پاس تھا۔ یہ پاس آلپس کے چند مشکل ترین بلکہ خطرناک ترین اور بلند پاسز میں سے ایک ہے جو اٹلی کو سوئٹزرلینڈ سے ملاتا ہے۔ بلند و بالا اور برف پوش پہاڑوں کے درمیان کسی سمندری آژدھا کی طرح لیٹا ہوا یہ پاس رومن عہد ہی سے ذرائع آمدو رفت کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ وقت کے سینکڑوں تغیرات کا شاہد یہ چکرا دینے والا راستہ جو آج متروک ہونے کی حد تک غیر مستعمل ہو چکا ہے ازمنہ ء قدیم میں تجارتی سامان کو اِدھر اُدھر لے جانے کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ گھوڑوں اور بیل گاڑیوں پر لدا سامانِ تجارت دونوں ملکوں کی ضروریات پوری کرتا اور باہمی محبت و ملن کا ایک یادگار مگر مشکل راستہ بھی رہا ہے۔

اٹلی کا صوبہ سوندریو اور اِس سے ملحقہ علاقے کبھی جنت نظیر سوئٹزرلینڈ کے زیرِ انتظام تھے۔ لیکن بعد میں انھیں اٹلی میں شامل کر دیا گیا۔ سوندریو اصل میں لومبارڈ قوم نے ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر آباد کیا تھا۔اُن کے زوال کے بعد اِسے رومن سلطنت میں شامل کر دیا گیا۔ وقتاََ فوقتاََ اِسے بہت سے حملہ آوروں کا سامنا رہا لیکن اِس نے اپنے شناخت برقرار رکھی۔

لومبارڈز کی وجہء تسمیہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ یہ لوگ قدیم زمانے میں رومن دیوی’’ فِریا،، کے پجاری تھے۔ فِریا ایک طاقتوردیوی مانی جاتی تھی۔ انگریزی دنوں میں فرائے ڈے یعنی جمعہ کو اِسی دیوی کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اپنی بقا کی جنگ لڑتے لڑتے انھوں نے دیوی سے مدد طلب کی۔ جبکہ حملہ آور اپنے آلہ ’’گوڈین،، سے مدد کے طالب ہوئے۔ بدقسمتی کہئیے یا خوش قسمتی فِریا اور گوڈین دونوں شریک حیات بھی تھے۔ سو ایک عجیب سی صورتحال بن گئی۔ گوڈین نے اپنے ماننے والوں کو کہا کہ وہ انھیں مدد دے گا جنہیں وہ کل سورج کے طلوع کے ہونے کے بعد پہلی بار دیکھے گا۔ فِریا نے آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے اپنے مقلدین کو دیکھا اور انھیں یقین دلایا کہ کل فتح اُن کا ہی مقدر ہوگی۔

لومبارڈز حملہ آوروں کے مقابلے میں تعدا د میں بہت کم تھے۔ سو دیوی نے ایک چال چلی اور انھیں ہدایت کی کہ اُن کی ساری خواتین اپنے لمبے بالوں کو سامنے لا کر ٹھوڑی سے نیچے کی طرف داڑھی کی طرح باندھ لیں اور صبح سویرے مشرق کی طرف اپنے مردوں کے شانہ بشانہ چلتی رہیں۔ دیوی نے سورج طلوع ہونے سے قبل اپنے شوہر گوڈین کی مسہری کا رُخ مشرق کی طرف کیا اور اُسے جگایا۔ بلند برفانی چوٹیوں کے اُس پار سے سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی۔ لومبارڈز اپنی خواتین کے ساتھ مارچ کر رہے تھے۔ دیوتا نے حیرانی سے انھیں دیکھا اور دیوی سے پوچھا

’’ یہ لونگ بیئرڈ،، ( لمبی داڑھی والے) کون ہیں؟،،
دیوی اُس کے سامنے جھکی اور کہا
’’ میرے سرتاج یہ پجاری ہیں۔ تم نے انھیں کیا ہی خوبصورت نام عطا کیا ہے اب وعدے کے مطابق انھیں دشمنوں پر فتح بھی دان کی جائے،،
دیوتا جسے دیوی کے ہوشربا حسن نے مدہوش کر رکھا تھا اِس کی بات رد نہ کر سکا اور اپنے ہی ماننے والوں کو شکست سے دوچار کردیا۔ یہ لونگ بیئرڈ وقت کے ساتھ ساتھ لونگ بارڈ اور پھر لومبارڈز کہلانے لگے۔ بات انھی لومبارڈز کی لمبی داڑھیوں کی طرح لمبی ہوتی گئی۔ بات چلی تھی شپلیوگن پاس کی۔سن 1800ء میں موجودہ سڑک کی تعمیر ہوئی۔ لیکن گزشتہ صدی میں San Bernardino road tunnel سان برناڈینو روڈ کی تعمیر نے ِاس پاس کی اہمیت و افادیت کو کم کر دیا۔ لیکن اب بھی اِس پر جابجا تاریخی آثار موجود ہیں۔

دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: